لفافہ

حجاب کے نام

سوشل میڈیا

اپریل کا شمارہ ہاتھوں میں ہے، حجاب اسلامی پابندی سے مل رہا ہے۔ اس ماہ کے رسالے میں کئی مضامین بہت اچھے لگے۔ گرمیوں کا موسم اور آپ کی صحت مفید اور بروقت مضمون ہے۔ ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب کی تحریر بہت پسند آئی۔ سوشل میڈیا کے استعمال پر دی گئی تحریر نصیحت آمیز ہے۔ حقیقت میں یہ آج کل کے ہر والدین کی ترجمان تحریر ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت نئی نسل اپنے وقت کا بیشتر حصہ اسی میں صرف کر رہی ہے بلکہ ضائع کر رہی ہے۔ یہ بھی ایک نشہ اور ایک لت کے مانند ہے، جب لگ جاتی ہے تو چھوٹنی مشکل ہو جاتی ہے۔

میں ایک دو گروپ کی ممبر ہوں، واٹسپ پر جب بحث چلتی ہے تو گھنٹوں کا وقت صرف ہوجاتا ہے اور پتہ تک نہیں چل پاتا۔ دوسرے کاموں میں ارتکاز الگ ختم ہو جاتا ہے کہ دیکھتے ہیں کس نے کیا لکھا۔ منٹ منٹ پر موبائل اٹھا کر دیکھنا، بس لب لباب یہی ہے کہ وقت کا ضیاع سے لوگ خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔

والدین کے لیے یہ ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ بچے فون اور کمپیوٹر میں لگے رہتے ہیں اور مائیں چیختی چلاتی رہتی ہیں مگر کوئی اکثر نہیں ہوتا۔

میرا خیال ہے کہ اس موضوع پر گھر کے تمام افراد کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو ہونی چاہیے اور مل جل کر دیکھنا چاہیے کہ اس کے نقصانات سے ہم خود کو کیسے دور کرسکیں۔

نصرت یاسمین

رانچی (جھارکھنڈ)

بذریعہ ای-میل

سید علی مرحوم کی تحریر

اپریل کے حجاب اسلامی میں سید علی صاحب مرحوم کی ایک تحریر شائع ہوئی ہے۔ جو کسی پرانے رسالے سے لی گئی ہے۔ کوئی 67 سال پرانی یہ تحریر آج بھی نئی معلوم ہوتی ہے۔ اور میرے لیے تو یہ تحریر خاص طور پر اہم ہے۔ مرحوم سید علی سے میرا کوئی چالیس سال کا تعلق تھا۔ وہ کلکتہ کی اردو صحافت کی شناخت ہوا کرتے تھے اور ملک کے باوقار اخبارات و جرائد میں شائع ہوتے۔

میں ان کی ادبی تحریریں جمع کر رہا ہوں۔ میں آپ سے رابطہ کر کے یقینا رہنمائی لوں گا۔

نام نہیں لکھا (کلکتہ)

اولاد کے سلسلے میں فکر مندی

مارچ کے حجاب اسلامی میں سبھی مضامین اچھے لگے لیکن ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب کا مضمون ’’حکیم لقمان: بہترین مربی، مثالی باپ‘‘ بے حد پسند آیا۔ یہ مضمون اس شمارے کی جان ہے۔ اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اس مضمون کو اور حضرت لقمان کی اسپرٹ اور داعیانہ تڑپ اللہ تعالیٰ ہر والدین کو عنایت فرما دے۔

اولاد کی تربیت بڑی اہم ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری ہماری دنیا و آخرت دونوں سے جڑی ہے۔ اگر ہم نے اپنی اولاد کو کچھ بھی بنا دیا مگر وہ دین سے دور ہوگئے تو اس سے بڑا خسارہ اور کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ ہمیں اپنی اولاد کو اپنے لیے صدقہ جاریہ بنانے کی فکر کرنی چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم اولاد کے سلسلے میں اسی طرح فکر مند اور ان کی اصلاح فکر و عمل کے لیے کوشاں رہیں تو اللہ تعالیٰ یقینا اس کے مثبت نتائج دے گا۔ امید ہے کہ ان کی اور مفید تحریریں پڑھنے کو ملتی رہیںگی۔

احزم علی قادری، ارریہ (بہار)

قسط وار

حجاب اسلامی کئی سالوں سے ہمارے یہاں آتا ہے اور گھر کے سبھی افراد شوق سے پڑھتے ہیں۔ آج کل حجاب اسلامی میں ایک قسط وار سلسلہ ’’ایک شمع جلانی ہے!‘‘ چل رہا ہے۔ میں شروع سے ہی اسے پڑھ رہی ہوں۔ سلسلہ اچھا ہے، انداز اور اسلوب دل پسند ہے۔ مذکورہ سلسلہ جس موضوع پر ہے اس کی اہمیت کے پیش نظر یہ ایک مفید تحریر ہے۔ امید ہے کہ آئندہ آنے والی قسطیں اور زیادہ دلچسپ ہوں گی۔

صائمہ پروین

کرنیل گنج (یوپی)

صداقتوں کے پاسبان کے بعد

سلمیٰ نسرین کا تحریری سلسلہ کافی دنوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ ’’صداقتوں کے پاسبان کے‘‘ ذریعے وہ حجاب پڑھنے والی بہنوں کے دل و دماغ میں اپنی شناخت بنا چکی ہیں۔ ان کی یہ تحریر دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ان کا انداز تحریر اپنے قاری کو گرفت میں رکھتا ہے۔ ان کے قسط وار کا پہلا حصہ پڑھ کر تو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ یہ کہاں جائے گا مگر اتنا یقین ہے کہ جب کلائی میکس پر پہنچے گا تو یقینا دلچسپ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے قلم کو طاقت دے اور حق کی ترجمانی کا شرف عطا کرے۔

میر عثمان علی

اورنگ آباد (مہاراشٹر)

بذریعہ ای-میل

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply