اولاد کے بارے میں اللہ سے ڈرو!

اولاد کی تربیت میں خاندان کا کردار بہت اہم ہے۔ کیوں کہ اس میں بچہ پیدا ہوتا ہے، اسی میں نشو و نما پاتا ہے اور خاندان سے ہی زندگی کی مہارتیں اور اخلاقی قدریں سیکھتا ہے۔ انسان کی تعمیر و ترقی میں خاندان پہلا مرکز اور طاقت ور موثر ہے۔ اسی میں اس کی شخصیت کے ابتدائی خطوط بنتے ہیں اور اس کے بنیادی آثار و نقوش کی تشکیل ہوتی ہے۔ خاندان میں ہی انسانی شخصیت کی تعمیر کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور پھر انسانی شخصیت اور اس کی زندگی پر ان آثار و نقوش ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔ تو اگر خاندان صالح ہے اور اسے تربیت کے اسالیب و اطوار پر مکمل دسترس ہے تو پھر وہ اس قابل ہے کہ معاشرے کے لیے ایسے افراد پیش کرے جو مضبوط اینٹوں کا کام دیں اور ان پر معاشروں کی بنیاد رکھی جاسکے۔ لہٰذا والدین کا فرض ہے کہ وہ اولاد پر بھرپور توجہ دیں اور ان کی تربیت کا خصوصی اہتمام کریں۔

اولاد ایک نعمت ہے۔ شریعت نے ہمیں اپنی اولاد میں دلچسپی لینے کی ترغیب دی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں دعوت دی ہے کہ ہم اپنے اہل و عیال کو جہنم میں جانے سے بچائیں اور اس سلسلے میں ان کی مدد کریں۔ ارشادِ الٰہی ہے:

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ جس پر نہایت تند خو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے۔ جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتا اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔‘‘ (التحریم:۶)

روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہؐ کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بیٹی تھی اور اس کی بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے کنگن تھے۔ آپؐ نے اس عورت سے فرمایا: کیا تو اس کی زکوٰۃ دیتی ہے؟‘‘ وہ بولی: نہیں۔‘‘ فرمایا: کیا تمہیں یہ اچھا لگے گا کہ ان کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن آگ کے دو کنگن پہنائے؟‘‘ (راوی نے) کہا اس عورت نے وہ دونوں کنگن اتارے اور وہ نبی اکرمؐ کو پیش کیے اور عرض کیا: یہ دونوں کنگن اللہ عزوجل او راس کے رسولؐ کے لیے ہیں۔

اس حدیث سے ہمیں یہ ثبوت ملتا ہے کہ نبی اکرمؐ نے واضح فرمادیا کہ سزا و عقوبت ماں کو ہوگی نہ کہ اس کی بیٹی کو، اس لیے کہ زکوٰۃ کا ادا کیے بغیر ماں ہی طلائی زیورات بیٹی کو پہنانے کی ذمہ دار تھی اور اس نے اس کا اعتراف بھی کیا۔ چوں کہ وہ بیٹی کو یہ زیورات پہنانے کا سبب بنی، اس لیے سزا بھی اسے ہونا تھی۔

اپنی اولاد کی تربیت کے سلسلے میں مرد کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ایک دین دار اور اعلیٰ اخلاق والی عورت سے نکاح کرے۔ اگرچہ عام طور پر ایک مرد شادی کرنے کے لیے عورت کی چار خصوصیات کو مدنظر رکھ سکتا ہے۔ دین داری، خوب صورتی، مال داری اور خاندان، مگر اسلام کے نقطہ نظر سے دین داری سرِ فہرست ہونا چاہیے۔

تربیت اولاد ایک آزمائش

اپنے لیے بیوی کا انتخاب کرنے کے بعد ایک مسلمان مرد کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بچوں کی نیک تربیت کرے۔ یہ بندوں کے لیے امتحان و آزمائش کا میدان ہے۔ اس امتحان میں وہی کام یاب ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ توفیق دے اور اس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:

’’تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو ایک آزمائش ہیں اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے۔ اس آیت سے واضح ہوا کہ اولاد، اپنے والدین کے لیے امتحان و آزمائش کا سبب ہے۔‘‘ (التغابن:۱۵)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’جس شخص کو ان بیٹیوں کے ذریعے کچھ آزمائش میں ڈالا گیا، پھر اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم سے آڑ اور رکاوٹ بنیں گی۔‘‘

ہم اس آزمائش میں کیسے سرخ رو ہوں؟ نجات کا قصد و ارادہ کرنے والا نجات کے راستوں پر چلا کرتا ہے۔ نجات و کام یابی کا راستہ یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کی پیروی کی جائے۔ یعنی آپؐ نے بچوں اور نوخیزوں کی تربیت کے بارے میں توجہ دینے کے سلسلے میں جو رہ نمائی دی ہے، اس کی اتباع کی جائے۔ یاد رہے کہ درست تربیت کا آغاز بالکل نوعمری سے ہوتا ہے۔ اگر آپ بچوں کی تربیت کے امتحان میں کام یاب ہونا چاہتے ہیں اور اس امانت کو مکمل طور پر ادا کر کے اپنے پروردگار کے حضور پیش ہونا چاہتے ہیں تو آپ اپنے بچوں کی تربیت ان کے بچپن سے ہی شروع کردیں۔

امام ابو حامد الغزالیؒ اپنی کتاب ’’احیا علوم الدین‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’بچے کو سب سے بڑھ کر جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، وہ یہ کہ اس کے اخلاق و کردار پر توجہ دی جائے۔ بچے کی تربیت کرنے والا بچے کی کم عمری میں ہی جن عادات و خصائل کا اسے عادی بنا دیتا ہے، وہی عادات و خصائل اس میں ہمیشہ کے لیے راسخ ہو جاتی ہیں۔ جیسے تنہائی پسندی، کنارہ کشی، گوشہ نشین، غصہ، ضد، جلد بازی، ہلکا پن، خود غرضی، طیش اور حرص و لالچ وغیرہ۔ بچے میں یہ عادتیں اس قدر پختہ ہو جاتی ہیں کہ بڑے ہوکر اس کے لیے ان کی تلافی کرنا دشوار ہو جاتا ہے اور اگر وہ ان عادات سے مکمل طور پر چھٹکارا نہیں پاتا تو یہ عادتیں اسے معاشرے میں ایک دن ضرور ذلیل اور رسوا کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کی اکثریت کے اخلاق راہِ راست سے منحرف ہیں اور اس میں سارا قصور ان کی غلط تربیت کا ہے۔‘‘

بچوں کی تربیت کے سلسلے میں نبی اکرمﷺ کی رہ نمائی بہت موثر ہے۔ یہ رہ نمائی بھرپور ہے اور اس کے فیض کا سرچشمہ ختم ہونے والا نہیں ہے۔ ہم اس رہ نمائی کی روشنی میں درج ذیل تربیتی اقدامات کر سکتے ہیں:

اول: کھیل کے ذریعے

عصر حاضر میں، تعلیم و تربیت کے سلسلے میں دی جانے والی جدید ترین ہدایات میں سر فہرست طریقہ تربیت یہ ہے کہ کھیل کے ذریعے تعلیم دی جائے۔ ماہرین تربیت کی اکثریت اس طریقہ تعلیم کا سہرا مغرب کے جدید ماہرین تعلیم و تربیت کے سر باندھتی ہے۔ جب کہ تعلیم و تربیت کے بارے میں ہمارے رسولِ اکرم معلّم انسانیتﷺ کی رہ نمائی اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ آپؐ نے بچوں کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں سب سے پہلے اس طریق کار کو اختیار فرمایا۔ ابو عمیرؓ کے ساتھ حضور اکرمﷺ کی خوش طبعی اور ہنسی مذاق میں ایک بہت بڑا سبق مضمر ہے جو بچوں کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں ایک موثر اسلوب کی نشان دہی کرتا ہے۔ چناں چہ بخاری و مسلم نے حضرت انسؓ کے حوالے سے روایت کی ہے، کہا: نبی اکرمﷺ سب لوگوں سے بڑھ کر اچھے اخلاق والے تھے۔ میرا ایک بھائی تھا، اسے ’’ابو عمیر‘‘ کہا جاتا تھا… کہا: میں سمجھتا ہوں کہ اس کا دودھ چھڑا دیا گیا تھا۔ جب حضورﷺ تشریف لاتے تو فرماتے یا ابا عمیر ما فعل النغیر اے ابو عمیر نغیر کا کیا بنا؟‘‘

’’اور وہ ایک نغر‘‘ (پرندہ) تھا، جس کے ساتھ ابو عمیر کھیلا کرتا تھا اور وہ چھوٹا سا پرندہ تھا، چڑیوں کی طرح، جن کی چونچیں سرخ ہوتی ہیں۔ حضورﷺ نے نغر کے لفظ کی تصغیر کی اور اس چڑیا کا نام ’’النغیر‘‘ رکھ دیا۔ آپؐ نے یہ اس لیے کہا کہ اس چھوٹے بچے کے ساتھ خوش طبعی فرما سکیں۔ اس کے ساتھ ہنسی مذاق کر سکیں۔ اس کے کھلونے اور اس کی کھیل میں اس کے ساتھ شامل ہوسکیں اور کھیل میں یہ شرکت نرمی و نرم دلی اور محبت و شوق کے ساتھ ہو۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان علماء نے اس حدیث میں بہت زیادہ دلچسپی لی ہے اور اس حدیث پر خوب توجہ دی ہے۔

الحافظ ابن حجرؒ کہتے ہیں:

’’اس حدیث میں متعدد فوائد ہیں، جن میں ابو العباس الطبری شافعی فقیہ نے یکجا کر دیا ہے۔ یہ شافعی فقیہ متعدد کتابوں کے مولف ہیں اور ’’ابن القاص‘‘ کے نام سے معروف ہیں۔ آپ نے اس حدیث کے فوائد پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ ابن القاص نے اپنی اس کتاب کے آغاز میں بیان کیا ہے کہ کچھ لوگوں نے اہل الحدیث (جمعین و مرتبین احادیث و روایت کنندگان) پر نکتہ چینی کی ہے کہ وہ ایسی اشیا روایت کردیتے ہیں، جن میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس کی ایک مثال وہ ابو عمیر کی یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ راویوں نے خواہ مخواہ اس حدیث کو روایت کر دیا ہے۔ ان معترضین کو یہ معلوم نہیں کہ اس حدیث میں فقہی وجوہ اور فنونِ ادب کے ساٹھ نکات پائے جاتے ہیں۔ پھر ابن القاص نے اپنی کتاب میں یہ ساٹھ نکات تفصیل سے بیان کردیے ہیں۔

نسائی نے صحیح اسناد کے ساتھ عبد اللہ بن شدادؓ سے روایت کی ہے، کہا: جب رسول اللہﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ حضرت حسینؓ آگئے (جو اس وقت چھوٹے بچے تھے) آپؐ کی گردن پر سوار ہوگئے، جب آپ سجدہ کر رہے تھے۔ آپ نے لوگوں کی امامت کرتے ہوئے سجدہ لمبا کیا، حتی کہ لوگوں نے سمجھا کہ کوئی امر واقع ہوگیا ہے، جب آپؐ نے اپنی نماز مکمل کرلی تو لوگوں نے اس (سجدے کو طول دینے) کی بابت پوچھا تو آپؐ نے فرمایا: میرا بیٹا، مجھ پر سوار ہوگیا تھا تو میں نے پسند نہ کیا کہ (سجدے سے سر اٹھا کر) جلدی کروں تاکہ وہ اپنا شوق و حاجت پورا کر لے۔‘‘

دوم: بھلائیوں اور نیکیوں کا عادی بنانا

اس بارے میں عبد اللہ بن مسعودؓ نے روایت کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

’’نماز کے بارے میں اپنے بچوں کی نگہبانی کرو اور انہیں بھلائیوں کا عادی بناؤ۔ یقینا بھلائی ایک عادت ہے۔‘‘

سنت میں جو کچھ وارد ہوا ہے وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ چھوٹے بچوں کو نماز، روزے کا عادی بنایا جائے اور حج کرنے کے لیے انہیں ساتھ لے جایا جائے۔ اب یہ دلائل ملاحظہ فرمائیے:

الف: نماز- ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں جب کہ ترمذی اور ابوداؤد نے اسناد صحیح سے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے رسول اللہؐ کی کھانے کی دعوت کی۔ آپؐ نے کچھ کھانا تناول فرمایا، پھر فرمایا: اٹھو، ہم تمہیں نماز پڑھائیں‘‘ حضرت انسؓ نے کہا: میں ایک چٹان کی طرف بڑھا جو کثرت استعمال سے سیاہ ہوچکی تھی۔ میں نے اس پر پانی چھڑکا۔ رسول اللہﷺ اس پر کھڑے ہوئے، جب کہ میں اور ایک یتیم بچے نے آپ کے پیچھے صف بنائی اور بڑھیا ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئی۔ چناں چہ آپؐ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر آپ تشریف لے گئے۔‘‘

اس حدیث میں فرض نماز مراد نہیں ہے، بلکہ نفل نماز مقصود ہے۔ جب کہ نبی اکرمؐ نے اپنی امت کو فرض نماز مسجد میں پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔

روایات سے ثابت ہے کہ آں حضرتﷺ جب مسجد نبویؐ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے تو نماز اس وقت ہلکی پڑھاتے، جب آپ اپنے پیچھے نماز پڑھنے والی کسی خاتون کے بچے کے رونے کی آواز سنتے تھے۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ابو قتادہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:

’’ میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اسے طول دوں مگر بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اپنی نماز مختصر کر دیتا ہوں، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ کہیں میں اس بچے کی ماں پر مشقت نہ ڈالوں۔‘‘

ب: روزہ- بخاری مسلم نے الربیع بنت معوذ سے روایت کی ہے، کہا: عاشورا کی صبح نبی کریمﷺ نے انصار کی بستیوں کی طرف منادی کو یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا: ’’جس نے صبح سے روزہ نہیں رکھا، پس وہ اپنے باقی ماندہ دن کو مکمل کرے اور جس نے صبح ہی سے روزہ رکھا ہے، اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھے۔‘‘ الربیعؓ کہتی ہیں: ’’پس ہم اس کے بعد روزہ رکھا کرتے تھے اور ہمارے بچے روزہ رکھا کرتے تھے۔ بچوں (کا دل بہلانے) کے لیے، اون کا کھلونا بنایا جاتا تھا۔ جب کوئی بچہ کھانے کے لیے روتا تو ہم اسے وہ کھلونا دے دیتے، حتی کہ افطار کا وقت ہو جاتا۔‘‘

ابن حجر فرماتے ہیں: اس حدیث میں اس بات کی حجت و دلیل ہے کہ بچوں کو روزے رکھنے کی مشق کرانا مشروع و جائز ہے۔‘‘

معلوم ہوا کہ مسجد چھوٹے، بڑے اور مرد و عورت سب کے لیے ایک تربیت گاہ ہے۔ ہمارے رسولِ اعظمؐ کا ارشادِ گرامی ہے: جو شخص ہماری اس مسجد میں خیر سیکھنے کے لیے یا خیر سکھانے کے لیے آتا ہے تو وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔‘‘

یہ حدیث اپنے شواہد کے ساتھ حسن ہے، اسے ابن ماجہ نے، نیز ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور الحاکم نے المستدرک میں نقل کیا ہے۔ الحاکم نے اس حدیث کے بارے میں کہا ہے۔ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ بخاری و مسلم نے اس حدیث کے تمام راویوں سے حجت پکڑی ہے۔

خاندان کے بعد دوسرا تربیتی مرکز مسجد ہے۔ ہمارے رسولِ کریمﷺ کے دورِ مبارک میں اور سلف صالحین کے ادوارِ مبارکہ میں مسجد محض عبادات کی ادائیگی کے لیے محدود نہ تھی بلکہ مسجد ایک تربیتی اسکول اور علمی و تیذہبی دانش کدہ تھی۔ مگر جب مسجد کے کردار کو نظر انداز کر دیا گیا تو ہم اس بااثر ادارے سے محروم ہوگئے۔ اس محرومی کے نتیجے میں پھر تربیت بھی ترک ہو کے رہ گئی۔ یوں خیر و بھلائی کے سوتے خشک ہوگئے۔ ہمارے معاشرے پسماندہ ہوگئے اور ہماری امت راہ راست سے منحرف ہوکر زوال کا شکار ہوئی۔

ابن الحاج الفاسی رحمۃ اللہ علیہ ’’المدخل‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’تدریس سے مقصود ہے تبیین یعنی حقائق کو واضح کرنا، گم کردہ راہ کی رہ نمائی کرنا او راسے تعلیم سے آراستہ کرنا اور خیرات و بھلائیوں سے آگاہ کرنا۔ یہ سب امور مدرسہ کے مقابلے میں مسجد میں عملاً زیادہ اچھے ادا ہوتے ہیں۔ جب مدرسہ سے مسجد افضل ہوئی تو چاہیے کہ افضل کی طرف ہی سبقت کی جائے۔‘‘

ج: حج- مسلم نے عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرمﷺ الروحا کے مقام پر ایک کارواں سے ملے تو آپؐ نے پوچھا کون لوگ ہو؟ انھوں نے جواب دیا، مسلمان‘‘ پھر انھوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ ’’فرمایا: اللہ کا رسولؐ پھر ایک عورت نے ایک بچے کو اٹھا کر آپ کی طرف بڑھایا اور پوچھا، کیا اس بچے کے لیے حج ہے۔‘‘ فرمایا: ہاں، اور تمہارے لیے اجر ہے۔‘‘

سوم: قصہ کے ذریعے تربیت

قصہ کہانی کے تربیتی اثرات چھوٹوں اور بڑوں پر یکساں پڑتے ہیں۔ کہانیوں کے انہی اثرات کی وجہ سے قرآن کریم میں بہ کثرت بہترین قصے بیان ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’اے نبی! ہم اس قرآن کو تمہاری طرف وحی کر کے بہترین پیرایہ میں واقعات اور حقائق تم سے بیان کرتے ہیں، ورنہ اس سے پہلے تو (ان چیزوں سے) تم بالکل ہی بے خبر تھے۔‘‘ (یوسف)

سورہ یوسف کے اختتام پر اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر نے ان قصوں کے اثرات و مقاصد کو واضح فرمایا ہے۔ چناں چہ ارشاد ہوا:

’’اگلے لوگوں کے ان قصوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جا رہا ہے، یہ بناوٹی باتیں نہیں ہیں بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں، انھی کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت۔‘‘ (یوسف:۱۱۱)

اللہ بزرگ و برتر نے یہ بھی واضح فرما دیا ہے کہ قصے عقل، تفکیر اور تفکر کو حرکت میں لاتے ہیں، چناں چہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’تم یہ حکایات ان کو سناتے رہو، شاید کہ یہ کچھ غور و فکر کریں۔‘‘ (الاعراف:۱۷۶)

جب ہم چھوٹے بچے تھے تو بہت شوق و بے تابی سے شام ہونے کا انتظار کرتے تھے تاکہ ہماری دادی اماں ہمیں کہانیاں سنائیں۔ ہم یہ بار بار سنی ہوئی کہانیاں ہر شام سنا کرتے تھے، مگر ہم اکتاتے نہیں تھے۔ حالاں کہ بڑے ہوکر اور لکھ پڑھ کر ہمیں معلوم ہوا کہ ان کہانیوں میں کچھ خلا تھے، کچھ خامیاں تھیں، جن کو پر کرنے اور جن کا ازالہ کرنے کی ضرورت تھی، مگر ہم تھے کہ اشتیاق سے یہ کہانیاں سنا کرتے تھے۔

اب حال یہ ہوگیا ہے کہ بچہ اپنے والد کے پاس آکر اصرار کرتا ہے کہ باپ اسے کہانی سنائے، مگر والد اپنے ذاتی کاموں میں اس قدر منہمک ہوتا ہے کہ وہ بچے کو کہانی نہیں سناتا، پھر بچہ ماں کے پاس جاتا ہے کہ شاید کہ وہ کہانی سنائے مگر وہ بھی اسے کہانی سنانے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ یوں بچہ شکستہ دل رہتا ہے۔ احساسِ محرومی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور یہ بات اس کے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے کہ اس کے والدین کو اس کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں اور کوئی اسی کی طرف توجہ نہیں کرتا۔ اس احساس سے بچے کے لیے بڑے مسائل جنم لیتے ہیں اور بسا اوقات مشکلات و مسائل زندگی بھر اس کے ساتھ رہتے ہیں۔

بچوں اور نوخیزوں کی تعلیم وتربیت اور نگہ داشت کے لیے ہمیں ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت و رہ نمائی اپنانے کی سخت ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم آپ کے نورِ نبوت سے تربیتی روشنی حاصل کریں، تاکہ ہمارے لیے تربیت کا راستہ جگمگانے لگے اور یوں اپنے بچوں کے ساتھ ہمارے تربیتی رویوں کی اصلاح ہوجائے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ترجمہ: ڈاکٹر سمیر یونس ترجمہ: محمد ظہیر الدین صدیقی

Leave a Reply