حضور اکرمﷺ بہ حیثیت داعیِ حق

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’اے رسول جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے، اسے کامل طور سے (لوگوں تک) پہنچا دیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے کار رسالت سر انجام ہی نہیں دیا اور خداوند تعالیٰ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا اور خدا تعالیٰ (ہٹ دھرم) کفار کی ہدایت نہیں کرتا۔‘‘ (المائدہ:۶۷)

اس آیت مبارکہ میں ایک لفظ بَلِّغْ استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنی اللہ تعالیٰ کا پیغام دوسرے لوگوں تک پہنچانا ہیں۔ تبلیغ کے لیے ایک اور لفظ ’’ابلاغ‘‘ بھی استعمال ہوتا ہے۔ قرآن حکیم میں یہ لفظ استعمال کر کے گویا حکم دیا جا رہا ہے کہ جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ہے بلا کم و کاست اور بلا خوف لوگوں تک پہنچا دیں۔ فقہاء اس سے یہی مراد لیتے ہیں کہ جس چیز کا حکم پیغمبر کو دیا جاتا ہے، وہ امت کے لیے بھی فرض بن جاتا ہے۔ جس کی دلیل عقائد اور عبادات ہیں، جو احکامات ہی کی شکل میں ہیں، جنہیں آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کو پہنچا کر حق نبوت ادا کر دیا۔

ایک مرتبہ کسی نے حضرت علیؓ سے سوال کیا، کیا آپ کے پاس قرآن کے علاوہ وحی کے ذریعے سے نازل شدہ کوئی بات ہے؟ تو انھوں نے قسم کھا کر نفی فرمائی اور فرمایا البتہ قرآن کا فہم ہے، جسے اللہ تعالیٰ کسی کو بھی عطا فرما دے۔ (صحیح بخاری)

حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے صحابہ کرامؓ کے ایک لاکھ سے زاید کے جم غفیر میں فرمایا:

’’تم میرے بارے میں کیا کہوگے؟ لوگوں نے کہا ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے اللہ کا پیغام ہم تک پہنچا دیا اور خیر خواہی فرمائی۔ اس کے بعد آپ نے آسمان کی جانب انگلی اٹھائی اور تین مرتبہ فرمایا، یا اللہ میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا تو گواہ رہ! تو گواہ رہ! تو گواہ رہ۔ (صحیح مسلم)

تبلیغ کے مکلف مسلمان ہی نہیں بل کہ غیر مسلم بھی رہے ہیں۔ پروفیسر ملر لکھتے ہیں: ’’اسلام دراصل ایک تبلیغی مذہب ہے، جس نے اپنے آپ کو تبلیغ کی بنیادوں پر قائم کیا، اسی کی قوت سے ترقی کی اور اسی پر اس کی زندگی کا انحصار ہے۔ تبلیغ غیر مسلم اور مسلم دونوں ہی کو ہوسکتی ہے۔‘‘

تبلیغ اسلام کے لیے ان کے یہ الفاظ خراج عقیدت سے کم نہیں، بلکہ ان لوگوں کو دعوتِ فکر بھی ہے کہ جن کا یہ متعصبانہ بیان ہے کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا۔

اسلام روحانی ہی نہیں مادی فلاح کا بھی ضامن ہے، اس لیے ہر دور میں تبلیغ کی ضرورت رہی ہے۔ تبلیغ کے دو اجزاء اہم ہیں، نیکی کی دعوت اور برائی سے روکنا۔ تبلیغ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کچھ احکامات نازل فرمائے اور ارشاد فرمایا: ’’تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے، جو نیکی کی دعوت دے، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (سورہ آل عمران)

قرآن مجید میں ایک اور مقام پر فرمایا: ’’تم سب سے اچھی جماعت ہو، جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے، تم اچھے کاموں کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو۔‘‘ (آل عمران)

قرآن حکیم میں گیارہ مقامات پر تبلیغ کا ذکر واضح طور پر آیا ہے۔ جب کہ پچیس سورتوں کی سینتیس آیتوں میں ضمنا بھی آیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’پیغمبر کے ذمے تو صرف خدا کا پیغام پہنچانا ہے اور جو کچھ تم ظاہر اور مخفی کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے۔(المائدہ)

آں حضورﷺ نے تبلیغ کی بہت تاکید فرمائی ہے، آپ کا ارشاد مبارک ہے: ’’مجھ سے پیغام سن کر آگے پہنچاؤ، چاہے یہ ایک آیت ہی ہو۔‘‘ (ترمذی)

آں حضورﷺ کو سب سے زیادہ عزیز تبلیغ تھی، اس کی خاطر آپ نے بڑے دکھ جھیلے۔ پہلی وحی کے بعد دوسری وحی کا وقفہ تین سال رہا اور اس عرصے میں آپ خفیہ طور پر تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ مگر اب وہ وقت آچکا تھا کہ آپؐ علی الاعلان تبلیغ کریں۔ چناں چہ ارشاد ہوا: ’’اور آپ کو جو حکم دیا گیا ہے واشگاف کر دیجیے۔‘‘ (الحجر)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’اور اپنے نزدیک کے خاندان والوں کو خدا سے ڈرائیے۔‘‘ (الشعراء)

احادیث و تاریخ سے ہمیں جس پہلے تبلیغی اجتماع کا ذکر ملتا ہے، وہ یہ ہے کہ ایک دن آں حضورﷺ کوہِ صفا پر چڑھے اور لوگوں کو پکارا: ’’اے اہل قریش‘‘ اس پکار پر قریش جمع ہوگئے تو آپؐ نے فرمایا: اے لوگو! اگر میں تم سے یہ کہوں کہ پہاڑی کے عقب سے ایک لشکر آرہا ہے، جو تم پر حملہ کردے گا، تو کیا تم یقین کرلوگے؟‘‘سب نے بہ یک آواز ’’یقینا‘‘ کہا، کیوں کہ آپ روز اول سے ہی صادق اور امین ہیں۔اس پر آپؐ نے فرمایا: اب میں یہ کہتا ہوں کہ ایک اللہ پر ایمان لاؤ ورنہ تم پر بھی گزشتہ امم کی طرح عذاب نازل ہوگا۔ یہ سن کر لوگ بہ شمول ابولہب برہم ہوکر واپس چلے گئے۔ (صحیح بخاری)

چند روز کے بعد آں حضورﷺ نے حضرت علیؓ سے جو کہ اس وقت نوعمر تھے، فرمایا کہ دعوت کا بندوبست کرو۔ پھر خاندان عبد المطلب کو مدعو کیا گیا جن میں حمزہ، ابو طالب اور عباس سب شریک تھے۔ کھانے سے فراغت کے بعد آپؐ نے فرمایا کہ میں وہ چیز لے کر آیا ہوں جو دین اور دنیا دونوں کے لیے کافی ہے (یعنی اسلام) تو اس کوہ گراں کو اٹھانے میں کون میری مدد کرے گا۔

آں حضورؐ کی اس تبلیغی دعوت سے مکہ کے لوگ متنفر ہوگئے، یہ لوگ ابتدا ہی سے بت پرست تھے، ہبل ان کا خدائے اعظم تھا جو خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بتوں کے ساتھ بلند ترین سطح پر نصب کیا گیا تھا۔ یہی بت ان کے حاجت روا اور پیشوا تھے، تو وہ خدائے واحد کی عبادت کو کیسے قبول کرلیتے؟

اس تبلیغ کے بعد مشرک معاشرہ تو آپ کی جان کے درپے ہوگیا اور آپ کو ایذائیں دینے کے نت نئے طریقے او رمنصوبے بنانے لگا۔ ان ایذاؤں اور مصائب کی جھلکیاں ان تاریخی واقعات میں دیکھئے جو سیرت النبیؐ سے ماخوذ ہیں۔ عقبہ بن معیط حضورؐ کا بڑا جانی دشمن تھا اس نے خانہ کعبہ میں آپ کو نماز پڑھتے دیکھ کر شانوں پر اونٹ کی اوجھ لاکر رکھ دی، یہ عقبہ ابوجہل کی شہ پر آیا تھا۔ ایک مرتبہ آں حضور ذو المجاز کے بازار میں تبلیغ دین کر رہے تھے تو ابو جھل آپؐ پر مسلسل خاک پھینکتا رہا اور کہتا رہا اس کے قریب میں نہ آنا یہ جھوٹ کہتا ہے۔ حرم کعبہ میں نماز کے دوران عقبہ نے آپؐ کی گردن پر چادر سے پھندا لگا کر زور سے کھینچنا شروع کر دیا۔ اتفاقاً اس وقت ابوبکرؓ حرم میں داخل ہوئے اور عقبہ سے آپؐ کو چھڑاتے ہوئے کہا کہ تم اس شخص کو مارتے ہو، جو کہتا ہے کہ صرف ایک خدا کی عبادت کرو؟

ابو جہل ، ابولہب، اسود بن یغوث، حارث بن قیس، ولید بن مغیرہ، امیہ بن خلف، نصر بن حارث یہ تمام لوگ آپؐ کے پڑوسی تھے اور صاحب اقتدار بھی۔ اہل مکہ پر آپؐ کی تبلیغ کا اثر نہ ہوا تو آپ نے ارادہ فرمایا کہ تبلیغ کا کام کسی اور شہر میں کیا جائے۔ چناں چہ آپؐ طائف تشتریف لے گئے۔ آپؐ کے ساتھ صرف زید بن حارثہ تھے جو آپؐ کے متبنّٰی یعنی منہ بولے بیٹے تھے۔ طائف میں بڑے بڑے امراء اور رئیس رہا کرتے تھے۔ ان میں عمیر کا خاندان سب سے زیادہ بااثر تھا۔ وہ تین بھائی تھے، عبد یالیل، مسعود اور حبیب، آپؐ ان تینوں کے پاس علیحدہ علیحدہ گئے اور دین کی دعوت پیش کی، ان تینوں ہی نے آپ کو بہت نازیبا جواب دیے۔ ایک نے کہا کہ اگر تجھے اللہ نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تو تو کعبے کا پردہ چاک کر رہا ہے۔ دوسرے نے کہا کیا خدا کو تیرے سواکوئی اور نہیں ملا تھا جسے پیغمبر بنایا جاسکے۔ تیسرے نے کہا کہ میں بہرحال تجھ سے کوئی بات نہیں کرسکتا، کیوں کہ اگر تو خدا کا رسول ہے تو بات خلاف ادب ہے اور اگر تو جھوٹا ہے تو توگفت گو کے قابل نہیں۔ ان تینوں بھائیوں نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ انھوں نے آپؐ پر چاروں طرف سے پتھر برسانے شروع کردیے، جس سے آپ لہولہان ہوگئے، جوتے خون سے بھر گئے۔ آخر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ بن ربیعہ کے انگوروں کے باغ میں پناہ لی۔

اس واقعہ پر سرولیم میور نے خوب صورت تبصرہ کیا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا زور اعتماد تھا کہ وہ باوجود مکہ میں تمام ناکامیوں کے تنہا ایک مخالف شہر میں آگئے۔

حضور پاکﷺ کی دعوتی جدوجہد کی گواہی خود قران پاک یعنی اللہ تعالیٰ دیتا ہے:

’’شاید تم اپنے آپ کو ہلاک کر لوگے (اس فکر میں) کہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں۔‘‘ (شعراء:۳)

اور تقریباً انہی الفاظ میں سورہ کہف آیت چار میں اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گویا آپ کی دعوتی جدوجہد اور اس راستے کی مصائب و مشکلات کو برداشت کرنے پر زبردست ستائش پیش کی گئی ہے۔ اندازہ لگائیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: ’’پس لگتا ہے کہ تم ان لوگوں کے پیچھے اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالوگے اس بات کے افسوس میں کہ یہ لوگ اس پر نئے دین پر ایمان نہیں لا رہے ہیں۔‘‘

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا جب حج کا زمانہ آتا توآپؐ ہر طرف سے مکہ میں آنے والے قبائل کے پاس جاتے اور ان پر اسلام کی تبلیغ کرتے نیز عرب میں جہاں جہاں میلے لگتے ان میں آئے ہوئے قبائل پر اسلام کی تبلیغ فرماتے۔ ان مقامات پر آپ کے ساتھ ہمیشہ ہتک آمیز رویہ اور ایذا رسانیوں کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ ایسے ہی ایک موقع پر حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ حضور آپ ان کے لیے بد دعا کیوں نہیں فرماتے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہوگیا اور فرمایا تم سے پہلے وہ لوگ گزرے ہیں، جن کے سر پر آرے چلائے جاتے اور وہ چیرے جاتے تھے، لیکن وہ اپنے فرض سے باز نہ آئے، خدا اس کام کو پورا کرے گا، یہاں تک کہ ایک شتر سوار بڑھیا صنعاء سے حضرموت تک تنہا سفر کرے گی اور اسے خدا تعالیٰ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہوگا۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے کمالِ صبر و حکمت سے اسلام کی تبلیغ کو جاری رکھا، اور اللہ کے دین کو غالب کر کے رہے۔ یہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کی برکت اور صدقہ ہی ہے کہ آج روئے زمین پر کوئی ایسا خطہ نہیں، جہاں اسلام کے پیروکار نہ ہوں۔ ہمیں بھی اسلام کی تبلیغ صبر و حکمت سے کرنا چاہیے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا چاہیے کہ اسی میں ہماری دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عبد القادر شیخ

Leave a Reply