سامراجی عہد کی اعلیٰ تعلیم گاہیں

ہندوستان نے اپنی تعلیم گاہوں کو قیمتی اثاثہ کا درجہ دیا ہے۔ وہ ہمیشہ ان اداروں کے کردار و خدمات کا اعتراف کرتا اور ان کے لئے خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ یہ سارے ادارے اپنی جگہ مستقل بالذات، خود مختار اور قابل ذکر اعتبار رکھتے ہیں۔

پوری دنیا میںسب سے پہلی یونیورسٹی کے قیام کا شرف اسی ہندوستان کو حاصل ہے۔ پانچویں صدی عیسوی میں دنیا کی سب سے پہلی یونیورسٹی ’’ ٹاکسالہ یونیورسٹی‘‘ کا قیام عمل میں آگیا تھا۔ اور پرتگالی، ڈنمارکی اور پھر برطانوی سامراجی حکومت کے دوران انیسویں صدی کے آغاز سے ہی ہندوستانی نظام تعلیم نے یونیورسٹی کے اس جدید تصور کا اعتراف کر لیاتھا۔

ان قدیم ہندوستانی تعلیم گاہوں میں سے بعض اپنی عمر کے دو سو سال کے قریب ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض دنیا کے چنندہ اداروں کے زمرہ میں شامل ہیں، جو صرف اپنی تعلیمی و اکادمی نقطئہ نظر سے چنندہ نہیں بلکہ اپنی طرز تعمیر کے اعتبار سے بھی یگانہ ہیں۔

ہندوسانی تعلیم ما قبل سامراجیت

سامراجی عہد سے قبل کا دور خالص ہندوستانی نظام تعلیم کے بناء پر ایک شہرہ رکھتا تھا، جس میں ’’گروکل‘‘ کے نام سے مشہورایک طریقہ تعلیم تھا جو غیر مسلم بچے بچیوںکو تعلیمی فراہمی کا فریضہ انجام دے رہا تھا جبکہ مسلم طلباء کے لئے مدارس و مکاتب تعلیمی خدمات پیش کر رہے تھے۔ لفظ ’’گروکل‘‘ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ پرائیوٹ مدارس کا ایک طرز تعلیم تھا جس میں طلباء گرو یا معلم سے جڑ کر اپنی زندگی گذارتے تھے بلکہ بیشتر وہ لوگ ایک ہی چہار دیواری کے اندر ہا کرتے تھے۔ برطانوی حکومت سے قبل یہ مدارس مرکزی تعلیمی ادارے سمجھے جاتے تھے جنکو تمام ادیان و مذاہب کے ماننے والوں ہندئوں، سکھوں، جینیوں اور بوذیوں کے مابین یکساں طور پر قدر و مقبولیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

اس رائج نظام تعلیم میں ٹکنالوجی اور دیگر علوم سے زیادہ ز بان و ادب کی تعلیم پر زور دیا جاتا تھا۔اور اس وقت جب برطانوی لوگ بحیثیت تاجران ہندوستان آئے تو فارسی یہاں کی سرکاری زبان تھی، چنانچہ ادیان و مذاہب سے صرف نظر تمام لوگ کیا ہندو کیا مسلمان بڑی دلچسپی و یکسوئی سے فارسی زبان سیکھتے تھے تاکہ اس ملک میں انہیں اچھی نوکری اور اعلی عہدہ مل سکے۔

ہندوستانی تعلیم پر برطانوی اجارہ داری

باوجودیکہ سرزمین ہند پر برطانیوں کا تسلط تھا، اور ساتھ ہی انکو سیاسی امور میں بھی کامل دسترس تھی پھر بھی سن 1813ء تک اس نظام تعلیم میں ان لوگوں کی کوئی مداخلت نہیں ہوئی تھی، لیکن یہ سال گذرنے کے بعد چند ضمیر فراموش ہندوستانیوں کے تعاون سے برطانوی حکمرانوں نے ہندوستان میں مغربی نظام تعلیم کو باقاعدہ منظوری دے دی، اور سن 1835 ء میں یہاں کی سرکاری زبان فارسی کے بجائے انگریزی کردی گئی۔ چنانچہ انگریزی زبان کی کتابیں سستی قیمتوں پر فروخت کی جانے لگیں اور انگریزی زبان کی تعلیم کو استحکام دینے کے لئے خصوصی مالی مراعات دی گئیں جبکہ مشرقی زبانوں کی تعلیم کے لئے مختص مالی مراعات کا دائرہ سکوڑ دیا گیا۔

سامراجی عہد کی ممتاز تعلیم گاہیں

برطانوی عہد میں قائم شدہ بعض یونیورسٹیاں آج بھی ہندوستان کے اندر سرگرم و فعال ہیں ۔ اور برابر یہ ادارے ترقی پذیر ہیں اوراس ملک میںبلندپایہ عقلاء و دانشوران پیدا کررہے ہیں۔ قابل نظر بات یہ ہے کہ ہندوستان کی بیشتر جدید درسگاہیں جنگی بنیاد سامراجی حکومت کے زیر سایہ پڑی تھی ،ریاست بنگال میں پھیلی ہیں، جو ملک کے مشرقی حصہ میں ہے اور آج ہندوستان سے الگ مستقل ایک حکومت ہے۔

’’ سیرام پور کالج‘‘ کو ہندوستان کا سب سے قدیم ترین ادارہ سمجھاجاتا ہے جوآج تک اپنا کام بخوبی انجام دے رہا ہے۔ سن 1817 ء میں ڈنمارکی حکومت کے زیر سایہ اس کا قیام عمل میں آیااور بادشاہ فریدرک سادس نے اس کے افتتاحی جلسہ کی صدرات کی، پھر 1845 ء میں اس یونیورسٹی کا انتظام کار برطانوی ہاتھ میں چلا گیا۔سیرام پور کالج کی ’’کیری لائبریری‘‘ میں 16 ہزار نادر کتابیں ہیں ، جہاں دنیا کے کونے کونے سے جویان علم وفن استفادہ کی غرض سے تشریف لاتے اور اپنی علمی تشنگی بجھاتے ہیں۔ عیسائی مشنریوں کے علمبرداران جوشوا میرشمان، ویلیم کیری اور ویلیم وارڈ نے اس ادارہ کی بنیاد رکھی، ان لوگوں کی نسبت سے اس ادارہ کو’’ سہ رخی سیرامپور‘‘ کہاجاتاہے۔ اس ادارہ کا مقصد تھا کہ زبان وادب اور علوم وفنون کے تمام میدانوں میں بلا فرق و امتیاز تمام طبقات انسانی کو بہتر تعلیمی خدمات فراہم کی جائیں۔

پریزڈینسی یونیورسٹی

یہ یونیورسٹی ایشیاکا جدید اعلی تعلیم کے میدان میں ایک قدیم ترین تعلیمی مرکز ہے۔ 1817 ء میں اس کا قیام عمل میں آیا، یہ شہر کولکتہ میں واقع ہے جو برطانوی دور میں ہندوستان کی راجدھانی تھا۔ ابتداء میں یہ کالج ’’ ہندو کالج ‘‘ کے نام سے معروف تھا پھر 1855 ء میں اس کا یہ نام بدل کر’’پریزڈینسی کالج آف بنگال‘‘ ہوگیا۔ اس کی بنیاد و تاسیس کی فکر ایک میٹنگ میں سامنے آئی جو 1816 ء میں ہندوستان کے سپریم کورٹ کے قاضی القضاۃمسٹر اڈوارڈ ہیڈ ایسٹ کی دعوت پر ان کے گھر میں بلائی گئی تھی، جس میں اس وقت کے ہندو یورپ کی نابغہ روزگار ہستیاں شامل تھیں۔ اس اجتماع کا مقصد ایک ایسے ادارہ کے قیام کی تجویز پر بحث مباحثہ کرنا تھا جو غیر مسلم بچے بچیوں کو آزاد اور لیبرل تعلیم کی فراہمی کی انجام دہی کرے ۔ جنوری1817 ء میں باقاعدہ سرکاری طور پر اس یونیورسٹی کا افتتاح ہوا اور اس وقت 20 پروفیسران و اساتذئہ فن کی بحالی ہوئی ، اور اس نئی یونیورسٹی میں بیشتر طلباء ان مالدار گھرانوں سے تھے جو ترقیاتی و انقلابی افکار کے حامل تھے ، اس کے ساتھ ساتھ مسلمان، عیسائی و یہودی بچوں کو بھی یہاں ایک مقام ومرتبہ حاصل تھا۔

کولکاتا یونیورسٹی

یہ خوبصورت اورپرشور شہر کولکتہ میں واقع ہے۔ اس یونیورسٹی کے چار افراد ایسے ہیں جنہوں نے نوبل پرائز حاصل کیا، اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی تعلیمی درجہ بندی کی رپورٹ کے مطابق یہ ادارہ مشرقی جنوبی ایشیاکا سب سے ممتاز ادارہ ہے۔

سن 1857 ء میں اس وقت کے ہندوستان کے حاکم لورڈ کانینگ کے ہاتھوں اس کا قیام ہوا ،یہ جنوبی ایشیا کے مختلف الجہات تخصصات کی مغربی سیکولر طرز پرمبنی اعلی تعلیم کا سب سے پہلا ادارہ شمار کیا جاتا ہے۔ اس کا طول و عرض ایک وسیع رقبہ میں ہے، اس کے ممتاز ترین اور فائق فارغ التحصیل دانشوران میں ہندوستان کے مشہور مصلح سوامی ویویکانند، انگلش زبان کے شاعر باکمال، نوبل پرائزپانے والے ربندرناتھ ٹیگور، ہندوستان کے پہلے صدر راجندر پرساد، نوبل انعام کے حامل معاشیات کے ماہر امرتیاسین، ہندوستان کے معروف کریکٹراور سابق کپتان سوربھ گانگولی، ہندوستان کے موجودہ صدر پرنب مکھرجی اور نائب صدر حامد انصاری قابل ذکر ہیں۔ یہ مشرق میں اپنی نوعیت کاپہلا منفرد ادارہ ہے جس نے یوروپی زبان و ادب ، یوروپی و ہندوستانی فلسفہ اور مشرقی تاریخ کی تعلیم و تدریس پر خاصی توجہ دی۔

آئی۔ آئی۔ ٹی۔ روڑکی

یہ ہندوستان کا نہایت فائق تعلیمی مرکز ہے۔ یہ ہمالیہ کے قریب واقع ہے اور 169 سال پرانا ہے۔ سن1847ء میںاس کی بنیاد پڑی، یہاں سے ملکی پیمانہ پر چوٹی کے علم وفن کے ماہرین اور دانشوران پیدا ہوئے۔ روڑکی یونیورسٹی برطانوی شہنشاہیت کے معیار پر سب سے پہلا انجینئرنگ کالج ہے، اس کے کیمپس میں موجود تمام مذاہب کی عبادت گاہیں مسجد و مندر، چرچ و گرجا کی وجہ سے یہ ممتاز ہے۔ یہ ادارہ ہندوستانی اعلی تعلیم کے اداروں کے مابین تعلیمی وتربیتی درجہ بندی میں سب سے اوپر کا مقام رکھتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ سامراجی عہد میںعام نسل پرستی کے رنگ سے بھی خالی نہ رہ سکا، چناںچہ یہاں انجینئر کاعہدہ صرف اور صرف یوروپین کو دیا جاتا تھا جبکہ معاون انجینئر کا مرتبہ یوروپی و ہندوستانی دونوں کے مابین بٹا ہوا تھا اور ہندوستانیوں کے لئے سب سے ادنی درجہ کی انجینئررنگ مخصوص تھی۔

ممبئی یونیورسٹی

یہ ادارہ ہندوستان کی قدیم ترین اداروں میں سے ایک ہے۔ سن 1857 ء میں ا س کا قیام عمل میں آیا ، یہ ریاست مہارشٹرا کے شہر ممبئی میں واقع ہے ۔ سن 1996 ء تک اس کا نام بمبئی یونیورسٹی تھا پھر ممبئی یونیورسٹی ہو گیا ۔

دنیا کے ارب پتیوں کے عنوان پر جاری حالیہ سروے کے مطابق ارب پتیوں کی ایک بڑی تعداد اسی ادارہ کی تعلیم یافتہ ہے، جو کہ امریکہ کے باہر کسی بھی دوسرے یونیورسٹیوں کے مقابلہ میں زیادہ ہے ، اور یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس ادارہ کے 13 فارغ التحصیل ارب پتی ہیںجس کی بناء پر یہ ادارہ سیاسی علوم و معاش کے لئے لندن یونیورسٹی، کولمبیا یونیورسٹی بلکہ ٹکنالوجی کے لئے ماسا ٹشوستس انسٹی ٹیوٹ سے اوپر دنیا میں نویں پائیدان پر براجمان ہے۔ جبکہ بنسلفانیایونیورسٹی 25 ارب پتیوں کے ساتھ سرفہرست اورہارورڈ 22 کے ساتھ اس کے بعدہے۔

جان ویلسون کے ہاتھوں اس یونیورسٹی کا وجود عمل میں آیا، جو برطانیہ میں موجود یونیورسٹیوں کے طرز پر اس کی تعمیر و تشکیل کے خواہاں تھے ۔ اس کی تعمیری ڈیزائینگ میں قوطی طرز تعمیر غالب ہے۔ اس کا رقبہ 230 ایکڑ میں پھیلا ہوا ہے، اور یہ سیر و سیاحت کے اعتبار سے دنیا کی مشہور جگہوں میں سے ایک ہے ۔

مدراس یونیورسٹی

1857 میں اس کی بنیاد پڑی، اور ہندوستان کے اندر اس کو بڑی شہرت ملی۔ بے شمار ارباب علم و فن اس ادارہ سے کسب فیض کرکے مختلف ادوار میں دنیا کے مشاہیر بنے جیسے ایس۔ رامانوجان جن کو ہندوستان کا سب سے پہلا ماہر ریاضیات کہا جاتا ہے ، نوبل انعام حاصل کرنے والے مسٹر سی، وی، رمن ، ہندوستان کے دوسرے صدر ایس، رادھا کرشن ، ہندوستان ہی کے گیارہوے صدر ڈاکٹر اے، پی، جے عبدالکلام ، شطرنج کے مشہور کھلاڑی ویشوناتھ انند اور پیپسی کمپنی کے چیئرمین اندر انووی ہیں۔

نیشنل کونسل فار اسسمنٹ و سرٹیفکیشن نے اس یونیورسٹی کوفائیو اسٹار(5-Star) کے اعزاز سے نوازا ہے۔ اسی طرح یہ انیسویں صدی کے روبرٹ فلیز ٹشیشولم کا ڈیزائن کیا ہوا طرزِ تعمیر کا ایک مرقع ہے ۔

علی گڑھ یونیورسٹی

اختصار میں اس کو اے، ایم، یو کہاجاتا ہے ۔ اس کے بانی مبانی سر سید احمد خان کی فکر پر سن 1875 ء میں اس کا قیام عمل میں آیا۔ شروع شروع میںیہ ’’ مدرسۃ العلوم ہندو مسلم‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا ، پھرکچھ ہی دنوں کے بعد یہ نام بدل کر ’’ محمڈن کالج انگلو- شرقی‘‘ ہوگیا۔ اس یونیورسٹی کا قیام اس فکر پر عمل میں آیا تھا کہ مسلمانوں کو اونچی تعلیم سے آراستہ کیا جائے اور انہیں ا س قابل بنایا جائے کہ وہ ایوان حکومت اور سرکاری دفاتر میں اعلی سے اعلی عہدہ پا سکیں اور اس طور پر ان کو تیار کیا جائے کہ وہ یورپ کی بڑی سے بڑی یونیورسٹیوں میں آسانی سے داخلہ پا سکیں۔ یہ ملک میں قائم ہونے والے چوٹی کے پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے ۔

الٰہ آباد یونیورسٹی

یہ برصغیر کی سب سے قدیم یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ بنیادی طور پر اس کا تعلیمی توسط انگلش ہے۔ یہ ادارہ اپنی شہرت کے اس بام عروج پر پہنچا کہ اس کو ’’ مشرق کا آکسفورڈ‘‘ کہا جاتا ہے، اس کی تعمیرات ہندوستانی، قوطی،مصری طرز تعمیر کا مرقع ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
تحریر: پراکرتی گپتا ترجمہ: اشرف علی ندوی

Leave a Reply