BOOST

غزل

صحرا کی سمت ایک سمندر اچھال کر

میں آرہا ہوں پیاس کو حیرت میں ڈال کر

ٹھہرا ہوا ہوں، ہونے نہ ہونے کے درمیاں

اپنے بدن کی قید سے خود کو نکال کر

ایسا نہ ہو کہ تو بھی بکھر جائے میرے ساتھ

مجھ کو مرے وجود میں فوراً بحال کر

آؤں گا میں لیے ہوئے خوابوں کی نرم چھاؤں

رکھنا تم اپنی آنکھ کی حیرت سنبھال کر

کشکولِ خامشی میں کوئی شور بھر گیا

سکّوں کی طرح لفظ ہوا میں اچھال کر

آؤ ذرا سی دیر سہی کھل کے مسکرائیں

دنیا کے مسئلوں کو پسِ پشت ڈال کر

پانی نہیں یہ بہتے ہوئے عکس ہیں نبیل

دریا میں پاؤں رکھنا ذرا دیکھ بھال کر

شیئر کیجیے
Default image
عزیز نبیل

تبصرہ کیجیے