مسلم پرسنل لا کا تحفظ

مسلم پرسنل لا ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے نہایت اہم اور حساس اشو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جب یونیفارم سول کوڈ کی بات آتی ہے یا مسلمانوں کے عائلی نظام سے متعلق عدالتوں کے ایسے فیصلے آتے ہیں جو اسلام کے عائلی نظام سے ٹکراتے ہوں تو مسلمانوں میں بے چینی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ ہندوستانی سماج کی وہ اکائیاں جنہیں مسلمانوں اور اسلام کو نشانہ بنانے میں لذت ملتی ہے انھوں نے توگویا اس مسئلے کو مسلمانوں کی دکھتی رگ بنا دیا ہے کہ جب چاہا اس پر ہاتھ رکھ دیا۔

انگریزی عہد سے چلے آرہے مسلم پرسنل لا میں گزشتہ تقریباً دو صدیوں میں کوئی خاص اور بڑی تبدیلی رونما نہیں ہوئی تھی کہ ۱۹۸۶ میں شاہ بانو بنام محمد احمد کے کیس میں عدالت نے فیصلہ دیا کہ شوہر مطلقہ کو اس وقت تک نان نفقہ دے گا جب تک کہ وہ حیات ہے یا ووسرا نکاح نہ کرلے۔ ظاہر ہے یہ فیصلہ سپریم کورٹ کا تھا اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اس طرح کے تمام مقدموں میں یہی فیصلہ نافذ ہونے والا تھا اس لیے مسلمانوں نے اس پر شدید احتجاج کر کے اپنی بے چینی کا اظہار کیا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور ملک کی ممتاز جماعتوں اور تنظیموں نے مسلم پرسنل لا کی حمایت میں زبردست مہم چلائی اور نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت کے وزیر اعظم آنجہانی راجیو گاندھی نے پارلیمنٹ میں ایک خصوصی بل کے ذریعے نئی قانون سازی کی اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے براہ راست پڑنے والے اثرات کو فوری طور پر کسی حد تک کم کیا حالاں کہ عدالتیں آج بھی ان مقدمات طلاق میں جو عدالت میں نان نفقہ کے لیے جاتے ہیں شوہروں کو پابند کرتی ہیں کہ وہ مطلقہ کو نان نفقہ کی رقم ادا کرے۔ یہ فیصلہ مسلم وومن پروٹیکشن ایکٹ ۱۹۸۶ کے تحت نافذ ہوتا ہے جو راجیو گاندھی کے زمانہ میں بنایا گیا تھا۔ یہ سب سے بڑی اور اہم تبدیلی تھی جو مسلم پرسنل لا میں قانوناً کی گئی اور اس کے بعد سے آج تک مختلف عدالتی فیصلوں میں اس بات کی شکایت نظر آتی رہتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے بھی عائلی معاملات میں فیصلے کسی قانون کے تحت سنا دیتے ہیں، جس کے تحت دیگر مقدمات کے فیصلے سنائے جاتے ہیں۔ مسلمان جب اس پر اعتراض کرتے اور ملک میں قانونی حیثیت رکھنے والے پرسنل لا کا حوالہ دیتے ہیں تو بعض طاقتیں اس پر چراغ پا ہو جاتی ہیں۔ ان کا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے الگ قانون کیوں؟ پھر وہ ملک کے تمام شہریوں کے لیے یکساں قانون کا مطالبہ کرتے ہیں اور دستور ہند کی اس دفعہ کا حوالے دیتے ہیں جس میں بہ تدریج ملک کے تمام شہریوں کے لیے یکساں قانون بنانے کی بات کہی گئی ہے۔

اس ملک کی سیاست میں حصہ دار کچھ طاقتیں اس سول اشو یا معاشرتی حق کو سیاسی ایجنڈے کے طور پر پہلے بھی استعمال کرتی رہی ہیں اور اب بھی وہ اسے سیاسی ایجنڈے ہی کے طور پر ابھار رہی ہیں حالاں کہ ملک میں قانونی اور دستوری طور پر موجود پرسنل لا میں صرف مسلم پرسنل لاء ہی نہیں ہے بلکہ دیگر سماجی اور مذہبی و ثقافتی اکائیاں بھی شامل ہیں لیکن ہدف تنقید مسلم پرسنل لا ہی بنتا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ ان جملہ اکائیوں میں سے صرف مسلمان ہی اس اشو کے لیے حساس اور باشعور واقع ہوئے ہیں اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ان سیاسی طاقتوں کو اصل میں مسلمانوں ہی کا پرسنل غیر مناسب نظر آتا ہے۔ اس کے لیے وہ تین طلاق، ایک سے زیادہ شادیوں کے شرعی جواز اور حلالہ جیسی چیزوں کا سہارا لے کر اسلامی قانون اور مسلم سماج کی شبیہ خراب کرنے کی کامیاب کوششیں کرتے رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں اس کے مطالبے پر یکے بعد دیگرے دو حلف نامے داخل کیے ہیں۔ یہ حلف نامے مذکورہ عدالت کے اس سوال کے جواب میں تھے کہ تین طلاق، حلالہ اور ایک سے زیادہ شادیوں کے سلسلے میں حکومت کا موقف کیا ہے۔ حکومت نے دونوں ہی حلف ناموں میں یکساں موقف اختیار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو بتایا کہ تین طلاق کی تلوار مسلم عورت کو خوف میں مبتلا رکھتی ہے اسی طرح مردوں کا ایک سے زیادہ عورتوں سے شادی کا عمل مسلم عورت کو کمزور بناتا ہے اور یہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے اور حکومت مسلم عورت کو اس خوف کی کیفیت سے نکالنا چاہتی ہے اور انصاف فراہم کرنے کی پابند ہے۔ اس حلف نامے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نہ تو تین طلاق کو باقی رہنے دینا چاہتی ہے اور نہ مسلم مردکو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی قانونی اجازت کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔

بیک وقت تین طلاق دینے کو کوئی تھی اسلام کا طریقہ طلاق تسلیم نہیں کرتا، کیوں کہ یہ قرآن کے بتائے ہوئے طریقہ طلاق کے یکسر خلاف ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ بیک وقت دی گئی تین طلاقیں تین ہی تصور کی جائیں یا ایک۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کوئی ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے ڈالے تو اس کے باوجود کہ وہ غیر اسلامی ہے تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔ یہ اختلاف ماہرین شریعت کا فقہی اختلاف ہے اور اس اختلاف کو خاص حالات اور وقت کی نزاکت کے سبب دور بھی کیا جاسکتا ہے۔ فقہا اس پر کہتے اور لکھتے آئے ہیں کہ لوگ تین طلاق کی بدعت اور غیر شرعی عمل سے بچتے ہوئے صرف ایک طلاق کا استعمال کر کے وہ مقصد حاصل کر سکتے ہیں جو وہ غلط طریقے سے تین طلاق کہہ کر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا اضافی فائدہ یہ بھی ہے کہ بعد میں نباہ کی صورت میں دو بارہ ملنے کا دروازہ کھلا رہتا ہے جب کہ بیک وقت تین طلاق سے آئندہ کے لیے دروازہ بند ہو جاتا ہے۔

میڈیا اور حکومت پوری دنیا کو یہ باور کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے کہ مسلمان جب چاہیں طلاق، طلاق، طلاق کہہ کر عورت کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیتے ہیں اور یہ عورت پر بڑا ظلم ہے اور حقیقت میں ظلم ہے اور یہ ظلم صرف عورت پر ہی نہیں خود مرد کا اپنے اوپر بھی ظلم ہے کہ وہ محض وقتی غصہ میں آکر اپنا گھر مسمار کردے اور خاندان کی اینٹ سے اینٹ بچا دے۔ اسی وجہ سے اسلام نے ایک نہایت باوقار طریقہ طلاق وضع کیا ہے مگر مسلمانوں کی بڑی تعداد دین سے دوری اور جہالت کے سبب خود اپنے آپ کو بھی نقصان پہنچاتی ہے اور اسلام کی بھی تصویر خراب کرتی ہے۔ افراد کا یہ ظلم اپنے اوپر ظلم کے ساتھ ساتھ پاکیزہ دین کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔

میڈیا کا یہ بھرم کہ مسلم عورت مظلوم ہے کیوں کہ مسلم سماج کے مرد جب چاہیں عورت کو تین طلاق کے پتھر مار کر سنگسار کر دیتے ہیں ایک پروپیگنڈہ کے علاوہ کچھ نہیں۔ وہ یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ مسلمانوں میں طلاق بہت زیادہ ہے اور وہاں عورت بڑی مظلوم ہے اور اس ظلم سے اسے نکالا جانا ضروری ہے اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب تین طلاق پرپابندی عاید کر دی جائے اور اسی طرح مرد کا ایک سے زیادہ عورتوں سے شادی کرنا ناانصافی ہے اور عورت کے ساتھ انصاف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب مرد کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے پر قانونی روک لگ جائے یا عورت کو بھی ایک سے زیادہ مردوں سے شادی کی اجازت دی جائے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا بھر کے معاشروں میں، خواہ وہ مشرقی ہوں یا مغربی، عورت مختلف قسم کے مظالم کا شکار ہے۔ مغرب میں عورت پر ظلم کی شکلیں بڑی خوبصورت ہیں جب کہ باقی دنیا میں یہ سورتیں نہایت بھونڈی اور ایسی ہیں جو واقعی ظلم نظر آتی ہیں۔ مغربی معاشروں میں عورت پر تشدد ہو یا ان کے خلاف جرائم کی بڑھتی شرح دونوں ہی نہایت سنگین مظالم ہیں۔ اسی طرح مشرقی دنیا میں خصوصا ہندوستانی معاشرے میں بھی عورت پر ظلم کی نت نئی شکلیں صدیوں سے موجود ہیں۔ وہ بھی کیا زمانہ تھا جب اسی ہندوستان میں عورت کو جانوروں کی طرح خریدا اور بیچا جاتا تھا۔ اسے جائداد رکھنے تک کا حق نہ تھا اور جواری لوگ جوا کھیلتے وقت اپنی بیویوں کو بھی داؤ پر لگا دیا کرتے تھے۔ یہاں کی قدیم کتابوں اور دانشوروں کا نظریہ عورت کے سلسلہ میں کیا تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں اور آج بھی پڑھے لکھے لوگ اسے ’’پوتر اشلوک‘‘ اور عملی رہ نما سمجھتے ہیں:

ڈھول گنوار، سکھ، سیوک ناری یہ سب تارڑ کے ادھیکاری

’’یعنی ڈھول کو جس طرح رسی میں زیادہ کس کر پیٹا جاتا ہے، اس کی آواز اسی قدر اچھی نکلتی ہے اسی طرح جاہل اور گنوار کو، اولاد کو، خدمت گار اور نوکر کو اور عورت کو کس کر رکھنا ہی اس کا حق ہے۔‘‘

اس کے برخلاف اسلام کی تعلیمات کا مطالعہ تو کیجیے۔ قرآن اور حدیث کو تو پڑھئے کہ اس نے عورت کو کیا اور کس طرح عزت دے کر اس کے حقوق متعین کیے۔ اس سے بڑا حادثہ اس امت کے افراد کے ساتھ اور کیا ہوگا کہ جس اسلام نے عورت کو عزت بخشی اور جس مسلم معاشرے میں عورت اپنی شخصی حیثیت میں مردوں کے عین برابر قرار دی گئی اسی پر عورت کے لیے ظالم ہونے کا الزام ہے اور یہ محض الزام نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے کہ ہم نے اپنی عملی زندگیوں سے اسلام کو خارج کر دیا اور اسلام کے لیے وجہ الزام بنے۔ یہ تو مسلم سماج کے لیے احتساب اور جائزے کا وقت ہے احتجاج اور جنگ کا نہیں۔

مسلمانوں میں طلاق کتنی اور کس قدر ہے اس کا بھی جائزہ لے لیا جائے تو بہتر ہے۔

گزشتہ ۸؍ اپریل کو مسلم پرسنل لا بورڈ کی خواتین ونگ کی ذمہ دار ڈاکٹر اسماء زہرا نے RTI کے ذریعے حاصل کیے گئے ۸ مسلم اکثریتی آبادی والے اضلاع کے اعداد و شمار پیش کیے جو ۱۶ فیملی کورٹس سے حاصل کیے گئے تھے۔ یہ ۸ اضلاع ملک کی چار ریاستوں میں آتے ہیں یعنی کیرلا، تلنگانہ، آندھرا اور مہاشٹر کے ان اضلاع کا طلاق سے متعلق ۲۰۱۱ سے ۲۰۱۵ تک کا ڈاٹا بتاتا ہے کہ مسلمانوں میں طلاق کی شرح ان کی آبادی کے تناسب سے بھی کافی کم ہے۔ یہ اضلاع ہیں: ناشک، کنّور، کریم نگر، گنٹور، سکندر آباد، ملاپورم، ارنا کلم اور پلکارڈ۔ اس ڈاٹا کے مطابق یہاں پر مسلمانوں میں طلاق کے ۱۳۰۷ واقعات عدالتوں میں آئے جب کہ عیسائیوں کے ۴۸۲۷ اور ہندوؤں کے ۶۵۰۵ا واقعات عدالت پہنچے۔ ان اعداد و شمار کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اگر طلاق عورت پر ظلم ہے تو یہ ظلم سب سے زیادہ عیسائی اور ہندو سماج میں رائج ہے۔ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مسلم سماج میں یہ واقعات بھی نہیں ہونے چاہئیں اور ہمیں یقین ہے کہ یہ نہ ہوتے اگر مسلم سماج شریعت پر عمل آوری کر رہا ہوتا اور ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات ختم ہوسکتے ہیں اگر مسلمان اسلامی شریعت پر عمل کرتے ہوئے اپنے معاملات طے کرنے لگیں۔

آج جب کہ ہندوستانی مسلمان مسلم پرسنل لا کے سلسلے میں بے چین ہیں اور انہیں اس پر خطرات کے بادل منڈلاتے نظر آتے ہیں اور وہ اس کے تحفظ کی اور اس کے سلسلے میں لوگوں میں بیداری لانے کی فکر میں ہیں، ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ مسلم پرسنل کا تحفظ صرف احتجاج اور قانونی و سیاسی لڑائی کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ جہاں اس کے لیے ہمیں سیاسی اور قانونی پہلوؤں کو سامنے رکھنا ہوگا وہیں خود اپنے معاشرے میں بھی ایک بڑی جنگ لڑنی ہوگی اور یہ جنگ ہوگی خود اس بات کے لیے کہ مسلمان اسلامی شریعت کے احکامات کو جانیں، سمجھیں اور ان پر عمل پیرا ہوکر اپنی زندگیوں کو اسلام کے سانچے میں ڈھالیں۔ حکومت وقت سے جذباتی جنگ لڑنا تو آسان ہے کہ آپ اسٹیج پر کھڑے ہوکر ملت کی غیرت کو آواز دیں کہ تمہارا پرسنل لا اور تمہاری شریعت خطرے میں ہے اور وہ سردھڑ کی بازی لگا کر میدان میں آجائیں مگر یہ مسئلہ کا حل نہیں۔ مسئلہ کا حل تو اس بنیادی کمزوری کا ازالہ ہے جو خود ہمارے اندر موجود ہے اور ہم اسے سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔

تیس سال پہلے ۱۹۸۶ میں بھی ایسی ہی صورت حال پیش آئی تھی اور مسلمان اسی طرح تحفظ شریعت کے لیے میدان میں اترے تھے جس طرح آج اترے ہیں یا اترنے والے ہیں۔ تیس سال یعنی تین دہائیاں کہ اس وقت کے پیدا ہونے والے بچے آج انجینئرس، داکٹرس اور سرکاری وغیر سرکاری افسران بن کر ’معیاری زندگی‘ گزار رہے ہیں اور خود وہ بھی اب آل اولاد والے ہیں۔ یہ تین دہائیاں کیا اس بات کے لیے کافی نہ تھیں کہ امت کی قیادت ایک باشعور نسل تیار کرلیتی ار وہ لوگ جو آج تیس اکتیس سال کے ہیں، وہ شریعت اور اس کے مطالبات کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے والے ہوتے، مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا۔ ہوتا بھی کیسے اور کیوں؟ یہ تو زندہ اور باشعور قومیں اور ان کی دیدہ ور قیادت ہی کرسکتی تھی اور ہماری ملی و دینی تنظیمیں اس شعور سے دور معلوم ہوتی ہیں۔ وہ تو اسی وقت بیدار ہوتی ہیں جب ان پر افتاد پڑتی ہے اور ان کی بیداری بھی کیا ہوتی ہے کہ اسٹیج سے کھڑے ہوکر پکارنا کچھ دن چیخنا چلانا اور بس۔

آج جب کہ ہم ہندوستان میں مسلم پرسنل لا کے تحفظ کے لیے فکر مند ہیں، اس ضرورت کا احساس کریں کہ یہ معاملہ محض ایک پہلو ہی نہیں رکھتابلکہ اس کا دوسرا پہلو یعنی شریعت پر عمل آوری زیادہ اہم ہے۔ اسی طرح ملی قیادت کے لیے یہ بات بھی اہم ہے کہ وہ مسلمانوں کے جذبات ابھار کر، ہلاگلا اور چیخ پکار کرکے مسلمانوں کی منفی تصویر سازی کے بجائے ہوش مندانہ انداز میں کام کرے اور مسلمانوں کو ان کی کمزوریاں دور کرنے کی طرف اور ان کی زندگیوں میں اسلام لانے کی طرف متوجہ کرنے کی زیادہ فکر کرے اور حکومت وقت کے ساتھ ’پنگے لینے‘ کا انداز ترک کر کے حکیمانہ طریقہ سے اس مہم کو سر کرنے کی منصوبہ بندی کرے۔ واضح رہے کہ خود احتسابی کامیابی کے لیے لازمی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply