بچوں کی والدین سے دوری اور اس کے اسباب

والدین اور بچوں کے مابین رشتے کو دنیا کا سب سے مضبوط رشتہ کہا جاتا ہے۔ والدین بچوں کی پرورش، تعلیم و تربیت اور ان کے آرام کی خاطر اپنا سکھ، چین بالکل بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ انہیں بولنا سیکھتے ہوئے دیکھنا اور دھیرے دھیرے گھٹنوں اور پھر اپنے پیروں پر چلتا دیکھ کر والدین کو جتنی خوشی ہوتی ہے اسے صرف والدین ہی محسوس کرسکتے ہیں۔ یہ بات حقیقت ہے تو والدین سے بچے دور کیوں ہوتے جا رہے ہیں اور وہ کون سی وجوہات ہیں، جس کی وجہ سے یہ فاصلے جنم لے رہے ہیں۔

بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ بچوں میں اپنے والدین کا ادب و احترام اور ڈر خوف بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب والدین اس لیے بچوں سے نالاں رہتے ہیں کہ بچے ان کا کہنا نہیں مانتے، ان کی نظر میں والدین کی کوئی اہمیت نہیں۔ ایسی صورت حال میں والدین کو غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر ان سب باتوں کی کیا وجوہات ہیں کہ بچوں اور والدین کے درمیان دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں؟

بچوں کی والدین سے دور ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، ان میں سب سے اہم تو معاشی حالات ہیں، جو ان دوریوں کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہونے کے باوجود والدین بچوں کو اچھی تعلیم اور ضرورت کی تمام اشیا مہیا کرنے کے لیے سرگرداں رہتے ہیں، باپ کے ساتھ ماں کو بھی محنت کرنی پڑ رہی ہے تاکہ بچوں کا مستقبل اچھا ہو۔ لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی ضرورت صرف سامان زندگی فراہم کرنا ہی نہیں ہے بلکہ ان کے ساتھ وقت گزارنا بھی ہے۔ وہ اس پر غور نہیں کرتے کہ کیا وہ بچوں کی تربیت صحیح کر رہے ہیں؟ صرف بچوں کو اسکول بھیج دینے سے سارے فرض پورے نہیں ہو جاتے بلکہ اخلاق و آداب اور دین کا علم اور عملی تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب والدین کی بچوں پر مکمل توجہ ہو اور یہی توجہ بچوں کو والدین سے قریب کرتی اور دلوں میں محبت پیدا کرتی ہے۔

والدین کا اپنے بچوں سے پیار بھرا اور جذباتی تعلق ایک طرف تو انہیں تحفظ کا احساس عطا کرتا ہے دوسری انہیں والدین کی محبت اور گرم جوشی کا احساس بھی دلاتا ہے۔ یہ احساس بعد کی زندگی میں عزت و احترام اور جذباتی تعلق کی ہی صورت میں پلٹ کر ملتا ہے۔ ایک مرتبہ حضور پاکؐ اپنے نواسوں کو چوم رہے تھے کہ ایک شخص نے دیکھا اور کہا کہ اللہ کے رسولؐ میرے دس بچے ہیں مگر میں نے کبھی کسی کا بوسہ نہیں لیا۔ اس پر اللہ کے رسولؐ نے فرمایا اگر اللہ نے تمہیں دل نہیں دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔

بچوں کو عیش و آرام کی زندگی، نام ہاد معیاری اسکولوں میں تعلیم اور ان کی ہر مانگ کو فوراً پورا کرنے سے زیادہ اہم ، ضروری اور دور رس اثرات کا حامل کام ہے بچوں کے ساتھ وقت گزارنا، انہیں محبت اور چاہت کا احساس کرانا اور ان کی زہنی و فکری تربیت کرنا، اور اس کا واحد طریقہ ان سے محبت کا اظہار ہے۔

بعض والدین بچوں پر اتنی سختی اور اپنا رعب و دبدبہ رکھتے ہیں کہ فطری طور پر بچے والدین سے دور ہونے لگتے ہیں۔ ایسے گھرانوں میں سخت گیر والدین کا فیصلہ حرف آخر کہا جاتا ہے۔ والدین بدلتی عمر اور بدلتے دور کی تبدیلیوں کو قبول ہی نہیں کرتے۔ وہ اب تک اسی دور کے مطابق چلتے ہیں جس میں ان کا بچپن اور جوانی گزری ہوئی ہوتی ہے اور وہ موجودہ دور میں رہتے ہوئے بچوں کے متعلق فیصلے گزرے ہوئے وقت کے مطابق کرتے ہیں۔ یہ ظاہر ہے بچوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوتے۔ یوں بچے والدین سے باغی ہونے لگتے ہیں۔

والدین اور بچوں کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں تو بعض اوقات بچے ایسا کام کر جاتے ہیں جو بعد میں مشکلات کو جنم دیتا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین بچوں سے دوستانہ ماحول رکھیں، بچوں کو پیار و محبت سے اعتماد میں لیتے ہوئے ان کی ہر بات غور سے سنیں ان کی اچھی باتوں اور کاموں میں ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ انہیں مشورہ دیں، تاکہ بچوں کا اعتماد بحال ہو اور وہ اپنی ہر بات اپنے والدین کو بتائیں اور ان کے مفید مشوروں پر عمل کریں۔

والدین اور بچوں میں دوری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بچوں کو والدین کے ساتھ تبادلہ خیال کی نہ عادت ہے اور نہ اجازت! بچے اکثر اس بات کی شکایات کرتے نظر آتے ہیں کہ والدین تو ہماری بات سنتے ہی نہیں ہیں اور نہ کسی معاملے میں بولنے کی اجازت دیتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ والدین کا تجربہ اور مشاہدہ بہت زیادہ ہوتا ہے، لیکن سوچ اور زمانے کی تبدیلی دوریاں اور فاصلے پیدا کرتی ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اس بات کو سمجھیں اور اس کا تجزیہ کریں کہ انھوں نے جو دور گزارا تھا اس میں اور موجودہ دور میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اس زمانے کے تقاضے کچھ اور تھے اور اب کے کچھ اور۔ ان ہی تقاضوں سے نبرد آزما ہوتے ہوئے آج کے بچے ترقی کی طرف مائل ہوں گے۔ بہتر یہی ہے کہ والدین بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے بارے میں بات چیت کریں، ان کے لیے اپنی روز مرہ مصروفیات میں سے وقت نکالیں، ان کی رائے کو اہمیت دیں، والدین کے اس عمل سے بچوں میں اپنی موجودگی کا احساس اجاگر ہوگا۔

ایک طرف اگر والدین کے پاس بچوں کے لیے وقت نہیں ہے تو دوسری طرف بچوں کے پاس بھی والدین کے لیے وقت نہیں۔ دولت کی ریل پیل اور پر آسائش زندگی بچوں کو والدین سے دور کر رہی ہے، پھر بچوں کے بدلتے ہوئے رویوں پر والدین حیران و پریشان ہیں۔ بہت سے والدین بھی جدید ذرائع میں ’مصروف‘ رہتے ہیں کہ انہیں بچوں کی خبر گیری کی فرصت نہیں رہتی۔ کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ والدین بچوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، تو انہیں والدین کے خیالات دقیانوسی نظر آتے ہیں، یوں بھی ہوتا ہے کہ بچے والدین کو وہ وقت یاد دلاتے ہیں، جب ماں باپ دونوں دولت کمانے کی دھن میں گھر پر بچوں کو آیا کے سپرد کر کے اس بات سے قطعی بے فکر ہوکر چلے جاتے تھے کہ ان کے پیچھے بچوں نے کیا کھایا؟ کیا کیا اور ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا؟ والدین کی اس لاپروائی پر بچے بھی ان پر توجہ نہیں دیتے۔

یہ درست ہے کہ آج کی نوجوان نسل جدید ٹیکنالوجی پر زیادہ انحصار کرنے لگی ہے، اس کے بعد کچھ وقت بھی کم ملتا ہے اور شاید وہ ضرورت بھی کم محسوس کرتے ہیں کہ والدین سے کچھ پوچھا جائے۔ پہلے بچے اپنے مسائل والدین اور بزرگوں سے بیان کر کے ان کا حل معلوم کیا کرتے تھے، لیکن پھر جدید ذرائع کا دور آگیا اور والدین بچوں سے دور ہوگئے۔ بچوں اور والدین کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں نے کمپیوٹر کو بچوں سے قریب سے قریب تر کر دیا۔ اب بچے اپنے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فون کے ذریعے اپنے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ اس میں انہیں وقت گزرنے کا احساس بھی نہیں ہوتا، یوں والدین سے ٹھیک طرح بات کرنے کے لیے ان کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ والدین شروع سے ہی اپنے اور بچوں کے درمیان فاصلے یا دوریاں نہ آنے دیں، ان کی یہ اہم ذمے داری ہے کہ وہ بچوں کے لیے وقت نکالیں، انہیں کھیل و تفریح کا مکمل موقع فراہم کریں۔ ان سے دوستانہ تعلقات رکھیں تاکہ وہ والدین سے اپنا ہر مسئلہ بیان کرسکیں، بچوں پر اپنا فیصلہ ہرگز مسلط نہ کریں، ان کے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے ان کی رائے کو بھی سامنے رکھیں اور بچوں کی سرگرمیوں سے واقف رہیں۔ اس طرح بچوں کو یہ باور کرایا جاسکتا ہے کہ دنیا میں والدین سے بڑھ کر ان کا کوئی خیر خواہ نہیں، لہٰذا ان کو زیادہ سے زیادہ وقت دیں اور ان کی باتوں پر عمل کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
نسرین اختر

Leave a Reply