ایک شمع جلانی ہے! (تیسری قسط)

وہ تو اب اپنی فِیری ٹیل کا حصہ تھی اورحصہ کیا تھی وہی تو سب سے جگمگاتاکردار تھی اپنی فیری ٹیل میں جس میں وہ ’سنو وائٹ‘ کی طرح گھیر دار، پھولا پھولا فراک پہنے‘ فراک کا ایک کونہ پکڑے انوکھی دھنوں پر گھومتی رہتی، اور اب اس کے اس world of fantacy میں ایک پرنس چارمنگ اور کئی جگمگاتے کرداروں کی انٹری ہونی تھی پھر وہ یوں لہراتی مسکراتی کیوں نہ پھرتی۔

٭٭

یہ غم و فکر سے ڈھلکے ہوئے ویراں چہرے

جیسے اجڑی ہوئی قبروں کے نشاں اے ساقی

حی علی الفلاح! حی علی الفلاح!

فجر کی اذان کی آواز فضائوں میں تھر تھرانے لگی تو وہ چونک کر حال میں واپس آگئی۔ سارے ست رنگی بلبلے غائب ہوگئے تھے… غافرہ نے غائب دماغی سے موبائل اٹھا کر ٹیبل پر رکھا اور وضو کرنے کے لیے چل دی۔ رات اپنے خاموش‘ اسرار‘ سمیٹے گزر گئی تھی۔ ایک اور دن اپنی حشر سامانیوں کے ساتھ آکھڑا ہوا تھا نماز پڑھ کر اُس نے چائے کا پانی چولہے پر رکھا۔ امّی نماز پڑھ کر لیٹ گئی تھیں جب کہ ابّا نمازِ فجر کے بعد مسجد میں ہی رُک کر کوئی وظیفہ پڑھنے لگے تھے وہ آج کل۔ چائے کا گرما گرم کپ لیے وہ سیڑھیوںپر آبیٹھی۔ صبح کی لالی دھیرے دھیرے پھیل رہی تھی اور رات کے اندھیرے دم توڑ چکے تھے۔چائے کے کپ سے گرم گرم بھاپ نکل رہی تھی۔ وہ اِسی بھاپ پر نظریں جما گئی۔ دھیرے دھیرے سب منظر غائب ہوتے گئے۔ یادوں کے دھندلکے نظر آنے لگے‘ سوچیں وہیں پر رُک گئیں جہاں سے خیالات کا سلسلہ ٹوٹا تھا۔ہلکی سی زردی لیے ماضی کے منظروں میں وہ دوبارہ گم ہوگئی۔

٭٭

صدیاں ہوئیں کہ آئی تھی گلشن میں فصلِ گُل

لیکن دلوں سے اسکا تصور گیا نہیں!

شادی ہوگئی اور جیسے جیسے دن گزرتے گئے غافرہ کے خوابوں کا محل ریت سے بنی دیوار کی طرح ڈھنے لگا۔ مسئلہ ابتسام اور اس کے گھر والوں کا نہ تھا۔ابتسام نارمل اِنسانوں کی طرح ہی زیادہ مناسب لفظوں میںکہا جائے تو نارمل شوہر تھا۔ خیال بھی رکھتا،احساس کرتا، محبت بھی کرتا لیکن غصہ، ڈانٹ، ناراضگی بھی ساتھ ساتھ چلتی رہتی، مسئلہ تو سارا غافرہ کے دماغ کا تھا جہاں پاکستانی ڈرامے اورسطحی ناول پڑھ پڑھ کر عشق و محبت کا عجیب و غریب معیار بنا ہوا تھا۔ مگر پھر بھی وہ اِس ماحول میں خود کو دھیرے دھیرے ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔

وہ اپنے فیری ٹیل‘ اپنی World of Fantacy میں کئی جگمگاتے کرداروں کی انٹری کو لے کر بہت پُر جوش تھی۔ اُس کے world of fantacy (تخیلاتی جہاں) میں اتنے نئے کرداروں کی انٹری ہوئی کہ اُس نے اپنی اصطلاح میں سے fantacy نکال دیا اور صرف World رہنے دیا۔بہت مشکل لگ رہا تھا اُسے fantacy سے reality میں آنا۔ غافرہ کی اب سمجھ میں آنے لگا تھا کہ کہانیوں، ناولوں اور فلموں کو حقیقت میںنہیں بدلا جاسکتا۔

’’شادی ایک فیری ٹیل ہی ہے جس میں شادی کے بعد فیری تو نکل جاتی ہے اور صرف ٹیل بچ جاتی ہے۔ tale کہانی والی نہیں دُم والی، جسے اب ہر کسی کے آگے ہلاتے پھرو ‘‘ شادی کے چند ماہ بعد ہی اُس کے اِس جملے پر سویرا کو پانی پیتے پیتے اچھوکا لگ گیاوہ پیٹ پکڑ کر بیٹھ گئی۔

’’غافرہ آپی آپ بھی ناحد کرتی ہیں۔‘‘ سویرا نے بہ مشکل اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا ۔

’’سچ کہہ رہی ہو شادی سے پہلے کی زندگی کتنی مزے دار ہوتی ہے نا!‘‘ غافرہ نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا تبھی فائقہ بیگم کمرہ میں چل آئیں۔

’’کیا باتیں ہورہی ہیں بہنوں میں۔ ‘‘ انہوں نے خوشگوار موڈ میںاپنی بیٹیوں کو مخاطب کیا تو سویرا ہنس ہنس کر غافرہ کی کہی بات دہرانے لگی۔

’’کیوں؟ ایسا کیا کرنا ہوتا ہے تمہیں۔‘‘ فائقہ بیگم نے تیکھے لہجے میں پوچھا ۔

’’کچھ نہیں بس سب کی جی حضوری کرنی ہوتی ہے۔ ابتسام نے پہلے ہی سمجھا دیا تھا کہ اُن کے امّی، ابا، بھائی، بھابی اور بہنوں کا خیال رکھا کروں، جو وہ کہیں سنا کروں۔‘‘ غافرہ نے دُکھی دل سے سنایا۔ اسکا دل اِسی بات پر دُکھتا رہتا کہ ابتسام کو اس کا چھوڑ کر باقی سب کا خیال ہے کیا وہ اپنے گھر والوں کو کبھی یہ سمجھاتا ہے کہ وہ سب بھی اس کا خیال رکھیں مگر نا ! بیوی تو مفت کی ملی ہوتی ہے نا!

’’ہیں۔ تم کیوں سنو جو وہ لوگ کہے، صاف صاف منع کردیتیں ابتسام کو۔ ‘‘ فائقہ بیگم کے تو سر سے لگی تلوے پر بجھی تھی۔

’’ہاں ! اتنا آسان ہوتا ہے نا منع کردینا۔ وہ بھی صاف صاف ۔ ‘‘ غافرہ نے مُنہ بناتے ہوئے کہا۔

’’ہمارے ساس‘ سسر کو پرہیزی کھانا بنا کر دینا ہوتا ہے‘ ابتسام ہر دو دن بعد کسی کھانے کی فرمائش کرتے ہیں‘ بڑی اور چھوٹی نند کا تو پوچھئے مت۔ ہر ہفتہ دونوں الگ الگ دن چکر لگاتی ہیں وہ کام الگ بڑھ جاتا ہے۔‘‘ غافرہ کو تو آج موقع مِلا تھا اپنے دُکھی دل کا حال سُنانے کاکب تک دل میں رکھتی!

’’تم کوئی نوکرانی تو نہیں جو سارا دن کچن میں گھسی رہو۔ جبھی تو میں سوچ رہی تھی میری بچّی کیسی کمھلائی کمھلائی سی لگ رہی ہے اور وہ تمہاری بھابھی کیا کرتی رہتی ہے سارا دن ؟ فائقہ بیگم تو دُکھ سے بیٹھ گئیں۔

’’پتہ نہیں! بس ہماری ساس، سسر کا پرہیزی کھانا بناکر وہ سمجھتی ہے کہ دنیا فتح ہوگئی اور ابتسام کو یہ نظر نہیں آتا کہ میں اُنکے لیے کتنی محنت سے کھانا بناتی ہوں‘ باقی سب کے لیے بھی کھانا بناتی ہوں انھیں تو بس یہ نظر آتا ہے کہ بھابھی کیسے اُن کے ماں باپ کی دیکھ بھال کررہی ہے۔ خیال رکھ رہی ہے۔ ‘‘ غافرہ کی آنکھوں میں تو نمی اُتر آئی تھی جسے دیکھ کر فائقہ بیگم تڑپ گئیں۔

’’آنے دو آج ابتسام کو۔ پوچھتی ہوں میں اُس سے۔ اتنی چائو سے ہماری بیٹی کو اِسی لیے بیاہ کر لے گئے تھے کیا کہ گھر میں ایک نوکرانی کی کمی تھی ۔ میری معصوم بچی کچھ کہتی نہیں تو اس کا کیا مطلب‘‘ وہ اب جلال میں آچکی تھیں۔

’’ارے نہیں نہیں امّی!اُن سے کچھ مت کہنا۔ خوامخواہ غصہ ہوجائے گے وہ۔ ناراض بھی ہوجائے گا۔‘‘ غافرہ تو بو کھلاگئی تھیں ۔

’’چپ کر۔ اتنا ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ سب تیری وجہ سے ہی بات بڑھ رہی ہے۔ پہلے ہی کہہ دیتی کہ مجھ سے یہ سب نہیں ہوتا‘ میں نہیں کرنے والی، تو بات ہی یہاں تک نہیں آتی۔ کیا کرلیتا وہ ہاں!‘‘ فائقہ بیگم نے اُسے گھڑ کا تو وہ خاموش رہ گئی۔

’’پھر بھی امّی آپ ابتسام سے کچھ نہ کہیں۔‘‘ غافرہ نے ایک بار پھر منت کی تو فائقہ بیگم کو خوب تائو آیا مگر بیٹی کا چہرہ دیکھ کر خاموش رہ گئیں۔

’’ہاں ٹھیک ہے۔ مگر تم ذرا اپنے اطوار بدلو۔کوئی ضرورت نہیں خود کو یوں رُول کر رکھ دینے کی۔ مرد کے سامنے جیسی بنی رہوگی وہ تمھیں ویسا ہی ڈیل کرے گا۔ تو اُس سے ڈر کر رہنا، دب کر رہنا چھوڑو ذرا اکڑ دِکھائو۔ ‘‘ فائقہ بیگم نے اپنی تئیں بڑی زرخیز نصیحت کی غافرہ کو۔ کبھی کبھی مائیں محبتوں میں کیسی کیسی مصیبتیں اولاد کے نام کردیتی ہیں۔

’’ہوں۔ ‘‘ غافرہ نے ماں کی بات غور سے سنی۔ ’یہ تو امّی سچ کہہ رہی ہیں۔ کیا ضرورت ہے ہر بات میں ’یس باس‘ کرنے کی۔کبھی نخرہ بھی دکھانا چاہیے۔‘‘ فائقہ بیگم نے اُس پر نئے دروا کردیے تھے۔

اور یہ تو ابتدا تھی، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا۔

٭٭

نہ جانے ہم کہاں گُم ہوچکے ہیں

جو ممکن ہو تو ہم کو ڈھونڈ لائو

’’ابتسام مجھے امّی کی طرف جانا ہے۔ ‘‘ ابتسام کو آفس سے آکر ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کی غافرہ نے چائے کے ساتھ فرمائش بھی پیش کر دی۔

’’کیوں بھئی ۔ آج کل اپنی امی کی طرف زیادہ چکر نہیں لگ رہے تمہارے۔‘‘ ابتسام نے یونہی خوشگوار موڈ میں اُسے چھیڑنے کی غرض سے کہا۔

’’ ہاں ہاں۔ امّی کے گھر آئے دن چکر لگانے کا حق تو صرف آپ کی بہنوں کے پاس ہے نا۔ ‘‘ اُس نے تلخ لہجے میں کہا تو ابتسام حیران رہ گیا مگر اپنی حیرانی چھپاتے ہوئے اُس نے اُس کی بات کو مذاق میں ہی ٹال دیا۔

’’ خیر سے حق تو تمہارے پاس بھی ہے۔ مگر ابھی تو آفس سے تھکا آیا ہوں۔

کچھ دیر بعد لے چلوں گا۔ اپنے حق کا غلط استعمال تو نہ کرو،بیچارہ شوہر …‘‘ ابتسام کی بات ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ فضاء باجی کمرہ میں چلی آئیں جو کہ غافرہ کی بڑی نند تھیں…. ابتسام کی بڑی بہن۔

’’ابتسام ذرا چائے پی کر مجھے گھر چھوڑ آنا….‘‘ انہوں نے آتے ہی حکم صادر کیا تو غافرہ کا چہرہ دیکھنے لائق ہوگیا۔

’’کیوں فضاء باجی! طاہر بھائی [فضاء کے شوہر] آجائیں گے نا شام میں تب کھانا کھا کر چلی جانا۔ غافرہ چکن بریانی بہت اچھی بناتی ہے وہ بنالے گی۔ ‘‘ بہن کے لاڈلے کو محبت سے بولتا دیکھ کر غافرہ دل و جان سے جل گئی۔’انھیں پتا بھی ہے کہ مجھے ابھی امّی کے پاس جانا ہے، مگر نہیں بیوی کا خیال کبھی نہیں آتا انھیںاور یہی کیا کم تھا کہ کام بھی لگا دیا پیچھے‘‘ وہ جلے بھُنے انداز میں سوچے جارہی تھی۔

’’نہیں بیٹا! طاہر کو کام ہے ذرا۔ اور بچوں کو ہوم ورک بھی کرانا ہے۔ ایک دو دن بعد آئوںگی تو پھر آرام سے رہوںگی، بچوں کو بھی چھٹی رہے گی تب۔ابھی تو تم فٹا فٹ مجھے گھر چھوڑ آئو میں نیچے ذرا امی سے مل لوں۔ ‘‘ فضاء نے ایک ساتھ ساری بات کرلی اور چلی گئی جب کہ ابتسام جلدی جلدی اپنی چائے ختم کرنے لگا۔

’’ابتسام! پہلے مجھے امّی کے پاس چھوڑ دیں۔ ‘‘ اُس نے ضد کی۔

’’غافرہ! فضاء باجی تمہارے سامنے آکر گئی ہے۔ میں پہلے انھیں ڈراپ کرکے آتا ہوں اور یار کل چلی جانا اپنی امّی کے پاس آج رہنے دو۔‘‘

ابتسام نے گاڑی کی چابی اٹھا کر مصروف انداز میں کہا اور کمرہ سے نکل گیا جب کہ پیچھے غافرہ تلملاتی ہوئی، نم آنکھیں لیے کھڑی رہی۔

کچھ دیر بعد ہی موبائیل بجنے لگا تو اُس نے بیزاریت سے ہاتھ سے چوڑیاں اتارتے ہوئے موبائل پر نظر دوڑائی…‘‘

’’امی کالنگ‘‘…ماں کا فون دیکھتے ہی دل بھر آنے لگا۔

’’السلام علیکم امی… ‘‘

’’وعلیکم السلام …. جیتی رہو، سدا خوش رہو، کب تک آئو گی؟ سویرا کب سے انتظار کررہی ہے۔ ‘‘

’’جی میں نہیں آسکوں گی آج۔ ‘‘ اُس نے آنسوئوں کے گولے کو خود میں اُتارتے ہوئے کہا۔

’’ہیں… وہ کیوں؟ ابتسام آفس سے آیا نہیں کیا؟‘‘ فائقہ بیگم نے پوچھا۔

’’نہیں وہ تو آگئے، مگر تھوڑا باہر گئے ہیں ابھی۔‘‘ اُس نے بھیگی بھیگی آواز میں کہا۔

’’ہاں تو جب آجائے تب آجانا۔‘‘ فائقہ بیگم نے مطمئن آواز میں کہا۔

’’نہیں امی نہیں آسکوں گی، کہانا۔ ‘‘ غافرہ چڑ سی گئی۔ پہلے ہی مزاج کچھ ٹھیک نا تھا۔

’’ہوا کیا ہے…؟ کسی نے کچھ کہہ دیا کیا؟… میری بچی کے مُنہ میں زبان نہیں ہے تو لوگوں کو تو موقع مل ہی جاتا ہے۔ ‘‘ فائقہ بیگم نے ہمیشہ کی طرح جذباتی بات کی تو غافرہ کا ضبط ]جو کہ آج کل بلکل تھوڑا سا ہوگیا تھا[ جواب دے گیا اور آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔ نم نم آواز میں وہ ساری بات بتانے لگی ۔

’’بہن کو چھوڑنے کے لیے تھکن یاد نہیں آئی‘ سارے نخرے بس بیوی کو دِکھانے کے لیے ہوتے ہیں… کچھ نہیں مجھے تو لگتا ہے تمہاری ساس نے پٹی پڑھائی ہوگی کچھ نا کچھ… اب کیا میری بچّی کا اُسکی ماں کے گھر آنا جانا بھی بند کرادیں گے…‘‘ فائقہ بیگم بیک وقت غصہ اور غم کی تصویر بن گئیں۔

’’نہیں امی … ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ وہ ابھی آئیں گے نا تو آتی ہوں میں‘‘ غافرہ نے آنسوئوں کو روکتے ہوئے عجب لہجے میں کہا… آں… نہیں عجب لہجہ نہیں ہٹ دھرم لہجہ… !

’’اور نہیں تو کیا… اُسے تمہارا خیال نہیں تو تم کیوں اسکا خیال کرتی ہو… یوں چپ رہا کروگی نا تو کچھ نہیں ہونے والا …تمہیں خود اسٹینڈ لینا پڑے گا۔‘‘ فائقہ بیگم اُسے سکھانے لگیں…. کوئی سمجھدار خاتون سُن لے تو سر پیٹ لے اور کوئی کہے کہ وہ تو اپنی بیٹی کو پٹیاں پڑھا رہی ہے مگر فائقہ بیگم سے کوئی پوچھتا تو وہ بتاتی کہ وہ اپنی بیٹی کو زندگی آسانی کے ساتھ‘ خوشی سے گزارنے کے گُر سکھا رہی تھی…فرق سوچ کا ہوتا ہے …کوئی مثبت سوچتا ہے کوئی منفی… مگر آج کل نئے انداز ہیں زمانہ کے …مثبت انداز میں لوگ منفی سوچنے لگے ہیں…!!

فائقہ بیگم نے شادی کے بعد کا ایک طویل عرصہ اپنی ساس کے زیرِ نگرانی کاٹا تھا… شوہر ماں کے لاڈلے اور فرماں بردار بیٹے تھے تو فائقہ بیگم ایک عرصے تک Side character کے طور پر زندگی گزارتی رہیں جب کبھی اپنی ماں سے شکایت کی تو انھوں نے صاف کہہ دیا کہ اِس گھر سے ڈولی اُٹھی اُس گھر سے ڈولا اٹھنا چاہیے۔اب جیسا بھی ہے گزارا کرو … اور یوں فائقہ بیگم نے وہ وقت کسی طرح کاٹ لیا بعد میں زندگی آسان تو ہوگئی لیکن انھیں وہ دور بھولتا نہیں تھا…مگر اب بقول انکے ’’وہ زمانہ اور تھا … نئے دور میں لڑکیوں کو دب کر رہنا نہیں سکھانا چاہیے …زمانہ بدل گیا ہے … یہ ڈولی، ڈولا بات انھوں نے کبھی اپنے بچوں کو نہ سکھائی … عجیب کہاوت تھیinspire کرنے کے بجائے ڈرا دینے والی کہ سسرال جاکر وہ حشر ہونا ہے کہ اب ڈولا ہی اٹھنا ہے …‘‘

خیر تو وہ اب وہ سب کچھ اپنی بیٹی کو سکھا رہی تھیں جو وہ خود کرنا چاہتی تھیں مگر وہ زمانہ اور تھا نا!!

دراصل عورت اپنی اولاد کو اپنا ایک powerful weapon [طاقت ور ہتھیار]سمجھتی ہے … نہایت مضبوط اور موثر ہتھیار … اکثر خواتین انھیں خود کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ازالے کے لیے استعمال کرکے انھیں اپنا عکس بنانا چاہتی ہیں…

جیسے اگر کسی عورت نے سسرال میں suffer کیا ہے تو وہ اپنی بیٹی کو سسرال allergic بناکر اُسے یہ سِکھاتی ہے کہ شوہر کی غلام بن کر نہ رہا جائے … شوہر سے کس طرح behave کرے …شوہر کے گھر والوں کی خدمت اس کا شعبہ نہیں … کسی طرح دبنے کی نہیں بلکہ ڈٹنے کی ضرورت ہوتی ہے …

یہ ایک نفسیاتی گرہ ہے۔ آپ مانیں یا نہ مانیں … اس طرح کرکے وہ سمجھتی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو کامیاب بنارہی ہے اور کامیاب زندگی کے گُر سکھا رہی ہے … جب کہ یہ ایک سنگین ترین غلطی ہوتی ہے جس کا احساس انھیں نہیں ہوپاتا …اور جس کا احساس ابھی فائقہ بیگم کو بھی نہیں تھا کہ وہ کتنی محبت سے اپنی بیٹی کے دل میں نفرت کا زہر ڈال رہی ہے۔ مگر وہ بھول گئی کہ ’’نہیں بنائے اللہ نے کسی انسان کے سینے میں دو دل‘‘ تو اگر یہ ایک دل زہر آلودہ ہوگیا تو دل میں موجود ساری محبتیں زہر آلود ہو جائیں گی اور وہ بھی اپنی بیٹی کو کھو دے گی…lll (جاری)

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم امتیاز احمد

Leave a Reply