پیاس بجھاتے چلو! (۱)

تپتی دوپہر میں اپنا آخری پیپر دے کر لوٹتے ہوئے وہ بے پناہ مسرت محسوس کر رہی تھی۔ گھر آتے ہی اس نے اپنا برقع اتار پھینکا اور سیدھی کچن میں جا پہنچی۔ ایگزامز کی ٹینشن میں تو بھوک پیاس گویا مر سی گئی تھی۔ الٹا سیدھا ٹھونس کر کالج کے لیے بھاگتی اور واپس آکر بھی اس ڈر سے کہ نیند نہ آجائے، پیٹ بھر کھانا نہیں کھاتی تھی اور آج تو ایگزام ختم ہوتے ہی یکایک بھوک جاگ اٹھی تھی۔ بگونے سے ڈھکن ہٹاتے ہی اس کا منہ بن گیا۔ مونگ کی دال بنی تھی۔ اس نے بے دلی سے بگونہ ڈھک دیا اور باہر نکل آئی۔

’’السلام علیکم دادی۔‘‘ دادی کے روم میں داخل ہوتے ہی اس نے انہیں سلام کیا۔

’’آگئی میری بچی!۱ خوش رہو کیسا ہوا پرچہ؟‘‘

انھوں نے بانہیں پھیلائیں تو وہ ان کے بستر پر بیٹھ کر ان کی بانہوں میں بھر گئی۔

’’اچھا ہوا ہے۔‘‘ اس نے اطراف میں نگاہیں دوڑائیں۔ ’’امی کہاں ہیں؟‘‘

’’وہ آج کے ہفتہ واری درسِ قرآن میں گئی ہے۔ مجال ہے جو کسی ہفتے اس کی غیر حاضری ہو جائے۔ علم کی بہت شوقین ہے میری بہو۔‘‘

’’ارے تم نے کھانا کھایا یا نہیں؟‘‘ انھوں نے اس کا سر سہلاتے ہوئے ایک دم ہاتھ روک کر پوچھا تو وہ منہ بسورنے لگی۔

’’کیا کھاتی، مونگ کی دال پکی ہے… ایسے موسم میں کوئی مونگ کی دال کھاتا ہے کیا۔ ایگزام ختم ہونے کی خوشی میں تو آج کچھ اچھا بننا چاہیے تھا۔‘‘

اس کا موڈ پوری طرح آف ہوچکا تھا۔

’’دال کھانے کو دل نہیں چاہ رہا تو اپنے تایا کے گھر جاکر کھالو۔ قیصر بھی آفس سے آگیا ہوگا۔‘‘

دادی کے اس آئیڈیے پر تو اس کی آنکھیں چمک گئیں اور وہ اچھل کر کھڑی ہوگئی۔

’’میں تایا جان کے یہاں جا رہی ہوں، امی کو بتا دیجیے گا۔‘‘

تایا جان کا دروازہ ان کے دروازے سے لگ کر ہی تھا۔ اس نے دوبارہ برقع پہننے کی زحمت نہیں کی صرف سر پر دو پٹہ ڈال کر ان کے گھر چلی آئی۔ حسن اتفاق تایا جان کھانا ہی کھا رہے تھے۔ اسے دیکھا تو بے حد خوش ہوگئے اور اپنے ساتھ کھانے کے لیے بٹھا لیا۔ حسب معمول آج بھی اسے دیکھ کر تائی جان کا منہ بن گیا تھا۔ اسے ٹیبل پر بیٹھتا دیکھ کر وہ مزید روٹی لانے بادلِ ناخواستہ اٹھیں۔

تایا جان کا ٹیبل طرح طرح کے لوازمات سے بھرا ہوا تھا۔ قیمہ کریلے، میتھی کی بھاجی، چکن سنگریلا، فرائیڈ رائس اور اس کے ساتھ کیری پودینے کی چٹنی اور چھاچھ کا گلاس۔ فائزہ کے تو مزے آگئے۔ اس نے نہایت ’’خشوع و خضوع‘‘ سے کھانا تناول کیا۔ تایا جان بصد اصرار اسے خود ایک ایک چیز پیش کر رہے تھے۔ اسے صحیح معنوں میں کھانے کا لطف آگیا تو ’’بس تایا جان! پلیز اب مزید کچھ نہیں کہہ کر‘‘ ان کے پرزور اصراور پر وہ معذرت کرتی اٹھ گئی۔ اگر بیٹھی رہتی تو تایا جان نہ جانے کتنا کچھ کھلا دیتے۔ اس کے پیٹ میں اب لقمے کی بھی گنجائش نہیں رہ گئی تھی۔

’’ارے، ہماری بیٹی کا ننھا منا معدہ اتنی جلدی بھر گیا۔‘‘ تایا جان ہنسے تو وہ بھی مسکرا دی۔

’’جاؤ جاکر صبا کے کمرے میں آرام کرلو وہ بھی سو رہی ہے۔‘‘

’’نہیں تایا جان! میں اب گھر چلتی ہوں امی درس سے واپس آگئی ہوں گی۔ انہیں بھی تو آج کے پیپر کے بارے میں بتایا ہے نا!‘‘

’’چلو یہ بھی ٹھیک ہے۔‘‘

اس کے اچھے تایا جان فوراً ہی مان گئے تھے۔ اسے ان پہ اتنا پیار آیا کہ اس کا دل چاہا کہ ان کے گلے میں اپنی بانہیں حمائل کر لے لیکن تائی جان کی گھورتی نگاہوں کے پیش نظر اسے اپنی خواہش کا گلا گھونٹنا پڑا۔ وہ اس کی ان ’’بچکانہ پلس نامعقول‘‘ حرکتوں کو سخت ناپسند کرتی تھیں۔ انہیں سلام کر کے وہ اپنے گھر چلی آئی۔

پیٹ بھر جانے کے باعث نیند کے مارے آنکھیں خود بخود بند ہوئی جا رہی تھیں۔ تائی جان واقعی زبردست کھانا بناتی تھیں۔ تایا جان اچھا کھانے کے شوقین تھے تو تائی جان اچھا پکانے کی۔ اس لیے ان کا دسترخوان انواع و اقسام کے کھانوں اور اچار، مربوں اور چٹنیوں سے سجا ہوا رہتا تھا۔

امی اب تک واپس نہیں لوٹی تھیں۔ ان کا انتظار کرتے کرتے وہ کب سوگئی اسے خود پتہ نہیں چلا۔

فائزہ کے والد حید رمرتضیٰ عرصہ دراز سے سعودی عرب میں مقیم تھے۔ وہ اپنی شادی سے پہلے غم روزگار کے سلسلے میں وہاں گئے تھے۔ خوش قسمتی سے اچھی جاب مل گئی تو ان کی والدہ چٹ منگی پٹ بیاہ کے مصداق ان کی دلہن (آمنہ) لے آئیں۔ ایک بہو (فاطمہ) تائی جان) پہلے سے گھر میں موجود تھیں، دلہن کے ساتھ چند ماہ گزار کر حیدر مرتضیٰ پھر سے سعودی عرب چلے گئے وہاں سے سال بھر بعد لوٹے تو وہ ایک خوب صورت بچی کے باپ بن گئے تھے۔

فائزہ نے جب سے ہوش سنبھالا تھا، اپنے آس پاس صرف دادی اور امی کو ہی پایا تھا۔ وہ اپنے پاپا کو ہر دو سال بعد دیکھ پاتی تھی۔ وہ بھی صرف دو ماہ کے لیے اور کبھی کبھی تو اس کے پاپا چھٹیاں ختم ہونے پر صرف چالیس دنوں بعد ہی سعودی عرب روانہ ہوجاتے۔ ایسے میں اسے باپ کی شفقت کا احساس کسی نے کرایا تو وہ تایا جان تھے۔ وہ اس کے لاڈ پیار میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے تھے اور اس پر جان نچھاور کرتے تھے۔ اس کی والدہ کی تنہائی کو مدنظر رکھتے ہوئے دادی ان کے ساتھ ہی رہتی تھیں۔ گھر کے دونوں حصوں کے درمیان ایک دیوار اٹھا دی گئی تھی جس میں ایک دروازہ بھی تھا لیکن وہ عموماً بند ہی رہتا تھا۔ کوئی چیز لینی دینی ہو تو دیوار پر سے لے لی جاتی اور آمد و رفت کے لیے باہری دروازہ استعمال کیا جاتا تھا۔

تایا جان قیصر مرتضیٰ کے تین بچے تھے۔ سب سے بڑی فضا آپو، دوسرے نمبر پر صبا جو فائزہ کی ہم عمر اور ہم جماعت تھی۔ تیسرے نمبر پر مہران تھا جو صبا سے ایک سال چھوٹھا تھا اور پولی ٹیکنک کر رہا تھا۔ ہم عمر و ہم جماعت ہونے کی وجہ سے فائزہ اور صبا میں بہت دوستی تھی۔ دونوں نے بارہویں تک کے ایم اصغر حسین جونیئر کالج میں ساتھ ہی پڑھائی کی تھی۔ پھر فرسٹ ایئر سے صبا نے سیتا بائی آرٹس کالج میں ایڈمیشن لیا کیوں کہ اسے لٹریچر سے دلچسپی تھی جب کہ فائزہ نے RLTسائنس کالج میں داخلہ لے لیا۔ اب دونوں کے کالجز الگ الگ تھے، لیکن ان کی دوستی اور میل ملاقات میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ کبھی صبا، فائزہ کے گھر پائی جاتی تو اکثر فائزہ صبا کے گھر ڈیرہ جمائے رکھتی۔ تائی جان کے برعکس ان کی دونوں بیٹیاں اسے دیکھ کر بے حد خوش ہوتیں۔ مہران خوش اخلاق لیکن سنجیدہ مزاج لڑکا تھا۔ فضا آپو کی شادی کو ڈیڑھ سال ہوگیا تھا اور اب ان کی گود میں ایک گل گوتھنا سا بچہ یا سر بھی تھا۔

تایا جان قیصر مرتضیٰ اپنی بیٹیوں بشمول فائزہ سے بے پناہ محبت و شفقت کا برتاؤ کرتے تھے۔ فائزہ پر ان کی خصوصی توجہ اس لیے بھی ہوتی تھی کہ حیدر چوں کہ یہاں موجود نہیں تھے اسے والد کی کمی کا احساس نہ ہو۔ تائی جان اسے کیوں ناپسند کرتی تھیں یہ اسے کبھی سمجھ نہیں آیا تھا۔ اسی کے ساتھ ان کے تعلقات قابل رشک تو نہیں، البتہ گزارنے لائق تھے۔ شاید انہیں صبا کے مقابلے اس کا زیادہ نمبرات سے کامیاب ہونا بد دل کرتا تھا یا وہ صبا سے قدرے خوب صورت تھی یہ بات انہیں خائف کرتی تھی۔ یا شاید اس کی تقریری و دیگر صلاحیتوں سے انہیں حسد تھا یا شاید تایا جان کا اسے خاص پروٹوکول دینا انہیں ناپسند تھا یا پھر شاید… پتہ نہیں کیا وجہ تھی لیکن یہ تو بہرحال طے تھا کہ وہ تائی جان کو بالکل اچھی نہیں لگتی تھی۔ اور اپنے آس پاس اتنے محبت کرنے والوں کے درمیان تائی جان کا سردمہر رویہ اسے اکثر دلبرداشتہ کردیتا تھا۔

وہ ابھی بی ایس سی فرسٹ ایئر کے امتحانات سے فارغ ہوگئی تھی اس لیے زندگی میں موجاں ہی موجاں تھیں۔

٭٭

چاند پر تو بہت لوگ جاچکے ہیں، اب کوئی سورج کے لیے بھی پرتولے اور جس کو بھی سورج پر جانا ہو تو کہنا ہمارے شہر آکولہ سے ہوکر گزرے یہاں سے سورج بہت قریب پڑتا ہے یہی کوئی دو چار کلو میٹر۔‘‘

وہ بہت جل بھن کر کہہ رہی تھی۔ یعنی غضب خدا کا اپنے آکولہ والے کمرے سے اٹھ کر تایا جان کے گھر پہنچنے تک تو گویا وہ جھلس گئی تھی۔ اس قدر کڑکتی تیز دھوپ کہ اسے آنکھوں کے لیے ہاتھ کا چھجا بنانا پڑا۔ تب بھی آنکھیں چندھیا گئی تھیں۔ چند سکینڈ تو اس کی آنکھوں کو تایا جان کے لاؤنج کے اندھیرے سے مانوس ہونے میں لگے تھے۔

اس کے تبصرے پر مونگ پھلیوں سے انصاف کرتی صبا ہنس دی تھی جب کہ مووی میں مگن صوفے پر دراز مہران نے اس کی تائید کی تھی۔

’’ایگریڈ‘‘ بالکل صحیح کہہ رہی ہیں۔ پچھلے ماہ میرا اورنگ آباد والا دوست بھی حیرت کر رہا تھا کہ اتنی گرمی میں تم لوگ کیسے رہ لیتے ہو۔ فی الحال اپریل چل رہا ہے وہ تو مارچ کا موسم دیکھ کر ہی متوحش ہو رہا تھا۔ اورنگ آباد میں مئی میں ایسا موسم ہوتا ہے جیسا ہمارے ہاں مارچ میں اور مارچ میں تپش ۴۲ ڈگری ہو جانا قابل حیرت ہی تو ہے۔‘‘

وہ دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔

’’وہاٹ؟ 42!! وہ بھی مارچ میں!!!‘‘

فائزہ کے لیے یہ قطعی نئی اطلاع تھی بلکہ انکشاف تھا۔ ایگزامز کی مصروفیت میں اسے اخبار دیکھنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔

’’ہاں اس سال یعنی ۲۰۱۷ میں ہمارے شہر کا ٹمپریچر یہی ریکارڈ ہوا ہے۔ اور اب یعنی کہ اپریل کے پہلے ہی عشرے میں چوالیس ڈگری ہوگیا ہے۔‘‘

صبا نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا، ساتھ ہی پھلیاں ٹونگنا بھی جاری تھا۔

’’یعنی کہ مئی میں یہاں آگ لگنے والی ہے؟؟ 46 اور 47 تک کا ٹمپریچر تو ہم ہر سال سہتے ہی ہیں۔‘‘ یہ تصور تو بہت خوفزدہ کرنے والا تھا۔

’’تم چلی جاؤ بلڈانہ، اپنی نانی گھر چھٹیوں میں مزے کرنا۔‘‘

صبا کے مشورے پر اس نے منہ بنایا۔ ’’تم جانتی ہو نانی کے گھر میرا دل نہیں لگتا۔ ماموؤں کے چھوٹے چھوٹے بچے سارا گھر سر پر اٹھائے رکھتے ہیں اور چھٹیوں میں نہ جانے ان کے اندر شرارت کا کونسا بھوت آجاتا ہے۔ ایسی دھما چوکڑی مچاتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔‘‘

’’ایکس کیوز می خواتین! یہ گفتگو آپ اپنے کمرے میں بیٹھ کر بھی کرسکتی ہیں۔‘‘

مووی دیکھتے ہوئے مہران کو ان کی باتیں ڈسٹرب کر رہی تھیں۔ اس کے کہنے پر صبا نے ٹی وی کی طرف دیکھا، شاہ رخ خان کی ’’چک دے‘‘ چل رہی تھی۔

’’ستر دفعہ دیکھ چکے ہو پھر بھی دل نہیں بھرتا تمہارا۔‘‘

اپنی باتوں میں اس کی مداخلت اسے سخت ناگوار گزری تھی سو اسی پر الٹ پڑی۔

مہران نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔

’’چلو ہم اپنے کمرے میں چلتے ہیں۔ تم جاکر کولر آن کرو میں تمہارے لیے اڈلی سانبھر لاتی ہوں، آج پہلی بار ٹرائی کیا ہے۔ ٹیسٹ کر کے بتانا کیسا لگا؟‘‘

صبا نے چھٹیوں میں کوکنگ کلاس جوائن کرلی تھی اور آج کل ساؤتھ انڈین ڈشز بنانا سیکھ رہی تھی۔ گو تائی جان بھی کھانا بنانے کی ماہرتھیں لیکن انہیں نئے زمانے کی اکثر چیزیں مثلاً اٹالین، چائنیز اور ساؤتھ انڈین کھانے بنانے نہیں آتے تھے۔

’’تم ہی کھاؤ وہ پھیکے سیٹھے کھانے۔ مجھ سے نہیں نگلے جاتے۔ مجھے تو نان ویج پسند ہے۔‘‘ اس نے پہلے منہ بنا کر پھر چٹخارہ لیتے ہوئے کہا۔

’’تم پوری کی پوری ابو پرگئی ہو۔‘‘ صبا اس کے منہ بنانے پر چڑ کر بولی۔ ’’انہیں بھی گوشت کے بنا کوئی چیز اچھی نہیں لگتی۔ لیکن بتادوں کہ میں نے سانبھر ایسا زبردست بنایا ہے کہ ابو بھی داد دیے بنا نہیں رہ سکے۔‘‘

’’اگر تایا جان نے تعریف کی ہے تو پھر اچھا ہی ہوگا۔ لے آؤ آج تمہارا بھی ٹیسٹ دیکھ لیتے ہیں۔‘‘

وہ گویا احسان کرتے ہوئے صبا کے کمرے کی جانب بڑھ گئی اورصبا کچن کی طرف۔

’’اب بتاؤ چھٹیوں کا کیا پلان ہے؟‘‘ صبا نے اس کے سامنے اڈلی سانبھر کی ٹرے رکھی تو فائزہ نے اس سے پوچھا۔

اب وہ لوگ صبا کے کمرے میں کولر کی ٹھنڈی ہوا میں بیٹھے تھے۔ ہوا کی وجہ سے بکھرتی لٹوں کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے صبا نے جواب دیا۔ ’’میرا تو کوئی خاص پلان نہیں ہے تم ہی کہو تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے؟‘‘

’’واؤ زبردست۔‘‘ اس نے چکھتے ہی بے ساختہ تعریف کی۔

’’یہ تو سچ مچ بہت اچھے بنے ہیں۔‘‘ وہ بڑی رغبت سے کھانے لگی۔ صبا مسکرا دی پھر پوچھنے لگی۔ ’’بتاؤ نا تم چھٹیوں میں کیا کرنے کا سوچ رہی ہو؟‘‘

’’شاپنگ۔‘‘ اس نے بہت سکون سے کہا تھا۔

صبا حق دق رہ گئی اس نے بے یقینی سے اسے دیکھا لیکن فائزہ کے چہرے پر کہیں شوخی یا مذاق کے آثار نہیں تھے وہ پوری طرح سنجیدہ دکھائی دے رہی تھی۔‘‘

’’تم نے ابھی کیا کہا۔‘‘

صبا کو اپنی سماعتوں پر شک سا گزرا تھا اس نے فائزہ سے تصحیح چاہی۔

’’شاپنگ‘‘ اس نے اطمینان سے اور قدرے واضح طور پر دہرایا۔

’’تمہارا دماغ چل گیا ہے۔‘‘ صبا اب بھی بے یقین تھی۔ اب اسے اپنی سماعتوں پر نہیں بلکہ فائزہ کے دماغ پر شبہ ہو رہا تھا۔

’’بالکل نہیں، میں بقائمی ہوش و حواس کہہ رہی ہوں۔‘‘ اس کی طمانیت میں سرمو فرق نہیں آیا تھا۔

’’موسم کا پتہ ہے نا تمہیں۔‘‘ صبا چلا پڑی ’’باہر سورج آگ اگل رہا ہے۔‘‘

’’معلوم ہے، معلوم ہے۔‘‘ اس نے صبا کو کول ڈاؤن کا اشارہ کیا۔ ’’موسم اتنا تپ رہا ہے تو کیا سارے لوگ کام دھندے چھوڑ کر گھروں میں اعتکاف کرنے لگے ہیں۔ باہر نکل کر دیکھو مادام زندگی رواں دواں ہے۔ اتنے خطرناک موسم میں آخر ہم بھی پیپرز دینے نکلتے ہی تھے ناں!!‘‘

’’وہ ہماری مجبوری تھی لیکن شاپنگ کرنا نہ ہمارا کام ہے، نہ دھندہ اور نہ ہی مجبوری۔ سمجھیں تم…!‘‘

کہتے ہوئے وہ بیڈ پر دراز ہوگئی۔ فائزہ نے اڈلی سانبھر ختم کر کے ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی پھر منت بھرے لہجے میں بولی۔

’’مجبوری ہی ہے پلیز سمجھو تم۔ ہمیں شاپنگ کے لیے جانا ہی پڑے گا۔‘‘

’’کیسی مجبوری؟ ابھی تو کسی قریبی عزیز کے گھر شادی بھی نہیں ہے۔ رمضان کو بھی ایک ماہ باقی ہے۔‘‘ صبا نے لیٹے لیٹے سر گھما کر اسے دیکھا۔

’’میرے پاس گرمیوں کے کپڑے نہیں ہیں۔ امی فروری میں لان کے چند سوٹ لائی تھیں لیکن وہ مجھے پسند نہیں آئے تو میں نے واپس کروا دیے۔ اور ایگزامز کی وجہ سے میں خود مارکیٹ نہیں جاسکی لیکن اب ڈریسز لانا ضروری ہیں پچھلے سال کے کاٹن کے سوٹ اب جواب دینے لگے ہیں۔‘‘

اس کے لب و لہجے میں منت، سماجت، لجاجت سبھی کچھ تھا۔

’’ہوں۔‘‘ اس کی بات پر صبا نے پر سوچ انداز میں ہنکاری بھری۔ جسے رضامندی کا اشارہ سمجھتے ہوئے فائزہ پر جوش ہوگئی۔

’’تو پھر کل چلیں بازار۔‘‘

’’ہرگز نہیں۔‘‘ صبا کروٹ بدل گئی۔ ’’مجھے ابھی زندگی سے نفرت نہیں ہوئی۔‘‘

’’تو ہم کون سا دھوپ میں گھومنے لگے ہیں۔ صبح دس گیارہ بجے کے قریب نکلیں گے اور ایک گھنٹے کے اندر واپسی، مہران ہمیں کار میں لے جائے گا۔‘‘

’’مہران تو کانوں کو ہاتھ لگائے گا۔ پچھلی دفعہ پورے پانچ گھنٹے خوار کروایا تھا تم نے۔ دس مرتبہ سارے مارکٹ کا چکر لگوایا تھا۔ کہیں کچھ پسند نہیں آرہا تو کہیں کچھ۔لوٹتے ہوئے بے چارہ آئندہ کے لیے کوئی سو بار توبہ کرچکا تھا۔‘‘

صبا صحیح کہہ رہی تھی۔ تایا جان نے مہران کو ان دونوں کے ساتھ زبردستی مارکٹ بھیجا تھا۔ تایا جان کے حکم کو ٹالنے کی جرأت کسی میں نہیں تھی۔ وہ انہیں بازار لے تو آیا تھا لیکن مستقبل کے لیے سچے دل سے توبہ کرلی تھی اور اس کا اظہار وہ کئی مرتبہ کرچکا تھا۔ بلکہ صبا کے سامنے باقاعدہ دونوں ہاتھ جوڑ کر التجا کی تھی۔

’’آپ کو اللہ کا واسطہ! اب کبھی شاپنگ پر جانا ہو تو مجھے معاف ہی رکھئے گا۔ اور للہ ابو کو اس کی بھنک بھی مت لگنے دیجئے گا ورنہ وہ مجھے پھر سے آپ کا ڈرائیور بنا دیں گے۔‘‘

ایک گھنٹے بعد جب وہ صبا کے کمرے سے باہر نکلا تو وہ اسے شاپنگ پر چلنے کے لیے راضی کرچکی تھی اور صبا نے بادلِ نخواستہ ہامی بھرلی تھی۔

’’لیکن فارگاڈ سیک! مہران کے پیچھے مت پڑ جانا بلکہ اسے معلوم بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ہم کہیں جا رہے ہیں۔‘‘

اس کے کمرے سے نکلنے پر صبا پیچھے سے چلائی۔ تبھی سامنے سے گزرتے مہران کے کان کھڑے ہوگئے اس نے ٹھٹھک کر فائزہ کو دیکھا۔

’’مجھے کیا نہیں معلوم ہونا چاہیے… کہاں جا رہی ہیں آپ لوگ؟‘‘

اس کے جرح کرنے پر فائزہ نے اطمینان بھری مسکراہٹ کے ساتھ آرام سے کہا۔ ’’شاپنگ کرنے۔‘‘

مہران تیزی سے مڑا اور اگلے ہی لمحے وہ اپنے کمرے میں غڑاپ سے گم ہوگیا تھا۔ فائزہ اس کی گھبراہٹ پر کھلکھلا کر ہنس دی تھی۔

٭٭

اپنے اوپر ہونے والے تابڑ توڑ حملوں سے اچانک اس کی آنکھ کھلی تھی۔ وہ گڑبڑا کر اٹھی۔ صبا مسلسل اسے جھنجھوڑ رہی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ ایک آدھ تھپڑ بھی جڑ دیتی۔

’’کیا ہمیشہ کی نیند سوگئی ہو؟‘‘

نیند سے بھری ہوئی سرخ آنکھیں بہ مشکل کھول کر اس نے حالات کو سمجھنے کی سعی کی تھی۔

صبا خونخوار نظروں سے اسے گھور رہی تھی۔

ایک ثانیے کو اسے لگا وہ شاید خواب دیکھ رہی ہے لیکن شانے پر پڑنے والے صبا کے تھپڑ نے اسے حقیقت حال میں لا پٹخا تھا۔

’’کیا مصیبت ہے…؟؟ وہ اپنا بازو سہلاتے ہوئے کراہی۔‘‘

’’مغرب ہونے والی ہے۔ یہ کوئی وقت ہوتا ہے سونے کا…؟ گھوڑے گدھے سب بیچ باچ کے سو رہی تھیں؟؟ کتنی آوازیں لگائیں تمہیں اور تم ہو کہ سننے کا نام…‘‘

’’تم مصیبت بتاؤ۔ میرا مطلب ہے بات بتاؤ۔‘‘ فائزہ نے بیزاری سے اس کی بات کاٹی۔ نہ جانے کون سی افتاد آپڑی تھی۔ وہ دوپہر میں ہی تو تایا جان کے گھر سے لوٹی تھی۔

’’فضا آپو آئی ہوئی ہیں۔‘‘ خفگی بھرے لہجے میں اطلاع دی گئی۔ اس نے کتنا اصرار کیا تھا فائزہ سے کہ شام تک رک جائے لیکن وہ مانی نہیں تھی۔

’’کیا۔۔۔۔؟‘‘ ایک ہی جست میں وہ بستر کے باہر تھی۔

’’تم اصل بات ہمیشہ آخر میں کیوں بتاتی ہو؟‘‘

وہ جھنجھلاتی ہوئی باتھ روم کی طرف لپکی۔

دو منٹ میں فریش ہوکر اس نے اپنے بالوں میں برش کیا۔ برش ڈریسنگ ٹیبل پر پھینک کر دو پٹہ بستر پر اچھالا اور برقع پہننے لگی۔

’’اب چلو جلدی۔‘‘ اگلے لمحے وہ پوری طرح تیار ہوگئی تھی۔

’’کتنی پھوہڑ اور بدسلیقہ ہو تم۔‘‘

اس کا یوں بستر پر دو پٹہ پھینکنا صبا کو ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر سلیقے سے دو پٹے کو تہہ کیا اور وارڈ روب کا دروازہ کھولا۔ کپڑوں کا بڑا سا گٹھر اس کے چہرے سے ٹکراتا ہوا قدم بوس ہوگیا۔ فائزہ کی ہنسی نکل گئی۔

’’اسی لے میں نے دو پٹہ الماری میں نہیں رکھا۔‘‘

’’کیا بنے گا تمہارا۔‘‘ صبا نے گہری سانس بھری۔

’’کوئی نہیں اب ایگزام سے فارغ ہوگئی نا۔ اب سیٹ کر لوں گی۔‘‘

صبا نے وہ گٹھر اٹھایا اور وارڈ روب میں ٹھونس دیا۔ گو یہ اس کی سلیقہ مند طبیعت کو بالکل گوارہ نہ تھا لیکن فی الحال اس کے پاس اتنا وقت ہرگز نہیں تھا کہ ساری وارڈروب مرتب کرنے لگتی۔ اس کے گھر بہت پیارے مہمان جو آئے ہوئے تھے۔

تایا جان کے گھر محفل جمی ہوئی تھی۔ فضا آپو اپنے لاڈلے یاسر اور جیٹھ کے سات سالہ بیٹے انس احمد کے ہمراہ آئی ہوئی تھیں۔ یاسر فائزہ کی امی (آمنہ) کی گود میں خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا۔ اب تک انس یاسر کے ساتھ کھیل رہا تھا اور اس کے سونے کے بعد اب اس کے پاس کوئی ایکٹی وٹی کرنے کو نہیں رہ گئی تھی سو وہ کمرے کے ’’حالت حاضرہ‘‘ کا جائزہ لینے میں مصروف تھا۔ انس بہت ذہین قسم کا بچہ تھا۔ سنجیدہ مزاج اور سمجھدار۔ سارے بڑوں کی موجودگی میں مودب بن کر بیٹھا ہوا تھا۔ دادی جب اسے دیکھتیںتو سراہتیں۔ ’’بڑا ادب والا بچہ ہے۔‘‘

لیکن تائی جان کو اس کا فضا آپو کے ساتھ آنا سخت ناگوار گزرتا تھا۔ ’’ہمیشہ ساتھ لٹکا رہتا ہے۔‘‘ وہ اسے دیکھتے ہی ناک بھوں چڑھانے لگتیں۔ اس کے برعکس فضا آپو اس سے بہت محبت کرتی تھیں اور انس بھی ان کی اور یاسر کی کمپنی کو انجوائے کرتا تھا۔ یاسر کے سو جانے کے بعد وہ تھوڑا بور ہو رہا تھا۔ نماز کے قاعدے کی طرح پیر موڑے بیٹھا بہت پروقار لگ رہا تھا۔

فضا آپو دادی کی گود میں سر رکھے لیٹی ان کی باتوں کو بہت دلچسپی سے سنتے ہوئے ان کا جواب دے رہی تھیں۔ پھر فائزہ کو دیکھ کر اٹھنے لگی تھیں۔ لیکن اس نے انہیں اٹھنے نہیں دیا بیٹھے بیٹھے ہی گلے لگ گئی۔

’’اس وقت کے سونے کو حدیث میں منع کیا گیا ہے بیٹی۔‘‘

دادی کی بات پر وہ خجالت سے سر کھجانے لگی۔

’’لگتا ہے کافی رت جگے ہوئے ہیں امتحان کی راتوں میں۔‘‘ فضا آپو نے معنی خیزی سے کہا۔

’’کوئی ایسے ویسے۔‘‘ وہ بھی ہنسی۔ ’’صبح چار بجے تک پڑھتی تھی۔‘‘

’’ہاں، تبھی تو اچھا رینک آتا ہے۔‘‘

’’اماں میں نے آپ کے وضو کے لیے گرم پانی رکھ دیا ہے۔‘‘ تائی جان دادی کی خدمت میں کوئی کمی نہیں رکھتی تھیں۔

صبا نے حاضرین کی خدمت میں ٹھنڈا شربت روح افزا پیش کیا۔ اور جب فائزہ کی طرف چائے کا کپ بڑھایا تو فائزہ دل و جان سے اس کی احسان مند ہوگئی۔ وہ ابھی سوکر اٹھی تھی اور اسے چائے ہی کی طلب ہو رہی تھی۔ صبا تو گویا دل کی بات جان لیتی تھی۔ فائزہ اس سے بہت متاثر تھی اور برملا اس کا اظہار بھی کر ڈالتی۔

’’کتنی سگھڑ ہوتم…‘‘

’’تمہیں چائیے کہ تھوڑا سگھڑاپا اپنے اندر بھی پیدا کرو۔‘‘

تائی جان تو اس سے ازل سے نالاں تھیں۔ فائزہ اور اس کی امی ان کی کڑواہٹ کو پی جایا کرتے تھے کہ تایا جان کا مشفق رویہ اور حسن سلوک انہیں اس پر مجبور کر دیا کرتا تھا و گر نہ پلٹ کر جواب دینا فائزہ کے لیے چنداں دشوار نہ تھا۔

فضا آپو نے شربت کے گھونٹ بھرتے ہوئے اس کے سامنے دو ڈریسز رکھے۔ ’’ان میں سے ایک پسند کرلو۔‘‘

’’لیکن ابھی تو رزلٹ نہیں آیا ہے؟‘‘ فضا آپو ہر رزلٹ پر اسے اور صبا کو کوئی نہ کوئی گفٹ ضرور دیتی تھیں۔ اس نے استفہامیہ نظروں سے انہیں دیکھا فی الحال گفٹ دینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی تھی۔

’’ہاں لیکن میں جانتی ہوں کہ رزلٹ ہمیشہ کی طرح اچھا ہی آئے گا۔اس لیے یہ ایڈوانس میں رکھ لو۔ اگلے ماہ اتنے سخت موسم میں میں تو مارکیٹ جانے سے رہی۔ موسم کی سختی تو ابھی سے ہولا رہی ہے اسی لیے تو میں شام کے وقت آئی ہوں۔‘‘

’’تم پہلے دیکھ لو صبا۔‘‘ اس نے پیکٹس صبا کی طرف سرکا دیے۔

’’نہیں پہلے تم پسندکرلو۔ دونوں ہی اچھے ڈریسز ہیں۔ کوئی سا بھی دے دو مجھے۔‘‘

صبا بہت سادہ طبیعت اور صلح جو قسم کی لڑکی تھی۔

مہران اسی صوفے پر آرام دہ حالت میں صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا بلکہ لیٹا تھا جس پر آمنہ یاسر کو گود میں لیے بیٹھی تھیں۔ اطراف سے بے پرواہ وہ اپنے کانوں میں ہیڈ فون لگائے موبائل میں کلی طور پر منہمک تھا۔

آمنہ (امی) نے آہستی سے اس کے ہیڈفون کانوں سے کھینچ لیے۔

’’ارے چچی!‘‘ وہ گڑبڑا کر سیدھا ہوگیا۔

’’بہن آئی ہوئی ہے اور تم اس سے ملنے جلنے کے بجائے وائر کانوں میں پھنسائے بیٹھے ہو۔‘‘ چپکے سے انھوں نے اسے احساس دلایا۔

فائزہ کو معلوم تھا صبا پہل نہیں کرے گی اس کے پیکٹ کھول کر سوٹ باہر نکالے۔

دونوں ڈریسز خوب صورت اور پارٹی ویئرز تھے۔ ایک اورنج کلر اور دوسرا پیرٹ گرین کلر کا۔ فائزہ نے گرین ڈریس اٹھا لیا۔

’’میں یہ رکھ لیتی ہوں۔‘‘

’’جی نہیں، کیوں کہ اسے میں نے پسند کرلیا ہے۔‘‘ صبا نے اس کے ہاتھ سے پیکٹ لے لیا۔

’’لیکن ابھی تو تم نے کہا کہ تم کوئی سا بھی رکھ لوگی اب کیا ہوا؟‘‘

’’بس اب ارادہ بدل گیا ہے۔‘‘ وہ اطمینان سے بولی۔

’’یہ تو غلط ہے تم اپنی بات سے مکر رہی ہو۔‘‘

’’تم وہ اورنج والا لے لو۔ اس پہ میرا دل آگیا ہے۔‘‘

اس نے سوٹ کو خود سے لگاتے ہوئے کہا۔

فضا آپو استعجابیہ نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھیں۔ یہ ڈرامہ ان کی سمجھ سے باہر تھا۔ دونوں ہی ایک دوسرے کو خود پر ترجیح دینے والی لڑکیاں تھیں۔ پھر یہ آج کیا ہورہا تھا؟‘‘

’’تم کیوں خوامخواہ ضد کر رہی ہو۔‘‘ انھوں نے ناراضگی سے صبا کو گھڑکا۔ ’’یہ ڈریس فائزہ کو لے لینے دو۔‘‘

’’آپو اس کی ساری الماری گرین ڈریسز سے بھری ہوئی ہے۔ جدھر دیکھو ہریالی ہی ہریالی۔‘‘

صبا نے منہ بنایا۔ ساتھ ہی اسے اپنے چہرے پہ پڑنے والا فائزہ کے کپڑوں کا گٹھر بھی یاد آیا۔ جو ہرے کپڑوں کی کثرت کی وجہ سے ہرا ہی نظر آرہا تھا۔

’’یہ سچ تھا۔ پچھلے کچھ عرصے سے فائزہ کے پاس اس رنگ کے ڈریسز کی بہتات ہوگئی تھی اسے بقرعید پر نانی کے گھر سے جو تحفہ ملا تھا وہ بھی گرین سوٹ تھا اور اس نے جو بھی کپڑے پچھلے سال خریدے وہ یا تو سارے سبز کلر کے تھے یا ان میں وہ شیڈ غالب تھا۔

ان کے پڑوسی شوکت انکل کی بیٹی کی شادی میں بھی جب اس نے وہی کلر پہنا تو صبا اس پر چڑھ دوڑی تھی۔

’’ایسا محسوس ہو رہا ہے ہر تقریب میں ایک ہی ڈریس پہن رہی ہو۔ کوئی دوسرا کلر تمہارے پاس نہیں بچا؟ یہ رنگ دیکھ دیکھ کر میں زچ ہوگئی ہوں۔ لائٹ گرین، ڈارک گرین، پیرٹ گرین انگلش گرین انگوری، دھانی، مہندی اف!!! جہاں فائزہ کو ڈھونڈھنا ہو بس گرینری ڈھونڈ لو۔ ہاں بھئی وہ رہی فائزہ۔‘‘ صبا نے پیچ و تاب کھاتے ہوئے اسے لتاڑ کے رکھ دیا۔

’’تم صحیح کہہ رہی ہو۔‘‘ وہ شرمندگی سے بولی۔ ’’کیوں کہ اس کلر کے میرے پاس اب پورے سات ڈریسز ہوگئے ہیں۔‘‘

’’وہاٹ‘‘ صبا غصے سے بے حال ہونے لگی۔

’’تو کیا تم عنقریب گرین کلیکشن کھولنے والی ہو؟

صبا نے دانت پیستے ہوئے اسے دھمکی دی۔

’’خبر دار جو آئندہ پانچ سال تک اس شیڈ کا ایک بھی جوڑا لیا تو۔‘‘

’’میری توبہ!‘‘ اس نے گالوں کو چھوا۔ ’’سب مجھے ٹوکنے لگے ہیں۔‘‘ پھوپھی کے گھر بھی اسی بات کو لے کر میرا کافی مذاق بن چکا ہے۔‘‘

’’ایک تو یہ رنگ بھی مجھے زہر لگتا ہے۔‘‘

صبا تلما رہی تھی۔ سب جانتے تھے اسے اس رنگ سے شدید چڑ ہے۔ فائزہ کے برعکس صبا کے پاس اس رنگ کا کوئی جوڑا نہ تھا اور وجہ اس کی اس کلر سے ناپسندیدگی ہی تھی۔

مہران بڑے تحمل کے ساتھ ان کی تکرار سن رہا تھا۔

’’لیکن تمہیں تو سبز رنگ پسند ہی نہیں ہے۔‘‘ آپو کو معاً یاد آیا تھا۔

’’پھر یہ اچانک کیا ہوا؟‘‘

’’انسان کو ہر رنگ پہننا چاہیے۔ میں بھی دیکھنا چاہتی ہوں یہ کلر مجھ پر کیسالگتا ہے؟‘‘ وہ بے نیازی سے بولی۔

’’یہ سراسر میری وجہ سے قربانی دے رہی ہے۔‘‘ بالآخر فائزہ نے انکشاف کیا۔

’’تاکہ میں مزید سبزی سے بچ جاؤں۔‘‘

’’یہ بات تم پر زیادہ فٹ آتی ہے قربانی در حقیقت تم کر رہی ہو۔ تم کیوں آٹھوں ڈریس اپنی وارڈروب کی زینت بنا رہی ہو؟ صرف اسی لیے نا کیوں کہ یہ کلر مجھے پسند نہیں۔

وہ آپس میں الجھ پڑی تھیں۔

مہران نے بیزاری اور کوفت سے اپنے بازو بیٹھی آمنہ کو دیکھا۔ اس کی بورسی صورت بنانے پر وہ متبسم ہوئیں۔

’’دیکھا چچی آپ نے۔۔۔ اس خالص زنانہ ماحول اور لڑکیوں کی باتوں میں میں بھلا کیا دلچسپی لے سکتا ہوں۔‘‘

وہ آہستہ آواز اور سرگوشیانہ انداز میں بولا تھا۔

’’یہ معاملہ ہے۔‘‘ آپو نے ساری بات سمجھنے کے بعد پر سوچ نگاہوں سے انہیں دیکھا پھر اپنے بیگ سے تیسرا پیکٹ نکالا۔

میرون اینڈ گولڈن کامبینیشن کا انار کلی فراک انھوں نے ان دونوں کے سامنے پھیلا دیا۔

’’یہ میں نے عید کے لیے خریدا تھا لیکن اب سوچ رہی ہوں کہ یاسر کے ہوتے ہوئے اتنے ہیوی ڈریس کو میں کیسے سنبھال پاؤں گی۔ وہ دھانی والا مجھے دے دو اور فائزہ یہ تم رکھ لو۔ یاد رہے اس میں قربانی جیسا کوئی جذبہ پوشیدہ نہیں ہے۔ صرف اپنی سہولت مدنظر ہے۔‘‘

انھوں نے جھٹ پٹ فیصلہ کر دیا تھا۔ جو دونوں کو برضا ورغبت قبول تھا۔

’’تم شادی پہ یہی پن لینا۔‘‘

’’کس کی شادی ہے؟‘‘

ڈریس کی اسٹیچنگ چیک کرتے ہوئے اس کے ہاتھ ٹھٹھک گئے۔ اس کی جنرل نالج میں تو حال فی الحال کسی کی شادی متوقع نہیں تھی۔

’’تمہاری چھوٹی ممانی کے بھائی کی۔ ۲۷؍ اپریل کو بالاپور میں۔‘‘

’’تم سوئی ہوئی تھیں تمہارے ماموں یہ کارڈز دے گئے ہیں۔‘‘ صبا نے کارڈ کی طرف اشارہ کیا۔

کارڈ دیکھنے کی تو اس نے زحمت نہیں کی البتہ کندھے اچکا دیے۔

’’اتنی کڑی دھوپ میں بالا پور کون جائے گا؟‘‘

’’میں تو قطعی نہیں جاؤں گی…‘‘ صبا نے پیر پسارے۔

’’Same here‘‘ مہران صوفے پر دراز ہوا۔

’’حق ۔۔۔ ہاہ ۔۔۔۔‘‘ صبا نے مذاق اڑانے والے انداز میں اسے دیکھا۔ ’’کوئی جائے یا نہ جائے آپ کو تو جانا ہی پڑے گا بچو! ڈرائیور جو ٹھہرے۔‘‘

’’فضا چچی! دلہا اور دلہن دونوں چشمہ پہنتے ہیں۔‘‘

دعوت نامہ پڑھتے ہوئے آپو کے بھتیجے انس نے پہلی بار منہ کھولا تھا۔

’’پتہ نہیں بیٹے ہم تو ان سے کبھی نہیں ملے۔‘‘ آپو نے نرمی سے اسے جواب دیا۔ ’’شاید چھوٹی نانی کو معلوم ہوگا لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘‘

’’میں نے تو اسے بھابھی کی شادی کے موقع پہ دیکھا تھا اس وقت لڑکا کافی چھوٹا تھا اور چشمہ نہیں لگاتا تھا۔ مگر بعد کا پتہ نہیں۔‘‘

امی نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔

’’جی دونوں چشمہ لگاتے ہیں۔‘‘ انس نے پرزور انداز میں اپنی بات دہرائی تب آپو کو پتہ چلا کہ وہ پوچھ نہیں رہا تھا بلکہ بتا رہا تھا۔’’دیکھیں کارڈ پہ لکھا ہے کہ دلھا دلھن چشمہ لگاتے ہیں۔‘‘

’’ہیں۔۔۔؟‘‘ سب ہکا بکا رہ گئے۔

’’یا وحشت!! رقعوں پہ آج کل یہ بھی چھاپنے لگے ہیں۔‘‘ مہران فرطِ استعجاب سے سیدھا ہو بیٹھا۔

’’دکھانا ذرا۔۔۔‘‘فائزہ نے اس سے کارڈ جھپٹ لیا اور تیزی سے اس پہ نگاہیں دوڑانے لگی۔ لڑکا انجینئر تھا۔ لرکی کے نام کے آگے B.ed کی ڈگری کا ذکر تھا۔ لڑکے کے دونوں بہنوئی میں سے ایک ٹھیکیدار اور دوسرا مدرس تھا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی معلومات درج کی گئی تھیں کہ لڑکے کے والد صاحب نے بفضل خدا حج کیا ہوا تھا۔ لیکن ان سب میں دلھا دلھن کے چشمہ پہننے کا کوئی تزکرہ نہیں تھا۔ سب لوگ منتظر نگاہوں سے فائزہ کی طرف دیکھ رہے تھے کہ وہ اب تصدیق کرے گی، اب کرے گی۔

’’اس میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ اس نے کارڈ فضا آپو کی سمت بڑھا دیا۔

انس کو اپنی بات کا رد پسندنہیں آیا تھا۔ اس نے انگشت شہادت کے ذریعے نشان دہی کی۔

’’یہ دیکھیں دونوں کے نام کے ساتھ لکھا ہے نور چشم، نورِ چشمی۔‘‘

خواتین کی ہنسی کی جھنکار کمرے میں گونجی، جس میں تائی جان کا قہقہہ سب سے بلند تھا۔ البتہ مہران خاصا بے مزہ ہو کر پھر سے لیٹ گیا تھا۔ آپو اسے نورِ چشم اور چشمی کا مفہوم سمجھانے لگیں تھیں۔ ان کی باتوں کے دوران دادی نمازِ مغرت کے لیے جا چکی تھیں جب کہ تائی جان کے پلاؤ کے بگھار کی اشتہا انگیز خوشبو لاؤنج تک آنے لگی تھی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ نسرین

Leave a Reply