تہی دامن

جب اسے ہوش آیا تو سر بری طرح چکرا رہا تھا۔آنکھوں کے آگے دھند سی چھا ئی ہوئی تھی اوراتنی کمزوری محسوس ہو رہی تھی کہ ہاتھ پیر ہلانا بھی دشوار لگ رہا تھا۔

نرس نے بتایا کہ اس کے بدن سے بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے کمزوری ہو گئی ہے۔طبیعت بہ حال ہونے کے بعد اس کے دماغ پر چھائی ہوئی دھند چھٹنے لگی ،تصور میں وہ منظر آیا۔۔۔۔۔۔ پچھلی رات حالتِ مے نوشی میں شوہر نے اسے بری طرح زدوکوب کیا تھاجس کے نتیجے میں وہ اس وقت ادھ مری حالت میںاسپتال کے بستر پرپڑی ہوئی تھی۔یہ کوئی نیا وقوعہ نہیں تھا۔ آئے دن وہ اسے اکثر مارتا پیٹتا تھا۔ تشدد کی شدت اس کی ناکامی اور غصے پر منحصر ہوتی۔

سوچتے سوچتے شہباز کا خیال آگیا تووہ یکبارگی دہل گئی۔۔۔۔۔۔۔شہباز اپنی سالگرہ منانے گھر آیا تھااور سب کے لئے کھانالانے ہوٹل گیا ہواتھا۔وہ اب تک واپس کیوں نہیں آیا !جب اسے پتا چلے گاتو۔۔۔۔۔۔ایک کپکپی سی اس کے وجود پر طاری ہو گئی۔اچانک نرس نے آکراطلاع دی کہ کچھ لوگ اس سے ملنا چاہتے ہیں ۔

شہبازاپنے دونوں ہاتھ جوڑکراس کے آگے دو زانو ہوگیا۔اس کے چہرے پر پچھتاوے کا نام و نشان تک نہیں تھا لیکن ماں کو دیکھتے ہی اس کے چہرے پررنج اوربے بسی کے جذبات ابھر آئے۔ اف یہ منظر ۔۔۔۔۔کیاوہ اسی دن کے لئے اب تک زندہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا جواں سال بیٹا شہباز ہاتھوں میںلوہے کی موٹی ہتھکڑیاں پہنے ہوئے تھا۔اسے لگا جیسے اس کے قدموں کے نیچے سے کسی نے زمین کھینچ لی ہے اور وہ ہوا میں معلق ہے۔

پچھلے کئی برسوں سے وہ اسی حادثے کے خدشے میں جی رہی تھی۔بساط بھر کوشش کرنے کے باوجود آخرکار وہی ہوا جس کا ڈرتھا۔اس کے اکلوتے بیٹے شہباز نے عالمِ طیش میں اپنے باپ پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ ابھی ابھی پولیس کے سپاہی اسے شناخت کروانے کے لئے اسپتال لائے تھے۔آج وہ پورے اٹھارہ برس کا ہو چکا تھا، عدالت کی نظروں میں بالغ اور سخت سزا کا مستحق۔

اس کے ذہن پر غنودگی چھانے لگی۔یادوں کے دریچے وا ہوتے گئے۔۔۔۔۔۔ شادی کی پہلی رات ہی اس کے نصیب پر کالک پت گئی تھی۔ نشے میں دھت اس کا شوہر کمرے کے اندر آیا ،آتے ہی پلنگ پر ڈھیر ہو گیا تھا۔ شراب کی بدبو کا بھبکا نتھنوں سے ٹکرایا تووہ اپنے چہرے سے آنچل ہٹا کر حیرت سے آنکھیں پھاڑکراسے دیکھنے لگی ۔اچانک وہ بلند آواز میں بولاتھا۔

’’میرے جوتے اتارو۔‘‘اس نے چونک کر ہڑ بڑاتے ہوئے فرش پر بیٹھ کر اس کے جوتے اتارے تھے اوروہیں بیٹھے بیٹھے اپنی بدنصیبی پر آنسو بہاتی رہ گئی ۔ چشمِ زدن میںاس کے سنہری خواب ٹوٹ کر چکنا چور ہو گئے تھے،دماغ ماؤف ہو گیا اورکچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھی تھی۔ پتانہیں کب اس کی آنکھ لگ لگ گئی ۔صبح نیند سے جاگی تو دیکھا اس کا شوہر بستر سے غائب ہے ۔ فوراََاٹھ کر کمرے سے باہر آگئی اور متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا لیکن وہ پورے گھر میں کہیں بھی دکھائی نہیںدیا۔شاید کام پر چلا گیا تھا۔ ساس کوباورچی خانے میں مصروف پاکران کا ہاتھ بٹانے کے لئے جلدی سے آگے بڑھی۔ انہوں نے نیچے سے لے کر اوپر تک اس کا جائزہ لیا پھر بولیں ۔

’’ رہنے دو بہو،یہاںتمھارا پہلا دن ہے اور ابھی توتمہارے ہاتھوں کی مہندی بھی نہیں چھوٹی ! ویسے آگے چل کر سب کچھ تمہیں ہی سنبھالنا ہے۔‘‘

اس کا ناشتہ وہ کمرے میں ہی لے آئی تھیں۔ فائزہ ناشتے کے لئے بیٹھی تو بے اختیار کل رات کی یاد آگئی اور بدن پر رونگٹے کھڑے ہوگئے ۔بے اختیارمیکے کی یاد آگئی اور آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ساس اس کی حرکات و سکنات کا بغورمطالعہ کر رہی تھیں، پشیماں لہجے میں بول اٹھیں۔

’’لگتا ہے کہ میرے بیٹے کے کل رات والے سلوک کی وجہ سے غمگین ہو۔ اب کیا بتاؤں!پتا نہیںکس طرح اسے نوجوانی میں ہی نشے کی لت لگ گئی ۔ جان توڑ کوشش کے باوجود میںاس سے وہ لت چھڑوا نہ سکی۔ اسے میری خود غرضی ہی سمجھ لوکہ اس رازکو تم لوگوں سے مخفی رکھا۔در اصل میرا خیال ہے کہ جو مجھ سے نہ ہو سکا وہ ایک تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے مزاج کی لڑکی بخوبی کر دکھائے گی ۔۔۔۔۔۔۔ایک شرابی اور آوارہ انسان کو بہ حسنِ تدبر راہِ راست پر لے آئے گی۔‘‘ پھر اس کا ہاتھ پکڑ کرگزارش کرنے لگیں۔

’’خدارا! مجھے مایوس نہ کرنا بیٹی، اس گھر کی عزت کو سرِ عام نیلام نہ ہونے دینا۔‘‘

وہ اپنے معصوم خوابوں کی لاش پر کھڑی حیرت بھری نگاہوں سے ان کا چہرہ تکتی رہ گئی۔ پتہ نہیں وہ کونسی عزت وخاندانی وقار کی بات کر رہی تھیں۔ ان کے بیٹے نے سب کچھ تو داؤ پر لگا دیا تھا۔ صرف ایک رات میں اس نے صدیوں کا سفر طے کرلیااور ذہن میں خزاں کی سی ویرانی در آئی تھی ۔۔۔۔۔شب و روز گزرتے رہے لیکن اس کے شوہر کے چال چلن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ وہ چپ چاپ زہر کے گھونٹ پیتی رہی،کس سے شکایت کرتی ،کس کے آگے اپنا دکھڑا روتی۔ باپ کوکبھی دیکھا نہیں تھا،ماں ہی اس کا واحد سہارا تھی۔ جب اسے اصلی صورتِ حال کا پتہ چلا تو اس قدر غمزدہ ہوئی کہ کھٹیا پکڑ لی۔پھر اسی فکر میں جنت سدھار گئی۔

بہ دقت تمام فائزہ نے ہمت مجتمع کی اوراپنی بکھری ہوئی کائنات کو معمول پر لانے کے سبھی جتن کرڈالے لیکن ایک بھی کارگر ثابت نہ ہو سکا۔وہ ہر روز نشے میں دھت گھر آتا اور کھانا کھا کر سو جاتا۔اسے سوائے نشے کے کچھ سوجھتا ہی نہیں تھا۔چھٹی والے دن جب اپنے حواس میں ہوتا تو وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑ کرآنے والے مہمان کا واسطہ دیتے ہوئے منت و سماجت کرتی۔پہلے پہل تو وہ اس کی باتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتا رہا پھر اس سے الجھنے لگا۔ذرا ذرا سی بات پر بھڑک اٹھتا ۔حتیٰ کہ وہ اپنے لب سی لینے پر مجبور ہوگئی۔ شاید وہ ڈرتا تھا کہ باتوں باتوں میںوہ اصل موضوع پر نہ آجائے۔

فائزہ کوباورہوگیا کہ بری لت صرف اسی حالت میںچھوٹ سکتی ہے جب آدمی ازخو د ذہنی طور پر اس کے لئے آمادہ ہو۔ وہ چاہتی تھی کہ ماں اسے ڈانٹے، کھانے کھلا نے سے پہلے کچھ نصیحت کرے لیکن وہ اس کے غصے سے بہت خائف تھیں۔ اس کے گھر آتے ہی بغیر کچھ بولے کھانے کی تھالی آگے کر دیتی تھی۔ کچھ مہینوںبعد شہباز ان کی زندگی میں آگیا۔ ا خراجات بڑھ گئے لیکن اس کے شوہر کی وہی چال بے ڈھنگی رہی۔ وہ کسی کارخانے میں کام پر جاتا تھا۔ماں کے اصرار پر گھر خرچ کے لئے پیسے دے دیتا پرمہینے کی آخری تاریخوں میں اسے دگنی رقم واپس لوٹانی پڑتی۔ اسی نوعیت کی پریشانیوں کا سامنا کرتے انجام کاروہ بھی راہی ملکِ عدم ہوگئیں۔

جب تلک ساس زندہ رہیں ان کے ماہانہ وظیفے سے گھر کے اخراجات پورے ہو تے رہے۔ساس کے گزر جانے کے بعداپنے شوہر کے ذریعے عطا کردہ قلیل سی رقم میں بھلا گھر خرچ کیسے پورا ہوتا۔مجبوراََ اسی کام پرواپس جانا پڑا جہاں شادی سے پہلے تھی۔ملازمت بحال ہوتے ہی بیٹے کے محفوظ مستقبل اور اس کی تعلیم و تربیت کے مقصد سے اول دن سے ہی تنخواہ میں بچت کرنے لگی ۔انتہائی نامساعد حالات میں بھی پس انداز کی ہوئی رقم کو ہاتھ نہیں لگاتی تھی۔ بیٹے کو تعلیم یافتہ اور ایک ذمہ دار شہری بنانا اپنا نصب العین بنا لیا ۔اسے ہمیشہ ذہن نشیں کرواتی رہی تھی کہ تعلیم کے ذریعے ہی آدمی انسان بنتا ہے۔

بیوی کے ملازمت پر تعینات ہوتے ہی اس کی طبیعت میں حسدو رقابت کا جذبہ در آیا تھاجس کے نتیجے میںوہ اکثر اس پر ہاتھ اٹھانے لگا۔ ننھا شہباز شور سن کر گھبرا جاتا اورچلا کر رونے لگتا تو اسے لال لال آنکھیں دکھا کر دھمکاتا۔ فائزہ بچے کو سینے سے چمٹائے باہر چلی جاتی اور چاند تارے دکھاکر بہلانے کی کوشش کرتی لیکن وہ رہ رہ کر منہ بسور نے لگتا۔ صدمے کی حالت میں ہچکیاں لیتے لیتے نیند کی آغوش میں چلا جاتا۔ ایک پرسکون ازدواجی زندگی کا تصور فائزہ کے لئے سراب بن کر رہ گیا تھا۔

شہبازاب تین برس کا ہوچکا تھا۔باپ کے ہاتھوں ماں کو پٹتے ہوئے دیکھ کر رونے چلا نے کے بجائے ایک کونے میں دبکا ہوا سہمی آنکھوں سے ٹکر ٹکر دیکھتا رہتا کیوںکہ اسے پتا تھاکہ رونے پر اسے بھی مار پڑے گی۔ اندھا دھند پیٹنے کے بعد وہ تھک کر وہیں لڑھک جاتا۔ پھر شہباز دھیرے سے اٹھ کر ماں کے پاس آجاتا۔اس کی آنکھوں میں خوف، درد اور ہمدردی کا ایک سمندر ٹھاں ٹھیں مارتا ہوا نظر آتا۔ وہ بے اختیار اسے بھینچ لیتی اورجلدی سے اپنے پلو سے آنسو خشک کرتی ہوئی زبردستی مسکرانے کی کوشش کرتی۔وہ اس سے نظریں ملائے بغیر اس کے دامن میں منہ چھپا لیتا۔ بیٹے کے ستے ہوئے چہرے،خوف کے مارے پپڑی جمے ہوئے ہونٹوں کو دیکھ کر اس کے دل پر جیسے آری چل جاتی اور بچے کی پریشانی کے آگے اپنے زخم سہلا نا بھول جاتی۔ رفتہ رفتہ اس کی ساری امیدیںمعدوم ہو گئیں۔ایسا محسوس ہونے لگا جیسے صدیوں سے اسی حالت میں جی رہی ہو۔ شوہر نے انتہائی بے رحمی کے ساتھ ایک ایک کر کے اس کے معصوم خوابوں کومے کی پیالی میں گھول کر زائل کر دیا تھا۔

اگرچہ خوش آئند خواب وہ اب بھی دیکھتی تھی لیکن ان کا محور بدل گیا تھا۔اس کے تصور کا مرکزاس کا بیٹا شہبازہوا کرتا تھا۔ یقیناََ اس میں گھریلو حالات کا ہی دخل تھا کہ وہ آٹھ برس کی عمرمیں ہی انتہائی سنجیدہ اور حساس طبیعت ہو گیاتھا۔اس دن جب شوہرنے اس پر ہاتھ اٹھایا توشہباز نے آگے بڑھ کراس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اپنا ہاتھ چھڑوا لینے کی کوشش میں وہ دھم سے کھٹیا پر گر پڑا،پھر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر خراٹے بھرنے لگا۔ وہ تو اچھا ہوا کہ نشہ گہرا ہونے کی وجہ سے اس نے محسوس نہیں کیا ورنہ بیٹے کاجانے کیا حشر کر دیتا۔اس واقعے کے بعد فائزہ اس قدربوکھلا گئی کہ پھر اس نے زمین وآسمان ایک کرکے کسی طرح اس کا داخلہ ایک رہائشی سکول میں کروا دیاتاکہ وہ اس گھر کے پراگندہ ماحول سے دور رہے۔ جاتے وقت وہ بہت رویا تھا۔ ماں کے قسمیں کھا کریقین دلانے پر کہ اس کی شراب کی لت چھڑوانے کے لئے اس نے ڈاکٹر سے بات کرلی ہے تب کہیںجا نے پرراضی ہوا۔

شہباز چھٹیوں کے دوران جب بھی گھرآتا تو دیکھتاکہ ماں کے ماتھے کی جھریاں اور گہری ہو گئی ہیں،وہ مزید کمزور اور عمر رسیدہ لگتی ہے ۔ اس بارماں کی مدافعت میں وہ خلافِ توقع ان دونوں کے درمیان آگیا تھا۔ اس کا باپ کچھ ثانیوں کے لئے ٹھٹک کر رہ گیا پھر سارا الزام بیوی پر تھوپتے ہوئے اس کے منہ سے مغلظات کا طوفان ابل پڑا تھا۔ اس کی دانست میں یہ پٹی اسی کی پڑھائی ہوئی تھی ۔ ویسے ایک فائدہ ضرور ہوا کہ بیٹے کی موجودگی میں اس نے بیوی پر ہاتھ اٹھانا چھوڑ دیاکیونکہ بیٹاقد کاٹھی میں اس سے کہیں آگے نکل گیا تھا۔ جب تک وہ گھر پر رہتا سکون چھایا رہتا۔ اس کے چلے جانے کے بعد پھر وہی ماحول لوٹ آتا۔

شہباز کے امتحانات سر پر تھے۔ کلاسیں معطل کردی گئی تھیں اور وہیں اقامت گاہ میں رہ کرامتحان کے لئے تیاری کرنے کے احکام دئے گئے تھے۔ وہ کتاب کھولتا تو ماں کا ترحم آمیز چہرہ نگاہوں کے آگے آجاتااوراس کے انہماک کا شیرازہ بکھر جاتا ۔علاوہ ازیں کل اس کی سالگرہ تھی۔بھلا ماں سے مل کر دعاؤں کی سوغات حاصل کئے بنا کیسے رہ جاتا۔ لہٰذا نگران حاکم سے اجازت حاصل کر کے چپکے سے گھر کی راہ لی ۔ گھر کے دروازے پر تالاپڑا ہوا دیکھ کر اسے حیرت زدہ رہ جانا پڑا۔ معمول کے مطابق اس وقت ماں کو گھر پر ہونا چاہیے تھا۔ دریں اثنا پڑوس کا دروازہ کھلااور ایک عورت باہر نکلی ۔ اسے دیکھتے ہی ٹھٹک کر بولی۔

’’تو کب آیا بیٹا!شایدتجھے پتا نہیں کہ تیری ماں صبح کی گئی رات دس بجے گھر آتی ہے۔‘‘ اس کا قیاس صحیح نکلا، ماں نے پارٹ ٹائم نوکری کر لی تھی۔ اتنے میں ماں آگئی۔

اچانک اسے سامنے پا کروہ بوکھلا گئی ۔ اس کی برہمی کے جواب میں مسکراتی ہوئی بولی۔ ’’میں نے کہا نا! جب توکام پر لگ جائے گا تو سمجھوں گی کہ میرے آرام کے دن آگئے۔ پھر دیکھنا کیسے دیوان پر بیٹھے بیٹھے اپنی بہو پر حکم چلایا کروں گی۔ بہو !میرے لئے چائے بنادے، سر میں درد ہو رہا ہے۔ رہنے دے ، پہلے پیر دبادے۔۔۔۔۔۔

’’اب بس بھی کر ماں ، تجھے جھوٹ بولنا بھی نہیں آتا۔ باتوں باتوں میں منکشف کر دیا کہ تو پیراور سر درد سے پریشان ہے اور اس وقت تجھے آرام کی سخت ضرورت ہے۔ تو اندر جا کرآرام کر ،میں ہوٹل سے کھانا لے آتا ہوں۔‘‘

ماں کھسیانی سی ہنسی ہنسنے لگی اور اس کی پیشانی چوم لی۔پھر وہ کھانا لانے کے لئے باہر نکل گیاتھا۔کچھ وقفے بعدجب وہ کھانے کے پیکٹ لئے گھر کے قریب پہنچا تو اندر سے آتی ہوئی کراہنے کی آواز سن کر ٹھٹک کر رہ گیا، پھر اپنے باپ کی بڑبڑاہٹ سنائی دی۔

’’شاطر عورت! اتنے پیسے کماتی ہے اور کہتی ہے کہ پیسے نہیں ہیں۔ برسوں میں نے تجھے کھانا کپڑا دیا ۔اب مجھ سے کام نہیں ہوتا تو میری مدد کرنے کے بجائے نمک حرامی کرتی ہے ۔میرا گلا سوکھ رہا ہے بولتی کیوں نہیں کہ پیسے کہاں چھپا رکھے ہیں ۔‘‘

شہباز دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو دیکھا ، ماں زمین پر اوندھی پڑی ہوئی ہے اور باپ الماری کھول کر پاگلوں کی طرح اس میں کچھ ڈھونڈ رہا ہے۔ اس نے دوڑ کر ماں کو سیدھا کیاتو دیکھا اس کا چہرہ خون سے تر بتر ہے، ماتھے پر گہری چوٹ لگی ہے ۔ہاتھ پیر بالکل ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ ماں کی یہ حالت دیکھتے ہی غم و غصے کی ایک تند لہر اس کے تن بدن میں دوڑ گئی ۔ وہ بیٹے کی موجودگی سے بے خبر لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ شاید اس کے ہاتھ پیسے لگ گئے تھے۔شہبازکے چہرے پر بیک وقت انتہائی نفرت اور بغاوت کے تاثرات ابھر آئے،وہ غیر ارادی طور پر اٹھ کر کھڑا ہو ا اور ارد گرد نظر دوڑائی ۔ قریب ہی ایک کند چاقو پڑا ہوا دکھائی دیا۔اس نے لپک کر وہ چاقو اٹھا لیا،پھردیوانہ وار آگے بڑھ کرباپ کی پیٹھ پر تابڑ توڑ وار کرنے لگا۔وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا۔ بے بسی، رنج و نفرت کا وہ لاوہ جو بچپن سے اس کے دل و دماغ میں اندر ہی اندر پک رہا تھا آج اپنی پوری قوت سے ابل کر باہر آگیا گویا ایک آتش فشاں کا دہانہ کھل گیا تھا۔

شور سن کر لوگ اکٹھا ہو گئے ۔ پھر پولیس آئی ۔ چاقو سمیت شہباز کو گرفتار کر کے لے گئی۔اس کی ماں کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا اور باپ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے روانہ کر دیا گیا۔

ایک بے راہ رو انسان کی عادتِ مے نوشی کے نتیجے میں دو بے قصور ومعصوم زندگیوں کواپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنی پڑی ۔۔۔ انجام کارایک جوان بیٹا اپنے ہی باپ کا قاتل ٹھہرا اور عورت تہی دامن رہ گئی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر شاہدہ شاہین (میسور)

Leave a Reply