مثبت سوچ کا جادو

میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے تدریس کا شعبہ اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوب صورت اندازِ تدریس سے نوازا ہے۔ طلبہ آپ کو بہت چاہتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ آپ صبح ہمیشہ دیر سے نہ آیا کریں۔‘‘

’’تم خوب صورت ہو۔ گھر بھی صاف ستھرا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ بچے کھیل کود کرتے ہیں، پھر بھی میں چاہتا ہوں کہ تم ان کے لباس کا پہلے سے زیادہ خیال رکھا کرو۔‘‘

احمد کا لوگوں سے یہی رویہ تھا، وہ غلطی کرنے والے کے روشن پہلوؤں کا تذکرہ کرتا، پھر غلطی سے آگاہ کرتا تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔

تنقید کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ سب سے پہلے غلطی کرنے والے کی خوبیوں کا تذکرہ کریں۔ آپ کے مخاطب کو ہمیشہ یہ احساس ہونا چاہیے کہ آپ کی نظر اس کے روشن پہلوؤں پر ہے اور یہ کہ آپ اسے غلطیوں سے آگاہ کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ وہ آپ کی نظروں سے گر چکا ہے یا آپ اس کی اچھائیاں فراموش کر کے صرف برائیوں کا حساب رکھتے ہیں۔

نہیں بلکہ اسے احساس دلائیے کہ اس کی خامیاں، خوبیوں کے مقابلے میں، آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ رسول اللہﷺ اپنے ساتھیوں کو بہت محبوب تھے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا ان سے طرزِ عمل عمدہ رویوں پر مشتمل تھا۔

ایک دن رسول اللہﷺ صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرما تھے۔ آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی گویا گہری سوچ میں ڈوبے ہیں یا کسی شے کے منتظر ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا:

’’وقت آگیا ہے کہ لوگوں کے درمیان سے علم اچک لیا جائے گا اور لوگوں کے حافظے میں اس کا کوئی حصہ محفوظ نہیں رہے گا۔‘‘

یعنی لوگ قرآن مجید اور اس کے تعلیم و تعلم سے منہ پھیر لیں گے، شرعی علوم حاصل کرنے سے کترائیں گے، نہ انہیں علم حاصل کرنے کا شوق ہوگا اور نہ وہ ان کی سمجھ میں آئے گا۔

جلیل القدر صحابی زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور جوش میں آکر کہا:

’’اے اللہ کے رسول! علم ہمارے درمیان سے کیوں کر اچک لیا جائے گا جبکہ ہم قرآن پڑھ چکے ہیں۔ اللہ کی قسم! ہم اسے پڑھتے رہیں گے اور اپنے بیوی بچوں کو بھی پڑھائیں گے۔‘‘

رسول اللہﷺنے ایک نظر اس نوجوان انصاری کو دیکھا جو غیرتِ دینی سے سرشار تھا، آپ نے اسے فہم کی ٖغلطی سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:

’’زیاد! تمہاری ماں تمہیںگم پائے، میں تو تمہارا شمار اہل مدینہ کے فقہاء میں کیا کرتا تھا۔‘‘

رسول اللہﷺنے یہ کہہ کر برسر عام زیاد کی ستائش کی کہ وہ فقہائے مدینہ میں سے ہیں۔ یہ زیاد کی زندگی کے روشن صفحات کا تذکرہ تھا، پھر آپﷺنے فرمایا:

’’یہود و نصاریٰ کے پاس تورات و انجیل موجود ہیں، ان کتابوں نے انہیں آخر کیا فائدہ پہنچایا۔‘‘

مطلب یہ کہ قرآن کے ہونے سے کیا ہوتاہے۔ اصل بات تو اسے پڑھنا، اس کے معانی و مطالب پر غور و فکر کرنا اور اس کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔

ایک روز رسول اللہﷺ کا گزر ایک عرب قبیلے کے پاس سے ہوا۔ آپ لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے نکلے تھے۔ قبیلے کا نام تھا ’’بنو عبد اللہ‘‘ آپﷺ نے اللہ کی طرف بلاتے ہوئے کہا:

’’اے بنو عبد اللہ! اللہ نے تمہارے باپ کو بڑا اچھا نام دیا تھا۔‘‘

تمہارے نام میں شرک نہیں، اس لیے اسلام کی چھاؤں میں آجاؤ۔

اس معاملے میں رسول اللہﷺ کی بے مثال مہارت کا ایک خوب صورت پہلو یہ بھی تھا کہ آپ لوگوں کو بالواسطہ پیغامات بھیجتے جن میں ان کی خوبیوں اور ان کے لیے خیر خواہی کا ذکر ہوتا۔ لوگوں کو یہ بالواسطہ پیغامات پہنچتے تو ان کی تاثیر بعض اوقات براہِ راست دعوت سے زیادہ ہوتی۔

خالد بن ولیدؓ نہایت جری، بہادر اور نڈر اور بے خوف جنگجو تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بے پناہ خواہش تھی کہ وہ اسلام قبول کرلیں۔ لیکن ایسا کیوں کر ہوتا؟ خالد تو مسلمانوں کے خلاف ہر جنگ میں پیش پیش رہے تھے۔ احد کے معرکے میں مسلمانوں کی ہزیمت کا بڑا سبب وہی تھے۔

ان کے متعلق ایک موقع پر رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا کہ وہ اگر ہمارے پاس آجائیں تو ہم ان کا اکرام کریں گے اور انہیں دوسروں پر ترجیح دیں گے۔ اس چھوٹے سے تعریفی جملے کی تاثیر جاننے کے لیے پورا واقعہ سماعت کیجیے۔

خالد بن ولید کا شمار کفار کے قائدین میں ہوتا تھا۔ وہ رسول اللہﷺ اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ہمیشہ مواقع کی تلاش میں رہتے تھے۔ نبیﷺ مسلمانوں کو ساتھ لے کر عمرے کی غرض سے حدیبیہ روانہ ہوئے تو خالد بن ولید بھی مشرکین کے چند گھڑ سواروں کے ہمراہ نکلے۔ مسلمانوں سے ان کا سامنا عسفان کے مقام پر ہوا۔ خالد نے ان کے قریب ہی پڑاؤ ڈالا اور نبی ﷺ پر حملہ کرنے کے لیے مواقع کی تلاش میں رہے۔ رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام کو ظہر کی نماز پڑھائی تو انھوں نے حملہ کرنے کا ارادہ کیا، لیکن وہ ایسا نہ کرسکے۔ رسول اللہﷺ کو ان کی موجودگی کا علم ہوا تو آپ نے مسلمانوں کے ساتھ عصر کی نماز صلاۃ الخوف کے طور پر ادا کی یعنی آپ نے مسلمانوں کو دو دستوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک دستے نے آپ کی اقتدا میں نماز پڑھی اور دوسر اپہرے پر مامور رہا۔ خالد اور ان کے ساتھیوں نے یہ صورتِ حال دیکھی تو اپنا رادہ ترک کر دیا۔ انھوں نے کہا: ’’اس آدمی کی حفاظت کی جا رہی ہے۔‘‘

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کے ہمراہ کوچ کیا اور دائیں طرف کا مختلف راستہ اپنایا تاکہ ان کا گزر خالد اور ان کے ساتھیوں کے قریب سے نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ پہنچے ، قریش سے اس شرط پر معاہدہ کیا کہ آئندہ سال عمرے کے لیے آئیں گے اور مدینہ لوٹ گئے۔

خالد نے دیکھا کہ عرب میں قریش کی قد رروز بروز گھٹ رہی ہے، انھوں نے سوچا کہ اب کیا باقی رہ گیا ہے۔ اب میں کہاں جاؤں۔ نجاشی کے پاس چلاجاوں؟ لیکن نہیں! وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلمکا پیروکار ہو گیا ہے اور محمد کے ساتھی اس کے ہاں سکون سے رہ رہے ہیں۔ یا پھر ہرقل کے ملک چلا جاؤں؟ لیکن نہیں! میں اپنا دین چھوڑ کر یہودیت یا نصرانیت کیوں اپنالوں اور عرب کو خیر باد کہہ کر عجم کیوں جابسوں؟

خالد اسی شش و پنج میں رہے اور ایک سال گزر گیا۔ مسلمان عمرہ کرنے مکہ آئے۔ خالد مکہ آئے۔ خالد سے یہ منظر نہ دیکھا گیا۔ وہ مکہ سے نکل گئے اور چار دن تک غائب رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں چار دن قیام کیا اور مناسک عمرہ کیے۔ اس دوران آپ مکہ کے راستوں میں چلتے پھرتے، قدیم گھروں میں آتے جاتے اور پرانی یادیں تازہ کرتے رہے۔ بہادر خالد بن ولید یاد آیا تو ان کے بھائی ولید بن ولید سے مخاطب ہوئے جو مسلمان تھے اور مسلمانوں کی ہمراہی میں عمرہ کرنے آئے تھے۔ آپ نے خالد بن ولید کو بالواسطہ پیغام بھیجنا چاہا جس کے ذریعے سے وہ اسلام کی طرف راغب ہوتے۔

آپﷺ نے ولید بن ولید سے دریافت کیا:

’’خالد کہاں ہیں؟‘‘

ولید کے لیے سوال بہت اچانک تھا۔ انھوں نے جواب دیا: ’’اے اللہ کے رسول! اللہ انہیں لے آئے گا۔‘‘

آپ نے فرمایا:

’’ان جیسا انسان اسلام سے بے بہرہ نہیں رہ سکتا، انھوں نے اپنی بہادری اور تیزی سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچایا ہوتا تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا۔‘‘

پھر آپ نے فرمایا:

’’اگر وہ ہمارے پاس آجائیں گے تو ہم ان کا اکرام کریں گے اور انہیں دوسروں پر ترجیح دیں گے۔‘‘

ولید یہ بات سن کر خوشی خوشی خالد بن ولید کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ لیکن وہ مکہ میں نہ ملے۔

مسلمانوں نے مدینہ روانگی کا ارادہ کیا تو ولید بن ولید نے اپنے عزیز بھائی کو خط لکھا:

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم، اما بعد! میرے لیے اس سے بڑھ کر حیرت انگیز بات کوئی نہیں کہ آپ کا دل ابھی تک اسلام کی طرف مائل نہیں ہوا، حالاں کہ آپ اچھے خاصے ذی شعور انسان ہیں اور کوئی عقل مند انسان اسلام جیسی نعمت سے بے بہرہ نہیں رہ سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے آپ کے متعلق پوچھا تھا کہ خالد کہاں ہیں؟ میںنے کہہ دیا کہ اللہ انہیں لے آئے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

’’ان جیسا آدمی بھی اسلام سے بے بہرہ رہ سکتا ہے! اگر انھوں نے اپنی بہادری اور قابلیت سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچایا ہوتا تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا۔ وہ ہمارے پاس آجائیں تو ہم ان کا اکرام کریںگے اور انہیں دوسروں پر مقدم رکھیں گے۔‘‘

اس لیے اے میرے بھائی! اس موقع سے فائدہ اٹھائیے اور جو بھلائیاں آپ کے حصے میں آنے سے رہ گئی تھیں، انہیں حاصل کرلیجیے۔‘‘

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں: ’’جونہی مجھے ولید کا خط ملا، میں روانگی کے لیے تیار ہوگیا۔ اس خط نے اسلام کے بارے میں میرا شوق بڑھا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے متعلق دریافت کیا، اس سے بھی مجھے خوشی ہوئی۔ میں نے خواب میں بھی دیکھا تھا کہ بنجر، بے آباد اور تنگ زمین سے نکل کر کھلی اور سرسبز و شاداب جگہ آگیا ہوں۔ میںنے سوچا یہ یقینا سچا خواب ہے۔ پھر جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلمکی طرف روانہ ہونے کا مصمم ارادہ کرلیا تو دل میں آیا کہ میرا ہم سفر کون ہو۔ میں صفوان بن امیہ سے ملا اور کہا: ’’ابو وہب! تم دیکھتے نہیں ہماری کیا حالت ہے؟ ہم تو داڑھوں کی طرح ہیں جو ایک دوسری کو پیستی رہتی ہیں۔ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) عرب و عجم پر غالب آچکے ہیں۔ اگر ہم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس چلیں اور ان کی پیروی کا اقرار کرلیں تو کیسا رہے۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا شرف ہمارا شرف نہیں؟‘‘

صفوان بن امیہ نے سختی سے انکار کیا اور کہا:

’’میری قوم میں میرے سوا اور کوئی باقی نہ رہے، تب بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تابع داری کا اقرار نہیں کروں گا۔‘‘

پھر ہم علیحدہ ہوگئے۔ میں نے دل میں کہا: ’’یہ آدمی زخم خوردہ ہے۔ اس کا والد اور بھائی معرکہ بدر میں قتل ہوئے تھے۔‘‘

صفوان کے بعد میں عکرمہ بن ابی جہل سے ملا۔ اس سے بھی وہی بات کہی جو صفوان نے کہی تھی۔میں نے کہا: ’’اچھا تمہاری مرضی۔ لیکن یہ بات راز رکھنا کہ میں محمد (ﷺ)سے ملنے مدینے روانہ ہوا ہوں۔‘‘

اس نے کہا: ’’ٹھیک ہے۔ میں اس کا ذکر کسی سے نہیں کروں گا۔‘‘

اس کے بعد میں گھر گیا، سواری تیار کرنے کا کہا اور نکل کھڑا ہوا۔ راستے میں عثمان بن طلحہ سے ملاقات ہوئی۔ میں نے سوچا: ’’یہ میرا دوست ہے۔ اسے اپنے ارادے سے آگاہ کرتا ہوں، پھر مجھے یاد آیا کہ مسلمانوں سے جنگوں میں اس کے بھی کئی عزیز و اقارب ہلاک ہوچکے ہیں۔ مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ ان مقتولین کی یادیں اس کے دل میں تازہ کردوں۔‘‘

پھر مجھے خیال آیا کہ اگر اسے بتا بھی دوں تو میرا کیا جائے گا۔ میں تو اسی لمحے کوچ کرنے والا ہوں۔ میں نے اس سے قریش کی دگرگوں حالت کا ذکر کیا اور کہا: ’’ہم کھوہ میں گھس کر بیٹھی لومڑی کی طرح ہیں، جس پر پانی کا ڈول بہایا جائے تو وہ نکل بھاگے۔‘‘

عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے میں نے وہ بات بھی کہی جو صفوان اور عکرمہ سے کہہ آیا تھا۔ اس نے فوراً آمادگی ظاہر کی اور میری ہمراہی میں مدینہ جانے کا عزم کرلیا۔ میں نے اس سے کہا:

’’میں آج ہی گھر سے نکلا تھا اور مدینے روانہ ہونا چاہتا تھا۔ یہ میری سواری بھی تیار ہو کر راستے پر رواں دواں ہے۔‘‘

ہم نے طے کرلیا کہ کل یأ جج میں اکٹھے ہوں گے۔ وہ مجھ سے پہلے وہاں پہنچ جائے تو میر اانتظار کرے گا اور میں اس سے پہلے پہنچ جاؤں تو اس کا انتظار کروں گا۔

میں اس خدشے کے پیش نظر کہ کہیں قریش کو ہماری روانگی کا علم نہ ہوجائے، سحری کے وقت گھر سے نکلا۔ پو پھوٹنے سے پہلے ہم یاجج میں اکٹھے بیٹھے تھے۔ ہم نے فوراً سفر کا آغاز کر دیا اور مدینہ پہنچ گئے۔ وہاں ہمیں عمرو بن العاص ملے۔ وہ اونٹ پر سوار تھے۔ انھوں نے ہمیں دیکھ کر کہا:

’’قوم کو مرحبا، کہاں کا ارادہ ہے؟‘‘

ہم نے الٹا سوال کر دیا: ’’آپ کدھر جا رہے ہیں؟‘‘

انھوں نے ہمارا سوال نظر انداز کرتے ہوئے، پھر سوال داغ دیا:

’’اور آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں؟‘‘

’’اسلام قبول کرنے جا رہے ہیں۔‘‘ ہم نے اس کو جواب دیا۔

انھوں نے خوش ہوکر کہا:یہی ارادہ میرا بھی ہے۔‘‘

اب ہم تینوں نے اکٹھے سفر شروع کیا اور مدینہ میں داخل ہوکر سواریاں حرہ کے باہر بٹھا دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری آمد کی اطلاع دی گئی تو آپ بہت خوش ہوئے۔ میں نے خوشنما لباس زیب تن کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمسے ملنے آیا۔ راستے میں بھائی ولید سے ملاقات ہوئی۔ اس نے کہا: ’’جلدی کیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے متعلق بتایا گیا ہے۔ وہ آپ کی آمد سے بہت خوش ہیں اور انتظار کر رہے ہیں۔‘‘

ہم جلدی چلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دور سے آتے دیکھا تو مسکرائے اور میرے قریب آنے تک مسکراتے رہے۔ میں نے آپ کو سلامِ نبوت پیش کیا۔ آپ نے کشادہ روئی سے سلام کا جواب دیا۔

میں نے کہا: ’’میں شہادت دیتا ہوںکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘

اس پر آپﷺنے فرمایا:

’’سب تعریف اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے ہے، جس نے آپ کو ہدایت دی۔ میں نے آپ میں شعور کی روشنی دیکھی تھی۔ مجھے امید تھی کہ یہ روشنی آپ کو خیر ہی کی طرف لے جائے گی۔‘‘

میں نے کہا: ’’اے اللہ کے رسول! میں آپ کے خلاف جنگیں لڑتا رہا اور جانتے بوجھتے حق کی مخالفت کرتا رہا۔ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ میرے گناہ بخش دے۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اسلام پچھلے گناہ مٹا دیتا ہے۔‘‘

میں نے کہا: ’’یا رسول اللہ! اس کے باوجود میرے لیے بخشش کی دعا کیجیے۔‘‘

آپ نے دعا کی:

’’اے اللہ! خالد بن ولید کو معاف کردے۔‘‘

اس کے بعد سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلام کی ممتاز شخصیات میں شمار کیے گئے۔

ان کے اسلام کی وجہ وہ بالواسطہ پیغام بنا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے انہیں ملا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلوب زندگی کیسا عمدہ اور حکمت بھرا تھا۔ ہمیں بھی لوگوں پر اثر انداز ہونے کے لیے یہی مہارتیں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ آس پاس کے لوگوں سے حسن ظن رکھتے ہوئے ان کی اچھائیاں تلاش کیجیے جن میں ان کی برائیاں گم ہوجائیں۔ لوگوں کو آپ کی منصف مزاجی کا احساس ہوگا اور وہ آپ سے محبت کرنے لگیں گے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عبد المالک مجاہد

Leave a Reply