خوبیاں بھی یاد رکھیں!

سوچ اور طرزِ فکر دراصل ہماری شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی لیے بعض مفکرین کہتے ہیں کہ ہماری سوچ کی وجہ سے یہ دنیا ہی ہمارے لیے جنت اور جہنم بن جاتی ہے۔ اگر ہم مثبت سوچ رکھتے ہیں، تو ہماری زندگی خوش گوار ہونے لگتی ہے اور اگر منفی سوچ اختیار کریں، تو پھر یہی دنیا دوزخ کی طرح محسوس ہونے لگتی ہے۔

بہت سی خواتین دوسروں کے لیے منفی سوچ رکھنے کی عادی ہوتی ہیں۔ وہ صرف اپنے بارے میں سوچتی ہیں۔ ان میں دوسروں کے عیب نکالنے کی عادت اپنی انتہا پر دکھائی دیتی ہے۔ مذاق کے نام پر وہ دوسروں کی تضحیک کی عادی ہوتی ہیں۔ انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ اس سے نہ صرف کسی کی دل آزادی ہو رہی ہے بلکہ محفل میں بھی ان کا تاثر انتہائی خراب ہونے لگتا ہے، اگر وہ کسی کو اچھے حال میں دیکھ لیں، اچھا کھاتا پیتا یا اوڑھتا پہنتا بھی دیکھ لیں، تو چھوٹتے ہی سخت رائے دینے سے گریز نہیں کرتیں۔

ایک ماہر نفسیات نے تمام طالب علموں میں پرچے تقسیم کیے، اور یہ پرچا پلٹ کر دیکھنے کو کہا، جب سب شاگردوں نے پرچا پلٹ کر دیکھا تو حیران رہ گئے، کیوں کہ پرچے پر کوئی تحریر موجود نہیں تھی بلکہ کورے کاغذ کے بالکل درمیان ایک کالے رنگ کا نقطہ موجود تھا۔

استاد نے کہا آپ سب اس کاغذ پر جو دیکھ رہے ہیں، اس کے حوالے سے جو کچھ بھی سمجھ میں آئے، لکھیں۔ شاگردوں نے استاد کی ہدایات کے مطابق اس ناقابل فہم پرچے کے حوالے سے لکھنا شروع کر دیا اور آخر میں سبھی نے اس کالے نقطے کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھا… استاد نے باری باری ہر شاگرد کا پرچا پڑھ کر سنایا۔

اس کے بعد استاد نے کہا کہ میں آپ سب کی فکر اور سوچ کے رجحان کا جائزہ لینا چاہتا تھا۔ جیسے آدھے کٹورے پانی کو کچھ لوگ آدھا بھرا ہوا اور کچھ لوگ خالی قرار دیں گے، اسی طرح اس صفحے کے ذریعے بھی یہ جانچنا مقصود تھا کہ آپ کو اتنے بڑے سفید کاغذ پر صرف ایک نقطہ دکھائی دیا۔ سفید کاغذ سب نے ہی نظر انداز کر دیا۔ بالکل اسی طرح ہم اکثر اپنی زندگیوں میں بھی صرف سیاہ چیزوں پر توجہ دیتے ہیں۔ یعنی ایک خفیف سی خرابی یا عیب کئی گنا زیادہ بڑی اور پھیلی ہوئی اچھائی اور خوبی پر غالب آجاتا ہے۔

ہماری سوچیں ہی زندگی کو خوب صورت یا بد صورت بناتی ہیں اور ہم اپنی اور دوسروں کی زندگی کو بھی جہنم بنا دیتے ہیں۔ اگر ہم مثبت سوچ رکھیں اور دوسروں کی خامیوں کے بہ جائے خوبیوں پر نظر رکھیں، تو ہم خود بھی خوش رہیں گے اور دوسرے بھی۔

خواتین کے تعلق سے شاید یہ چیزیں کچھ زیادہ دیکھی اور سنی جاتی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہم بھی بے خیالی اور بے دھیانی میں اس کا ارتکاب کرتے ہوں، لیکن ہمیں اپنی نظریں سیاہ دھبوں سے ہٹا کر ان نعمتوں اور خوبیوں پر ڈالنی چاہئیں، جو ہمیں اللہ نے عطا فرمائی ہیں۔ جب ہم مثبت چیزیں سوچیں گے تو اس سے صرف دوسرے ہی ہمارے بارے میں اچھا نہیں سوچیں گے، بلکہ ہماری زندگی سے بھی منفی تاثر دور ہوتا چلا جائے گا۔ ہمیں ایسا محسوس ہوگا کہ زندگی آسان ہونے لگی ہے اور جو مشکلات آج ہمیں درپیش ہیں، ان کا حل بھی سامنے آرہا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
نائلہ ملک

Leave a Reply