غلط فہمی پنپنے نہ پائے!

اگر آپ اپنے آس پاس نظر دوڑائیں اور لوگوں کے درمیان جھگڑوں اور تنازعات کا بغور مشاہدہ کریں، تو محسوس ہوگا کہ تمام باتوں کی وجہ فقط ایک غلط فہمی ہوتی ہے۔ غلط فہمی ہی دراصل دوریوں اور تعلقات کے خاتمے کا سبب بنتی ہے۔ خود آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہوگا کہ آپ نے کچھ کہا تھا، مگر دوسرے فرد نے کچھ اور بیایا اور آپ کی بات کا کچھ اور مطلب نکال لیا، بس پھر دل خراب ہوگیا اور جھگڑے کا آغاز ہوگیا۔ کدورت ہو یا غلط فہمی دو لوگوں کے بیچ بدترین صورت حال پیدا کردیتی ہے۔ یہی لوگوں کے دلوں میں فرق پیدا کرتی ہے اور پھر جن غلطیوں کو ہم نے سہہ لیا ہوتا ہے یا نظر انداز کر دیا ہوتا ہے، وہی سوچ سوچ کر ہم پیچ و تاب کھانے لگتے ہیں۔

اچھے بھلے لفظوں کے کچھ سے کچھ مطلب نکالے جانے لگتے ہیں، ہنسی میں کہہ کر ختم ہونے والی باتوں کی ازسرنو تشریح کی جاتی ہے اور پھر شکوے شکایات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جنم لیتا ہے۔ اگر ایک فریق گڑے مردے اکھاڑتا ہے، تو پھر ردعمل میں دوسرا بھی گزر جانے والی پرانی پرانی باتوں کے طعنے دینے لگتا ہے۔ ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے چکر میں باہمی احسانات ایک ایک کرکے جتائے جاتے ہیں۔ حتی کہ چھوٹے سے چھوٹے تحائف تک کے تذکرے ہوتے ہیں، نوبت یہاں تک آتی ہے کہ تحائف واپس کر دینے جیسے ناپسندیدہ اور کریہہ عمل سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ یعنی غلط فہمی کا شکار ہونے والوں کو پتا بھی نہیں چلتا کہ وہ تلخ نوائی کے اکھاڑے میں ایک دوسرے کو زیر کرتے ہوئے کس قد رآگے پہنچ چکے ہیں۔

غلط فہمی کا سلسلہ زیادہ تر گفتگو سے جنم لیتا ہے۔ یوں بھی الفاظ درحقیقت ہماری کام یابی او رناکامی کا بہت بڑا سبب ہیں۔ الفاظ اپنی جگہ کچھ بھی نہیں ہوتے یہ تو علامت ہوتے ہیں ان جذبات، احساسات اور تاثرات کے، جو ہم کسی کے لیے اپنے لاشعور میں رکھتے ہیں۔ آپ کے الفاظ آپ کی سوچ کی علامت ہوتے ہیں۔ کبھی نہ کبھی نادانستہ طور پر آپ کے منہ سے کوئی نہ کوئی ایسی بات یا لفظ نکل جاتے ہوں گے، جو آپ کے دلی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں اور اظہار نہیں کرنا چاہتے، لیکن پھر بھی نادانستگی میں کوئی نہ کوئی اشارہ ضرور دے جاتے ہیں۔ ہمارے الفاظ اور لاشعور کا ایک گہرا تعلق ہے۔ مگر یہ تعلق اس وقت مزید موثر اور مضبوط ہو جاتا ہے، جب آپ تبدیلی کے خواہاں ہوں۔

ہم کبھی کبھی پوری بات اور معاملات کو سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے اور غلط فہمی کا شکا رہو جاتے ہیں۔ محبت اور دوستی یہ دو چیزیں ہر طوفان کا مقابلہ کر سکتی ہیں، مگر غلط فہمی ان دونوں کو ختم کر کے رکھ سکتی ہے۔ الفاظ کے ذریعے آپ دوست بھی بنا سکتے ہیں اور دشمن بھی۔ آپ کسی کو اپنی باتوں سے زندگی بھر کا دکھ بھی دے سکتے ہیں اور کسی کے عمر بھر کے درد کی دوا بھی بن سکتے ہیں۔

یاد رکھیے کہ ٹھیک وقت پر پئے ہوئے کچھ کڑوے گھونٹ ہماری زندگی کو میٹھا بنا دیتے ہیں۔ دنیا کے تمام بڑے بڑے لوگوں کو دیکھیں، تو محسوس ہوگا کہ ان کا الفاظ سے بڑا گہرا ربط ہے اور وہ ان کے استعمال کے فن سے بہ خوبی واقف تھے۔ کسی کو حاصل کرنا ہو تو ہماری تمام خوبیاں بھی کام نہیں آتیں اور کسی کو کھونا ہو تو بس ایک غلط فہمی کو راہ چاہیے۔

اس لیے کوشش کیجیے اگر کبھی کوئی مخاطب بدلے ہوئے رویے کا مظاہرہ کرے، خفا ہو یا اس کے لہجے میں درشتی ہو تو بہ جائے جوابی وار کرنے کے یہ پوچھئے کہ ایسا کیوں ہوا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ متعلقہ فرد فوری یا بہت آسانی سے اس بات کا جواب نہ دے۔ ایسی صورت میں تحمل سے کام لیں اور جواباً کسی تلخی کا مظاہرہ نہ کریں۔ ہو سکتا ہے کہ آیندہ ملاقات میں کچھ صورت حال واضح ہو وہ خود کچھ بتا دے یا کسی اور ذریعے سے خبر ہوجائے کہ اس تبدیلی کی وجہ کیا تھی۔ یوں آپ ایک اچھے تعلق سے محروم ہونے سے بچ سکتی ہیں۔

رشتوں میں ایسی پراسرار تبدیلیاں زیادہ تر کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہوتی ہیں، جسے اسی طرح سے دور کیا جانا چاہیے۔ اکثر ہم جواباً درشتی اختیار کرلیتے ہیں، جس کے بعد اگر نزاع کی وجہ پتا بھی چل جائے، تب بھی فاصلے اس قدر بڑھ چکے ہوتے ہیں کہ کوئی بھی معذرت کرنے یا تعلق پہلے جیسے کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اس لیے کوشش کیجیے کہ غلط فہمی پنپنے ہی نہ پائے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
فرحین ریاض

Leave a Reply