کتاب کی اہمیت اور مطالعہ کا شوق

عربی زبان کے نامور شاعر متنبی کے ایک شعر کا مصروع ہے:

و خیر جلیس فی الزمان کتاب

کہ زمانہ میں بہترین ہم نشین کتاب ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اچھی کتاب سے وابستگی کی نعمت کا کسی کو ادراک ہو جائے تو اس کے لیے بغیر مطالعے کے زندگی گزارنا دشوار ہو جاتا ہے۔ وہ اگر بیمار بھی ہوتا ہے تو کتاب ہی اس کا علاج ہوتی ہے، رنج و بے چینی کی حالت میں کتاب ہی اس کی غم خواری کا سامان فراہم کرتی ہے، مشکلات و مصائب میں بھی وہ ہی تسلی کا باعث ہوتی ہے، کیوں کہ کتاب ہی تو اس کے شب و روز کی دمساز و ہم راز بن چکی تھی۔

کتابوںسے حد درجہ عقیدت، ان کو جمع کرنے کا شوق، اپنے ذاتی کتب خانے کو وسیع سے وسیع تر کرنے کی جستجو اہل ذوق میں نمایاں رہی ہے اور اس سلسلے میں وہ بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ چھٹی صدی کے ایک حنبلی عالم امام ابن الخشابؒ کے بارے میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ موصوف نے ایک دن ایک کتاب پانچ سو درہم میں خریدی، قیمت ادا کرنے کے لیے کوئی چیز نہ تھی، لہٰذا تین دن کی مہلت طلب کی اور مکان کی چھت پر کھڑے ہوکر مکان بیچنے کا اعلان کیا، اس طرح اپنے شوق کی تکمیل کی۔ (ذیل طبقات الحنابلہ، ۲/۱۵۲)

ماضی قریب میں بھی ایسے متعدد اہل علم و دانش گزرے ہیں، جن کا کتابوں سے والہانہ تعلق تھا، یہی ان کا اوڑھنا بچھونا اور اسی میں وہ اپنے دن رات بسر کرتے تھے۔ مولانا عبد الماجد درا بادیؒ کے ذوق مطالعہ کا اندازہ ان کے جادو نگار قلم سے نکلی شاہ کار تصنیف ’’آپ بیتی‘‘ سے لگایا جاسکتا ہے۔ مرحوم شروع ہی سے ہر کتاب کو پڑھ ڈالنے کے شوق میں گرفتار تھے۔ مذکورہ بالا کتاب میں ہی ایک سے زائد مواقع پر حضرت نے اپنی اس وارفتگی کا تذکرہ فرمایا ہے۔

مسلمانوں کے دورِ عروج میں ان کے یہاں کتابوں کی بڑی اہمیت تھی۔ حکمران بڑے بڑے کتب خانے بناتے اور لوگ بھی اپنی ذاتی لائبریری میں کتابوں کا بڑا ذخیرہ جمع کرتے تھے۔ اس زمانے میں کتابوں اور کتب خانوں کی اہمیت اس حد تک تھی کہ کتابوں کا وجود رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کا سبب بن گیا تھا۔ لڑکیوں کے جہیز میں کتب خانے دیے جاتے تھے، گویا نکاح شرعی اور سماجی ضرورت کے ساتھ علمی ضرورت بھی بن گیا تھا، چناں چہ امام اسحاق بن راہویہؒ نے سلیمان بن عبد اللہ زغندانی کی بیٹی سے شادی اس لیے کی تھی کہ اس سے انہیں امام شافعی کی جملہ تصانیف پر مشتمل کتب خانہ مل جانا تھا۔ (انساب للسمعانی ۶/۶۰۳)

آج علمی انحطاط کے اس دور میں بھی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں، جن سے علم کی قدر دانی اور کتابوں کی قدر و منزلت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، چناں چہ اس زمانے کی نام ور علم دوست شخصیت، ہمدرد دوا خانہ کے سربراہ حکیم محمد سعید علیہ الرحمہ نے اپنی بیٹی کے جہیز میں ذاتی کتب خانہ دیا۔ معلوم ہوا کہ اہل علم کے ہاں کتابوں کو ایک عظیم مرتبہ حاصل تھا۔

لوگ خوشی و مسرت کے مواقع پر کتابوں کو بھی تحائف کے طور پر دیا کرتے تھے، اور اچھی کتاب کا ہدیہ ایسا ہدیہ ہے جو انسان کے لیے محض مادی حیثیت کا ہی حامل نہیں، بلکہ یہ اس کے فکری تنوع اور ترقی علم کے ساتھ دیگر باطنی فوائد کے حصول کا باعث بھی ہوتا ہے، پھر کتاب آدمی کے لیے ایک دائمی یادگار اور اس سے وہ تاحیات فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ وہ اگر کسی طرح ضائع بھی ہو جائے تو اس کے مطالعے سے حاصل شدہ فوائد، علمی نکات اور عملی ترغیبات سے ساری زندگی وہ مستفید ہو سکتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر کتاب کا نفع دیرپا ہے۔ لہٰذا اور اس دور میں بھی تحائف کا تبادلہ مفید کتابوں کی شکل میں کیا جائے تو معاشرے میں علمی ذوق بھی پروان چڑھے گا اور لوگوں کی علمی، عملی اور فکری اصلاح کا بھی ذریعہ ہوگا۔

کتابوں کا سب سے بڑا اور اولین مقصد یہی ہے کہ انہیں پڑھا جائے اور ان سے عملی زندگی میں استفادہ کیا جائے۔ وہ مصنف کے طویل مطالعے کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ قاری ان سے کم وقت میں بہت سے فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ مطالعہ کتب کے چند فوائد ذیل میں ذکر کیے جاتے ہیں:

۱- مطالعہ سے متعدد و متنوع افکار سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔

۲- ایک ہی مضمون کو کئی اسالیب میں اظہار کا ملکہ پیدا ہوتا ہے۔

۳- آدمی کی فکر اور سوچ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے، دماغی صلاحیتیں جلا پاتی ہیں۔

۴- پڑھنے سے قوتِ حافظہ کو تقویت ملتی ہے، چناں چہ امام بخاریؒ سے حافظے کی دوا کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمانے لگے: ’’حافظ کے لیے آدمی کے انہماک، دائمی نظر و مطالعہ سے بہتر کوئی چیز میرے علم میں نہیں۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ۲۱/۶۰۴)

۵- اپنی کمزوریوں اور جہالت کا ادراک ہوتا ہے اور حصول علم کی جستجو میں مزید اضافہ ہوتا ہے

۶- صحیح اور غلط کی پہچان اور تنقید کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

۷- وقت فضولیات میں ضائع ہونے سے محفوظ ہوتا ہے۔

۸- مختلف لوگوں کے اسالیب تحریر سامنے آتے ہیں، جس سے لکھنے کا صحیح ڈھنگ آجاتا ہے۔

۹- کتابوں کے مطالعے سے فن تخلیق کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

۱۰- آدمی کی ہمت اور حوصلے میں اضافہ ہوتا ہے، کچھ کر دکھانے کا جذبہ اس میں جوش مارنے لگتا ہے کہ جب دنیا یہ کارنامے انجام دے سکتی ہے تو میں بھی کر سکتا ہوں۔

مذکورہ بالا تمام فوائد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ انسان میں مطالعہ کا شوق دیگر چیزوں کے شوق پر غالب ہو۔ کتابوں کی حیثیت اس کے نزدیک تمام سامانِ آرائش وآسائش سے بڑھ کر ہو، کوئی دن بن مطالعہ کے نہ گزرے اور یہی علمی ذوق اور دانشورانہ مزاج کے نشو و نمایا پانے کی پہلی سیڑھی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ مطالعہ کیسے جائے؟ لیکن اس سے بھی پہلے اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ مطالعہ کیا کیا جائے؟ اس بارے میں دو ٹوک کوئی بات کہنا تو دشوار ہے کیوں کہ ہر شخص کا ذوق دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، ایک آدمی ایک فن سے دلچسپی رکھتا ہے تو دوسرا دوسرے سے، البتہ چند ایسے امور ذکر کیے جاسکے ہیں، جن کی روشنی میں اس جہت کا تعین ممکن ہے۔

۱- سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھی گئی کتابوں کو مطالعہ میں رکھا جائے، جیسے سیرۃ النبی، سیرۃ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، النبی الخاتم وغیرہ۔

۲- صحابہؓ اور صحابیاتؓ کے حالات پر مشتمل کتابوں کا مطالعہ کیا جائے۔

۳- علماء اور صلحاء بالخصوص ماضی قریب کے ان بزرگان دین کی زندگیوں کو پڑھا جائے، جن کے آج ہم نام لیوا ہیں اور جنہوں نے کسی بھی حیثیت سے امت مسلمہ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔

۴- جس فن سے دلچسپی ہو، اس کے ماہرین کی مشاورت سے متعلقہ کتب کو اختیار کریں۔

۵- اہل علم کی محسن کتابوں یا اس جیسے عنوانات پرلکھی گئی تحریروں اور کتابوں کو دیکھ کر اپنے لیے کتابوں کا انتخاب کیا جائے۔

۶- کتابی ذوق رکھنے والے افراد سے وابستہ رہا جائے اور کتابوں کے حوالے سے وقتاً فوقتاً ان سے راہ نمائی لی جائے، کیوں کہ جیسے اچھی کتاب کے مطالعے سے آدمی فکری بلندیوں کو حاصل کرلیتا ہے، اسی طرح کسی غیر موزوں کتاب کے پڑھنے سے وہ اخلاقی پستیوں کا بھی شکار ہو سکتا ہے، بقول اکبر الٰہ آبادی:

’’دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے۔‘‘

کتاب کی تعیین کے بعد جب آپ پڑھنا شروع کریں تو چند باتوں کا اہتمام انشاء اللہ خاطر خواہ فوائد کے حصول کا باعث ہو سکتا ہے:

۱- اس تصور کے ساتھ مطالعے کا آغاز کریں کہ یہ پڑھنا ہی اس وقت میرے لیے دنیا کا اہم ترین مشغلہ ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ ہجوم میں بھی ہوں گے تو یکسوئی آپ کو خود بہ خود حاصل ہو جائے گی۔

۲- پڑھنے کے لیے دن میں وقت ضرور مقرر کریں، تاکہ پڑھنے کی عادت پیدا ہوجائے، اس کے علاوہ بھی جب موقع میسر آئے کچھ نہ کچھ پڑھ ڈالیے۔

۳- سب سے پہلے آپ کتاب کی فہرست اور اگر اس پر کوئی مقدمہ یا کسی کا تبصرہ ہو تو اسے پڑھ لیجیے۔

۴- مطالعہ سے قبل قلم اپنے ہاتھ میں تھام لیجیے اور دورانِ مطالعہ اہم باتوں کو نشان زد کرتے جائیے، جب فارغ ہوجائیں تو ان مفید امور کو اپنی مخصوص ڈائری میں قلم بند کیجیے تاکہ مکرر تلاش کی مشقت سے محفوظ ہوجائیں۔

۵- مطالعے کے بعد دماغی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر مطالعہ شدہ مواد سے نتائج اخذ کریں اور پھر حاصل مطالعہ اور نتائج کو ذہن نشین کرلیں، اچھا ہوگا کہ اسے بھی کاغذ پر منتقل کرلیں۔

۶- کتاب کے اختتام کے بعد اس کا اور مصنف کا مختصر تعارف اپنے پاس نوٹ کرلیں ساتھ ہی کتاب اور مصنف سے متعلق ذاتی تاثرات اور تبصرہ بھی محفوظ کرلیں۔lll (ماخوذ)

شیئر کیجیے
Default image
عبد اللہ بن مسعود

Leave a Reply