اسلام اور فیشن

فیشن اس لفظ سے ایک ایسی تصویر نظروں کے سامنے آجاتی ہے جس میں کپڑے اچھے اور جاذب نظر ہوں۔ لہراتے ہوئے بال ہوں اور ظاہری حلیہ اسٹائل سے بھرپور ہو۔ در حقیقت لفظ فیشن اس قدر معروف ہے کہ شاید ہی کوئی اس سے ناواقف ہوں اگر ہم یہ کہنا چاہتے ہوں کہ کوئی چیز بہت زیادہ چلن میں ہے اور اس کی مانگ زیادہ ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ آج کل کا فیشن ہے۔

فیشن آخر کس چیز کا نام ہے؟ یہ ہماری زندگیوں کو کس طرح متاثر کرتی ہے؟ اور اس سے بڑھ کر کس طرح ہم فیشن کے رجحانات سے متاثر ہوتے ہیں؟ آپ کسی بھی نوجوان سے فیشن سے متعلق سوال کیجیے، آپ فوری طور پر تازہ ترین لباس ہیئر اسٹائل اور اس قسم کی دیگر چیزوں کا جواب پائیں گے۔ لیکن یہ تمام فیشن کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔ فیشن صرف یہ نہیں ہے کہ لباس کو کسی مخصوص شکل میں ڈھالا جائے۔ یہ دراصل خیالات، افکار اور شخصیت کے اظہا رکا ذریعہ ہے۔ اس طرح فیشن کسی بھی شخص کے رویہ، اس کے رکھ رکھاؤ، اس کی زندگی سے متعلق سنجیدگی اور اس کے خیالات اور افکار کو ظاہر کرتا ہے۔

آئیے آج کل کے تازہ فیشن پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ اس بات کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ آج کل کا فیشن دراصل مغربی فیشن ہے دن رات ہم پر میڈیا کے مختلف ’’اوتار‘‘ (الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا) کی جانب سے نئے انداز، اسٹائل اور طرزِ زندگی کو اختیا رکرنے کے لیے اکسایا جاتا ہے۔ فیشن مغربی افکار اور نظریات کا براہِ راست نتیجہ بھی ہے اور ان کے طرزِ زندگی کی ایک جھلک بھی۔ فلمی ستاروں اور دیگر معروف شخصیات کے لباس کی تراش خراش، ان کی ادائیں اور ان کے بالوں کے اسٹائل سے لے کر جوتے، پرس، گھڑیوں اور استعمال کی دیگر اشیاء تک کو نئی نسل اختیا رکرنا چاہتی ہے۔ جب کہ ان کے لیے یہ اشیاء ملک و بیرون ملک کے بڑے بڑے ذیزائنر تیار کرتے ہیں اور اس کے عوض لاکھوں کی رقم وصول کرتے ہیں۔ پھر ان کو دیکھ کر لوگ اسی کی ڈیمانڈ کرتے ہیں اور وہ چیز بازار میں خوب فروخت ہوتی ہے۔گویا اب یہ فیشن ایک انڈسٹری اور تجارت بن گیا ہے جو ہزاروں کروڑ کا بزنس کرتا ہے۔

آج صورتِ حال یہ ہوگئی ہے کہ نوجوان لڑکے لڑکیاں ہر اس انداز کو اختیا رکرنا چاہتے ہیں جو اسٹارس نے ایک با راختیار کرلیا ہو۔ سونے چاندی اور دیگر دھاتوں سے بنی زنجیریں کان میں بالیاں، اور چوٹی دار بال تک اب لڑکے رکھنے کو پسند کر رہے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان کے محبوب اسٹار ایسا کرتے ہیں۔

ہمارے رسول پاکؐ نے مردوں کو مرد اور عورت کو عورت کی طرح کا طرزِ لباس اور طرزِ حیات اختیار کرنے اور اس پر قائم رہنے کی تاکید کی ہے۔ اور عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اسی طرح ہمارا دین ہمیں جہاں زندگی گزارنے کے لیے بہت سی ہدایات دیتا ہے وہیں لباس کے سلسلہ میں بھی ستر پوشی اور مکمل ستر پوشی کی ہدایت کرنے کے ساتھ بے دین اور بے خدا لوگوں کا سا اندازلباس اور اسٹائل اختیار کرنے سے منع کرتا ہے۔ کیا یہ بات ہمارے سامنے نہیں ہے کہ حضور پاکؐ نے فرمایا کہ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے۔ رسولؐ کے زمانے میں پگڑی باندھنے کا رواج تھا۔ یہود اور نصاریٰ بھی پگڑی باندھتے تھے۔ مگر وہ اس کے نیچے ٹوپی نہیں پہنتے تھے۔ آپؐ نے صحابہ کو ہدایت فرمائی کہ یہود و نصاریٰ کے برخلاف ایمان سر پر ٹوپی لگانے کے بعد پگڑی باندھیں۔ مطلب صاف تھا کہ ہمیں ان کا طریقہ اور ان کی مشابہت اختیار نہیں کرنی ہے۔

قرآن و حدیث نے ان حدود کا واضح تعین کر دیا، جن کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کوئی بھی مسلمان اپنی حسن و زیبائش کا اہتمام کر سکتا ہے۔ جیسا کہ آپؐ کی حدیث مبارکہ ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ اس کی عطا کردہ نعمت کا اثر اس کے بندے سے عیاں ہو۔‘‘

نبی کریمؐ حضرت مصعب بن عمیرؓ کی خوش پوشی کو بھی پسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ اور آپ نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’میں نے مکہ بھر میں مصعب بن عمیرؓ سے بڑھ کر نعمتوں اور آسائشوں والا حسین زلفوں والا اور عمدہ لباس والا نہیں دیکھا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ’’اور اللہ اس شخص کی طرف قیامت کے دن (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا جو شیخی کے جذبہ سے اپنا تہبند زمین پر گھسیٹے گا۔‘‘

آپؐ نے مرد و خواتین کو اچھا لباس پہننے کی اجازت ہی نہیں دی بلکہ اس کو پسند بھی فرمایا لیکن ساتھ ہی آپؐ نے ایسا لباس وزیبائش جس سے تفاخر کا اظہار ہوتا ہو اور مقصد دوسروں کی توجہ حاصل کرنا ہو اسے سخت منع فرمایا۔

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا ’’جو چاہو کھاؤ اور جو چاہو پہنو، بشرطے کہ تمہارے اندر گھمنڈ اور اسراف نہ ہو۔‘‘

آپؐ نے مردوں کو بھڑکیلے اور ریشمی لباس سے منع فرمایا اور خواتین کو خوب صورت لباس، زیبائش اور زیورات پہننے کی اجازت صرف اپنے شوہروں کے لیے دی۔ آپؐ نے عورتوں کو اس بات سے روکا کہ وہ بن ٹھن کر اپنا حسن غیروں کو دکھاتی پھریں۔ اور دوسری عورتوں کے سامنے اپنے زیورات اور لباس کی شیخی بگھارتی پھریں۔

معاشرے کو بے دین بنانے میں عورت زیادہ موثر کردار ادا کرتی ہے کیوں کہ بچے کی تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے اور گھریلو امور کی سربراہ عورت ہے اور آج کی عورتوں کی کثیر تعداد نے مغربی تعلیم تو حاصل کرلی لیکن مذہبی تعلیم سے وہ بہت دور ہیں۔ مسلم خواتین کو باشعور ہونا چاہیے اور اسلام کی معلومات حاصل کر کے انہیں اپنے طرزِ زندگی کو بھی اسلامی اقدار کے مطابق بنانے کی کوشش اور فکر کرنی چاہیے اور نئی نسل کے ذہن میں فیشن پرستی کے سلسلے میں متوازن اور دین کا تصور مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ناہید انجم بنت ظفر حسن

Leave a Reply