بادبان

ایک اور حسین صبح نمودار ہورہی تھی ۔ بیشتر مسافر قدیم بادبانی جہاز کے پشتے پر ہوا خوری کررہے تھے۔سفینۂ حرم اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا کہ ننھے اصغر نے پوچھا: ’’یہ سورج کتنا خوبصورت ہے؟‘‘ اس کا باپ اکبر بولا: ’’جی ہاں بیٹے یہ قدرت کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔‘‘ ’’اچھا تو پھر ہم اس کی جانب کیوں نہیں جاتے ؟ اس لئے کہ ہماری منزل مغرب کی سمت ہے۔ ہم نعمت کے پیچھے نہیں مقصود کی طرف سفر کرتے ہیں۔‘‘ شام میں سورج کو ڈوبتے ہوئے دیکھ کر اصغر نے پھر سوال کیا: ’’ابو کیا ہم نے اپنی منزل تبدیل کردی۔‘‘ اکبر بولا: ’’جی نہیں بیٹے سورج نے اپنا مقام بدل دیا۔‘‘ اصغر کی سمجھ میں یہ کھیل نہیں آیا۔ دوسرے دن صبح اصغر نے دیکھا سفینہ سورج کی سمت رواں دواں ہے تو وہ بولا: ’’بابا دیکھئے کل سورج جہاں ڈوبا تھا آج پھر وہیں سے نکل رہا ہے؟‘‘ اکبر نے کہا: ’’یہ ناممکن ہے بیٹا سورج کو مشرق سے ہی طلوع ہونا ہے۔‘‘ تو کیا ہم نے اپنی منزل بدل دی ؟ جی نہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ مگر ہم لوگ تو آج سورج کی جانب چلے جارہے ہیں؟ اصغر کا مشاہدہ درست تھا۔

اکبر گھبرا کر ملاح کے پاس پہنچا جو چند بزرگ مسافروں کے ساتھ محو گفتگو تھا۔ وہ سب بھی اس مسئلے پر گفتگو کررہے تھے۔

ایک صاحب بولے ان موجوں کو کیا ہوگیا ؟ یہ ہمیں کہاں لئے جارہی ہیں ؟

ملاح بولا: ’’میں نہیں جانتا ۔ان لہروں پر ہمارا اختیار نہیں ہے۔ ہم تو بس چپو چلا سکتے ہیں لیکن بہاو اس قدر تیز ہے کہ ہم اس کے آگے بے بس ہیں۔‘‘

ایک دانشور نما مسافر بولا: ’’میں تو کہتا ہوں بلاوجہ کی مشقت سے کیا فائدہ کشتی کو اپنے حال پر چھوڑ دو جہاں بھی پہنچے گی خیر ہوگا۔ ‘‘

’’کیسی باتیں کرتے ہیں آپ؟‘‘ ایک ساتھ کئی آوازیں اٹھیں۔

دانشور نے پھر کہاخوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت پسند بنو ایسے بے سمت سفر سے تو بہتر گھر بیٹھ رہنا ہے۔ ہم قدرتاًاپنے گھروں کی طرف لوٹ رہے ہیں اس لئے میرا خیال ہے جب اپنا گاوں نظر آئے تو لنگر ڈال دیا جائے۔ ان موجوں کے خلاف ہاتھ پیر مارنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

لیکن اس منزل کا کیا جس کی جانب بڑے عزم کے ساتھ رخت سفر ڈالا گیا تھا ؟اور کیا وہ محنت اکارت ہو گئی جو ہم سب نے مل کر کی تھی ؟

ہم موجوں پر نہیں کشتی میں سوار ہیں۔ ہمیں اپنی منزل سے دور موجیں نہیں بلکہ یہ کشتی لے جارہی ہیَ۔اس لئے لہروں کو الزام نہ دو۔

اگر ایسا ہے تو کیوں نہ اس کشتی میں سوراخ کرکے اسے ڈبودیا جائے۔ اس صورت میں نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔

یہ کیسا احمقانہ مشورہ ہے۔ یہ تو کشتیِ نجات ہے۔ اگر یہی ڈوب جائیگی تو کون بچے گا؟ اس کے ساتھ اس میں سوار مسافربھی غرقاب ہوجائیں گے۔

سارے لوگ خوفزدہ ہوگئے۔ اس دوران اصغر بھی وہاں پہنچ گیا۔ اس نے اکبرسے سوال کیا بابا یہ اونچے ستون کس لئے ہیں؟

اکبر بولا بیٹے یہ بادبان ہیں۔ ان سے ہم کشتی کا رخ متعین کرتے ہیں۔اصغر نے حیرت سے سوال کیا اچھا وہ کیسے ؟

ہم انہیں کھول دیتے ہیں اور ان کو ہوا کے رخ پر اس زاویہ سے رکھتے ہیں کہ ہماری کشتی اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوجاتی ہے۔

توپھرہم نے انہیں باندھ کر کیوں رکھا ہوا ہے؟ ہم انہیں کھولتے کیوں نہیں؟ اصغر کے اس سوال نے حاضرین کی توجہ موجوں سے ہٹا کر ہوا اور بادبان کی جانب مبذول کردی تھی۔ ایک صاحب بولے اس بچے نے نادانستہ جو کچھ کہہ دیا۔ اس میں ہمارے لئے سامانِ عبرت ہے۔

ملاح نے کہا جی ہاں مجھے حیرت ہے کہ اس کی جانب میرا دھیا ن کیوں نہیں گیا ؟ سرکش موجوں کے تلاطم نے مجھے حواس باختہ کردیا تھا۔ میں نے سمجھ لیا تھا کہ اس کشتی کا سفر صرف چپو چلانے کی مرہون منت ہے۔

مسافروں نے تائید کی اور کہا جی ہاں ہم بھی بھول گئے تھے کہ اس سفر میں موجیں ہمارے خلاف ضرور ہیں لیکن ہوا ہمارے ساتھ ہے۔ ہم ہوا اور بادبان کی مدد سے نہ صرف اپنی سمت درست کرسکتے ہیں بلکہ سفر آسان بھی کرسکتے ہیں۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سلیم خان

Leave a Reply