3

دعوتِ دین کا قرآنی اسلوب

قرآن مجید کتاب ہدایت ہے یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے تمام نوعِ انسانی کے لیے آخری پیغام ہے۔ اس کے پیغام کی افہام و تفہیم اور دعوت و تبلیغ نبی کریمﷺ کے بعد تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’کہہ دو یہ میری راہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ، میں بھی اور وہ لوگ بھی جنہوں نے میری پیروی کی۔‘‘ (یوسف:۱۰۴)

سورۂ آل عمران میں ارشاد ہے:

’’اور چاہیے کہ تم میں ایک گروہ ایسا ہو جو نیکی کی دعوت دے، معروف کا حکم کرے اور منکر سے روکے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (آل عمران:۱۰۴)

مذکورہ بالا آیت سے دعوت دین کی اہمیت کا بھرپور اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ دعوت دین کے اس اہم فریضہ کے کچھ اصول و ضوابط ہیں، جن کے ذریعے اس راہ کی مشکلیں آسان ہو جاتی ہیں کہ کون سا اسلوب اختیار کیا جائے کہ جس سے مخاطب کے ذہن و دماغ کو متحرک کیا جاسکے، اسے غور و فکر پر آمادہ کیا جاسکے، اور داعی کی بات اس کے دل میں گھر کر جائے اور وہ متاثر ہوکر دعوت قبول کر سکے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ پر دعوت فرض کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا واضح اسلوب بھی بیان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے مشہور اور جامع آیت سورۃ النحل کی ہے، ارشاد ہے:

’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو اور ان کے ساتھ اس طریقے سے بحث کرو جو پسندیدہ ہے۔‘‘(النحل:۱۲۵)

اس آیت میں درج ذیل نکات پر روشنی ڈالی گئی ہے:

پہلا نکتہ یہ ہے کہ پیغام و دعوت کی غرض و غایت یہ ہو کہ مخاطب کو پروردگار عالم کی راہ سے شناسائی حاصل ہو۔ سننے والے کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ اس کے سامنے طلب و جستجو کی ایسی منزل ہے جو کہ ہمہ گیر ہے، آفاقی ہے اور تمام انسانیت کے لیے ہے۔ سبیل رب کی طرف بلانے کے معنی یہ بھی ہیں کہ اس میں الفت و محبت اور ترتیب و تسہیل اور تدریج کے ان ہی پیمانوں کو ملحوظ رکھا جائے، جن پر لفظ ربوبیت دلالت کرتا ہے۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ایسا اسلوب اور انداز ہو جو شائستہ اور قبولیت و پذیرائی کی اس منطق کے عین مطابق ہو جو فکر و تدبر اور احتیاط و سلیقہ چاہتی ہے، کیوں کہ اسی سے فکر و خیال کی سمت کو نیا رخ مل سکتا ہے اور تعصب و عناد دور ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں مخاطب کی ذہنی سطح کا پورا پورا لحاظ ہونا چاہیے کہ فکر و استدلال اور خطابت و وعظ کے مرحلے میں اس کی عقل و نفسیات کس درجہ کی ہے اور یہ کہ دعوت و ابلاغ کے لیے موقع ومحل اور وقت و زبان کی موزونیت کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے، جس طرح ہر بیج پنپنے اور پروان چڑھنے کے لیے وقت کا منت پذیر ہوتا ہے، اسی طرح عقل اور فکر و خیال بھی دلوں میں گھر کرنے اور پھلنے پھولنے کے لیے مخصوص اوقات چاہتے ہیں۔

تیسرا نکتہ موعظۂ حسنہ کا ہے، یعنی موزوں الفاظ، مناسب پیرایۂ بیان اور موثر زبان ہو۔ داعی کا طرز کلام فطری اور دل نشیں ہو، جہاں کسی عقیدے کی استواری بجائے خود کامیابی کی ضامن ہے وہاں الفاظ اور پیرایۂ بیان کا انتخاب بھی کم اہم نہیں ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جو بات کہی جائے اور جس مفہوم و مطلب کو دل میں اتارنے کی کوشش کی جائے اس کے لیے ایسے لفظ یا الفاظ استعمال ہوں جو اس درجہ مناسب ہوں کہ اس کے بعد اور کچھ کہنے کی ضرورت نہ پڑے۔

چوتھا نکتہ یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ میں مجادلہ کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جو ان عزائم کے ساتھ میدان میں اترے گا مختلف جہات سے اس پر اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور بسا اوقات مباحثہ کی نوبت بھی آسکتی ہے۔ اس صورت میں قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ داعی ایسا اسلوب اختیار کرے جس سے سامع کے شکوک و شبہات پر براہِ راست ضرب پڑتی ہو۔ مجادلہ میں اس بات کا خاص طور سے خیال رکھا جانا چاہیے کہ اصل مقصد مدعو پر غلبہ حاصل کرنا اور دلائل سے ان کا منہ بند کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ ان کے دلوں کے دریچے حق کو قبول کرنے کے لیے کھل جائیں۔

بے جا مباحثہ سے اعراض

داعی کی راہ میں بسا اوقات ایسا معاملہ بھی پیش آتا ہے کہ مخاطب اشتعال انگیز رویہ اختیار کر جاتا ہے یا بے جا بحث و مباحثہ اور موشگافیاں کرنے لگتا ہے، جس کا مقصد صرف الجھانا، پریشان کرنا اور باتیں بنانا ہوتا ہے تو اس صورت میں داعی کو اس کے رویہ سے متاثر ہوکر اینٹ کا جواب پتھر سے نہ دے کر، ہر حالت میں اپنی شائستگی کو برقرار رکھنا چاہیے، خوش اسلوبی سے اپنا دامن چھڑا لینا چاہیے اور ہر حال میں بھلی بات ہی کہنی چاہیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’اہل کتاب سے مناظرہ نہ کرو مگر اس طریقے سے جو کہ بہتر ہے اور جنہوں نے ان میں سے اپنے اوپر ظلم کیا ہے ان کو تو سرے سے منہ ہی نہ لگاؤ اور کہو کہ ہم ایمان لاتے ہیں اس چیز پر جو ہماری طرف اتاری گئی ہے اور اس چیز پر جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے ار ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے، اور ہم اسی کے فرمان بردار ہیں۔ (العنکبوت:۴۶)

مناسب موقع کا استعمال

داعی دعوتِ دین کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتا ہے اور معمولی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتا بلکہ اسے حسن و خوبی کے ساتھ دعوتِ دین کے مفاد میں استعمال کرلیتا ہے۔ اس کی بہت واضح مثال ہمیں حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں نظر آتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب یوسف علیہ السلام سے جیل میں دو آدمیوں نے اپنے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تو آپؑ نے جواب دیا:

’’اس نے کہا جو کھانا تمہیں ملتا ہے وہ آئے گا نہیں کہ میں اس کے آنے سے پہلے پہلے تمہیں اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ اس علم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا ہے۔ میں نے ان لوگوں کے مذہب کو چھوڑا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے یہی لوگ منکر ہیں۔ (یوسف:۳۷)

یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تمہارے خواب کی تعبیر تو بتادوں گا لیکن یاد رکھو کہ اس کا سرچشمہ میں نہیں ہوں بلکہ یہ علم میرے رب نے مجھے سکھایا ہے۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ اللہ نے مجھے جو علم عطا کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے اس قوم کو چھوڑا ہے جو کہ اللہ پر ایمان نہیں رکھتی تھی اور آخرت کی منکر تھی۔ غور کیجیے کہ حضرت یوسفؑ نے کس قدر حسن و خوبی کے ساتھ اس حسین موقع کو دعوت کے حق میں استعمال کر لیا اور دین کی تمام بنیادی باتوں کی تخم ریزی کردی اور اتی ہی گفتگو کی جتی اس وقت کے لیے موزوں و مناسب تھی۔ اور ساتھ ہی ساتھ ان کو یہ تاثر بھی دے دیا کہ اگر یہ راہ اختیار کر نے کا حوصلہ ہے تو اس کے لیے ان لوگوں کی ملت چھوڑنی پڑے گی جو خدا اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔

نرم گفتاری

داعی دین کو چاہیے کہ اپنی دعوتی سرگرمیوں اور جدوجہد میں اپنے متعلقین و مخاطبین کو نرمی اور رحم دلی کے جذبات سے مخاطب کرے۔ اسی طریقہ کو اختیار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ و ہارون علیہما السلام سے فرمایا:

’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ بے شک وہ سرکش ہوگیا ہے پھر اس سے جاکر نرمی سے باتیں کرو تاکہ وہ نصیحت مان لے یا ڈر جائے۔‘‘ (طہٰ: ۴۳،۴۴)

اسی طرح ان خوبیوں سے رسول اللہﷺکے متصف ہونے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’یہ اللہ ہی کا فضل ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے نرم خو ہو اگر تم درشت خو اور سخت دل ہوتے توتمہارے پاس سے یہ منتشر ہوجاتے۔ (آل عمران:۱۵۹)

مخاطب کی نفسیات کا لحاظ

ایک داعی کو اپنے مخاطب کی نفسیات کا پورا پورا لحاظ رکھنا ہوگا۔ اور ایسا پرحکمت اسلوب اختیار کرنا ہوگا جس سے کہ مدعومانوس اور قریب ہو جائے۔ داعی کوئی ایسا لہجہ اور لفظ استعمال نہ کرے، جس سے کہ مخاطب کے سینوں میں کدورت پیدا ہوجائے۔ قرآن نے اس سلسلے میں بڑی نمایاں اور حیران کن مثالیں ہمارے سامنے رکھی ہیں، مشرکین سے مکالمے کی ایک مثال یہ ہے:

’’ان سے پوچھو تم کو آسمانوں اور زمین سے کون رزق دیتا ہے؟ کہو اللہ، اب لامحالہ ہم میں اور تم سے کوئی ایک ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے، کہہ دو نہ ہم نے جو جرم کیے ان کی بابت نہ تم سے باز پرس ہونی ہے اور نہ تمہارے اعمال سے متعلق ہم سے سوال ہوگا۔ (سبا:۲۴،۲۵)

اب یہاں لا تسئلون عما اجرمنا ولا نسأل عما تعملون ان دونوں ٹکڑوں کے اسلوب پر غور کیجیے کہا گیا ہے: ولا نسأل عما تعملون یہ نہیں کہا گیا کہ ولا نسأل عما تجرمون یعنی قصور اور جرم کو اپنی طرف منسوب کرلیا گیا لیکن مخاطب کو مانوس اور قریب کرنے کی خاطر جرم کو ان کی طرف منسوب نہیں کیا گیا۔

مشترک بنیادوں کا انتخاب

ایک بات جو مکالمہ کے بہترین انداز کے تحت آتی ہے وہ فریقین کے نزدیک ’’مشترکات‘‘ پر ارتکاز ہے۔ یہاں اختلاف اور مخالفت کے نکات کو اٹھانے کی طرف توجہ ہی نہیں دی گئی ہے، طرفین کے درمیان زمین مشترک کا وجود گفتگو کو سنجیدہ اور بامقصد بنانے میں بہت معاون ہوتا ہے۔ یوں فریقین مکالمہ کے نزدیک متفق امور سے فائدہ اٹھانا ممکن ہو جاتا ہے۔ دعوت کے اس اسلوب کو قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے:

’’کہہ دو اے اہل کتاب! اس چیز کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور ہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا رب ٹھہرائے اگر وہ اس چیز سے اعراض کرے تو کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو مسلم ہیں۔ (آل عمران: ۶۴)

اس آیت کے ضمن میں اس چیز کی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے کہ ان مشترک بنیادوں کی تلاش اور ان پر گفتگو کا مقصد مخاطب سے کوئی سمجھوتہ کرنا نہیں ہے بلکہ گفتگو کی ابتداء کے لیے ایک بنیاد فراہم کرنا ہے۔

عصر حاضر کے دعوتی ذرائع

اس تناظر میں عصر حاضر میں دعوت دین کی معنویت اور بڑھ جاتی ہے اس لیے کہ تکنیکی ترقیات نے اس دور میں روابط کے اتنے ذرائع پیدا کردیے ہیں کہ ایک داعی بہت مختصر عرصے میں اپنے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک بہ آسانی پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے داعیان دین کو دعوت کے ان نئے ذرائع کے استعمال سے بھی واقفیت ہونی چاہیے اور ٹیوٹر، واٹش اپ، فیس بک، یو ٹیوب وغیرہ جیسے جدید سوشل ذرائع کا ان کے منفی اثرات سے اجتناب کرتے ہوئے دعوت دین کے مقصد کے لیے بہ حسن و خوبی استعمال کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ ان ذرائع کا استعمال کر کے وہ کوئی اہم پیغام، کسی خاص موضوع سے متعلق ویڈیو کلپ اور معترضین کے اعتراضات کا مثبت جواب دوسروں تک منتقل کرسکتا ہے۔ چوں کہ انسان ان کے استعمال کے وقت عموماً تنہا ہوتا ہے ا سلیے اگر دلائل و براہین اور ان کے ذہن و دماغ کو اپیل کرنے والا کوئی موثر پیغام ان ذرائع سے منتقل کیا جائے تو زیادہ موثر ہوگا۔

خلاصہ بحث یہ کہ قرآن کریم نے حضرت نوحؑ سے لے کر نبی خاتم حضرت محمدﷺ تک مختلف انبیاء کے اسلوب دعوت اور ان میں تنوع کو پیش کر کے قیامت تک آنے والے انسانوں کے سامنے دعوت کے مختلف اسلوب واضح کر دیے ہیں۔ حالات اور زمانے کے لحاظ سے انہی نہج اور اسلوب پر عمل پیرا ہوکر اگر دعوتِ دین کا کام بہ حسن و خوبی انجام دیا جائے تو اس کے مفید اور مثبت نتائج ضرور برآمد ہوں گے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
حسیب اللہ اصلاحی

تبصرہ کیجیے