دین میں انسانوں کی خدمت کا اجر

روئے زمین پر کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے جسے دنیا میں مصائب اور تکالیف کا سامنا نہ ہو۔ ہر انسان خواہ وہ کتنا بھی صاحب دولت اور بے نیاز ہو، کسی نہ کسی وقت اس پر ایسی افتاد آن پڑتی ہے کہ اسے دوسروں کی مدد لینی ہی پڑتی ہے۔ چوں کہ افراد کے مابین تعاون، ہم دردی اور باہمی محبت و خیر خواہی کا جذبہ معاشرے میں امن و سکون کا ضامن ہے اسی لیے اسلام نے باہمی ہم دردی و تعاون کو اعلی انسانی اوصاف کا حصہ قرار دیا۔ چناں چہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’نیکی و بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ و سرکشی میں ایک دوسرے کے مددگار نہ بنو۔‘‘ (المائدہ)

آپؐ نے فرمایا: ’’جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں کوشاں رہا تو خدا تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرنے میں لگا رہے گا، او رجو کسی مسلمان کی ایک مصیبت دور کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی مصیبت دور کردے گا۔‘‘

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص کسی پریشان حال انسان کی مدد کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے تہتر مرتبہ مغفرت لکھے گا، جن میں سے ایک مغفرت تو اس کے تمام کاموں کی اصلاح کے لیے کافی ہے اور بہتر مغفرتیں قیامت کے دن اس کے لیے درجات بن جائیں گی۔‘‘

حضرت واثلہؓسے روایت ہے کہ حضورؐنے فرمایا: ’’تو اپنے بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار مت کر، ورنہ اللہ اس پر رحم فرمائے گا اور تجھے مصیبت میں مبتلا کردے گا۔‘‘

اسلامی اخوت اور بھائی چارے کا درس بھی اس باہمی تعاون کی ایک کڑی ہے۔ باری تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’درحقیقت تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں۔‘‘ اسی طرح رسول اللہؐ نے فرمایا ہے: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔‘‘

آپﷺ کی ان تعلیمات نے عرب کی فطرت بدل دی۔ یہاں تک کہ انصار مہاجرین کو اپنے گھر لے گئے کہ اس گھر میں جو کچھ ہے، آدھا آپ کا اور آدھا ہمارا۔ انسانیت کو آج اسی اسوۂ حسنہ کی تقلید کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہیں۔ ہماری دست رس میں اگر دو روٹیاں ہیں تو ایک یا آدھی اس شخص کو دیں جو اس سے بھی محروم ہے۔

حاجت مندوں کی حاجت پوری کرنا انبیائے کرامؓکے اوصاف ہیں۔ مصیبت زدہ کے ساتھ ہم دردی اور تعزیت کرنا مکارم اخلاق میں سے ہے۔ رسول اللہﷺ خود بھی اس کا اہتمام فرماتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کی ہدایت اور ترغیب دیتے تھے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرمؐ نے فرمایا: ’’جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی تو اس کے لیے مصیبت زدہ ہی کی طرح اجر ہے۔‘‘

میت کے گھر والے صدمے کی وجہ سے ایسے حال میں نہیں ہوتے کہ کھانے وغیرہ کا اہتمام کرسکیں اس لیے ان کے ساتھ ہم دردی کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ اس دن ان کے کھانے کا اہتمام دوسرے اعزہ اور احباب کریں۔ آپؐ نے فرمایا: ’’بھوکوں کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو اور قیدیوں کو چھڑاؤ۔ آپ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ کچھ نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔‘‘

اسی طرح انسانی تعلقات میں باہمی خیر خواہی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سرکار دو عالمﷺ نے معاشرتی زندگی کا یہ زریں اصول عطا فرمایا: ’’بہترین انسان وہ ہے جس سے دوسرے انسانوں کو فائدہ پہنچے۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ انسانی ترقی و کمال کی معراج یہ ہے کہ اس کا وجود معاشرے کے لیے فائدہ مند ہو۔ اس کی ذات سے خیر و خوبی کے سوتے پھوٹتے ہوں۔ اس کی جسمانی قوت ہر وقت کم زور اور بے سہارا لوگوں کی امداد و اعانت پر صرف ہو رہی ہو۔ آپؐ نے فرمایا:

’’مخلوق خدا کا کنبہ ہے۔ پس بہترین شخص وہ ہے جو خدا کے کنبے کے ساتھ احسان کرے۔‘‘

اسوہ رسول اللہؐ کے مطالعے سے بہ خوبی یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ انسانیت کی فلاح و بہبود بالخصوص دکھی، مصیبت زدہ، مفلوک الحال اور مفلس و محتاج لوگوں کو باعزت زندگی گزارنے کے قابل بنانا اور بنی نوعِ انسان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا آپؐ کی بعثت کے اعلیٰ مقاصد میں شامل تھا۔ آپؐ کا فرمان ہے:

’’بیواؤں اور مسکینوں کی مصیبت کو دور کرنے میں کوشاں شخص اجر و ثواب میں اس شخص کے برابر ہے جو ہمیشہ نماز میں مصروف رہتا ہے اور اس میں وقفہ نہیں کرتا اور ہمیشہ روزہ رکھتا ہے، افطار نہیں کرتا۔‘‘

آپؐ نے فرمایا: ’’جو لوگ دوسروں پر رحم کرتے ہیں، رحمن ان پر رحم کرتا ہے۔ اہل زمین پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔‘‘ رسول اللہ کے ان ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ حاجت مندوں کی مدد کرنا اور رفاہی کاموں میں حصہ لینا پیغمبرانہ اوصاف میں سے ہے۔ بل کہ آفات اور ہلاکت سے بچنے کا بہترین ہتھیار بھی ہے۔ بخاری کی کتاب الوحی میں مذکور ہے: ’’جب آپﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی تو وحی کے بوجھ اور عظمت کی وجہ سے آپ خوف زدہ ہوگئے۔ گھر آتے ہی آپؐ نے حضرت خدیجہؓ سے فرمایا کہ مجھے گھبراہٹ محسوس ہو رہی ہے مجھے کمبل اوڑھا دو اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔‘‘ حضرت خدیجہؓ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ’’ہرگز نہیں! خدا کی قسم، اللہ آپ کو ضائع نہیں فرمائے گا۔ کیوں کہ آپؐ عاجز اور مجبورں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، تعلقات جوڑتے ہیں، جو چیز دوسروں کے پاس نہیں آپ انہیں کما کر دیتے ہیں اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں۔‘‘ دیکھئے کہ حضرت خدیجہؓ نے اپنی حکمت و دانائی سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حاجت مندوں کی مدد کرنا، انسانی تعلقات کو استوار کرنا عالمگیر رفاہی اصول ہیں۔ انسانیت کی فلاح اور معاشرت و تمدن کی فلاح و بہبود کا انحصار ان ہی پر مبنی ہے۔اسلام دین رحمت اور روشنی کا وہ منبع ہے جس نے کرہ ارض کو منور کیا۔ انسانیت کو خیر و بھلائی اور برکات و انعامات سے نوازا۔ جن و انس، حیوانات و نباتات اور جمادات سب کے حق میں یہ دین رحمت ہے۔ پاکیزگی، محبت اور پاک دامنی اس کے ثمرات ہیں، شر اور برائی کا خاتمہ اور نیکی کی نشو و نما اس دین کا طرہ امتیاز ہے۔ یہ دین حق زندگی کے روحانی اور جسمانی دونوں پہلوؤں کو ملحوظ رکھتا ہے۔ اسلام انسانیت کو روشنی فراہم کرتا ہے اور دنیا کی زینت اور لطف کو حرام قرار نہیں دیتا، تاہم اس کے لیے حدود متعین کرتا ہے تاکہ ہر شخص کی آزادی اور حقوق کی حفاظت ہوسکے۔ یہ وہ دین ہے جو اپنے پیرو کاروں کو محرومی اور انتہا پسندی اور اندھیروں میں نہیں دھکیلتا بل کہ انہیں پروقار اور پرلطف انداز سے اپنے رب سے ملاتا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ اپنے دین کی قدر پہچانیں اور اس پر عمل کریں۔ مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے دین کی دعوت و تبلیغ کے لیے سرگرم عمل رہیں کیوں کہ دین تمام انسانوں کے لیے کامرانی اور فلاح کا ضامن ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مفتی سراج الحسن