حکیم لقمان: بہترین مربی مثالی باپ

حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں بہت مشہور ہیں، قرآن مجید میں ان کی نصیحتوں کو بہت خصوصیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اور خاص بات یہ ہے کہ مکی دور کی سورت میں ذکر کیا گیا ہے، اور اس سورت کا نام بھی سورہ لقمان رکھا گیا ہے۔ یاد رہے کہ مکی دور میں اہل ایمان تربیت کے انتہائی اہم مرحلے سے گزر رہے تھے، انہیں انسانی تاریخ کے بہترین لوگوں کی حیثیت سے تیار کیا جارہا تھا، اس وقت تربیت کا ہر مثالی نمونہ ان کے لئے بہت اہمیت رکھتا تھا۔

حضرت لقمان کی نصیحتوں کو محض حکمت کی کچھ باتیں سمجھنا مناسب نہیں ہوگا، یہ نصیحتیں ایک اعلی قسم کی تربیت کا جامع عنوان ہیں، ان نصیحتوں کے آئینے میں دیکھنا چاہئے کہ ایک حکیم اور دانا باپ نے اپنے بیٹے کی تربیت کس ڈھنگ سے کی تھی، اور ایک اعلی مشن کے لئے اسے کس طرح تیار کیا تھا۔

حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو ہر طرح کے شرک سے بچنے اور نماز کا خوب خوب اہتمام کرنے کی تربیت دی۔ اولاد کے اندر توحید کا سچا شعور پیدا کرنے کے لئے قدم قدم پر شرک کی حقیقت سے واقف کرانا ضروری ہوتا ہے۔ یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ شرک کے سلسلے میں اپنے بچوں کو اس قدر باشعور بنادیں کہ اگر وہ خود بھی کوئی ایسا حکم دیں جو بچوں کو منشائے الہی کے خلاف لگے تو بچے ماننے سے انکار کردیں۔

’’اللہ کی مرضی کے خلاف ہو تو والدین کی بات بھی نہیں ماننی چاہئے‘‘، یہ سبق کوئی اور نہیں بلکہ خود والدین اپنے بچوں کو یاد کرائیں اور اچھی طرح یاد کرائیں۔

سارے جھوٹے خداؤں سے کٹ کر صرف اللہ سے جڑ جانے کا عملی اظہار، سب سے پہلے اور سب سے زیادہ، نماز کے اہتمام سے ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ نماز نہیں پڑھتے ہیں، وہ اپنی عملی زندگی میں توحید اور تعلق باللہ کا کوئی ثبوت ہی نہیں رکھتے ہیں۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچپن سے ہی نماز کو بچوں کی شخصیت کا حصہ بنادیں، کہ اس کے بغیر خود انہیں اپنی زندگی زندگی نہیں لگے۔

نیکی اور اچھائی سے محبت کرنے والے اپنے بچوں کی تربیت کے لئے فکر مند رہتے ہیں، وہ انہیں اچھی باتیں اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں اور بری باتوں سے بچنے کی نصیحت کرتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے بچے کو اس کے لئے تیار کرنا کہ وہ لوگوں کو بھلائی کی تلقین بھی کرے اور برائیوں سے روکے، اور بچپن سے ہی اسے یہ فن بھی سکھادینا کہ دوسروں کو خیر کی تلقین کس طرح کی جائے، اس کی توفیق بہت کم لوگوں کو ملتی ہے۔ غرض اولاد کو نیک اور صالح بنانے کی فکر تو کہیں کہیں دیکھنے کو ملتی ہے، لیکن انہیں داعی اور مصلح بنانے کی فکر دور دور تک نظر نہیں آتی۔ داعی امت کی تیاری کے لئے ضروری ہے کہ امت کے والدین داعی نسلوں کو تیار کریں۔

حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کی ایسی تربیت کی کہ وہ نہ صرف خود نیکیوں کو اختیار کرے اور برائیوں سے بچے، بلکہ دوسروں کو بھی اچھائیاں اختیار کرنے اور برائیوں سے بچنے کی تلقین ونصیحت کرے۔ یہ تربیت کی معراج ہے، ہر ماں اور ہر باپ کو وہاں تک پہونچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اس کی تربیت بھی دی کہ اگر اچھی باتیں عام کرنے اور بری باتوں کی روک تھام کرنے میں تکلیفیں درپیش ہوں تو انہیں برداشت کرتے ہوئے اپنے موقف اور اپنے مشن پر صبر واستقامت کے ساتھ قائم رہے۔ جگر کے ٹکڑے کو مصیبتوں پر صبر واستقامت کی تلقین کرنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ اپنے بیٹے کے سلسلے میں محض یہ خیال کہ اس کو کسی کام میں شدید تکلیفیں پہونچیں گی، دل کو چیر کر رکھ دیتا ہے۔ تکلیفوں کے سارے امکانات کے باوجود ایسے کسی کام کو کرتے رہنے کی تاکید وہی باپ کرسکتا ہے جس کا ایمان چٹان سے زیادہ مضبوط ہو۔ اور جو اپنے جگر گوشے سے زیادہ اپنے رب سے محبت کرتا ہو، اور چاہتا ہو کہ اس کا نور نظر بھی اپنی جان سے زیادہ اپنے رب سے محبت کرے۔

حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کے اندر اعلی قسم کے داعیانہ اوصاف بھی پیدا کئے۔ ایک داعی کی چال کیسی ہونی چاہئے اور اس کی آواز کیسی ہونی چاہئے اس کی بھی بھرپور تربیت دی۔ اچھا انسان بننے کے لئے اپنی ہر ادا کو حسین ودلنواز بنانا ضروری ہوتا ہے۔ نہ چال میں بے اعتدالی ہو، اور نہ آواز گدھے کی آواز سے ملتی جلتی ہو۔

حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کے سماجی رویے پر خاص توجہ دی کہ اس کے اندر کسی طرح کا غرور وتکبر نہ آجائے، انہوں نے اپنے بیٹے کو تاکید کی کہ وہ اپنے دل کو بھی اور اپنے رویے کو بھی غرور کی کثافتوں سے پاک کرے۔ جب دل میں گھمنڈ ہوتا ہے تو عمل سے بھی تکبر کا اظہار ہوتا ہے۔ جس کے دل میں خود پسندی ہوتی ہے اسے فخور کہتے ہیں، اور جس کے رویے میں گھمنڈ ہوتا ہے اسے مختال کہتے ہیں، اللہ نہ فخور کو پسند کرتا ہے اور نہ مختال کو۔ انسان غرور وتکبر کو اپنے رویے سے ہی خارج نہ کرے، بلکہ اس کی جڑوں کو دل کے اندر سے اکھاڑ پھینکے۔

یہ خیال تو بہت لوگ رکھتے ہیں کہ ان کے بچوں میں احساس کمتری پیدا نہ ہو، لیکن بچوں میں گھمنڈ اور تکبر پیدا نہ ہو اس کی طرف بہتوں کی توجہ نہیں جاتی، بلکہ بچوں کو ہر وہ چیز فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے ان کے اندر کے احساس برتری کی نشوونما ہوسکے۔ بہت سے والدین اولاد کے اندر احساس برتری کو بڑھانے کا سامان کرتے ہیں، اور اولاد کو اپنے اندر کے احساس برتری کی تسکین کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ بچوں میں احساس کمتری پیدا نہ ہو اس کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے، لیکن بچوں کے دل میں کہیں احساس برتری جگہ نہ پالے اس کی فکر کرنا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔

والدین ایک عظیم مشن کے لئے بچوں کو تیار کریں، اور بچے والدین کے عظیم مشن کی تکمیل کو اپنے لئے باعث سعادت محسوس کریں اس کے لئے خود کو بھی اور اپنی اولاد کو بھی نمائش والی تربیت اور دکھاوے والی روش سے بہت اوپر اٹھانا ہوگا۔

حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو سکھایا کہ وہ لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے کس طرح پیش آئے۔ دیکھا گیا ہے کہ لوگ اس معاملے میں اپنوں اور غیروں کی تفریق کرتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنے کی تربیت دیتے ہیں جو ان کی نظر میں ان کے اپنے ہوتے ہیں، باقی لوگوں کے سلسلے میں وہ اس کا اہتمام نہیں کرتے۔ اصل حسن اخلاق وہ ہے جس میں اپنوں اور غیروں کی تفریق نہ کی جائے، اعلی اخلاق والا شخص ہمیشہ اور سب کے ساتھ با اخلاق رہتا ہے۔

جو سب لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آتا ہے، وہ اپنے والدین کے ساتھ اور زیادہ حسن اخلاق سے پیش آتا ہے، اور جس کے والدین دوسروں کے ساتھ برے طریقے سے پیش آنے کی تربیت دیتے ہیں یا اس طرح کی بداخلاقیوں کی خاموش تائید کرتے ہیں، اور پھر یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے بچے خود ان کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں گے، وہ خام خیالی میں رہتے ہیں۔ دوسروں کے ساتھ بدکلامی کرنے والے اکثر اپنے بزرگوں کی پگڑیاں بھی اچھال دیا کردیتے ہیں۔

جو لوگ اپنے بچوں کو اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی اچھی تعلیم دیتے ہیں، اللہ تعالی ان کے بچوں کے دلوں میں اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا جذبہ پیدا کردیتا ہے۔ سورہ لقمان پڑھئے اور غور سے دیکھئے حضرت لقمان کی نصیحتوں کے درمیان کس طرح اللہ تعالی نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی نصیحت کو اپنی طرف سے شامل کیا ہے۔

دنیا میں پھیلی خرابیوں کا ماتم کرنے والے اگر اپنی اولاد کے اندر معروف ومنکر کا شعور جگانے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا جذبہ پیدا کرنے پر خاص توجہ دیں تو یہ دنیا کو سنوارنے اور سماج کو سدھارنے کے کاموں میں ان کی طرف سے بڑی اہم حصہ داری ہوگی۔

اولاد کی تربیت کے سلسلے میں حضرت لقمان دنیا کے سارے انسانوں کے لئے بہترین نمونہ ہیں، اور ان کی نصیحتیں نئی نسلوں کی فکر کرنے والوں کے لئے انمول تحفہ ہیں۔

جن نوجوانوں کو اچھی تربیت دینے والے بزرگ کی تلاش ہو، وہ حضرت لقمان کو اپنا مربی اور سرپرست بنا سکتے ہیں۔ اس کے لئے انہیں بس ان نصیحتوں کو اپنا لینا ہوگا جو سورہ لقمان میں حضرت لقمان کی زبانی بیان کی گئی ہیں۔ یہ نصیحتیں قیامت تک کے لئے رہنما ہیں والدین کے لئے بھی کہ وہ بچوں کی تربیت کیسے کریں، اور بچوں کے لئے بھی کہ وہ اپنی شخصیت خود کیسے بنائیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محی الدین غازی

Leave a Reply