چیلیں

چیل نے پھر سے جھپٹا مارا ہے۔ اوپر، آسمان میں منڈلا رہی تھی جب اچانک، نیم دائرہ بناتی ہوئی تیزی سے نیچے اتری اور ایک ہی جھپٹے میں گوشت کے لوتھڑے کو پنجوں میں دبوچ کر پھر سے ویسا ہی نیم دائرہ بناتی ہوئی اوپر چلی گئی۔ وہ مقبرے کے اونچے مینار پر جا بیٹھی، اور اپنی پیلی چونچ گوشت کے لوتھڑے میں بار بار گاڑنے لگی۔ مقبرے کے ارد گرد دور تک پھیلے پارک میں ہلکی ہلکی دھند پھیلی ہے۔ ماحول میں سایا سا ڈول رہا ہے۔ پرانے مقبرے کے کھنڈر جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں۔ اس دھندلکے میں اس کا گول گنبد اور بھی زیادہ قدیم نظر آرہا ہے۔ یہ مقبرہ کس کا ہے، میں جانتے ہوئے بھی بار بار بھول جاتا ہوں۔ فضا میں پھیلی دھند کے باوجود، اس گنبد کا سایہ گھاس کے پورے میدان کو ڈھکے ہوئے ہے اور اس حصے کو بھی جہاں میں بیٹھا ہوں، جس سے ماحول کا سونا پن اور بھی زیادہ بڑھ گیا ہے اور میں اور بھی زیادہ اکیلا محسوس کرنے لگا ہوں۔

چیل منارے پر سے اڑ کر پھر سے آسمان میں منڈلانے لگی ہے۔ پھر سے نہ جانے کس شکار پر نکلی ہے۔ اپنی چونچ نیچی کیے، اپنی گہری آنکھیں زمین پر لگائے، پھر سے چکر کاٹنے لگی۔ مجھے لگنے لگا جیسے اس کے پنجے لمبے ہوتے جا رہے ہیں اور اس کا جسم کسی بھیانک جانور کے بدن کی طرح پھولتا جا رہا ہے۔ نہ جانے وہ اپنا نشانہ باندھتی ہوئی کب اترے، کہاں اترے؟ اسے دیکھتے ہوئے میں خود کو اس سے نبر د آزما سا محسوس کرنے لگا ہوں۔

کسی جانکار نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ ہم آسمان میں منڈلاتی چیلوں کو تو دیکھ سکتے ہیں پر انہی کی طرح فضا میں منڈلاتی ان نظر نہ آنے والی چیلوں کو نہیں دیکھ سکتے جو ویسے ہی نیچے اتر کر جھپٹا مارتی ہیں اور ایک ہی جھپٹے میں انسان کو لہولہان کر کے یا تو وہیں پھینک جاتی ہیں، یا اس کی زندگی کی سمت موڑ دیتی ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ جہاں چیل کی آنکھیں اپنے ہدف کو دیکھ کر وار کرتی ہیںوہیں وہ نظر نہ آنے والی چیلیں اندھی ہوتی ہیں، اور اندھا دھند حملہ کرتی ہیں۔ انہیں جھپٹا مارتے ہم دیکھ نہیں پاتے اور ہمیں لگنے لگتا ہے کہ جو کچھ بھی ہوا ہے، اس میں ہم خود کہیں مجرم رہے ہوں گے۔ اس کی باتیں سنتے ہوئے میں اور بھی زیادہ بدحواس محسوس کرنے لگا تھا۔

اس نے کہا تھا جس دن میری بیوی کا انتقال ہوا، میں اپنے دوستوں کے ساتھ برابر والے کمرے میں بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔ میں سمجھے بیٹھا تھا کہ وہ اندر سو رہی ہے۔ میںایک بار اسے بلانے بھی گیا تھا کہ آؤ باہر آکر ہمارے پاس بیٹھو۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ مجھ سے پہلے ہی کوئی نظر نہ آنے والا حیوان اند رگھس آیا ہے اور اس نے میری بیوی کو اپنی جکڑ میں لے رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم سارا وقت ان دکھائی نہ دینے والے حیوانوں میں گھرے رہتے ہیں۔

ارے یہ کیا شوبھا! شوبھا پارک میں آئی ہے ؟ ہاں شوبھا ہی تو ہے جھاڑیوں کے بیچوں بیچ۔ وہ دھیرے دھیرے ایک طرف بڑھتی ہوئی آرہی ہے۔ وہ کب یہاں آئی ہے اور کس طرف سے اس کا مجھے پتا ہی نہیں چلا۔

میرے اندر جوار سا اٹھا، میں بہت دن بعد اسے دیکھ رہا تھا۔

شوبھا دبلی ہوگئی ہے، تھوڑی جھک کر چلنے لگی ہے، پر اس کی چال میں اب بھی پہلے کی سی دل ربائی ہے۔ وہی وھیمی چال، وہ ہی بانکپن، جس میں اس کی ساری شخصیت کی تصویر جھلکتی ہے۔ دھیرے دھیرے چلتی ہوئی وہ گھاس کا میدان لانگھ رہی ہے۔ آج بھی بالوں میں سرخ رنگ کا پھول اڑسے ہوئے ہے۔

شوبھا، اب بھی تمہارے ہونٹوں پر وہی مہکتی سی مسکراہٹ کھیل رہی ہوگی جسے دیکھتے ہوئے میں تھکتا نہیں تھا۔ ہونٹوں کے کونوں میں دبی سمٹی مسکان ایسی مسکراہٹ تو تبھی ہونٹوں میں کھل سکتی ہے جب تمہارے دل میں مافوق الفطرت جذبات کے پھول کھل رہے ہوں۔

من چاہا، بھاگ کر تمہارے پاس پہنچ جاؤں اور پوچھوں شوبھا اب تم کیسی ہو؟َ

بیتے دن کیوں کبھی لوٹ کر نہیں آتے؟ سارا ماضی نہ بھی آئے ایک دن ہی آجائے، ایک گھڑی ہی، جب میں تمہیں اپنے قریب پاسکوں، تمہاری ساری شخصیت سے شرابور ہوسکوں۔

میں اٹھ کھڑا ہوا اور اس کی طرف جانے لگا۔ میں جھاڑیوں اور درختوں کے درمیان چھپ کر آگے بڑھوں گا تاکہ اس کی نظر مجھ پر نہ پڑے۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر اس نے مجھے دیکھ لیا تو وہ جیسے تیسے قدم بڑھاتی، لمبے لمبے ڈگ بھرتی پارک سے باہر نکل جائے گی۔

زندگی کی یہ ستم ظریفی ہی ہے کہ جہاں عورت سے بڑھ کر کوئی ذی روح مہربان اور نرمی کا پتلا نہیں ہوتا ، وہیں بے مہرسخت دل بھی نہیں ہوتا۔ میں کبھی کبھی اپنے تعلقات کو لے کر پریشان بھی ہو اٹھتا ہوں۔ کئی بار تمہاری طرف سے میری عزت نفس کو دھکا لگ چکا ہے۔ ہماری شادی کے کچھ ہی وقت بعد تم مجھے اس بات کا احساس کرانے لگی تھیں کہ یہ شادی تمہاری توقعات کے مطابق نہیں ہوئی ہے اور تمہاری طرف سے ہمارے باہمی تعلقات میں ایک قسم کا ٹھنڈاپن آنے لگا تھا۔ پر میں ان دنوں تم پر نثار تھا، متوالا بنا گھومتا تھا ۔ ہمارے درمیان کسی بات کو لے کر چخ پخ ہو جاتی اور تم روٹھ جاتیں، تو میں تمہیں منانے کی ہر ممکن کوشش کیا کرتا۔ تمہیں ہنسانے کو اپنے دونوں کان پکڑ لیتا، کہو تو اوندھا لیٹ کر زمین پر ناک سے لکیریں بھی کھینچ دوں، زبان نکال کر بار بار سر ہلاؤں اور تم پہلے تو منہ پھلائے میری طرف دیکھتی رہتیں پھر اچانک کھلکھلا کر ہنسنے لگتیں، بالکل بچوں کی طرح جیسے تم ہنسا کرتی تھیں اور کہتیں چلو معاف کر دیا۔اور میں تمہیں بانہوں میں بھر لیا کرتا تھا۔ میں تمہاری کھنکتی آواز سنتے نہیں تھکتا تھا۔ میری آنکھیں تمہارے چہرے پر، تمہاری کھلی پیشانی پر لگی رہتیں اور میں تمہارے دل کے جذبات پڑھتا رہتا۔

عورت مرد کے تعلقات میں کچھ بھی تو واضح نہیں ہوتا، کچھ بھی تو منطقی نہیں ہوتی۔ جذبات کی دنیا کے اپنے اصول ہیں، یا شاید کوئی بھی اصول نہیں۔

ہمارے درمیان تعلقات کی خلیج چوڑی ہوتی گئی، پھیلتی گئی۔ تم اکثر کہنے لگی تھیں، مجھے اس شادی میں کیا ملا؟ اور میں جواب میں تنک کر کہتا: ’’میں نے کون سا جرم کیا ہے کہ تم سارا وقت منہ پھلائے رہو اور میں سارا وقت تمہاری دل جوئی کرتا رہوں؟ اگر ایک ساتھ رہنا تمہیں خوش نہیں آرہا تھا تو پہلے ہی مجھے چھوڑ جاتیں تم مجھے کیوں نہیں چھوڑ کر چلی گئیں؟ تب نہ تو ہر آئے دن تمہیں الاہنے دینے پڑتے اور نہ ہی مجھے سننے پڑتے۔ اگر گھر میں تم میرے ساتھ گھسٹتی رہی ہو، تو اس کا قصور وار میں نہیں ہوں، خود تم ہو، تمہاری بے رخی مجھے جلاتی رہتی ہے، پھر بھی اپنی جگہ اپنے آپ کو مظلوم اور دکھیاری سمجھتی رہتی ہو۔

جی چاہا میں اس کے پیچھے نہ جاؤں، لوٹ آؤں اور بنچ پر بیٹھ کر اپنے دل کو پرسکون کروں۔ کیسی میرے من کی حالت ہوگئی ہے۔ اپنے آپ کو بد دعائیں دیتا ہوں تو بھی بے چین اور جو تمہیں بد دعائیں دیتا ہوں تو بھی بے قرار۔ میری سانس پھول رہی تھی، پھر بھی میں تمہاری طرف دیکھتا کھڑا رہا۔

سارا وقت تمہارا منہ تاکتے رہنا، سارا وقت لیپا پوتی کرتے رہنا، اپنے کو ہر بات کے لیے قصور وار قرار دیتے رہنا، میری بہت بڑی بھول تھی۔

پٹری پر سے اتر جانے کے بعد ہماری گھریلو زندگی گھسٹنے لگی تھی۔ پر جہاں شکوے شکایت، کھینچ کھنچاؤ اور عدم تحمل، نکیلے پتھروں کی طرح ہماری جذبات کو چھیلنے کاٹنے لگے تھے، وہیں کبھی کبھی شادی شدہ زندگی کے ابتدائی دنوں کے سکھ بھی موجیں مارتے ساگر کے درمیان کسی جھلملاتے جزیرے کی طرح ہماری زندگی میں اطمینان بھر دیتے لیکن مجموعی طور پر ہمارے باہمی تعلقات میںسرد مہری آگئی تھی۔ تمہاری مسکراہٹ اپنا جادو کھو بیٹھتی تھی۔ تمہاری کھلی پیشانی کبھی کبھی تنگ لگنے لگتی تھی اور جس طرح بات سنتے ہوئے تم سامنے کی طرف دیکھتی رہتیں، لگتا تمہارے پلے کچھ بھی نہیں پڑ رہا ہے۔ ناک نقشہ وہی تھا، ادائیں بھی وہی تھیں، پر ان کا جادو غائب ہوگیا تھا۔ جب شوبھا آنکھیں مچمچاتی، میں من ہی من کہتا تو بڑی احمق لگتی ہے۔

میں نے پھر سے نظر اٹھا کر دیکھا، شوبھا نظر نہیں آئی۔ کیا وہ پھر سے درختوں اور جھاڑیوں کے درمیان آنکھوں سے اوجھل ہوگئی ہے؟ دیر تک اس طرف دیکھتے رہنے پر بھی جب وہ نظر نہیں آئی، تو میں اٹھ کھڑا ہوا۔ مجھے لگا جیسے وہ وہاں پر نہیں ہے۔ مجھے جھٹکا سا لگا۔ کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا تھا؟ کیا شوبھا وہاں پر تھی بھی یا مجھے دھوکا ہوا تھا؟ میں دیر تک آنکھیں گاڑے اس طرف دیکھتا رہا جس طرف وہ مجھے نظر آئی تھی۔

اچانک مجھے پھر سے اس کی جھلک ملی۔ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا تھا۔ پہلے بھی وہ آنکھوں سے اوجھل ہوتی رہی تھی۔ مجھ میں پھر سے ہیجان سا ابھر آیا۔ ہر بار جب وہ آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی تو میرے اندر اٹھنے والے طرح طرح کے جذبات کے باوجود پارک پر سونا پن سا اتر آتا۔ پر اب کی بار اس پر نظر پڑتے ہی دل پریشان سا ہوا تھا۔ شوبھا پارک میں سے نکل جاتی تو؟

ایک ہیجان میرے اندر پھر سے اٹھا۔ اسے مل پانے کے لیے دل میں ایسی بے قراری سی اٹھی کہ تمام شکوے شکایت خس و خاشاک کی طرح اس ہیجان میں بہہ سے گئے۔ تمام دل زدگی ختم ہو گئی۔ یہ کیسے ہوا کہ شوبھا پھر سے مجھے شادی شدہ زندگی کے پہلے دن والی شوبھا نظر آنے لگی تھی۔ اس کی شخصیت کا سارا تیج پھر سے لوٹ آیا تھا اور میرا دل پھر سے بھر آیا۔ دل میں بار بار یہی آواز اٹھتی، میں تمہیں کھو نہیں سکتا۔ میں تمہیں کبھی کھو نہیں سکتا۔

یہ کیسے ہوا کہ پہلے والے جذبات میرے اندر پورے جوش کے ساتھ پھر سے اٹھنے لگے تھے۔ میں نے پھر سے شوبھا کی طرف قدم بڑھا دیے۔

ہاں، ایک بار میرے ذہن میں سوال ضرور اٹھاکہ کہیں میں پھر سے اپنے آپ کو دھوکہ تو نہیں دے رہا ہوں؟ کیا معلوم وہ پھر سے مجھے ٹھکرا دے؟

پر نہیں، مجھے لگ رہا تھا گویا ازدواجی مصیبت اور کشمکش کی وہ ساری مدت جھوٹی تھی۔ گویا وہ وقت کبھی تھا ہی نہیں۔ میں برسوں بعد تمہیں انہی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا جن آنکھوں سے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا۔ میں پھر سے تمہیں بانہوں میں بھر لینے کے لیے بے چین اور بے قرار ہو اٹھا تھا۔

تم دھیرے دھیرے جھاڑیوں کے درمیان آگے بڑھتی جا رہی تھیں۔ تم پہلے کے مقابلے میں دبلی ہوگئی تھیں اور تم مجھے بڑے معصوم اور اکیلی سی لگ رہی تھیں۔ اب کی بار تم پر نظر پڑتے ہی میرے دل کا سارا ولولہ، ریت کے گھروندے کی طرح بھربھرا کر گر گیا تھا۔ تم اتنی دبلی، اتنی لاچار سی لگ رہی تھیں کہ میں بے چین ہو اٹھا اور اپنے آپ کو پھٹکارنے لگا۔ تمہارا نازک سا بدن کبھی ایک جھاڑی کے پیچھے تو کبھی دوسری جھاڑی کے پیچھے چھپ جاتا، آج بھی تم بالوں میں سرخ رنگ کا پھول ٹانگنا نہیں بھولی تھیں۔

عورتیں دل سے دکھی اور بے چین ہوتے ہوئے بھی بن سنور کر رہنا نہیں بھولتیں۔ غم زدہ بھی ہوں گی تو بھی صاف ستھرے کپڑے پہن کر، بال سنوار کر، نک سک سے درست ہوکر باہر نکلیں گی۔ جب کہ مرد، قسمت کا ایک ہی تھپیڑا کھانے پر بھدا، بدو ضع ہو جاتا ہے، بال الجھے ہوئے، منہ پر داڑھی بڑھی ہوئی، کپڑے میلے اور آنکھوں میں ویرانی لیے، بھک منگوں کی طرح گھر سے باہر نکلے گا۔ جن دنوں ہمارے درمیان ناچاکی ہوتی اور تم اپنی قسمت کو کوستی ہوئی گھر سے باہر نکل جاتی تھیں، تب بھی ڈھنگ کے کپڑے پہننا اور چست درست بن کر جانا نہیں بھولتی تھیں۔ایسے دنوں میں بھی تم باہر آنگن میں لگے گلاب کے پودے میں سے چھوٹا سا سرخ پھول بالوں میں ٹانکنا نہیں بھولتی تھیں جب کہ میں دن بھر ہانپتا، کسی جانور کی طرح ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں چکر کاٹتا رہتا تھا۔

تمہاری شال، تمہارے دائیں کندھے پر سے کھسک گئی تھی اور اس کا سرازمین پر تمہارے پیچھے گھسٹنے لگا تھا، پر تمہیں اس کا احساس نہیں ہوا کیوں کہ تم پہلے ہی کی طرح دھیرے دھیرے چلتی جا رہی تھی۔ کندھے ذرا آگے کو جھکے ہوئے، کندھے پر شال کھسک جانے سے تمہاری سڈول گردن اور زیادہ واضح نظر آنے لگی تھی۔ کیا معلوم تم کن خیالوں میںکھوئی چلی جا رہی ہو۔ کیا معلوم ہمارے بارے میں، ہمارے رشتے اور علیحدگی کے بارے میں ہی سوچ رہی ہو۔ کون جانے میرے پارک میں مل جانے کی امید لے کر تم یہاں چلی آئی ہو۔ کون جانے تمہارے دل میں بھی ایسی ہی کسک ایسی ہی بے قراری اٹھی ہو، جیسی میرے دل میں۔کیا معلوم قسمت ہم دونوں پر مہربان ہوگئی ہو اور نہیں تو میں تمہاری آواز تو سن پاؤں گا۔ تمہیں آنکھ بھر کے دیکھ تو پاؤں گا۔ اگر میں اتنا بے چین ہوں تو تم بھی بالکل اکیلی ہو اور نہ جانے کہاں بھٹک رہی ہو۔ آخری بار، تعلق ٹوٹنے سے پہلے، تم ایک ٹک میری طرف دیکھتی رہی تھیں۔ تب تمہاری آنکھیں مجھے بڑی بڑی سی لگی تھیں۔ پر میں ان کا انداز نہیں سمجھ پایا تھا۔ تم کیوں میری طرف دیکھ رہی تھیں اور کیا سوچ رہی تھیں کیوں نہیں تم نے منہ سے کچھ بھی کہا؟ مجھے لگا تھا تمہاری تمام شکایتیں سمٹ کر تمہاری آنکھوں کے انداز میں آگئی تھیں۔ تم مجھے بے جان بت جیسی لگی تھیں اور اس شام گویا تم نے مجھے چھوڑ جانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

میں معمول کے مطابق شام کو گھومنے چلا گیا تھا۔ دل اور دماغ پر چاہے کتنا ہی بوجھ ہو، میں اپنا اصول نہیں توڑتا۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے بعد جب میں گھر واپس لوٹا تو ڈیوڑھی میں قدم رکھتے ہی مجھے اپنا گھر سونا سونا لگا تھا اور اندر جانے پر پتہ چلا کہ تم جاچکی ہو۔تبھی مجھے تمہاری وہ ایک ٹک نظر یاد آئی تھی، میری طرف دیکھتی ہوئی۔

تمہیں گھر میں نہ پاکر پہلے تو میری انا کو دھکا سا لگا تھا۔ تم جانے سے پہلے نہ جانے کیا سوچتی رہی ہوگی۔ اپنے من کی بات منہ تک نہیں لائیں پر جلد ہی اس ویرانے گھر میں بیٹھا میں گویا اپنے سر کو دھننے لگا، گھر بھائیں بھائیں کرنے لگا تھا۔

اب تم دھیرے دھیرے گھاس کے میدان کو چھوڑ کر چوڑی پگڈنڈی پر آگئی تھیں، جو مقبرے کا احاطہ کرتی ہوئی پارک کے باہر کی طرف جانے والے راستے سے جاملتی ہے۔ جلدہی تم چلتی ہوئی پارک کے دروازے تک جا پہنچوں گی اور آنکھوں سے اوجھل ہوجاؤگی۔

تم مقبرے کے کونے کا چکر کاٹ کر اس چوکور میدان کی طرف جانے لگی ہو جہاں بہت سے بنچ رکھے رہتے ہیں اور بڑی عمر کے تھکے بارے لوگ سستانے کے لیے بیٹھ جاتے ہیں۔

کچھ دور جانے کے بعد تم پھر سے ٹھٹکی تھیں، موڑ آگیا تھا اور موڑ کاٹنے سے پہلے تم نے مڑ کر دیکھا تھا۔ کیا تم میری طرف دیکھ رہی ہو؟ کیا تمہیں اس بات کی آہٹ مل گئی ہے کہ میں پارک میں پہنچا ہوا ہوں اور دھیرے دھیرے تمہارے پیچھے چلا آرہا ہوں؟

کیا سچ مچ اسی وجہ سے ٹھٹک کر کھڑی ہوگئی ہو، اس توقع سے کہ میں بھاگ کر تم سے جاملوں گا؟ کیا یہ میرا بھرم ہی ہے یا تمہارا نسائی حجاب کہ تم چاہتے ہوئے بھی میری طرف قدم نہیں بڑھاؤگی؟

پر کچھ لمحے تک ٹھٹک کے رہنے کے بعد تم پھر سے پارک کے پھاٹک کی طرف بڑھنے لگی تھیں۔ میںنے تمہاری جانب قدم بڑھا دیے۔ مجھے لگا جیسے میرے پاس گنے چنے چند لمحات ہی رہ گئے ہیں، جب میں تم سے مل سکتا ہوں۔ اب نہیں مل پایا تو کبھی نہیں مل پاؤں گا اور نہ جانے کیوں، یہ سوچ کر میرا گلا رندھنے لگا تھا۔

لیکن میں ابھی کچھ ہی قدم آگے کی جانب بڑھا پایا تھا کہ زمین پر کسی بھاگتے سائے نے میرا راستہ کاٹ دیا۔ لمبا چوڑا سایہ، تیراتا ہوا سا، میرے راستے کو کاٹ کر نکل گیا تھا۔ میں نے نظر اوپر اٹھائی اور میرا دل بیٹھ گیا۔ چیل ہمارے سر کے اوپر منڈلائے جا رہی تھی۔ کیا یہ چیل ہی ہے؟ پر اس کے پنجے کتنے بڑے ہیں اور پیلی چونچ لمبی، آگے کو مڑی ہوئی اور اس کی چھوٹی چھوٹی گہری آنکھوں میں بھیانک سی چمک ہے۔

چیل آسمان میں ہمارے اوپر چکر کاٹنے لگی تھی اور اس کا سایہ بار بار میرا راستہ کاٹ رہا تھا۔ ہائے، یہ کہیںہم پر نہ جھپٹ پڑے، میں بدحواس سا تمہاری طرف دوڑنے لگا، من چاہا چلا کر تمہیں ہوشیار کردوں، پر پنجے پھیلائے چیل کو منڈلاتا دیکھ کر میں اتنا حواس باختہ ہو اٹھا تھا کہ منہ میں سے الفاظ نکل نہیں پا رہے تھے۔ میرا گلا سوکھ رہا تھا اور پاؤں بوجھل ہو رہے تھے۔ میں جلدی تم تک پہنچنا چاہتا تھا۔ مجھے لگا جیسے میں سائے کو الانگھ ہی نہیں پا رہا ہوں۔ چیل ضرور نیچے آلگی ہوگی۔ جو اس کا سایہ اتنا پھیلتا جا رہا ہے کہ میں اسے الانگھ ہی نہیں سکتا۔

میرے دماغ میں ایک ہی بات بار بار گھوم رہی تھی کہ تمہیں اس منڈلاتی چیل کے بارے میں ہوشیار کردوں اور تم سے کہوں کہ جتنی جلدی پارک میں سے نکل سکتی ہو، نکل جاؤ۔

میری سانس دھوکنی کی طرح چلنے لگی تھی اور منہ سے سے ایک لفظ بھی نہیں نکل پا رہا تھا۔

باہر جانے والے دروازے سے تھوڑا ہٹ کر، دائیں ہاتھ ایک اونچا سا مینار ہے، جس پر کبھی مقبرے کی رکھوالی کرنے والا پہرہ دار کھڑا رہتا ہوگا۔ اب وہ مینار بھی ٹوٹی پھوٹی حالت میں ہے۔

جس وقت میں سائے کو الانگھ پانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا اس وقت مجھے لگا تھاجیسے تم چلتی ہوئی اس منارے کے پیچھے جا پہنچی ہو۔ لمحہ بھر کے لیے یقین سا ہوگیا۔ تمہیں اپنے سر کے اوپر منڈلاتے خطرے کا احساس ہوگیا ہوگا۔ نہ بھی ہوا ہو تو بھی تم نے باہر نکلنے کا جو راستہ اپنایا تھا وہ زیادہ محفوظ تھا۔

میں تھک گیا تھا۔ میری سانس بری طرح سے پھولی ہوئی تھی۔ ناچار، میں اسی منارے کے قریب ایک پتھر پر ہانپتا ہوا بیٹھ گیا۔ کچھ بھی میرے بس نہیں رہ گیا تھا۔ لیکن میں سوچ رہا تھا کہ جونہی تم منارے کے پیچھے سے نکل کر سامنے آؤگی، میں چلا کر تمہیں پارک میں سے نکل بھاگنے کو کہوں گا۔ چیل اب بھی سر پر منڈلائے جا رہی تھی۔ تبھی مجھے لگا تم منارے کے پیچھے سے باہر آئی ہو۔ ہوا کے جھونکے سے تمہاری ساڑی کا پلواڑ رہا ہے اور اٹکھیلیاں سی کرتی ہوئی تم سیدھا پھاٹک کی طرف بڑھنے لگی ہو۔

’’شوبھا…!‘‘ میں چلایا۔

لیکن تم بہت آگے بڑھ چکی تھیں، تقریباً پھاٹک کے پاس پہنچ چکی تھیں۔ تمہاری ساڑی کا پلو ابھی بھی ہوا میں پھڑپھڑا رہا تھا۔ بالوں میں سرخ پھول بہت کھلا کھلا لگ رہا تھا۔

میں اتھ کھڑا ہوا اور جیسے تیسے قدم بڑھاتا ہوا تمہاری طرف جانے لگا۔ میںتم سے کہنا چاہتا تھا۔ اچھا ہوا جو تم چیل کے پنجوں سے بچ کر نکل گئی ہو، شوبھا۔

پھاٹک کے پاس تم رکی تھیں اور مجھے لگا تھا جیسے میری طرف دیکھ کر مسکرائی ہو اور پھر پیٹھ موڑ لی اور آنکھوں سے اوجھل ہوگئی تھیں۔

میں بھاگتا ہوا پھاٹک کے پاس پہنچا تھا۔ پھاٹک کے پاس میدان میں ہلکی ہلکی دھول اڑ رہی تھی اور پارک میں آنے والے لوگوں کے لیے چوڑا، کھلا راستہ بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔

تم پارک میں سے صحیح سلامت نکل گئی ہو، یہ سوچ کر میں مطمئن سا محسوس کرنے لگا تھا۔ میں نے نظر اٹھا کر اوپر کی طرف دیکھا، چیل وہاں پر نہیں تھی، چیل جاچکی تھی، آسمان صاف تھا اور ہلکی ہلکی دھند کے باوجود اس کی نیلاہٹ جیسے لوٹ آئی تھی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
بھیشم ساہنی (ہندی سے ترجمہ: انعام ندیم)

Leave a Reply