ایک شمع جلانی ہے (دوسری قط)

یہ سمجھ کے اس نے بخشی، کبھی دولتِ سکوں بھی

کہیں راس آنہ جائے مجھے گردشِ زمانہ

موبائیل کی اسکرین بھی سیاہ پڑگئی تھی مگر اِس سیاہ اسکرین پر اُس کا عکس اُبھر رہا تھا….. اور پھر دھیرے دھیرے کئی عکس ابھرنے لگے… یادوں کے بلبلے ہوا میں اڑنے لگے اور وہ دبے قدموں پیچھے چل پڑی ان ست رنگی بلبلوں کے پیچھے…. پیچھے …. اور پیچھے ’دیڑھ سال‘ دوما ہ‘ چار دن پیچھے…

…٭…

یادوں کے ست رنگی بلبلے پھٹے تو اس نے خود کو انجوائے کرتے پایا!!

موسم سرما کی اُجلی اُجلی صبح چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی…. ہوا میں سرد تاثر تھا جبکہ نرم نرم‘ گرم گرم سی دھوپ ماں کی گود جیسا سکون دیتی…. پر اٹھوں کی خوشبو‘ بھاپ اڑاتی چائے اور چھٹی کا دن….. غافرہ تو جی پھر کر لطف اٹھا رہی تھی….

’’ پیاری ماں مجھکو تیری دُعا چاہیے…. تیرے آنچل کی ٹھنڈی ہوا چاہیے…. پیاری ماں لا لالا….. لا لا لا…..‘‘ ترنگ میں گنگناتے ہوئے اُس نے ایک دم زبانی میوزک بھی شروع کردیا مگر خالہ دادی کی گھورتی نگاہوں نے زبان پر بریک لگادیا…. یوں تو خالہ دادی یہ combination خاصہ مضحکہ خیز لگتا ہے مگر بات یہ ہے کہ وہ ہمارے ابّا کی خالہ ہیں یوں ہم انھیں ’خالہ‘ کہتے ہیں ابا کی دیکھا دیکھی…. اور رشتہ کے اعتبار سے ہماری دادی تو اس طرح یہ خالہ دادی کا مکسچر بنا ہے۔ اس عمر میں بھی خاصی چاق و چوبند اور نہایت سوشل ہیں۔ ان کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی‘ ابّا کو اپنا بیٹا مانتیں…. مہینہ میں کم از کم چار دن کے لیے گھر پر رہنے ضرور آتیں ….. خیر ابھی کے لیے تعارف کافی ہے کہ ان کی گھورتی نگاہیں غافرہ کو گڑ بڑا رہی تھیں۔

’’ماں کی دُعا چاہیے….! ماں کی خدمت کرنے والے بچے یوں گائیں تو بھی بات سمجھ میں آئے لیکن تم جیسی آرام پسند لڑکی جو دن چڑھے اٹھے اور مُنہ اٹھائے سیدھے ناشتہ کے لیے چلی آئے کہ ماں تو ہے نا! ناشتہ تیار ہی ہوگا …. تو بیٹا تم خود ہی ماں کے لیے دعا کرلیا کرو…. ‘‘ ساری فیملی میں کوئی ایک تو ایسا ضرور ہی ہوتا ہے جو آپکی طبعیت صاف کرکے رکھ دیتا ہے اور غافرہ کے بقول انکی فیملی میں وہ خالہ دادی تھیں….

سویرا اور عفان گردن جھکائے اپنی ہنسی کنٹرول کرنے میں لگے تھے جبکہ غافرہ مدد کے لیے امّی‘ ابّا کی آمد کا انتظا کر رہی تھی مگر خالہ دادی تو اپنی بات کہہ کر بے نیاز ہوچکی تھیں اور اب انکا دھیان ناشتہ کی طرف بٹ گیا تھا۔مگر یہ انکی خام خیالی تھی۔ ’’سویرا ناشتہ کرو اور میرے پاس تیل کی بوتل لے آئو۔ کاٹھ کی کاٹھ ہوگئیں یہ لڑکیاں مگر سلیقہ طریقہ نام کو نہیں۔بال دیکھو ذرا! کیا حال بنا رکھا ہے؟ ‘‘ توپ کا رُخ بدل گیا تھا تو جہاں غافرہ نے چین کا سانس لیا وھیں سویرا تو گڑ بڑا کر رہ گئی۔ ’’خالہ دادی! پڑھائی سے فرصت ہی نہیں ملتی …. ٹیوشن‘ کالج اور پڑھائی کی ٹینشن‘‘ سویرا منمنائی۔

’’واہ یہ خوب رہی!ہر بات کا بہانہ پڑھائی!یہ غافرہ میڈم گھر کے کاموں کو ہاتھ نہیں لگاتیں وجہ ہے پڑھائی! تم ہل کر پانی پینا پسند نہیں کرتیں نام سویرا ہے اور ایسی بے جان‘ بے رونق‘ روکھی ہوگئی ہو وجہ پڑھائی! یہ نو اب عفان باوا کے چھوٹے موٹے کام بھی نہیں کرتیں وجہ ہے پڑھائی! پڑھائی نہ ہوئی روگ ہوگیا کوئی۔ اللہ معاف رکھے ایسی پڑھائی سے!‘‘ آج تو بس تینوں کی شامت آئی تھی۔

عفان تو یونہی ’’جی آیاابو ‘‘ ] حالاںکہ ابّا نے اُسے آواز بھی نہ دی تھی[کہہ کر مسکراہٹ دباتا منظر سے غائب ہوگیا جب کہ غافرہ اور سویرا بڑے بھائی کو جاتا دیکھ تلملا کر رہ گئیں۔

’’یہ لیجیے خالہ آپکی چائے‘‘ امّی کی آمد پر دونوں نے ہی سکون کا سانس لیا۔

’’تم نے ہی بگاڑ رکھا ہے بچیوں کو…. محبت اپنی جگہ مگر یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔‘‘

انھوں نے فائقہ بیگم کو گھورتے ہوئے کپ پکڑا تو فائقہ ہمیشہ کی طرح ہنس دیں۔

’’ارے خالہ بچیاں ہیں ابھی…. ‘‘ فائقہ بیگم نے محبت سے کہا تو خالہ دادی منہ ہی منہ میںکچھ بڑ بڑا کر رہ گئیں۔

’’امّی …. میں نے کہا تھا نا کہ مجھے آلو کے پراٹھے بنادیں…. مگر آج بھی یہی سادہ پراٹھے…. سویرا کا مُنہ بن گیا تھا۔

’’بیٹی کل بنا دونگی…. آج آلو نہیں تھے اور صبح عفان کا ٹسٹ بھی تھا تو منگا بھی نہ سکی ــــ ـــــــــــــــ۔فائقہ بیگم نے کہا۔

’’کوئی ضرورت نہیں کل بھی بنانے کی، مجھے نہیں کھانا اب۔ بس دوسروں کی ہی فرمائشیں پوری کرتی رہیں اور میرے لیے ایک آلو کے پراٹھے نہیں بنتے آپ سے‘‘ سویرا نہایت بدتمیزی سے کہتے ہوئے ایک جھٹکے سے اٹھ گئی تو خالہ دادی حیرت و ملامت سے اُسے دیکھتی رہ گئیں۔ بہت دُکھ ہوا تھا انھیں، جبکہ غافرہ بھی سویرا کے انداز پر خالہ دادی کے سامنے شرمندہ سی ہوگئی تھیں۔

اور رہی فائقہ بیگم تو وہ بنا کسی تاثر کے‘ کوئی اثر لیے بنا اپنے کام نپٹاتی رہیں جو یہ ظاہر کررہا تھا کہ وہ اس لہجے اور انداز کی عادی تھیں ’’ماں باپ کو اُف تک نہ کہو‘‘ والی آیت پر آج کل کی جنریشن یوں عمل کررہی ہے کہ ماں باپ کو بس ’اُف ‘ نہیں کہتے باقی سب کچھ کہہ دیتے ہیں۔

…٭…

خوش آئے تجھے شہرِ منافق کی امیری

ہم لوگوں کو سچ کہنے کی عادت بھی بہت تھی

کچھ ہی دیر بعد سویرا تیل کی شیشی لیے خالہ دادی کے پاس پہنچ گئی تھی….

’’بیٹھو نیچے‘‘ حسبِ عادت خالہ دادی اونچی جگہ پر بیٹھی اُسے نیچے بیٹھا کر تیل ڈالنے لگیں اور دھیرے دھیرے سر کی مالش کرنے لگیں تبھی سویرا کی نظر غافرہ پر پڑی جو مزے سے سنترہ چھیل کر کھا رہی تھی اور ساتھ ہی کوئی خواتین کا رسالہ پڑھ رہی تھی۔ اس کا بی ایس سی اِسی سال ختم ہوا تھا اور ابھی راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔ سویرا کو اُس کا یہ انداز بالکل نہیں بھایا….

’’خالہ دادی…. غافرہ آپی کی شادی کو ابھی تین چار ماہ ہی باقی ہیں نا؟!!‘‘ اُس نے شرارتی سی مسکراہٹ دبا کر غافرہ کو دیکھا تو غافرہ تلملا کر رہ گئی۔ راوی نے بھی قلم روک دیا تھا کہ اب چین نہیں لکھنا تھا اُسے۔اس سیدھے سادھے جملے میں سویرا نے کتنی چالاکی اور بظاہر سیدھے سادھے طریقے سے خالہ دادی کا پسندیدہ ٹاپک چھیڑ دیا تھا یہ صرف غافرہ ہی سمجھ سکتی تھی۔ اب بات شاپنگ، زیور، رسم و رسومات کی ہوتی…خالہ دادی اپنے زمانے کے کچھ قصے سناتیں، اُس زمانے کی شادیوں کا حال بتاتیں، کچھ کھٹی میٹھی باتیں ہوتیں تو بھی کچھ مزہ رہتا مگر خالہ دادی کی نصیحتیں ہی تھیں اس کی قسمت میں اور یہ سویرا…. !

’’ہاں بہت کم وقت رہ گیا ہے اور دیکھ اس لڑکی کو …. کوئی طریقہ سلیقہ نہیں‘ ڈھنگ نہیں‘ امّاں باوانے لاڈمیں بگاڑ رکھا ہے…. یہ پڑھائی وڑھائی سب بھول جانا پڑتا ہے، آخر میں عورت کی قسمت میں چولہا چکّی ہی آتی ہے۔ اور سچ بھی تو یہی ہے۔ اللہ نے اُسے گھر کی رعیت دی ہے۔ گھر کی مالکن بنایا ہے تو گھر اسکی پہلی ذمہ داری ہے ۔۔۔مگر اس غافرہ کی غفلت…. نجانے کیا ہو اسکا…‘‘ خالہ دادی نے اسٹارٹ لے لیا تھا تو سویرا مزے سے آلتی پالتی مارے بیٹھ گئی۔ یہ سب سننا اور غافرہ کو یہ سب سنتے دیکھنا اُس کے لیے مزیدار تھا …. اُسے تو جی بھر کر انجوائے کرنا تھا اب غافرہ کے تاثرات کو۔

’’اور یہ کیا تم مُنہ پھاڑے مسکرائے جارہی ہو…. کوئی چھوٹی پاپا تم بھی نہیں ہو…. آگے پیچھے شادی ہونا ہے تمہاری کچھ سلیقہ طریقہ تم بھی سیکھ لو‘ مجھے تو فائقہ بیگم پر حیرت ہوتی ہے کہ کیسے بیٹیوں کو چھوڑ رکھا ہے اُس نے‘‘ ۔۔۔ آج ساری تدبیریں اُلٹی ہورہی تھیں۔سویرا تو بوکھلا ہی گئی تھی اِس فائرنگ پر جبکہ غافرہ نے خوب مزہ لیا بات کا۔

’’خالہ دادی پلیز…. اب آپ اپنی نصیحتوں کو وہاں سے اسٹارٹ مت کرنا کہ اپنی ساس کو اپنی ماں سمجھنا‘ اینڈ آل دیٹ ]اور وہی سب کچھ[ ‘‘ سویرا نے بوکھلاتے ہوئے متوقع نصیحتوں کا پنڈور ابکس کھولنے سے پہلے ہی پھٹ سے کہہ دیا اور پھر جی بھر کر پچھتائی بھی کہ….

’’میری مت ماری گئی جو تمہیں یہ نصیحت کروں!‘‘ وہ بھی خالہ دادی تھیں…. بغیر لگی لپٹی کے بولنے والی….

’’وہ زمانہ اور تھاجب بیٹیوں کو یہ نصیحت کی جاتی تھی کہ ’بیٹی اپنی ساس کو اپنی ماں سمجھنا، اُس وقت بیٹیاں مائوں کی عزت کرتی تھیں، لحاظ کرتی تھیں، بحث کرنا، چیخ کرزور سے اونچی آواز میں بات کرنا، پلٹا کر جواب دینا تو دور، بات کرتے وقت نظریں بھی نیچی رکھتیں، ماں چاہے کتنا ہی ڈانٹ لے، جھڑک لے، لعن طعن کر لے مگر مجال نہ تھی کہ بچیاں اُف بھی کریں۔۔۔ اور آج۔۔۔ ‘‘ خالہ دادی نے اپنے مخصوص انداز میں گال پیٹے….

’’اور آج تو اللہ توبہ….

اب وہاں اپنی ساس کو اپنی ماں سمجھو گی نہ تو ساس دو جوتی مار کر باہر نکال دے گی۔ جیسی زبان اور جیسے تیور تم آج کل کی لڑکیاں اپنی مائوں کو دیکھاتی ہو نا تو صرف ماں ہی برداشت کرسکتی ہے…. تو میری مانو لڑکیو اپنی ساس کو ساس ہی سمجھنا ماں کبھی مت سمجھنا۔‘‘ خالہ دادی نے تو کوئی لحاظ اور مروت ہی نہ کی۔ کچھ ان کی عمر کا تقاضہ اور کچھ حقیقت کی تلخی….. سویرا کھسیانی سی ہوگئی….

’’خالہ دادی…. اب ایسا بھی تو نہیں ہے‘‘ غافرہ نے ہلکی ‘ دبی دبی آواز میں بے جان سا احتجاج کیا۔

’’نہیں بیٹا…. غلطی ہم جیسے بوڑھوں کی ہے جو وہی روایتی نصیحتیں کرتے ہیں۔۔۔مگر مجھے لگتا ہے نصیحتیں بدل دینی چاہئیں اب…. ہماری اِن بوڑھی نصیحتوں پر عمل کرتے ہوئے تم لوگ ساس کو ماں سمجھنے لگتی ہو وہی غصہ، طعنہ، بد لحاظی اُن سے بھی کرتی ہو اور مصیبت جھیلتی ہو ]آہ ….. اِسے کہتے ہیں بھیگو بھیگو کر مارنا[ …. لیکن یاد رکھو …. میری نصیحت گرہ سے باندھ لو کہ ساس کو ساس ہی سمجھو شاید اِسطرح ہی کچھ عزت‘ ڈر‘ لحاظ ہوگا….‘‘ خالہ دادی کی بے نیازی اور مناسب ترین الفاظ میں لفظوں کی بے رحمی عروج پر تھی۔ تبھی عفان نے رحمیٰ باجی کی آمد کی اطلاع دی تو خالہ دادی کمرے سے چلی گئیں….

رحمیٰ باجی خالہ دادی کی بہن کی بیٹی ہیں…. جو اپنی شادی ٹوٹ جانے کے بعد اپنے والدین کے انتقال تک والدین کے ساتھ رہیں…. جب والدین انتقال کرگئے تو خالہ دادی کے ساتھ آکر رہنے لگیں یوں خالہ دادی کی تنہائی بھی ختم ہوگئیں…. حالاںکہ رحمیٰ باجی کے ایک بھائی بھی تھے۔ بڑی بہن بھی شادی شدہ تھیں مگر شاید خالہ دادی کی تنہائی کے خیال سے وہ انکے ساتھ ہی رہتی تھیں…. سنجیدہ، سوبر، قبول صورت نقوش کی مالک، اداس آنکھوں والی، خاموش مزاج، مذہبی سی رحمیٰ باجی ان سب کے لیے ایک پُراسرار شخصیت تھیں جنکی اداس آنکھوں اور مسکراتے لبوں کا تال میل کسی (ان کہی کہانی کا پتہ بتاتا تھا ۔

خیر وہ تو شاید خالہ دادی کو ساتھ لے جانے آئی تھیں ابھی …. اور وہ دونوں شرمندہ سی بیٹھی تھیں…. بات تلخ تھی‘ کڑوی تھی‘ مگر حقیقت تھی….

…٭…

اب کے بھی ہے جمی ہوئی آنکھوں کے سامنے

خوابوں کی ایک دھند جو پچھلے برس میں تھی!

وقت پر لگائے اڑتا جارہا تھا۔ شادی کے دن قریب آرہے تھے اور وہ خود ….. وہ خود اپنی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھی۔عجیب مرحلہ تھا وہ زندگی کا۔ وہ کسی پنڈولم کی طرح مختلف کیفیتوں کا شکار رہتی۔کبھی مسکراتی، گنگناتی اپنی لے میں رہتی، کبھی اداس نگاہوں سے گھر کے کونے کونے کا چکر کاٹتی۔۔۔ کبھی نئی زندگی کے سہانے خواب، چھم سے آنکھوں میں بس آتے، تو کبھی پرانی یادیں آنکھوں کو نم کر جاتیں۔ کبھی نئے بننے والے رشتہ کو لے کر جذباتیت کا شکار ہوتی تو کبھی سارے چھوٹ جانے والے رشتوں کے لیے چھپ چھپ کر آنسو بہانے لگتیں۔ رنگ و خوشبو کے اِس سفر میں لڑکیاں آنسو اِس لیے نہیں بہاتیں کہ وہ ماں باپ اور بہن بھائیوں سے جدا ہورہی ہوتی ہیں اور آج کل تو دنیا گلوبل ویلیج بن گئی ہے تو چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں رہو، آواز سن سکتے ہو، چہرے دیکھ سکتے ہو، تو دراصل یہ سارے آنسو اِس لیے ہوتے ہیں کہ اب ترجیحات بدلنے والی ہوتی ہیں۔۔۔جان سے عزیز، بے انتہا محبت کرنے والے ماں باپ، بہن بھائی، عزیز رشتہ دار جن کی محبتوں میں وہ اب تک جیتی آئی تھی، اب یکایک وہ اُس کی ترجیحات کی لسٹ سے ایک قدم پیچھے ہوجاتے ہیں اور وہ شخص جسے اللہ نے اس کا مقدر بنایا اب اس کی ’رضا‘ اُس سے محبت اور اس کی اطاعت اسکی پہلی ترجیح بن جاتی ہے۔

اللہ نے ابتسام کو اسکا مقدر بنایا تھا۔ ابتسام کا خیال اُس کے لبوں پر ایک شرمگیں تبسم پھیلا دیا کرتا۔ لڑکیاں بھی کیسی عجیب ہوتی ہیں جس سے نام جڑجائے سارے خواب بس اُسکے نام کردیتی ہیں۔ ابتسام چار بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اُس سے بڑے بھائی اور بہن کی شادی ہوچکی ہے،چھوٹی بہن کی شادی بھی پچھلے ماہ ہی ہوئی تھی۔ امی ابا کو یہ رشتہ بہت مناسب لگا۔۔ ابتسام انجینئر ہیں سافٹ ویر انجینئر۔ ایک اچھی کمپنی میں جاب کرتے تھے۔ معقول جاب، شرافت، اور سب سے اہم ابتسام کی امی، خالہ اور بہنیں بڑی محبت اور اصرار سے رشتہ ڈال گئی تھیں انکار کی کوئی گنجائش نہ تھی اور نہ ہی کوئی وجہ….. ایک چھوٹی سی تقریب میں رشتہ کا اعلان اور شادی کی تاریخ طے کرلی گئی تھی….

قصہ مختصر یہ کہ وہ بڑی مگن مگن سی رہا کرتی اب۔ اُسے لگ رہا تھا اب سارے خواب حقیقت بن جائیں گے۔اپنی ایک World of fantacy ]خوابوں، تخیلات کی دنیا[ تھی جو پاکستانی، ہندوستانی ڈرامے دیکھ دیکھ کر، خواتین کے ناولس پڑھ پڑھ کر اُس نے بنائی تھی۔

ایسی کہانیاں جن میں مشکلات، تکالیف سب کچھ شادی سے پہلے ہوتی ہیں، شادی کے بعدhappily everafter کا State ہوتا ہے جہاں دکھوں اور مشکلوں کا سایہ تک نہیں ہوتا۔ ڈرامہ بالخصوص پاکستانی ڈرامے دیکھ دیکھ کر تو ہیرو جیسی شبیہہ بنا رکھی تھی اُس نے۔ اِن سب کے ساتھ خالہ دادی ہر چکر میں نصیحتوں کا ڈوز دیتیں۔۔۔ اور تو اور خاندان کا ہر بڑا بوڑھا، دور نزدیک کی ہر خاتون اپنے زرخیز تجربات میں سے ایک تجربہ[کم از کم] ضرور شیئر کرتی اور مفت کی صلاح اورنصیحت بھی دے جاتی۔ شوہر پر حکومت کیسے کی جائے؟ ساس کو تخت سے کیسے ہٹایا جائے؟ اور نندوں کو کس طرح اوقات میں رکھا جائے؟

مگر یہ duration ایسا تھا کہ وہ جو سنتی انھیں یاد نہ رکھ پاتی۔اب اتنے دُکھ بھرے تجربے اور ایسی نصیحتیں کون یاد رکھے؟ ….اور ویسے بھی شوہر کو قابو میں رکھنے کی نصیحت بھلا کس کام کی؟ اُسے اس کی ضرورت ہی نہ ہوگی۔۔۔ ’سنڈریلا‘ اسنو وائٹ‘ کو اِس کی ضرورت پڑی تھی کیا؟اور نہ ہی ہم سفر کی خرد کو۔اوہ نہیں نہیں وہ تو زرا الگ اسٹوری ہے، ہاں تو خیر اس کی کہانیوں میں پرنس چارمنگ کو کنٹرول میں کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی ۔

اور وہ فلموں، ڈراموں اور ناولوں میں بھی تو ایسا نہیں ہوتا نا ….وہاں تو ہیرو کتنا خیال رکھنے والا‘ محبت کرنے والا‘ احساس کرنے والا ہوتا ہے…..خیر تواُسے ان سب کی ضرورت نہیں تھی…. وہ تو اب اپنی فِیری ٹیل کا حصّہ تھی اورحصّہ کیا تھی وہی تو سب سے جگمگاتاکردار تھی اپنی فیری ٹیل میں جس میں وہ ’سنو وائٹ‘ کی طرح گھیر دار‘ پھولا پھولا فراک پہنے‘ فراک کا ایک کونہ پکڑے انوکھی دھنوں پر جھومتی رہتی…. اور اب اس کے اس world of fantacy میں ایک پرنس چارمنگ اور کئی جگمگاتے کرداروں کی انٹری ہونی تھی پھر وہ یوں لہراتی مسکراتی کیوں نہ پھرتی….. lll (جاری)

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم امتیاز احمد

Leave a Reply