دادی جان کے ٹوٹکے

مجھے یاد ہے جب میں چھوٹا تھا اور موسم سرما میں نزلہ زکام نشانہ بن جاتا تو دادی اماں میری امی سے کہتیں، دلہن اسے گوشت کی یخنی بنا کر پلاؤ۔ یخنی پیتے ہی مجھے تن بدن میں جان پڑتی محسوس ہوتی۔ روز مرہ تکالیف سے نجات دلانے والے ایسے کئی نسخے دادی اماں کو ازبر تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب سائنس بھی ان گھریلو ٹوٹکوں کی افادیت پر مہر تصدیق ثبت کر رہی ہے۔ ذیل میں ایسے ٹوٹکے پیش خدمت ہیں، جنہیں اب از روئے سائنسی تحقیق بلا کھٹکے اپنایا جا سکتا ہے۔

سر درد کا برف سے علاج

جی ہاں، برف کی ڈلی سے سریا گردن کے پچھلے حصے پر ہونے والے درد مالش کی جائے تو اس سے خاص طور پر آدھے سر کا درد کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ برف کا سرد احساس دل و دماغ سے تناؤ بھی نکال باہر کرتا ہے۔ آدھے سر کا درد کے شکار افراد پر ایک تحقیق میں جب یہ طریقہ آزمایا گیا تو آدھے گھنٹے میں درد میں نمایاں کمی آگئی۔

مرغ کی یخنی

امریکہ میں ہوئی ایک تحقیق کے مطابق مرغ کی یخنی یعنی چکن سوپ ہمارے جسم میں خون کے سفید خلیات کے اس حصے کی سرگرمیوں کو سست کر دیتا ہے جو شدید انفیکشن یا چھوت کا باعث بنتا ہے۔ گویا یہ یخنی انسان کو خصوصاً بچوں کو، نزلہ زکام کا باعث بننے والی چیزوں سے دور رکھتی ہے۔

پانی کے غرارے

آپ کو گلے میں تکلیف محسوس ہوتو سادہ پانی سے غرارے کرنے کا ٹوٹکہ آزما کر دیکھئے۔ ایک طبی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ جو لوگ سادہ پانی سے غرارے کریں، ان میں سانس کی بالائی نالی میں چھوت جنم لینے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ یہی وہ انفیکشن ہے جو نزلہ زکام اور فلو کا باعث بنتا ہے۔ سادہ پانی سے غرارے کرنا نزلہ زکام سے تحفظ کا موثر طریقہ ہے۔

شہد کا استعمال

اکثر بچے کھانسی چمٹ جانے پر شربت پینے سے گھبراتے ہیں۔ انہیں شربتوں کا ذائقہ نہیں بھاتا۔ ان کے لیے خوش خبری ہے کہ ماہرین طب نے شہد کو بھی بچوں کی کھانسی کی ادویہ میں شامل کرلیا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق کھانسی کے شکار بچوں کو اگر سونے سے قبل دس گرام شہد پلایا جائے تو کھانسی کی شکایت میں کمی آتی ہے اور نیند بھی خراب نہیں ہوتی۔

ادرک متلی سے بچائے

ہیضے یا پیٹ خراب ہونے کے بعد متلی آتی ہے یا دل متلانے لگتا ہے۔ ایسی صورت حال میں ادرک آزما کر دیکھیں۔ ایک برطانوی طبی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ متلی ہونے پر صرف ایک گرام ادرک کھانا بھی مفید ہے۔ عام زندگی میں بھی ادرک پیٹ میں گیس اور کھانا ہضم نہ ہونے کے حوالے سے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

سیب، گاجر اور سفید دانت

سیب اور گاجر دونوں غذائیت سے مالا مال غذائی تحفے ہیں۔ یہ نہ صرف جسم کے لیے اچھے ہوتے ہیں بلکہ آپ کے دانت بھی جگمگا دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سیب اور گاجر کو دانتوں سے توڑ کر چبایا جائے، تو یہ دانتوں کی سطح پر موجود داغ دھبے مٹانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ سیب اور اسٹرابری، دونوں پھلوں میں مالیس ایسڈ ملتا ہے۔ یہ تیزاب دانتوں کی سطح سفید رکھنے میں مددیتا ہے۔

ڈکٹ ٹیپ کا فائدہ

انسانی جلد پہ نکلے مسّے یا سخت سے دانے ہمیں طبی طور پر کوئی نقصان نہیں پہنچاتے، مگر یہ ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ضرور ہو سکتے ہیں۔ اب ایک طبی تحقیق نے یہ خوش خبری دی ہے کہ اگر ان دانوں کو ڈکٹ ٹیپ سے لپیٹ دیا جائے تو وہ بتدریج ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ طریقہ آزمانے سے قبل متاثرہ حصے کو اچھی طرح صاف کریں۔ پھر ٹیپ کا ایک ٹکڑا لیں اور اسے متاثرہ جگہ کی جلد پر لپیٹ دیں۔ ہر چند دن بعد ٹیپ کو بدلتے رہیے یہاں تک کہ مسوں کا نام نشان مٹ جائے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
فیصل خان

Leave a Reply