حضرت ام فضل

حضرت ام فضل رضی اللہ عنہااپنی کنیت سے مشہور ہیں۔ ان کا اصل نام لبابہ (لبابۂ کبریٰ) تھا۔حارث بن حزن ان کے والد اور ہند (خولہ) بنت عوف کنانیہ (یا حمیریہ) والدہ تھیں۔ فضل ابن عباس ان کے بڑے بیٹے تھے جن کی کنیت سے وہ مشہور ہیں۔سعد نے ان کا شمار اجنبی عرب عورتوں میں کیا ہے۔اپنے ساتویں جد بلال بن عامر کی نسبت سے بلالیہ کہلاتی ہیں۔

حضرت ام فضل پہلی خاتون تھیںجو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد ایمان لائیں۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اور میری والدہ مستضعف عورتوں اور بچوں میں شامل تھیں انہیںاللہ تعالیٰ نے اہل عذر قرار دیا ہے۔ (بخاری) ذہبی کہتے ہیں کہ اس قول سے پتا چلتا ہے کہ دونوں ماں بیٹا حضرت عباس سے پہلے ایمان لائے تھے۔ لیکن ہجرت نہ کرسکے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلمکے آزاد کردہ حضرت رافع کہتے ہیں کہ حضرت عباس بن عبد المطلب اسلام قبول کرچکے تھے، لیکن اپنی قوم سے ڈرتے تھے، اس لیے ایمان چھپائے رکھا۔ ابن حجر کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کی بہن سعید بن زید کی اہلیہ حضرت فاطمہ اسلام قبول کرنے والی دوسری عورت تھیں۔

حضرت ام فضل کا نکاح حضوؐرکے چچا عباس ابن عبد المطلب سے ہوا۔ عباس سے ان کے چھ بیٹوں، فضل بن عباس، عبد اللہ بن عباس، عبید اللہ بن عباس، معبد بن عباس، قثم بن عباس، عبد الرحمن بن عباس رضی اللہ عنہم اور ایک بیٹی ام حبیب (ام حبیبہ) کی ولادت ہوئی۔

حضرت ام فضل کی والدہ ہند بنت عوف کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ سب سے زیادہ معزز داماد رکھنے والی خاتون ہیں۔ ان کے دامادوں کے نام اس طرح ہیں۔ سیدہ میمونہ کے شوہر نبیﷺ، حضرت لبابۂ کبریٰ کے میاں حضرت عباس بن عبد المطلب اور حضرت سلمیٰ کے شوہر حضرت حمزہ بن عبد المطلب تھے۔ حضرت حمزہ کی شہادت کے بعد حضرت سلمیٰ کا بیاہ شداد بن ہاد (اسامہ) سے ہوا۔ حضرت لبابہ صغری کی شادی ولید بن مغیرہ سے ہوئی۔ حضرت خالد بن ولید انھی کے بیٹے تھے۔ حضرت اسماء کی شادی پہلے جعفر بن ابو طالب پھر سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور آخر میں سیدنا علی سے ہوئی۔

رسول اللہﷺ شعب ابی طالب میں تھے کہ حضرت عباس بن عبد المطلب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بتایا : میری اہلیہ ام فضل کے ہاں بچے کی ولادت ہونے والی ہے۔ آپ نے فرمایا امید ہے اللہ تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائے گا۔ تب حضرت عبد اللہ ابن عباس پیدا ہوئے، حضرت عباس انہیں کپڑے میں لپیٹ کر لائے تو آپ نے اپنا لعاب دہن ان کے منہ میں لگایا۔ (کنزل العمال)

حضرت عباس بن عبد المطلب جو جنگ بدر میں مشرکین میں شامل تھے، مسلمانوں کے ہاتھ قید ہوئے اور انہیں بیڑیاں پہنا دی گئیں۔ جنگ کی رات ہوئی تو رسول اللہﷺسو نہ پائے۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا بات ہے؟ فرمایا: میں اپنے چچا عباس کے کراہنے کی آواز سن رہا ہوں۔ صحابہ نے ان کی بیڑیاں کھول دیں، وہ خاموش ہوئے تو آپ سوئے۔مدینہ پہنچ کر آپ نے فرمایا: چچا عباس، اپنا، اپنے بھتیجوں عقیل بن ابو طالب، نوفل ابن حارث اور اپنے حلیف عتبہ بن عمرو بن حجدم کا فدیہ دے دیں۔ حضرت عباس نے جواب دیا: یا رسول اللہ ! میں تو مسلمان ہوں، میری قوم نے مجھے جنگ میں شریک ہونے پر مجبو رپر کر دیا۔ آپ نے فرمایا: اللہ ہی آپ کے اسلام کا علم رکھتا ہے۔ہم تو آپ کے ظاہری عمل کو دیکھیں گے۔ حضرت عباس نے فدیہ معاف کرنے کی مکرر درخواست کی تو آپ نے فرمایا نہیں، یہ وہ مال ہے جو اللہ نے آپ سے لے کر ہمیںعطا کر دیا۔ انھوں نے کہا: میرے پاس کوئی مال نہیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: وہ مال کہاں گیا جو ام فضل سے رخصت ہوتے ہوئے آپ نے مکہ میں چھپایا تھا؟ آپ نے اس مال کی وصیت بھی کردی تھی کہ اس سفر میں اگر میں مارا گیا تو فضل کو اتنا، عبد اللہ کو اتنا، قثم کو اتنا اور عبید اللہ کو اتنا حصہ ملے گا۔ حضرت عباس نے کہا: اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا اس بات کو میرے اور ام فضل کے علاوہ کوئی نہ جانتا تھا، مجھے یقین ہوگیا ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ تب وہ اپنا، اپنے بھتیجوں اور حلیف کا فدیہ ادا کر کے چھوٹے(مسند احمد) ابن اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت عباس نے سو اوقیہ سونا فدیہ میں ادا کیا۔

حضرت ابو رافع جو مکہ میں حضرت عباس بن عبد المطلب کے غلام تھے اور بعد میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں آگئے فرماتے ہیں: جنگ بدر میں مشرکوں کی ہزیمت کی خبر آئی تو ہم مسلمانوں میں نئی طاقت آگئی اور غلبے کا احساس پیدا ہوا۔ میںبیرزمزم پر تنے ہوئے خیمے میں بیٹھا تیر چھیل رہا تھا، حضرت ام فضؒ میرے پاس بیٹھی تھیں۔ ہم معرکہ فرقان میںفتح سے مسرور و شادمان تھے کہ ابو لہب جس نے اپنی جگہ لڑنے کے لیے عاص بن ہشام کو بھیج رکھا تھا، پاؤں گھسیٹتا ہوا آیا اور خیمے کی طناب پر میری طرف پشت کر کے بیٹھ گیا۔ اسی اثنا میں آں حضرتؐ کا چچازاد عبد المطلب کا پوتا ابو سفیان بن حارث بھی آگیا لوگوں نے بتایا کہ یہ ابھی جنگ سے لوٹا ہے۔ ابو لہب نے اسے بلایا، بھتیجے، ادھر آؤ، تمہارے پاس جنگ کی کیا خبر ہے؟ ابو سفیان نے کہا: کیا بتاؤں جوں ہی مسلمانوں سے ہمارا سامنا ہوا ہم نے اپنے کندھے ڈال دیے۔ انھوں نے جسے چاہا قتل کر دیا اور جس کو چاہا قید کر لیا۔ بہ خدا اس کے باوجود میں اپنے ساتھیوں کو ملامت نہیں کرتا، ہمارا مقابلہ ایسے گورے چٹے مردوں سے تھا جو چتکبرے گھوڑوں پر سوار آسمان و زمین کے مابین چھائے ہوئے تھے۔ ان کے آگے کوئی ٹھیر نہ سکتا تھا۔ حضرت ابو رافعؓ نے خیمے کی رسی اٹھا کر کہا وہ فرشتے تھے۔ ابولہب نے ہاتھ بلند کر کے ان کے چہرے پر زور کا تھپڑ مارا۔ حضرت ابو رافع نے اسے گرانے کی کوشش کی تو اس نے اٹھا کر اس کو زمین پر پٹکا پھر اوپر جھک کر پیٹنے لگا۔ اسی دوران حضرت ام فضل نے ایک لکڑی پکڑکر زور سے دے ماری اور اس کا سر پھاڑ کر کہا: اس کا آقا موجود نہیں تو تو نے اسے کمزور جان لیا۔ ابو لہب زخمی ہوکر چلتا بنا، اس واقعے کے بعد وہ ایک ہفتہ بھی نہ جی پایا، اسے گلٹی نکل آئی، جس نے اسے جہنم میں پہنچا دیا۔ تین دن اس کی لاش گھر میں سڑتی رہی، اس کے بیٹوں نے اسے ہاتھ نہ لگایا، کیوں کہ گلٹی کو طاعون کی طرح چھوت سمجھا جاتا تھا۔ پھر ایک قریشی کے ملامت کرنے پر اسے مکہ کی ایک دیوار کے پاس پھینک آئے اور دور سے پتھر پھینک کر تدفین کی۔

حضرت ام فضل سے قریبی رشتہ رکھنے کی وجہ سے مکہ میں رسول اللہﷺ اکثر ان کے گھر تشریف لے جاتے اور وہاں قیلولہ فرماتے۔ حضرت عباس بن عبد المطلب بہت بعد میں مسلمان ہوئے۔ ان کے ایمان لانے کے بعد حضرت ام فضل اور حضرت عباس نے مدینہ ہجرت کی۔ تب آپ کا ان کے گھر کثرت سے آنا جانا ہوگیا۔ آپ نے اپنی چچی حضرت ام کلثوم کے علاوہ کسی عورت کی گود میں سر رکھا نہ نبوت ملنے کے بعد اللہ کی طرف سے اس کی اجازت تھی۔ وہ آپ کے سر میں جوئیں تلاش کرتیں اور آنکھوں میں سرمہ ڈالتیں۔

حضرت ام فضل نے رسول اللہﷺ کو اپنا خواب سنایا، میں نے دیکھا کہ گویا آپ کے جسم کا ایک عضو ہمارے گھر میں آگیا ہے۔ آپ نے فرمایا: آپ نے اچھا خواب دیکھا، میری بیٹی فاطمہ کے ہاں بیٹا ہوگا اور آپ اسے اپنی بہو، قثم بن عباس کی اہلیہ کا دودھ پلائیں گی۔ چناں چہ حضرت حسین بن علی کی ولادت ہوئی تو حضرت ام فضل نے ان کی پرورش کی۔ فرماتی ہیں: ایک بار میں حسین کو آپ سے ملانے لے گئی۔ آپ انہیں لپٹا رہے اور ان سے پیار کر رہے تھے کہ انھوں نے آپ پر پیشاب کر دیا۔ فرمایا: ام فضل اپنے بیٹے کو پکڑلو، اس نے مجھ پر پیشاب کر دیا ہے۔ میں نے حسین کو پکڑااور چٹکی کاٹ کر (ابن ماجہ: کمر پر ہاتھ مار کر) کہا: تونے پیشاب کر کے رسول اللہﷺ کو اذیت دی۔ آپ نے حسین کے رونے کی آواز سنی تو فرمایا: ام فضل، اللہ بھلا کرے آپ نے میرے بیٹے کو رکا کر مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ پھر آپ نے پانی منگوا کر خوب چھڑکا اور فرمایا: جب لڑکا (جس نے کھانا نہ کھایا ہو، ترمذی) پیشاب کرے تو اس پر اچھی طرح پانی چھڑک دو اور جب بچی پیشاب کرے تو کپڑے کو اچھی طرح دھو دو (طبقات ابن سعد)۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ام فضل نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ دوسرے کپڑے پہن کر پیشاب والا پاجامہ مجھے دے دیں تاکہ میں دھو دوں تو آپ نے فرمایا: ’’بچی کے پیشاب سے آلودہ کپڑے کو دھویا جائے اور لڑکے کے پیشاب والے کپڑے پر پانی چھڑک دیا جائے (ابوداؤد) حضرت عبد اللہ بن عباس کی ملتی جلتی روایت میں ہے کہ حضرت ام فضل نے اپنی بیٹی ام حبیبہ بنت عباس کو رسول اکرمﷺ کی گود میں بٹھایا اور اس نے آپ پر پیشاب کیا۔ (مسند احمد)

بنو نضیر کا کعب بن اشرف رسول اللہﷺ کی ہجو کرتا تھا۔ اس نے حضرت ام فضل اور دوسری اہل ایمان عورتوں کے بارے میں لغو عشقیہ اشعار کہے تو آں حضرت ﷺ نے اسے ختم کرنے کا حکم دیا۔ اسے اس کے رضاعی بھائی ابو نائلہ (سلکان بن سلامہ) اور ان کے ساتھیوں نے جہنم واصل کیا۔

۷ھ میں رسول اللہﷺ نے قضائے عمرہ کے لیے مکہ کا سفر کیا۔ عمرہ کرنے سے پہلے آپ نے حضرت جعفر ابن ابو طالب کو نکاح کا پیغام دے کر حضرت میمونہ بنت حارث کے پاس بھیجا۔ حضرت میمونہ نے یہ معاملہ اپنی بہن حضرت ام فضل کے سپرد کر دیا، انھوں نے اپنے شوہر حضرت عباس بن عبد المطلب کو والی مقرر کیا۔ چناں چہ حضرت عباس نے چار سو درہم مہر کے عوض حضرت میمونہ کا آپ سے نکاح کر دیا۔ حضرت ابو رافع کہتے ہیں کہ تب آپ حالت احرام میں نہ تھے۔ سعید بن مسیب اسی بات کی تائید کرتے ہیں۔

حضرت ام فضل بتاتی ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر وقوف عرفات کے روز صحابہ کو نبیﷺ کے روزہ دار ہونے میں شبہ تھا۔ کچھ نے کہا کہ آپ روزہ رکھے ہوئے ہیں، جب کہ دوسروں کا خیال تھا کہ آپ کا روزہ نہیں۔ میں نے یہ دیکھتے ہوئے دودھ سے بھرا ہوا پیالہ آپ کو بھیجا۔ آپ اونٹنی پر سوار تھے، آپ نے دودھ نوش فرما لیا (بخاری) دوسری روایت میں یہی واقعہ ام المومنین سیدہ میمونہ سے منسوب ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے: ’’لوگ دیکھ رہے تھے (کہ آپ روزے سے نہیں ہیں)‘‘ (بخاری)۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ واقعہ ایک ہی بار رونما ہوا، اگرچہ اس کی نسبت دو خواتین کی طرف کی گئی ہے۔

ایک روز حضرت ام فضل آپ کی آنکھوں میں سرمہ لگا رہی تھیں کہ ان کی آنکھ سے ایک آنسو آپ کے رخسار مبارک پر ٹپکا۔ آپ نے سر اٹھا کر فرمایا: چچی، کیا ہوا؟ کہا: اللہ نے ہمیں آپ کی رخصتی کی خبر دی ہے۔ آپ آنے والوں کو وصیت کر دیتے کہ آپ کے بعد خلافت ہم کو ملے گی یا دوسروں کو؟ میرے جانے کے بعد تم مظلوم اور کمزور ہو جاؤگے۔

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض وفات میں سیدنا علی کو بلایا، سیدہ عائشہ کے کہنے پر حضرت ابو بکر، حفصہ کے کہنے پر سیدنا عمر کو اور حضرت ام فضل کے کہنے پر حضرت عباس کو بلایا۔ سب اکٹھے ہوگئے تو آپ نے نظر اٹھا کر دیکھا، لیکن خاموش رہے۔ یہ دیکھ کر سیدنا عمر نے سب کو پیچھے ہٹا دیا۔ آپ کو افاقہ ہوا تو حضرت ابو بکر کو نماز پڑھانے کا حکم دیا، پھر دو اصحاب کا سہار الے کر مسجد میں آئے اور سیدنا ابو بکر کی دائیں طرف بیٹھ کر نماز ادا فرمائی۔ (ابن ماجہ)

حضرت ام فضل اعلیٰ پائے کی خاتون تھیں، نبیﷺ نے فرمایا: چار بہنیں، مومنہ ہیں: حضرت ام فضل، حضرت میمونہ، حضرت اسماء اور حضرت سلمیٰ (الاستیعاب)

ایک بار آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت میمونہ حضرت ام فضلؒ اور ان کی بہنوں حضرت لبابۂ صغریٰ، حضرت ہزیلہ، حضرت عزہ، حضرت اسماء اور حضرت سلمیٰ کا تذکرہ ہوا تو فرمایا: یہ سب بہنیں پکی مومنہ ہیں (طبقات ابن سعد)۔

حضرت عبد اللہ بن عباسؓفرماتے ہیں کہ ان کی والدہ حضرت ام فضل نے انہیں نماز میں سورۂ مرسلات کی قرأت کرتے سنا تو کہا: بچے، تونے اس سورت کی تلاوت کر کے مجھے یاد دلا دیا ہے کہ یہ آخری سورہ تھی جو میں نے رسول ؐسے (آپ کے مرض وفات میں) مغرب کی نماز میں تلاوت فرماتے سنی (بخاری)۔

حضرت ام فضل سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھتی تھیں۔

عام روایات کے مطابق حضرت ام فضل رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر حضرت عباس سے پہلے عہد عثمانی میں وفات پائی، تاہم اس بات کی نفی کرنے کے لیے طبری کا یہ بیان کافی ہے کہ شہادتِ عثمان کے بعد حضرت ام فضل نے بنو جہینہ کے ظفر نامی شخص کو خط دے کر سیدنا علی کے پاس بھیجا۔ انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ کریب کو بھی کسی کام کے لیے معاویہ کے پاس شام بھیجا (مسلم)

حضرت ام فضل نے انس بن مالک سے گھڑے میں بنائے جانے والے انگو رکے شربت (نبیذ) کے بارے میں فتویٰ چاہا۔ انھوں نے اپنے بیٹے نضر کا عمل بتایا کہ وہ ایک گھڑے میں صبح کے وقت خشک انگور بھگوتا ہے اور شام کو ان کا شربت پی لیتا ہے (نسائی)۔ حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تازہ بنائی ہوئی ہوئی نبیذ تین دن تک پیتے اور بچ رہنے والی چوتھے دن بہا دیتے۔ (نسائی)

حضرت ام فضل نے نبیؐ سے کئی احادیث روایت کیں۔ بخاری میں ان سے مروی دو اور مسلم میں تین روایتیں ہیں، جن میں ایک متفق علیہ ہے۔ حضرت ام فضل سے روایت کرنے والوں میں شامل ہیں، ان کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت تمام بن عباس، حضرت انس بن مالک، حضرت عبد اللہ بن حارث، حضرت ام فضل کے آزادہ کردہ حضرت ابو عبد اللہ، حضرت عمیر بن حارث، حضرت قابوس بن ابو مخارق، حضرت عبد اللہ بن عباس کے آزاد کردہ حضرت کریب۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد وسیم اختر مفتی

Leave a Reply