کارپوریٹ اور عورت

دنیا کی بیشتر اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کی تمنا بلکہ مقصد ہوتا ہے کہ وہ پڑھ لکھ کر اچھی نوکری کریں، اپنی زندگی کے معیار کوبلند کریں اور خوش حال اور خود کفیل ہوکر زندگی گزاریں۔ کچھ خواتین تو اس مقصد میں کامیاب ہوجاتی ہیں اور کچھ اپنی تمناؤں کے حصول سے محروم رہ جاتی ہیں۔ جو محروم رہ جاتی ہیں وہ خود کو اور دوسرے بھی ان کو ناکام تصور کرتے ہیں۔ لیکن کیا یہ واقعی ناکامی ہے؟ خوش قسمت وہ ہیں جنہیں من چاہی نوکریاں مل گئیں یا وہ ہیں جو اس قید سے ہنوز آزاد ہیں۔ اس لیے کہ اس وقت برسر روزگار خواتین کے مسائل کے سلسلہ میں جو اعداد و شمار مل رہے ہیں وہ نہ صرف ان کے لیے پریشان کن اور رسوائی کا سبب ہیں بلکہ پوری دنیا کے معاشروں کے لیے تکلیف دہ ہیں۔ ترقی پذیر اور پسماندہ ملکوں کی بات نہ کیجیے کہ وہاں نہ سماجی و معاشرتی سطح پر حساسیت ہے اور نہ سیاسی اور انتظامی سطح پر اطمینان بخش معیار، مگر وہ ممالک جو اپنے قانون و انتظامی معاملات میں دنیا کے لیے مثال سمجھے جاتے ہیں وہاں بھی ان خواتین کے لیے صورتِ حال اطمینان بخش نہیں ہے۔

دنیا بھر میں تیزی سے فروغ پاتے کارپوریٹ کلچر اور نوکریوں کی طرف خواتین کی بگ فٹ دوڑنے نہ صرف ان کی زندگی کو مختلف النوع تناؤ سے بھر دیا ہے بلکہ ان کے شخصی وقار اور عزت و عصمت کے تحفظ کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ذاتی زندگی مختلف نوعیتوں سے متاثر ہو رہی ہے اور یہ کلچر اور سوچ مختلف طریقوں سے خواتین کی زندگی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہی ہے۔

استحصال

حال ہی میں برطانوی خواتین سے متعلق ایک سروے رپورٹ سامنے آئی ہے۔ یہاں کی ٹریڈ یونین کانگریس اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم نے یہ سروے کیا ہے۔ اس سروے کے مطابق وہاں کام کرنے والی 52% خواتین کو ان کی ملازمت کی جگہ پر جنسی ہراسانی کا سامنا ہے۔ سروے میں جواب دینے والی خواتین کے 20% نے بتایا کہ ان کو ہراساں کرنے والے ان کے باس ہی تھے۔ مذکورہ ادارے نے یہ بھی بتایا کہ 18 سے 24 سال کی عمر کی لڑکیوں کو اس طرح کے واقعات کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس سروے رپورٹ کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس طرح کی متاثرہ خواتین کا 24% کسی قسم کی شکایت نہیں کرتیں کیوں کہ ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ شکایت کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ اسی طرح بے عزتی کے خوف اور نوکری چھن جانے کے اندیشے کے سبب بھی بہت سی خواتین شکایت نہیں کرتیں اور سب کچھ جھیلتی رہتی ہیں۔

سروے رپورٹ

جنسی ہراسانی کا شکار

52 فیصد

18-24 سال کی

63 فیصد

رپورٹ نہیں کیا کیوں کہ

تعلقات خراب ہوں گے

28 فیصد

بے عزتی ہوگی

20 فیصد

کیریئر متاثر ہوگا

15 فیصد

کچھ نہیں ہوگا

24 فیصد

اس صورت حال کو ہم پوری دنیا پر قیاس کر سکتے ہیں اور اگر چند ایک ممالک کو اس سے نکال بھی دیں تب بھی پوری دنیا اسی قسم کی صورت حال سے دوچار ہے۔ جن ممالک میں قانون او رانتظام کی حالت کمزور ہے وہاں اس قسم کے واقعات اسی قدر زیادہ اور بے لگام ہیں۔

اس کارپوریٹ دنیا میں نہ صرف عورت کا جنسی استحصال ہوتا ہے بلکہ استحصال کی اور بھی بہت سی شکلیں رائج ہیں۔ یونائیٹڈ نیشنس ڈیو لپمنٹ فنڈ اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے:

’’معاشی عدم مساوات کے سبب روایتی کارپوریشنس حکومتوں سے مل کر خواتین کا استحصال کرتی ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ کا مذکورہ ادارہ معتمد ادارہ ہے اور اس کی رپورٹ کو حقائق پر مبنی تصور کیا جاتا ہے مگر اس کا یہ اقرار کے کارپوریٹ ہاؤس حکومتوں سے مل کر خواتین کا استحصال کرتے ہیں صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ مذکورہ ادارے ہی کے مطابق دنیا میں کام کاجی خواتین کا 96% غیر منظم سیکٹر میں کام کرتا ہے اور اس غیر منظم سیکٹر کا مطلب ہی خواتین کا استحصال ہے۔ جہاں انہیں مردوں کے مقابلے معمولی تنخواہیں دی جاتی ہیں، کام زیادہ لیا جاتا ہے، کوئی تحفظ میسر نہیں ہے اور کام کے دوران وہ بے شمار خطرات کی زد میں ہوتی ہیں۔

عالمی سطح پر عورت کے استحصال کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ عورت دنیا کا دو تہائی کام کرتی ہے اور بطور تنخواہ دنیا کا صرف 10% پاتی ہے۔ جب کہ وہ پیداوار کے محض 1% حصہ کی ہی مالک ہے۔

شادی میں تاخیر

خواتین میں نوکری کے رجحان اور کارپوریٹ کلچر نے خواتین کی زندگیوں کو انفرادی و اجتماعی کئی اور پہلوؤں سے بھی متاثر کیا ہے۔ ان میں سردست شادی کی اوسط عمر میں اضافہ بھی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ لڑکیوں کی شادی کی اوسط عمر میں دنیا کے تمام ہی خطوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس کا سبب مرد و خواتین کی آمدنی کا معیار ہے۔

قارئین جانتے ہیں کہ ہندوستان میں اور دنیا کے اکثر ممالک میں لڑکیوں کی شادی اور بلوغت کی قانونی عمر ۱۸سال ہے لیکن اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں یہ اوسط عمر لڑکیوں کے درمیان 26.9 سال اور لڑکوں کے درمیان 29.8 سال ہوگئی ہے اور یہ اعداد و شمار 2011 کے ہیں۔

Priceonomics نام کے ادارہ کے مطابق یہ صورت حال اور بھی زیادہ گمبھیر ہے وہ لکھتا ہے:

’’تقریباًتمام ہی (یورپین) ممالک میں 80% مرد و خواتین 49 سال کی عمر میں شادی کرتے ہیں۔ اس سے آگے بڑھ کر لوگوں کی اکثریت Consensual union (باہمی رضامندی سے بغیر شادی کے ایک ساتھ رہنے) کو پسند کر رہی ہے۔‘‘

یہ بات بھی قابل ذکر ہے دنیا میں لڑکیوں کی شادی کی سب سے کم اوسط عمر افغانستان میں ہے جہاں 20.2 سال کی عمر میں شادیاں انجام پاتی ہیں۔ شادی میں تاخیر کی خاص وجہ جہاں مرد و خواتین کی آمدنی کا معیار ہے وہیں ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ کارپوریٹ ہاؤسز کا خیال ہے کہ غیر شادی شدہ افراد خصوصاً غیر شادی شدہ لڑکیاں ہی زیادہ ذمہ داری اور یکسوئی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ خاص طور پر لڑکیاں شادی کے بعد گھریلو زندگی میں بھی وقت دینے کے لیے مجبور ہوتی ہیںاور پھر چند سال کے اندر ہی وہ بچوں کی دیکھ ریکھ میں وقت لگاتی ہیں اس لیے موجودہ کارپوریٹ کی غیر اعلانیہ خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ شادی کو موخر کریں جہاں تک تاخیر ممکن ہو۔ اس طرح وہ اپنے کارکنان کو زیادہ دیر تک موثر، فعال اور کار آمد رکھ سکتی ہیں۔

برطانیہ میں لڑکیوں کی شادی کی اوسط عمر

1990

27.7 سال

2014

30.2 سال

2016

32 سال

گزشتہ سال شادی میں تاخیر کے اسی پہلو اور اس کے نقصانات کو دیکھتے ہوئے ایک معروف ITکمپنی نے اپنی خواتین کارکنان کو ایک بڑی رقم اضافی طور پر دینے کا اعلان کیا تھا کہ وہ تولیدی انڈوں کو سائنسی طریقے سے فریز کروالیں تاکہ بعد میں جب وہ چاہیں، ماں بن سکیں۔ اس کی وجہ یہ طبی تحقیق ہے کہ لیٹ شادی کرنے والی خواتین کے لیے ماں بننے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔اس سے کارپوریٹ دنیا کی سوچ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

شخصی اور عائلی زندگی

نوکری خواہ سرکاری سیکٹر کی ہو یا کارپوریٹ سیکٹر کی، عورت کی شخصی اور عائلی زندگی کو ضرور متاثر کرتی ہے۔ البتہ سرکاری نوکری کارپوریٹ سیکٹر کے مقابلے نسبتاً کم متاثر کرتی ہے کہ وہاں رعایتیں اور ورک لوڈ نسبتاً کم ہوتا ہے اور ساتھ ہی مقابلے کی ریس دھیمی ہوتی ہے۔

کارپوریٹ سیکٹر کا جان توڑ مقابلہ، ہائی ٹارگٹ اور ان سنٹیوز کا لالچ صحت و نفسیات پر تو دباؤ کا سبب ہوتا ہی ہے ساتھ ہی وہ فیملی لائف پر بھی بر اثر ڈالتا ہے۔ رشتے ناطے نبھانے کا وقت نہیں، لوگوں کی خدمت اور دیکھ بھال کی فرصت نہیں ایسے حالات میں جو چیز مل پاتی ہے وہ ہے تنہائی اور لاتعلقی۔ اس پر شہر اور شہر سے باہر سفر کے خطرات اور وہ بھی ایسے حالات میں جب خواتین کے خلاف جرائم کا سیلاب ہے، نفسیاتی دباؤ کا سبب ہے۔ چناں چہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس وقت ہر پانچواں آدمی کسی نہ کسی قسم کے ذہنی دباؤ کا شکار ہے اور ان میں اکثریت خواتین کی ہے۔

غیر سرکاری تنظیمی

خواتین کے امور اور ان کے مسائل کے حل کے لیے مختلف پہلوؤں پر کام کرنے والی NGO’s کا پورے ملک میں جال پھیلا ہوا ہے۔ ان میں بہت سی وہ ہیں جو محض سرکاری فنڈز کے استعمال کی غرض سے برائے نام کام کرتی ہیں اور بعض وہ ہیں جو غیر ملکی ایجنسیوں کے ذریعے فنڈ کی جاتی ہیں۔ یہ تنظیمیں اور ان کا کام بذاتِ خود معاشرے میں تشویش اور مسائل پیدا کرنے کا سبب ہے کیوں کہ وہ خواتین کو صنفی بنیاد پر انصاف فراہم کرنے اور ان کی فلاح و بہبود کو آگے بڑھانے سے کہیں زیادہ ان اداروں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا کام کرتی ہیں، جو انہیں فنڈ فراہم کرتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply