کالی مرچ

کالی مرچ

کالی مرچ گرم مصالحوں میں اہم ترین اور استعمال کے لحاظ سے قدیم ترین ہے۔ اسے مصالحوں کی ملکہ کہا جاتا ہے۔

کالی مرچ کا تذکرہ 372 قبل مسیح میں بھی ملتا ہے۔ اسے قدیم یونانی اور رومن خوب استعمال کیا کرتے تھے۔ دور وسطی میں کالی مرچ نے یورپ میں بہت اہمیت حاصل کرلی۔ اسے کھانوں کو محفوظ کرنے اور ان کی ناگوار بو ختم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا۔ اس کا اصل وطن برصغیر کے مغربی گھاٹ ہیں۔ اس کے پودے کوچ بہار اور آسام میں بکثرت ملتے ہیں۔ سمندر کے کناروں پر سپاری اور ناریل کے درختوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اس کی بیل انگوری کی بیل کی طرح دوسرے درختوں پر چڑھ جاتی ہے۔

کیمیائی تجربے کے مطابق ایک سو گرام کالی مرچ 13.3 فیصد رطوبت، 11.5 فیصد پروٹین، 6.8 فیصد معدنی اجزاء، 14.9 فیصد ریشے اور 49.2 فیصد کاربو ہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں۔ اس کے معدنی اور حیاتینی اجزا میں کیلشیم، آئرن، فاسفورس، کروٹین، تھایامین، ریبو فلا وین، کلورین، گندھک، تانبا اور آئیوڈین شامل ہیں۔ اس کی غذائی صلاحیت 3.4 کیلوریز ہے۔

فوائد اور استعمال

کالی مرچ محرک، تیز بو رکھنے والی، ہاضم اور اعصابی ٹانک ہے۔ اس کی تیز چبھن رالدار روغن کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ بلغم خارج کرتی ہے۔ امراض جلد میں دیگر ادویات کے ساتھ تیل بنا کر استعمال کیا جاتا ہے۔

نظامِ ہضم کی خرابیاں

کالی مرچ ہضم کی خرابیاں دو رکرنے میں اکسیر ہے۔ اعضائے ہضم پر اس کے محرک اثرات کی وجہ سے لعاب دہن اور معدے کی رطوبتیں بڑھ جاتی ہیں۔ کالی مرچ بھوک بڑھاتی ہے اور بدہضمی میں آزمودہ گھریلو علاج ہے۔ کالی مرچ کا سفوف شکر کے شیرہ میں اچھی طرح ملا کر دینا بدہضمی دور کرتا ہے۔ اس کا متبادل چائے کا ایک چوتھائی چمچ سفوف گاڑھی لسی میں ملا کر بدہضمی یا معدے کے بوجھل پن میں لینا بہت مفید ہے۔ زیادہ بہتر نتائج کے لیے اسی مقدار میں زیرے کا سفوف بھی لسی میں ملا لینا مناسب رہتا ہے۔

زکام

کالی مرچ زکام اور بخار کے علاج میں بہت نافع ہے۔ کالی مرچ کے چھ دانے اچھی طرح پیس کر ایک گلاس گرم پانی میں چھ ٹکڑے بتاشے کے ساتھ ڈال کر رات کو پینا موثر رہتا ہے۔ شدید زکام اور ریزش کی صورت میں ساٹھ ملی گرام کالی مرچ کا سفوف دودھ میں ابال کر چٹکی بھر سفوف ہلدی ڈال کر تین روز تک روزانہ ایک بار پینا موثر علاج ہے۔

یاد داشت کمزور ہونا

کالی مرچ کا سفوف چٹکی بھر لے کر شہد کے ساتھ روزانہ دوبار چاٹنا کمزور یاد داشت اور غبی ذہن میں مفید ہے۔

اعصابی درد

کالی مرچ کا سفوف اور عام کھانے کا نمک ملا کر منجن کے طور پر استعمال کرنا دانتوں کی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کا روزانہ استعمال مسوڑھوں کے امراض، دانت درد اور دانتوں کا حساس پن دو رکرتا ہے۔ چٹکی بھر کالی مرچ کا سفوف لونگ کے تیل کے ساتھ دانت کے خلاء میں رکھنا دانت درد سے نجات دیتا ہے۔ دانتوں کے درد میں جوشاندہ بنا کر غرارے کرنا بھی فائدہ دیتا ہے۔

مسوڑھوں میں پیپ کے تدارک کے لیے بھی کالی مرچ انتہائی مفید ہے۔ اس کا باریک سفوف نمک کے ساتھ مسوڑھوں پہ ملنا سوجن اور پیپ ختم کرتا ہے۔

دیگر استعمال

اس کا سفوف ایک گرام، گرم پانی کے ساتھ کھلانے سے پسینہ آکر بخار اترتا ہے۔ پرانی پیچش میں اس کو دہی کے مٹھے کے ساتھ کھلانے سے آرام آجاتا ہے۔ کھانسی میں اس کا استعمال بہت مفید ہے۔

کالی مرچ کا وسیع تر استعمال باورچی خانہ میں ہوتا ہے۔ اسے اچار، کیچپ، چٹنی اور محفوظ کیے جانے والے کھانوں میں بھی ڈالا جاتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
حکیم مشتاق احمد

Leave a Reply