مباحثے: عورت کے سلسلے میں سماجی رویوں پر آپ کی کیا رائے ہے؟ موجودہ معاشرہ میں تبدیلی کیسے لائی جائے؟

ہمارے یہاں یہ تصور عام ہے کہ عورت جسمانی اور ذہنی طور پر بے حد کم زور اور ناقص ہوتی ہے، دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ہر ایک گروہ عورت کو لاچار ثابت کرتا ہے۔ سماج میں رائج انہی افکار و نظریات کے سبب عورت ہر ایک کے ذہن میں کم زور اور ناتواں بن جاتی ہے۔

دوسری طرف اسی معاشرے میں ایسی خواتین بھی ہیں، جو دسیوں گھروں میں جھاڑو پونچھا کرنے کی مشقت کرتی ہیں اور اپنے نصف بہتر کے مساوی ہاتھ بٹاتی ہیں۔ کچھ کام کرنے والیوں کے شوہر لاچار اور بیمار ہوتے ہیں، تو کچھ نشے کے عادی، جس کی بنا پر معاش کا سارا ذمہ ان کے سر ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ وہ خواتین بھی ہیں، جو دن بھر مختلف دفاتر میں کام کر کے جب تھک کر گھر واپس آتی ہیں، تو گھر داری میں بھی کوئی کسر نہیں رکھ چھوڑتیں۔ اگر ماں ہیں، تو یہ اور ایک بھاری اور اہم ذمے داری کو وہ نبھاتی ہیں۔

اسی طرح دیہاتوں میں کھیتی باڑی اور فصلیں کاٹنے میں بھی عورت موسم کی سختیوں سے بے پروا ہوکر مرد کے شانہ بشانہ ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لڑکیاں خواتین ڈرپوک ہوتی ہیں، کیوں کہ وہ لال بیگ تک سے خوف زدہ ہوکر چیخنے لگتی ہیں، کبھی ان کا نازک دل بجلی کی کڑک اور زور دار دھماکے کی آواز پر اتنے زور سے دھڑکتا ہے کہ وہ حواس باختہ ہو جاتی ہیں۔

مردانہ سماج میں ایک ڈر اپنے تحفظ کا بھی لگا رہتا ہے۔ شادی کی عمر نکل جانے کا ڈر، شادی کے بعد کی زندگی، پھر جہالت کے شکار لوگوں میں بیٹی کی پیدائش یا خوانخواستہ بے اولادی پر طعنوں کا سلسلہ۔ پھر وہ ساری زندگی مرد کے جبر، غصے اور انتہائی صورت میں اس کی مار پیٹ کو بھی برداشت کرتی ہے۔

اس بات کا دوسر اپہلو سمجھیں، تو وہ بھی تو عورت ہے، جو کھیتوں میں کام کرتے ہوئے کتے یا بلی سے ہی بے خوف نہیں ہوتی، بلکہ سانپ اور بچھو جیسے موذی جانور بھی مار دیتی ہے۔ وہ لڑکیاں اور خواتین بھی تو ہیں جو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ڈاکٹر بنی بیٹھی ہیں، جب کہ میڈیکل میں داخلے کا پہلا قدم ہی مینڈک اور لال بیگ وغیرہ کو پکڑ کر ان پر مختلف تجربات کرنا ہے اور ڈاکٹر بن کر بھی وہ مریض کو مشکل اور پیچیدہ مراحل سے نبردآزما ہونے میں مدد دیتی ہے۔

٭٭

ہر خاتون اگر چاہے تو خود کو سماجی، معاشرتی اور معاشی طو رپر مستحکم کرنا کوئی مشکل نہیں، مگر اس کے لیے سب سے پہلے اپنے آپ کو ذہنی بے چارگی اور خود ترسی کے حصار سے نکالنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اگر عورت میں برداشت اور صبر کی قوت پیدا کی ہے، تو دوسری طرف اس کو اتنی صلاحیتیں بخشی ہیں کہ وہ جب چاہے خود کو مضبوط بنا سکتی ہے۔

تعمیری اور مثبت سوچ، بلند حوصلہ اور احتیاطی تدابیر اختار کرنے کا رویہ ہی ہماری شخصیت کی اصل خوب صورتی ہے۔ ہمارا اعتماد اور قوت ارادی ہماری اصل طاقت بھی ہوتی ہے، اگر ہم احساس کم تری کا شکار ہوجائیں، تو پھر کچھ بھی ممکن نہیں۔

عورت کو تعلیم کے حصول اور اس کو بنیادی انسانی، سماجی اور معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی روکنا انتہائی غیر مناسب رویہ ہے۔ اللہ نے مردوں کے ساتھ اسے بھی تو اشرف المخلوقات بنایا ہے، تو اگر مرد صرف خود کو ہی اس زمرے میں شامل سمجھتے ہوئے اسے تعلیم سے محروم کرتے ہیں تو یہ دین کے مزاج کے بھی خلاف ہے اور سماج و معاشرے کی ترقی کے بھی خلاف۔ ایسے لوگ جو عورت کو علم و حکمت سے بھی دور رکھتے ہیں اور پھر اسے کم عقلی کے طعنے بھی دیتے رہتے ہیں، وہ شاید غیر محسوس طریقے سے عورت پر حاکمیت رکھنا چاہتے ہیں کہ اگر عورت تعلیم حاصل کرلے گی تو اپنے حقوق کی بات کرے گی۔

ان تمام باتوں سے یہ ثابت ہوا کہ عورت اگر خود کو کم زور اور بے چاری تصور کرنا چھوڑ کر فعال و متحرک زندگی جینا چاہے، تو اللہ نے اسے اتنی صلاحیتیں دی ہیں اور حق بھی کہ وہ اپنے آپ کو ہر طرح کی کم زوری اور بے چارگی سے آزاد کراسکتی ہے۔ بس اس کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ عورت خود پر رحم کھانا چھوڑے اور خود عورتوں پر مظالم کے نام پر اسے رحم کا حق دار قرار دینے کے عمل کا بھی حصہ نہ بنے۔ اس طرح وہ ایک بہتر زندگی کی شروعات کرسکتی ہے۔

ایک اور بات قابل توجہ ہے کہ موجودہ معاشرے میں عورت کی سماجی فعالیت اور معاشی و سماجی سرگرمیوں میں حصہ داری کا مطلب بنیادی گھریلو ذمہ داریوں سے فرار تصور کیا جاتا ہے، یہ غلط ہے۔ عورت اپنی فطری اور قدرتی ذمہ داریوں سے اگر فرار حاصل کرنا چاہے گی تو اپنا عورت کا مرتبہ اور وقار دونوں کھودے گی اور زندگی کے معاشرتی تانے بانے بکھر جائیں گے۔ خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گا۔ اس لیے سوچ میں توازن کی ضرورت ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
Jamil Sarwer

Leave a Reply