گرمیوں کا موسم اور آپ کی صحت

گرما میں سورج قیامت کی گرمی لے کر طلوع ہوتا ہے۔ اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو گرمی بے حال کر دیتی ہے۔ لو لگ جانا، گرمی دانے ہونا اور گرمی سے بے حال ہونا، اس موسم کے خاص عوارض ہیں۔ جن سے بچنا بے حد ضروری ہے کیوں کہ یہ عوارض شدید نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔ حالاں کہ ان سے بچنا بے حد آسان ہے۔

لو لگ جانا گرمیوں میں عام سی بات ہے۔ اس مرض میں جسم کے درجہ حرارت کو معتدل رکھنے والا قدرتی نظام معطل ہو جاتا ہے، پسینہ آنا بند ہو جاتا ہے، نبض تیز رفتار، درجہ حرارت بلند اور جلد سرخ نیلگوں اور دھبے دار ہوجاتی ہے۔ اگر فوری علاج سے درجہ حرارت کم نہ کیا جائے تو یہ صورتِ حال سنگین ہو جاتی ہے۔

اگر کوئی فرد شدید گرمی اور لو لگنے کے سبب بے ہوش ہو جائے اور اس کی حالت بہتر نہیں ہو رہی ہو تو فورا طبی امداد حاصل کریں ورنہ اس فرد کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ متاثرہ فرد کو کسی ٹھنڈی جگہ لے جائیں۔ اس کے لباس اور سر کو ٹھنڈے پانی سے تر کر دیں۔ اسے پنکھا جھیلیں۔ متاثرہ شخص کا سر اونچا رکھیں۔ لو لگنے سے جسم کو کنٹرول کرنے والا مرکزی نظام کام کرنا بند کر دیتا ہے اس کے باعث جسم میں خون جمنے لگتا ہے۔ جگر اور گردوں کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔

گرمی کے موسم میں لو لگنے (سن اسٹروک) سے بچنے کے لیے چند تدابیر اختیار کریں۔

۱- گرمی میں گھر سے نکلنے سے پہلے خوب پانی پی لیں۔

۲- ممکن ہو تو سفر میں پانی ساتھ رکھیں اور وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں۔

۳- اگر مجبوری نہ ہو تو تیز گرمی میں (دوپہر ساڑھے گیارہ سے ڈھائی بجے تک) باہر نہ نکلیں۔

۴- اگر گرمی میں نکلنا پڑ جائے تو سر پر اسکارف، رومال یا دو پٹہ اوڑھ لیں۔ سر کے پچھلے حصے خصوصا گدی کو گرمی سے بچائیں۔ زیادہ گرمی کی صورت میں تولیے کو گیلا کرنے کے بعد نچوڑ کر سر پر رکھ لیں۔

۵- لو سے محفوظ رہنے کے لیے اس موسم میں زیادہ سے زیادہ پانی پئیں اور ایسی غذائیں استعمال کریں، جن میں حیاتین ج (وٹامن سی) پایا جاتا ہے۔ مثلاً کیری، فالسہ، لیموں وغیرہ۔

گرمی دانے موسم گرما میں خاص طور پر تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ جب ماحول گرم و مرطوب ہو اور پسینہ کو خشک ہونے کا موقع نہیں ملے تو جسم پر گرمی دانے نکل آتے ہیں۔ یہ گرمی دانے جسم پر کانٹوں کی طرح چبھتے ہیں۔ گرمی دانے عام طور پر اسی وقت زیادہ نکلتے ہیں، جب موسم گرم ہونے کے ساتھ ساتھ ہوا میں نمی کا تناسب بھی بڑھ جائے۔

گرمی دانے دراصل پسینہ لانے والے غدود کا منہ بند ہونے کے باعث ہوتے ہیں۔ جن کا علاج غسل کرنا اور جسم پر پاؤڈر چھڑکنا یا کیلا مائن لوشن لگانا ہے۔ اس زمانے میں جلد خشک رکھی جائے۔ کپڑے سوتی ہوں اور مسلسل کام کے بجائے آرام کا وقفہ دیتے رہنا چاہیے اور سب سے بڑھ کر پانی کی مقدار معمول سے زیادہ کردی جائے تو گرمی دانوں سے نجات ممکن ہے۔

گرمی سے بے حال ہوجانا عموماً اس وقت ہوتا ہے، جب پسینے میں جسم شرابور ہو جاتا ہے۔ جسم کا نمک اور پانی ضائع ہو جاتا ہے، دماغ اور دیگر اعضائے رئیسہ کا دورانِ خون کم اور اندرونی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، جس سے جسم میں درد، سخت تھکن، نقاہت، متلی اور چکر آسکتے ہیں۔ یہ صورتِ حال خطرناک ہے۔ مریض کو ٹھنڈی جگہ منتقل کیا جائے۔ کپڑے ڈھیلے کر دیے جائیں، پانی پلایا جائے مگر برف کا نہیں۔ سر نیچا اور پاؤں اونچے کردیے جائیں اور ہوسکے تو مریض کو معالج کے پاس لے جائیں۔

اس کے علاوہ گرمی سے ہونے والی تکالیف میں عام مگر معمولی نوعیت کی ہیں۔ جن میں بے چینی، چڑچڑا پن، ذہنی انتشار، دردِ سر اور تھکن ہوتی ہے۔ انہیں رفع کرنے کے لیے متاثرہ شخص کو گرم ماحول سے دور رکھیں، بہ کثرت سرد مشروبات پلائیں اور پرسکون رکھنے کی کوشش کریں۔

موسم گرما اور جلد کی حفاظت

ہمارے یہاں چوں کہ موسم گرما طویل عرصے تک رہنے والاموسم ہے لہٰذا اس کے اثرات بھی تادیر رہتے ہیں۔ جیسے جیسے گرمی کی حدت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے گرمی کے مضر اثرات ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ سخت گرمی میں سب سے زیادہ اثر ہماری جلد کو پہنچتا ہے۔ اس موسم میں بہت سے افراد کو جلدی امراض کی شکایت بھی ہو جاتی ہے۔

ہمارے یہاں موسمی جلدی امراض عام ہیں۔ جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں قدرے مختلف امراض پائے جاتے ہیں۔ ہمارے یہاں اسکیبیز (Scabies) بے حد عام ہے جو گنجان آبادی اور صحت و صفائی کی عدم سہولتوں کے سبب پیدا ہونے والا مرض ہے۔ یہ ایک متعدی مرض ہے، جس کی اہم علامت یہ ہے کہ گردن کے نیچے کے حصوں میں مسلسل خارش ہوتی ہے، جو رات میں کافی بڑھ جاتی ہے۔یہ مرض بہت تیزی سے پھیلتا ہے، جہاں زیادہ افراد کا ایک دوسرے سے میل جول ہو، مثلاً اسکول، کالج وغیرہ یا ایک گھر میں ساتھ رہنے والے افراد میں یہ مرض ایک سے دوسرے کو سرعت سے منتقل ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ جلد ٹھیک ہو جانے والا مرض ہے مگر اس کی تیز تر نمو اسے تکلیف دہ بنا دیتی ہے۔ اس کا سہل علاج ایک جلدی کریم کا دو راتوں تک متواتر استعمال ہے لیکن شرط یہ ہے کہ یہ کریم گھر کے تمام افراد (خواہ انہیں خارش ہو یا نہ ہو) استعمال کریں۔

مردوں کی نسبت خواتین میں جلدی مسائل کی شدت زیادہ ہے، مثلاً داغ، دھبے، جھائیاں اور کیل مہاسے وغیرہ کی شکایت خواتین میں زیادہ دیکھنے میں آتی ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہ شکایات مردوں میں نہیں ہوتیں۔ شدید قسم کا جلدی انفیکشن، جس میں چہرے پر پھوڑے نما دانے نکل آتے ہیں، مردوں میں زیادہ عام ہے۔ خواتین دراصل ایک تو اپنے چہرے کے متعلق زیادہ حساس ہوتی ہیں۔ دوم اپنے چہرے پر طرح طرح کے تجربے کرتی رہتی ہیں۔ اور سب سے اہم وجہ ان میں ہر ماہ ہونے والی ہارمونل تبدیلی ہے۔

چہرے کے کیل مہاسوں کے حوالے سے بھی یہ بات اہم ہے کہ غذا (چاکلیٹ، روغنی اور مصالحے دار کھانوں) سے ان کا براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ دراصل اگر چکنائی خارج کرنے والے مساموں سے نکاسی درست طور پر نہ ہو یا آئل کی اوور پروڈکشن ہونے لگے تو کیل، مہاسوں کی شکایات پیدا ہوتی ہیں۔ پھر اس میں انسانی جلد کی بناوٹ کا بھی بڑا دخل ہے کہ بعض افراد میں چکنائی خارج کرنے والی نالی کافی پیچیدہ رستے سے ہوکر گزرتی ہے۔ اس ضمن میں ایک نہایت سادہ سی بات ہے کہ جب چہرے پر میک اپ کی تہیں جمع رہیں گی اور چکنائی کو خارج ہونے کا موقع نہیں ملے گا تو کیل مہاسے تو لازما پیدا ہوں گے۔ عموماً خواتین چہرے پر میک اپ کا استعمال تو جی بھر کے کرتی ہیں لیکن اسے اُتارنے کا اہتمام نہیں کرتیں۔ خصوصاً رات کی تقریبات میں شرکت کے بعد اکثر چہرہ دھوئے بنا سو جاتی ہیں، جس سے رات بھر چہرے کی جلد سانس نہیں لے پاتی، نتیجتاً کیل مہاسے پیدا ہوتے ہیں۔ اس میں جلد کی بناوٹ کا بھی دخل ہے اور خواتین کی کوتاہی کا بھی۔

اس حوالے سے ایک بے حد آسان اور بہترین علاج یہ ہے کہ چہرے کو جس حد تک ممکن ہو نارمل حالت میں رکھا جائے۔ دن میں کم از کم پانچ مرتبہ ہاتھ منہ دھویا جائے اور اگر باہر آنا جانا زیادہ ہو یا گرد مٹی سے واسطہ پڑے تو چہرے کو فوری طور پر دھوکر صاف ستھرا کرلیا جائے۔ میک اپ کو غیر ضروری طور پر چہرے پر ہرگز نہ لگا رہنے دیں۔ اس مقصد کے لیے کلینزنگ پیڈ اور لوشنز وغیرہ استعمال ہوتے ہیں اور جس قدر بناؤ سنگھار کی اشیاء خریدی جاتی ہیں اسی قدر میک اپ ری موول کے سامان پر خرچہ کیا جاتا ہے۔

موسم گرما میں موسم کی مناسبت سے کچھ خاص احتیاط اور حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جس قدر ممکن ہو جلد کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں۔ روزانہ نہائیں، اگر ہوسکے تو دن میں دو مرتبہ نہائیں۔ دن بھر میں بار بار چہرہ دھوئیں، بلاوجہ سورج کی ڈائریکشن میں ہرگز کھڑے نہ ہوں۔ یہ شعاعیں غیر محسوس طور پر جلد کو بے حد نقصان پہنچاتی ہیں۔ ایک کپڑا جسے ’’فیس کلاتھ‘‘ کہا جاتا ہے، جو تھوڑا سا رف ہوتا ہے، اگر ممکن ہو تو کبھی کبھار اس سے چہرہ ضرور دھوئیں۔ اس سے تمام گرد و غبار صاف ہو جاتا ہے اور چہرے کے مردہ خلیات کی تہ ہٹ جاتی ہے۔ تیز دھوپ آپ کی جلد کے لیے انتہائی مضر ہے۔ اپنی جلد کو دھوپ سے محفوظ رکھنے کے لیے چھتری یا کیپ کا استعمال درست رہے گا۔

اگر آپ باہر جا رہی ہیں تو منہ دھوکر جائیں، پسینہ آئے تو کسی چھوٹے گیلے تولیے کی مدد سے آہستگی سے صاف کریں، اس طرح جلد متاثر نہیں ہوتی۔ بہتر تو یہ ہے کہ ایک صاف چھوٹے تولیے پر معیاری ٹالکم پاؤڈر یا باڈی اسپرے چھڑک کر اسے فریج میں ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ دیں اور جب پسینہ آئے تو اسی تولیے سے اپنی جلد کو صاف کرلیں۔ پسینہ آنے کی وجہ سے جلد کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے، اس کے مسام کھل جاتے ہیں اور یہ زیادہ تھک جاتی ہے۔ ایسے میں اس کو تازہ دم کرنے کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز پانی ہے۔ زیادہ مقدار میں پانی پیتے رہیں۔ ہر بیس منٹ بعد ایک گلاس پانی، یہ جلد کے لیے ٹانک کا کام کرے گا۔ اگر دن بھر میں ایک گلاس پانی میں آدھالیموں نچوڑ کر پی لیا جائے تو اس سے وٹامن سی بھی حاصل ہوگا اور گرمی کی شدت کا مقابلہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

بالوں کی حفاظت

گرمیوں میں بالوں کی حفاظت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اکثر اوقات تو ہم پر بے زاری کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ بالوں کا جھڑنا، خشک ہونا، دو منہ بن جانا وغیرہ گرم موسم کی سوغات ہیں۔ یوں تو ہمیشہ بالوں کو حفاظت کی ضرورت ہے لیکن سردی اور گرمی ایسے موسم ہیں جن میں بالوں کو کچھ زیادہ توجہ دینا لازمی ہے۔

اس سلسلے میں پہلے تو یہ دیکھنا پڑے گا کہ بال کیسے ہیں لمبے یا چھوٹے ہیں، قدرتی سیاہ ہیں یا کلر کیے ہوئے ہیں۔ بال چاہے چھوٹے ہوں یا لمبے گرمیوں میں تو بندھے ہوئے ہی اچھے لگتے ہیں۔ بالوں کو پیچھے کی طرف کر کے بینڈ لگالیں باہر نکلتے ہوئے بالوں کو کور کرلیں، دو پٹہ، اسکارف یا ہیٹ ضرور سر پر رکھیں تاکہ بال تیز دھوپ سے محفوظ رہیں اور چہرہ بھی۔

بالوں پر موئسچرائزنگ یا ہیئر کریم لگانا مفید ہے۔ وٹامن ای والی غذاؤں کا استعمال کریں کیوں کہ یہ وٹامن بالوں کی چمک کے لیے بہت مفید ہے۔ بالوں میں برش کریں تو اچھی طرح سے کریں رات ہونے سے قبل تقریباً پانچ منٹ تک بالوں میں برش کریں۔

اگر آپ کے بال چکنے ہیں تو ہر دوسرے دن ان کو دھولیں، خشک بالوں میں ہفتے میں تین بار شیمپو کریں۔ اگر بال قدرتی رنگ کے ہیں تو ان کو کوور کرنا،وقت پر شیمپو کرنا، تیل لگانا جیسے عوامل بالوں کو محفوظ رکھتے ہیں۔

بہت زیادہ شیمپو کرنا بھی بالوں کو نقصان دیتا ہے لیکن گرمیوں میں ہمیں زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے تو ضروری یہ ہے کہ شیمپو بالوں کی فطرت سے مناسبت رکھتا ہو۔

نہانے کے بعد کوشش کریں کہ بال ہوا میں سکھائیں ہیئر ڈرائر کا استعمال بالوں کو مزید خشک کر دیتا ہے۔ گرمیوں میں بالوں کو تین سے چار ہفتوں کے وقفے سے ترشوائیں یہ کام ہمیشہ کرنا چاہیے لیکن اس موسم میں چوں کہ بال زیادہ توجہ مانگتے ہیں، اس لیے بال باقاعدگی سے ترشوائیں۔ ہفتے میں کم از کم ایک بار سر کا مساج کریں۔ بالوں کو تیل کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ہفتے میں دوبار تیل ضرور لگائیں، رات کو مالش کریں، صبح سر دھولیں، اور اگر نہانے سے ایک گھنٹہ پہلے تیل سے خوب اچھی طرح مالش کی جائے تو پھر اس کے لیے تولیہ تیز گرم پانی میں بھگولیں، پانی نچوڑ کر سر پر لپیٹ لیں یہ عمل دوبار کریں پھر جب آپ سر دھوئیں گی تو بال نرم و ملائم ہوں گے۔

جڑی بوٹیاں ہمارے بالوں کے لیے بہترین ہیں جو انہیں چمکدار بنا کر زندگی عطا کرتی ہیں۔ مثلاً آملہ، ریٹھا، ہڑ، سیکاکائی وغیرہ نہ صرف گرمی میں ٹھنڈک دیں گے بلکہ بالوں کے لیے بہترین کنڈیشنز کا کام کرتی ہیں۔ اسی طرح مہندی ہے قدرت کا انمول عطیہ، جس کا استعمال کئی طرح سے کیا جاتا ہے یہ بالوں کے لیے بہترین ٹانک ہے۔ مہندی میں ہمیشہ دہی، شہد اور تیل ملا کر استعمال کریں بالوں کا مساج ضرور کریں۔ اس سے سر کو سکون ملے گا، ذہنی دباؤ کم ہوگا اور گرمی میں بالوں کو نرمی ملے گی۔

اگر بال دو شاخہ ہوجائیں تو زیتون کے تیل کو گرم کر کے آدھا چائے کا چمچہ شہد ڈال کر بالوں پر لگا کر آدھا گھنٹہ چھوڑ دیں۔ زیتون کا تیل بالوں کو غذائیت بخشتا ہے جب کہ شہد نوکوں کو نرم کرتا ہے یہ عمل مسلسل کرنے سے دو شاخہ بال ختم ہوجاتے ہیں۔ تھوڑی سی حفاظت اور تھوڑی سی محنت آپ کے بالوں کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے اور آپ کے بال خوب صورت نظر آتے ہیں اور آپ کو انفرادیت بخشتے ہیں۔

موسم گرما میں دیگر احتیاطیں

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جس قدر ممکن ہو پانی پیا جائے، دن بھر میں پندرہ سے اٹھارہ گلاس پانی پئیں، پسینہ آپ کے جسم کو ٹھنڈا رکھتا ہے، گرمیوں میں پسینہ خوب آتا ہے چوں کہ ہر گھنٹے میں اچھا خاصا پانی پیسنے کی شکل میں جسم سے خارج ہو جاتا ہے لہٰذا اس کی کمی کو پورا کرنا ضروری ہے۔ لہٰذا چاہے پیاس لگے یا نہ لگ رہی ہو، ہر پندرہ سے بیس منٹ بعد ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس ضرور پی لینا چاہیے۔

نائیلون ملے کاٹن کے کپڑے پہننے سے اجتناب کریں، کیوں کہ یہ گرمی کو زیادہ بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔ ریشم سورج کی شعاعوں کو اپنے اندر جذب کرتا ہے۔ سوتی، ہلکے رنگوں کے ڈھیلے ڈھالے ملبوسات کا انتخاب کریں۔ ان سے ہوا بہ آسانی گزر جاتی ہے۔ اس کے علاوہ لباس صاف ستھرا اور دھلا ہوا ہو کیوں کہ بظاہر صاف نظر آنے والا لباس بھی پسینہ اور نمکیات جذب کرلینے کے باعث انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے۔

غذا میں سبزیوں، پھلوں اور دالوں کا استعمال کریں۔ مرغن، تیز مصالحے دار اور بھاری غذاؤں کے استعمال سے گریز کریں۔ انڈا، گوشت وغیرہ کم سے کم استعمال کر کے سبزیوں کا استعمال زیادہ رکھیں۔ اس کے علاوہ سلاد بھی روز مرہ کی خوراک میں شامل رکھیں۔ گرمیوں میں کھانے پینے میں اگر احتیاط کرلی جائے تو ہم بہت سے خطرناک امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں، چوں کہ گرمیوں میں غذائی اشیاء جلد خراب ہو جاتی ہیں اور ان میں جراثیم کی پرورش زیادہ ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ گرمیوں میں زیادہ درجہ حرارت اور ہوا میں نمی کا زیادہ تناسب، جراثیم کی نشو و نما کے لیے زیادہ موزوں ثابت ہوتا ہے۔ جراثیم اگر غذا میں پرورش پانے لگیں تو اس غذا کو استعمال کرلینے سے تسمم غذا (فوڈ پوائزنگ)، ہیضہ اور پیچش جیسے امراض میں مبتلا ہونے کا خطرہ رہتا ہے لہٰذا ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے کہ صاف ستھری غذائیں استعمال کی جائیں۔

گرمیوں میں آنکھوں کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ آنکھوں کی حفاظت کے لیے سن گلاسز سے بہتر اور کیا چیز ہوسکتی ہے۔ تیز دھوپ میں جب بھی باہر نکلیں سن گلاسز ضرور لگالیں، یہ نہ صرف آپ کی آنکھوں کو دھوپ سے بچائے رکھیں گے بلکہ گرد و غبار اور گاڑیوں کے دھوئیں سے بھی آنکھیں محفوظ رہیںگی۔

یاد رکھیں! بدلتے موسم اپنے اثرات ضرور مرتب کرتے ہیں۔ لیکن بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ ان کے ساتھ موزونیت پیدا کی جائے۔ ہر موسم کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں گرمیوں کا سب سے اہم تقاضا یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پانی پیا جائے، ہلکی پھلکی غذائیں کھائی جائیں۔ تیز دھوپ میں باہر نہ نکلا جائے، سوتی لباس پہنا جائے۔ یوں سمجھ لیں کہ گرمیوں کا موسم ایک ایسا موسم ہے جس کے اثرات ہماری صھت، ہماری جلد، ہمارے بالوں اور ہمارے لباس پر پڑتے ہیں۔ اٹھئے اور اٹھ کر گرمیوں کا مقابلہ کیجیے کیوں کہ گرمیاں بھی صرف چند احتیاطی تدابیر اختیار کر کے پرلطف انداز میں گزاری جاسکتی ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
نسرین شاہین

Leave a Reply