کچھ دوسروں کے لیے بھی

ہر نئے سال کے آغاز پر ہم بیت جانے والے برس پر نظر ڈالتے ہیں اور کامیابیوں اور ناکامیوں کا شمار کرتے ہیں۔ اس کے بعد سال نو کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور ترجیحات کا تعین ہوتا ہے۔ نئے سال میں نئے عزم اور مقاصد کو مدنظر رکھ کر اپنی نئی حکمت عملی مرتب کرتے ہیں کہ اس سال فلاں منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے یا فلاں معرکہ سر کرنا ہے۔ بعض لوگ اپنی صحت یا عادات کے حوالے سے بھی اہداف چنتے ہیں کہ صبح سویرے اٹھنا ہے، اتنا وزن کم کرنا ہے یا فلاں عادت ترک کرنی ہے وغیرہ۔

کچھ لوگوں کو اس سال اپنی تعلیم مکمل کرنی ہے یا پھر اپنی اور کسی خواہش کی تکمیل کی طرف بڑھنا ہے۔ کیوں نا اس برس سال بھر کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے سوچ کے زاویوں کو ایک نیا انداز دیں۔ اپنے حقیقی عزائم و مقاصد سے وقت کی دھول کو صاف کر کے اس سال کی حکمت عملی مرتب کریں۔ یہ حقیقت ہے کہ انسانی نفسیات میں ٹھہراؤ نہیں ہے، اس لیے جو حاصل ہو، اس پر قناعت یا شاکر ہونا بہت کم لوگوں میں دکھائی دیتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہمیشہ اپنے سے نیچے کی طرف دیکھو، تاکہ نعمتوں کی قدر ہو۔ ذرا اسپتال میں بستر مرگ پر پڑے کسی مریض کا تصور کریں کہ اس بے چارے کی آخری خواہش کیا ہوگی۔ چشم تصور سے خود کو اس کی جگہ رکھیں اور غور کریں۔ کتنے ہی حقوق و فرائض کی انجام دہی ہے کتنے رشتوں کو منانا ہے، کسی کو قرض کی ادائیگی کرنی ہے تو کسی کا حق غصب کرلیا اس سے معافی مانگنی ہے۔ عبادت خداوندی میں کتنے فرائض سے غفلت برتی۔ غرض لمحوں میں نگاہوں کے سامنے یکے بعد دیگرے کئی مناظر گھوم جائیں گے۔ احساس ندامت و پشیمانی گھیر لے گی۔ ہم کس کس خواب غفلت میں رہے اب تک کہ زندگی کی مہلت کو طویل جانتے ہوئے کون کون سے اہم کاموں کو کل پر ٹالتے رہے۔ اگلے جہاں کے لیے ہمارے کھاتے میں کیا موجود ہے؟ یقینا یہ سوچ ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے، لیکن شکر بجا لائیے کہ ابھی وقت ہے۔ ان تمام غفلتوں کا ازالہ ممکن ہے۔ سال کے آغاز میں ہی ڈائری میں اپنے یہ تمام امور تحریر کریں۔ اس برس کی منصوبہ بندی یہی ہو کہ اب کے برس ان سب کی انجام دہی کرنی ہے۔

کم از کم ہر روز ایک نیکی کرنے کا عزم کریں اور ڈائری کے ہر صفحے پر یہ مختص کرلیں کہ یہ اس روز کی نیکی ہے اور پھر ان کی حفاظت کرنی ہے۔ محض زبان کے چٹخارے کے لیے چند لمحوں کی غیبت سے اپنی نیکیوں کے کھاتے کو خالی نہیں کرنا ہے۔ اپنے اخلاق کی اصلاح کرنی ہے، کسی کا حق بھی تلف نہیں کرنا ہے، کسی کا دل نہیں دکھانا ہے۔ اب کے برس کم از کم کوئی ایک کام ایسا ضرور کرنے کا عزم کریں، جو صدقہ جاریہ بن جائے۔ ہر اچھا کام، اچھا رویہ اور اچھا اخلاق رنگ و نسل، مذہب و مسلک کی تفریق سے بالا تر ہوکر سب سے روا رکھنے کی کوشش کریں۔

ہم میں سے ہر شخص کسی کام، کسی ہنر، یا کسی فن میں ضرور مہارت رکھتا ہے لیکن اکثر لوگ اس کو خود تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم اسے دوسروں تک منتقل کر دیں یا کم از کم کسی ایک شخص کو بھی سکھا دیں، تو شاید یہ کسی کے لیے ذریعہ روزگار بن جائے۔ روز مرہ زندگی سے اس کی ایک مثال لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی خاتون اچھا کھانا پکانا جانتی ہیں، اگر وہ اپنی کھانوں کی تراکیب کسی دوسری خاتون کو سکھا دے، تو ہر دفعہ جب وہ خاتون کھانا پکا کر اہل خانہ کی داد و ستائش وصول کرے گی تو یہ امر آپ کے لیے براہ راست اجر کا سبب بنے گا۔ یاد رکھیے کہ ہمارا ہر اچھا عمل صدقہ کہلاتا ہے۔

اسی طرح وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی چیز دوسری خواتین کو استعمال کے لیے دینا بھی ایک بڑی نیکی ہے۔ بہت کم خواتین اس کا مظاہرہ کر پاتی ہیں۔ زیور، کلپ، کپڑے، دو پٹے سے جوتے تک کوئی بھی چیز چند گھنٹوں کے لیے بھی کسی کو دینے کی روا دار نہیں ہوتیں۔ اس حوالے سے شاید ان کی یہ شکایت کوئی غلط بھی نہیں ہوتی کہ ہم اپنی چیز کی جس طرح حفاظت کرتے ہیں، دوسرے کی چیز سے اتنی زیادہ ہی بے پروائی برتتے ہیں، جب کہ اصولاً پرائی چیز کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ دینے والی خواتین اپنی اس شکایت کو بہت نرمی سے سامنے والی خاتون کے گوش گزار کرا سکتی ہیں کہ فلاں چیز کے استعمال میں اس بات کو ملحوظ رکھنا ورنہ یہ خراب ہوجائے گی۔

اگر کوئی چیز اب آپ کے استعمال کی نہیں اور اس سے کسی دوسرے کا بھلا ہو جائے گا، تو اس کے لیے بھی ضرورآگے بڑھیے۔ اکثر خواتین طرح طرح کے کپڑے تیار تو کر لیتی ہیں، لیکن پھر ایک یا دو بار پہننے کے بعد ان کی باری ہی نہیں آپاتی کہ رواج ہی بدل جاتا ہے۔ اس لیے کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ اس دوران اسے دیگر خواتین پہن کر قیمت وصول کرلیں، اس سے دوسرے کی بھی بچت ہوگی اور چیز بھی ضائع نہیں ہوگی۔

کچھ خواتین کی الماریوں میں ایک عرصے تک ان کے جہیز اور بری کے ملبوسات پڑے رہ جاتے ہیں، شادی کے بعد بھاری کام دار کپڑے نہیں پہنتیں۔ تو کیا ہی اچھا ہو کہ اسے بروقت ایسی خواتین کو دے دیا جائے، جو اس سے استفادہ کر سکیں۔ کسی مستحق دلہن کو اگر یہ عروسی ملبوس مل جائیں تو سوچئے کس قدر خوشی کی بات ہے۔ اسی طرح کچھ بچوں کے کپڑے بھی چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ انہیں بھی بروقت کسی کو دینے سے نہ صرف آپ سگھڑ کہلائیں گی، بلکہ آپ بہت سی نیکیاں بھی سمیٹ سکتی ہیں۔ اگر کوئی ٹھٹھراتی سردی میں آپ کے دیے ہوئے سوئٹر یا شال اوڑھ کر آرام محسوس کرے گا، چند لمحوں کے لیے صرف ان کے دل کے احساسات اور چہرے پر پھیلے اطمینان کے رنگوں کا تصور کریں، اس سے سچی خوشی کا احساس ہوگا۔

باورچی خانے میں برتنوں کا جائزہ لیں اور تمام فالتو برتن الگ کرلیں۔ وہ تمام برتن جو برسوں سے زیر استعمال نہیں۔ کسی ایسے کو دے دیں جس کے گھر میں ان کی ضرورت ہو۔ بچوں کے اسکول کی پچھلی جماعتوں کی کتابیں، بستے وغیرہ سے لے کر گھر بھر میں بے شمار سامان ایسا ہوتا ہے، جو ہم برسوں سنبھال کر رکھتے ہیں۔ جس کی قطعی ضرورت نہیں ہوتی، بہتر یہ ہے کہ یہ بروقت کسی ضرورت مند کو دے دیا جائے۔ اپنے اطراف میں نگاہ دوڑائیں تو بے شمار ایسے نادارو مستحق افراد نظر آئیں گے جو وہ تمام اشیا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ آپ انہیں وہ تمام اشیا دے کر خوشیوں کے اَنمول احساس کو پاسکتی ہیں۔

اگر آپ آنے والے دنوں کی اٹھان کچھ اس ڈھب پر رکھیںگی، تو آپ کو خود محسوس ہوگا کہ آپ کی زندگی میں ایک خوش گوار احساس اور اطمینان شامل ہوچکا ہے، جو اس سے پہلے نہیں تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
منیرہ عادل

Leave a Reply