آلو

آلو

آلو وہ چیز ہے جسے پوری دنیا میں بے تحاشا استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ نہ جانے کس کس انداز سے آلو استعمال کیا کرتی ہیں۔انہیں پکا کر، ابال کر، تل کر۔اس آلو کے نہ جانے کتنے استعمال ہیں کہ جن کا اندازہ بھی محال ہے۔ آج دنیا کا کون سا انسان ہے جو آلو استعمال نہیں کرتا۔ لیکن کیا آپ جانتی ہیں کہ اب سے صرف دو سو سال پہلے برصغیر میں آلو نام کی کوئی چیز نہیں ہوا کرتی تھی۔ اسے انگریز اپنے ساتھ یورپ سے لائے تھے۔

شاید آپ کو یقین نہ آئے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ابتدا میں آلو کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ لیکن انیسویں صدی میں یہ سب سے اہم تجارتی غذا بن گیا تھا۔

آلو کا اصل وطن ساؤتھ امریکہ ہے۔ تقریباً اٹھارہ سو برس قبل یہاں آلو کی کاشت ہوئی تھی اور اب تقریباً ڈیڑھ سو اقسام کے آلو پائے جاتے ہیں۔ ان میں کھیتی کے بھی اور جنگلی دونوں طرح کے آلو ہیں۔

یہ ایک کم قیمت لیکن توانائی سے بھرپور غذا ہے۔ اس کے بے شمار فوائد ہیں۔ یہ بہت تیزی سے پروان چڑھتا ہے اور سال میں کئی بار کاشت کیا جاسکتا ہے چاہے موسم، آب ہوا اور مٹی کسی بھی قسم کی ہو۔

ان دنوں برصغیر آلو کی پیائش کا بہت بڑا مرکز تسلیم کیا جاتا ہے۔

آلو کے کئی نام ہیں۔ اسپین کے لوگ اسے ’’لو ایپل‘‘ کہا کرتے ہیں۔ ان کے خیال میںچوں کہ یہ ہر ایک کو راس آجاتا ہے اس لیے ’’لو ایپل‘‘ ہے۔

پوری دنیا میں آلوؤں کا ایک وسیع استعمال پوٹاٹو چپس ہیں جو بچے سے لے کر بوڑھے تک شوق سے کھاتے ہیں اور بطور فیشن استعمال ہونے لگا ہے۔ سب سے پہلے یہ چپس ایک امریکن انڈین باورچی نے بنائے تھے جس کا نام جارج کرمب تھا۔ اس نے یہ تجربہ سارا ٹوگا نامی شہر میں کیا تھا، اس کا نام سارا ٹوگا چپس رکھا گیا تھا۔

اس کی چوں کہ غذائی اور تجارتی اہمیت بہت زیادہ ہے اس لیے پوری دنیا میں اس پر تحقیق کے کئی ادارے وجود میں آگئے ہیں جو آلوؤں کی بہتر سے بہتر اقسام پر تجربے کرتے رہتے ہیں۔ آلوؤں پر بین الاقوامی تحقیقی ادارے کا نام انٹرنیشنل پوٹاٹو ریسرچ سینٹر (IPRC)ہے ۔ آج کل آلوؤں پر ایسی تحقیقات ہو رہی ہیں کہ ان میں کم سے کم مقدار میں بیج ہوں اور زیادہ سے زیادہ پیداوار۔

آلوؤں کی سال میں دو بار کاشت کی جاتی ہیں ۔ پہلی بار ستمبر، اکتوبر کے مہنوں میں اور دوسری بار بہار یعنی جنوری کے مہینہ میں۔

آلو نہ صرف لذیذ اور بھرپور غذا ہے بلکہ اس کے طبی خواص بھی ہیں۔ ان کا استعمال بھرپور توانائی بھی دیتا ہے اور بہت سی بیماریوں سے محفوظ بھی رکھتا ہے جیسے خون کی کمی، کینسر کے خلاف مدافعت وغیرہ۔

قدرت نے آلوؤں کی شکل میں ہمارے لیے کئی اقسام کے خزانے پوشیدہ کردیے ہیں۔

عام انداز سے پکائے ہوئے آلوؤں کی توانائی ہمیں مندرجہ ذیل فوائد پہنچا سکتی ہے۔

* ہمارے جسم کو روزانہ ایک خاص مقدار میں Ribof*avin B2 کی ضرورت ہوتی ہے جو الوؤں کے استعمال سے مل جاتی ہے۔

* اس میں Thiamine B1 ہوتا ہے جو ہماری غذائی ضرورت سے تین چار گنا زیادہ مل جاتا ہے۔

* اس میں فولاد پایا جاتا ہے۔

* اس میں دس گناہ وٹامن سی پایا جاتا ہے۔

* اس میں چکنائی اور نمکیات نہیں ہوتیں اور کیلے سے زیادہ پوٹاشیم موجود ہوتا ہے۔

* اس میں موجود پروٹین کا تقابل بہ آسانی انڈوں اور دودھ میں موجود پروٹین سے کیا جاسکتا ہے۔

* جسمانی نشو ونما اور بڑھوتری کے لیے بنیادی امینو ایسڈ جیسے لائزن اور میتھونائن کی ضرورت ہوتی ہے اور خوش قسمتی سے یہ اجزاء آلووں میں پائے جاتے ہیں۔ جب کہ یہ اجزاء کئی قسم کے دالوں میں موجود نہیں ہوتے۔

* اگر آپ کے جسم کو زائد فائبر (ریشے) کی ضرورت ہے تو بلا تکلف آلوؤں کا استعمال کریں۔ آلوؤں میں فائبر بھی موجود ہے۔

* آلوؤں میں ایک اور مادہ Betacatotene بھی موجود ہوتا ہے جو کینسر کی چند وجوہات کے خلاف مدافعت فراہم کرتا ہے۔

* آلوؤں میں اسّی فیصد پانی بھی ہوتا ہے جو اس کو غذا کے طور پر جاری کر دیتا ہے۔

بہت دنوں تک لوگ اپنے وزن میں اضافے کا الزام آلوؤں پر لگاتے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ آلوؤں کے استعمال سے وزن بڑھ جاتا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پکے ہوئے آلوؤں میں کیلوریز کی وہی مقدار ہوا کرتی ہے جو ایک گلاس موسمی یا کیلے کے رس میں ہوا کرتی ہے۔

اس لیے اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ وہ کلوریز کی مقدار میںکمی کرتا جائے تو وہ صرف آلو استعمال کر کے دیکھ سکتا ہے۔ آلوؤں سے اس کا وزن کم ہوتا چلا جائے گا۔

اصل بات یہ ہے کہ آپ آلوؤں کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ پکا کر، ابال کر یا تل کر۔ یہ طریقے کیلوریز کی زیادتی یا کمی کا سبب بنتے ہیں۔ ان کے لیے آلوؤں پر الزام نہیں لگایا جاسکتا۔

بہت سے لوگ آلوؤں کو مختلف انداز سے استعمال کرتے ہیں۔ بھرتہ بنا کر، پکاکر یا فرینچ فرائز کی صورت میں۔ تحقیق کرنے والوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ آلوؤں میں وافر مقدار میں کاربو ہائیڈریٹ ہوتا ہے جو جسم او رذہن کو ریلیکس کرتا ہے اور انسانی موڈ میں خوش گوار تبدیلی پیدا کرنے کا باعث ہے۔

ان تمام خوبیوں سے الگ ہٹ کر آلوؤں کو پسند کرنے والوں کے لیے ایک خطرہ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں موجود شوگر کی زیادہ مقدا رنقصان دہ بھی ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر بلڈ شوگر کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

آلو استعمال کرنے کے فورا بعد ہی اس کا ریشہ شوگر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اب چند لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اس کو متوازن بنانے کے لیے اسے روٹی اور پاستا کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے جب کہ سبزیوں کے ساتھ استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔

میڈیکل ماہرین آج کل اس قسم کی تحقیق میں مصروف ہیں کہ آلوؤں سے انسانی زندگی کو براہ راست فائدے پہنچانے والی دوا ایجاد کی جائے جو کم خرچ بھی ہو اور بالا نشین بھی۔ مثال کے طور پر ہائی بلڈ پریشر، گردوں اور امراض قلب کی دواؤں پر آلوؤں کے حوالے سے بہت کام ہو رہا ہے۔ اس قسم کی دوا کے استعمال میں کسی قسم کے ضمنی نقصانات کے اندیشے نہیں ہوتے۔ اس لیے انہیں بلا تکلف استعمال کیا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر حاملہ خواتین بھی استعمال کرسکتی ہیں۔

کئی گروپ ایسے ہیں جو آلوؤں سے مختلف قسم کی ویکسین بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان میں سب سے موثر اور مفید ویکسین ڈائریا کے لیے ہے۔ اس کے لیے بیکٹیریم سے ایک جین لی جاتی ہے جسے آلو کی جین کے ساتھ شامل کردیا جاتا ہے۔ ان دونوں کے اشتراک سے جو جین پیدا ہوتی ہے اس کے خلاف اینٹی جین یا پروٹین پیدا کیا جاتا ہے۔

جب انسان اس آلو کو استعمال کرتا ہے تو اس کے جسم میں اینٹی باڈیز پیدا ہوتی ہیں جو ڈائریا کے خلاف مضبوط مدافعت کرتی ہیں۔ صرف ڈائریا ہی نہیں بلکہ آلو کی مدد سے اور مختلف قسم کی بیماریوں کی ویکسین پر کام ہو رہا ہے۔ جیسے کالرا، ڈیپتھیریا، ٹاٹنس اور ہیپا ٹائٹس بی اور کالی کھانسی۔

ابتدائی تجربات سے یہ اندازہ ہوا ہے کہ جن آلوؤں میں اس قسم کی مدافعاتی ویکسین موجود ہے وہ ابالنے یا پکانے سے تباہ نہیں ہوتی۔ بلکہ اس حال میں بھی اپنا وجود برقرار رکھتی ہے۔

موجودہ ترقی یافتہ دنیا میں آلوؤں کی مدد سے ایسی ویکسین بھی تیار کی جا رہی ہے جسے مریض کو باقاعدہ ڈراپ وغیرہ کی شکل میں پلایا جائے گا۔

کیلی فورنیا یونیورسٹی کے ڈاکٹر لوما آلوؤں کے ذریعے ان ہی خطوط پر کام کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں ابتدائی تجربات کے ذریعے انسانی انسولین پر کام بھی ہوچکا ہے۔ اگر اس میں کامیابی ہوگئی تو اس کے لیے ہمیں آلوؤں کا شکر گزار ہونا پڑے گا۔

آلوؤں کے ساتھ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ کبھی کسی مہمان کے سامنے شرمندہ نہیں ہونے دیتے۔ اس کی تیاری بہت آسان ہوتی ہے۔ یہ صحت مند اور سستی خوراک ہے جو بہت جلدی تیار ہوجاتی ہے۔ ہمارے یہاں شاید ہی کوئی ایسا سالن ہو جو اس کے بغیر تیار ہوتا ہو۔

چند تدابیر اختیار کر کے آپ بھی آلوؤں سے بہت متفرق فوائد حاصل کرسکتی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اسے پکاتے ہوئے آپ کتنی احتیاطی تدابیر اختیار کرتی ہیں۔

ان میں سے چند یہ ہیں:

* آلوؤںسے داغ دھبے اور سڑے گلے کا نشان کاٹ کر الگ کر دیا جائے۔

* اگر مناسب ہو یا جہاں تک ممکن ہوآلوؤں کو اس کے چھلکے سمیت پکایا کریں، کیوں کہ ان کے چھلکوں میں بہت غذائیت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس طرح پکانے سے تیل بھی کم خرچ ہوتا ہے۔

* اگر چھلکے الگ کر رہی ہوں تو بہت باریک پرت اتاریں۔ زیادہ گہرے چھلکے نہ اتاریں کیوں کہ چھلکوں کے بالکل نیچے ہی وٹامنز اور معدنیات ہوتے ہیں۔

* جب ٹکڑے کریں تو کوشش کریں کہ ٹکڑوں کا سائز تقریباً ایک جیسا ہو۔

* آلوؤں کو کم پانی میں پکایا کریں تاکہ ان کی غذائیت ان ہی میں جذب ہوتی رہے۔ پانی زیادہ ہوجائے تو اسے پھینکنے کے بجائے پی جایا کریں،یہ بہترین سوپ ہے۔

* آلوؤں کو پکانے میں بیکنگ پاؤڈر استعمال نہ کریں یہ آلوؤں میں موجود وٹامن بی کو ضائع کر دیتا ہے۔

میرا خیال ہے کہ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد آپ کو آلوؤں کی افادیت کا اندازہ ہوگیا ہوگا۔

شیئر کیجیے
Default image
ثنا منظر

Leave a Reply