معاف کرنا سیکھئے

ذرا سی زندگی میں دشمنی کیا بغض و کینہ کیا

محبت کے تقاضے پورے ہوجائیں غنیمت ہے

غازیؔ

محبت، نفرت اور انتقام، یہ سب انسان کی فطری جبلت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ اسی لیے تعلیم دی جاتی ہے کہ نفرت اور انتقام سے بچنے کے لیے اپنے اندر قوتِ برداشت پیدا کی جائے۔

نفرت بظاہر ایک دلی جذبہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سے انسان کی پوری شخصیت اور جسمانی صحت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ نفرت کا جذبہ دل میں پالنے سے چہرے پر سختی آجاتی ہے، پیشانی شکن آلود اور چہرے پر جھریاں پڑ جاتی ہیں، مسکراہٹ غائب ہو جاتی ہے، غصے کی وجہ سے لہجہ سخت ہو جاتا ہے۔ اگر نفرت کا جذبہ اور انتقام کی لو دل میں جلتی رہے تو پھر اس کے باعث دشمن سے زیادہ قابل رحم تو ان منفی جذبوں کو اپنے دل میں پالنے والا ہو جاتا ہے جب کہ درگزر اور محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کی روح کو سکون فراہم کرتا ہے۔ جب ہم اپنے دشمنوں سے نفرت کرتے ہیں تو اس سے بظاہر وہ متاثر ہوں یا نہ ہوں لیکن ہم خود اپنے رویے سے انہیں دماغی طور پر اپنے اوپر غالب آنے کا موقع فراہم کر دیتے ہیں۔

طبی طور پر دیکھا جائے تو دشمن کے متعلق مستقل سوچتے رہنے سے ہماری نیند اور بھوک مٹ جاتی ہے۔ خون کے دباؤ سے ہماری صحت غارت اور خوشیاں دور ہونے لگتی ہیں۔ اگر ہمارے دشمنوں کو صرف اتنا معلوم ہو جائے کہ ان کی وجہ سے ہم کس قدر پریشان ہو رہے ہیں اور وہ ہمارے احساسات کو کس قدر مجروح کر رہے ہیں، تو وہ خوشی سے جھوم اٹھیں گے۔ اپنے دل میں جذبہ نفرت پالنے سے ہمارے دشمن کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا، البتہ یہ خود ہمیں بری طرح متاثر کرنے لگتا ہے۔

ایک قول ہے کہ ’’اگر خود غرض آپ سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنا چاہیں تو ان سے قطع تعلق کرلو، لیکن بدلہ لینے کی کوشش نہ کرو۔ جب تم بدلہ لینے کے درپے ہوتے ہو تو کسی دوسرے کے بجائے خود اپنے آپ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‘‘

معالجین کہتے ہیں کہ جب کسی دوسرے کے خلاف اپنے دل میں نفرت اور انتقام کے جذبات کو پروان چڑھایا جائے تو اس سے خود آپ کی صحت بھی تباہ ہونے لگتی ہے۔ خون کے دباؤ کا مرض یعنی بلڈ پریشر عموماً نفرت کی ہی وجہ سے جنم لیتا ہے۔ یہی نفرت بڑھ جائے تو امراضِ قلب کی شکایات بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ جذبہ نفرت کھانوں کی لذت سے ہمیں محروم کرنے لگتا ہے، بھوک کا احساس ختم ہونے لگتا ہے اور دماغی تناؤ بڑھ کر ہمیں اعصابی مریض بنا دیتا ہے۔ اگر ہمارے دشمنوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ ہماری نفرت خود ہمیں ہی نقصان پہنچا رہی ہے، ہماری قوتیں سلب کر کے اعصابی مریض بنا رہی ہے، مسکراہٹیں چھین کر ہمیں سخت لہجہ اور کرخت چہرہ عطا کر رہی ہے، ہمیں اختلاجِ قلب میں مبتلا کر رہی ہے… اور شاید ہماری زندگی بھی گھٹا رہی ہے تو کیا وہ خوش نہیں ہوگا کہ جو کام اس کے کرنے کا تھا یعنی کہ ہماری تباہی و بربادی، وہی کام ہم خود اپنے خلاف اپنے ہی ہاتھوں سے کر رہے ہیں۔

اگر ہم اپنے دشمنوں کے ساتھ محبت نہیں کر سکتے اور ان سے انتقام بھی نہیں لے پاتے تو پھر سوچئے کہ کڑھ کڑھ کر ہم خود کو تباہ کیوں کر رہے ہیں۔ کم از کم ہمیں اپنے ساتھ تو محبت کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنی ذات کے ساتھ اس قدر محبت ہونی چاہیے کہ ہمارے دشمنوں کو ہماری صحت اور ہماری خوشی پر غالب آنے کا موقع ہی نہ مل سکے۔ برطانوی ڈرامہ نگار شیکسپیئر کا کہنا ہے کہ ’’اپنے دشمن کے لیے انگیٹھی اتنی گرم نہ کرو کہ اس کی حدت کہیں تمہیں ہی نہ جلا ڈالے۔‘‘

تعلیماتِ اسلام اور نبی آخر الزماں حضرت محمدﷺ نے دشمن کو معاف اور درگزر کرنے کی تلقین کی ہے۔ یہ صرف رحم کرنے اور معاف کر دینے ہی کا درس نہیں ہے بلکہ مضبوط سماجی تعلقات کے استوار ہونے کا بنیادی اصول بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جب کسی کی بات سے دل میں جذبہ نفرت بیدار ہونے لگے تو ہمیں اس کے ذمے دار کو اللہ کے حکم کی خاطر اور پھر اپنی خوشی اور صحت کی خاطر معاف کر دینا چاہیے۔ ناخوش گوار بات یا واقعے کو فراموش کر دینا بہتر ہے، یہی ایک بہترین اصول ہے۔ ایک کہاوت ہے کہ ’’وہ شخص بیوقوف ہے جو ناراض ہونا جانتا ہی نہیں لیکن عقل مند وہ بھی نہیں جو ناراض ہونا جانتا ہے، بلکہ عقلمند وہ ہے جو ناراض ہونے کے بجائے معاف کردینے اور درگزر کا حوصلہ اپنے اندر رکھتا ہے۔‘‘ یہی درس ہمیں آں حضرت محمدﷺ کی زندگی سے بھی ملتا ہے۔ ایک حدیث میں آپؐ نے فرمایا ہے: ’’تم بندوں پر رحم کرو، خدا تم پر رحم کرے گا۔‘‘

کیا آج ہم اس ہدایت پر عمل کرتے ہیں؟ شاید مکمل طور پر نہیں! آج ہمیں کوئی معمولی سی بات بھی طیش دلانے کا سبب بن جاتی ہے اور ذرا ذرا سی معمولی بات پر بھی ہم دل میں کینہ اور نفرت اس طرح پالتے ہیں کہ خود اندر ہی اندر اس گھن کا شکار ہونے لگتے ہیں، لیکن پھر بھی اپنی اصلاح کے لیے غور نہیں کرتے۔

جب ہم دل میں نفرت پال کر جذبہ انتقام کی پرورش کرتے رہتے ہیں تو اس مرحلے میں ہم اور دشمن، دونوں برابر کی سطح پر ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ہم دشمن پر غالب آنے کے راستے تلاش کرتے ہیں۔

اگر ہم نے وہی ذہنی، جسمانی اور جذباتی خصوصیات اپنے اندر پیدا کرلی ہیں جو کہ ہمارے دشمنوں کا خاصہ ہیں تو پھر جان لیں کہ ہم میں اور ان میں بالکل فرق نہیں ہے۔ بظاہر دونوں ایک دوسرے کے خلاف مدمقابل ہوں گے، لیکن اخلاقی گراوٹ کی سطح دونوں کی ایک ہی ہوگی۔ اس لیے ہمیں اپنے دشمنوں سے نفرت کرنے کے بجائے ان کی اخلاق گراوٹ پر ترس کھانا چاہیے اور انہیں معاف کرکے خود کو اخلاق کی بلند سطح کا حق دار ثابت کرنا چاہیے اور خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم اُن جیسے نہیں۔ ہمیں اپنے دشمنوں سے نفرت کرنے اور ان سے انتقام لینے کے بجائے انہیں اپنی ہمدردی، اپنی مدد اور اپنی دعاؤں سے نوازنا چاہیے۔ اگر ہم ایسا رویہ اختیار کرنا چاہتے ہیں جو ہمیں سکون اور اطمینانِ قلب دے تو پھر ہمیں اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، کیوں کہ ایسا کر کے ہم ان کے بجائے اپنے آپ کو زیادہ نقصان پہنچائیں گے۔ جن لوگوں کو ہم ناپسند کرتے ہیں، ان کے متعلق ایک لمحے کے لیے بھی سوچنا وقت کو ضائع کرنے کے برابر ہے، کیوں کہ نفرت اور انتقام کی آگ آپ کے دشمن کو تو شاید نہ جلا پائے مگر آپ اس میں ضرور جل کر خاکستر ہوسکتے ہیں۔ اس لیے بہترین حل یہ ہے کہ نفرت اور انتقام کے بجائے محبت اور رحم سے کام لیجئے اس سے نہ صرف خدا خوش ہوگا، بلکہ آپ کی اخلاقی برتری بھی آپ کو سماج میں ممتاز مقام دلوائے گی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
بنت شفیع شیخ (اورنگ آباد)

Leave a Reply