حکم اوپر والے ہی کا تھا

یہ چھوٹا سا واقعہ ہے، لیکن اس سے ملنے والی روحانی مسرت مجھے آج بھی تر و تازہ کردیتی ہے۔ میں ان دنوں ایک بینک کی مقامی برانچ میں ملازمت کرتا تھا۔ میرا تقرر بہ حیثیت بینک منیجر ہوا تھا۔ میں آفس کھلنے سے پہلے ہی بینک پہنچ جاتا تھا۔ جب رمضان کا آخری ہفتہ آیا، تو ہم نے ایک میٹنگ کر کے چند احکامات جاری کیے کہ مسلم کھاتے داروں کا خاص خیال رکھا جائے، نوٹوں کا انتظام کیا جائے اور ان کے کام میں بلا وجہ تاخیر نہ کی جائے۔

عید سے دو روز قبل میں وقت سے ایک گھنٹہ پہلے دفتر پہنچ گیا۔ میرا ارادہ تھا کہ دفتر بند ہونے پر سیدھا بازار کا رخ کروں گا اور اپنی بیٹی کی فرمائشیں پوری کروں گا۔ بچوں کی خوشیاں والدین میں حوصلہ اور امنگ پیدا کرتی ہیں۔ میں نے اس ضمن میں جیسے تیسے بچت کر کے چالیس ہزار روپے اکٹھے کرلیے تھے، اور عید والے دن اچانک تحائف کی شکل میں دے کر ان کی عید کی خوشیاں دو بالا کرنا چاہتا تھا۔ ابھی بینک کھلنے میں دیر تھی، میں نے دیکھا کہ گارڈ کسی خاتون سے جھگڑا کر رہا ہے کہ وہ ایک گھنٹے بعد آئے یا باہر فٹ پاتھ پر بیٹھ جائے اور خاتون اندر آنے کے لیے اس کی منتیں کر رہی ہے۔ اس عورت کے ساتھ ایک چھے سال کی بچی بھی تھی۔ میری بیٹی کی ہم عمر، بہت معصوم اور پیاری سی۔ مجھے بچیاں بہت عزیز ہیں۔ میں نے چپراسی سے کہا کہ ’’اس عورت اور بچی کو اندر بلا کر بٹھا دو۔ ایسا لگتا ہے، یہ دور سے آئی ہیں، اور بچی کو پانی دو، خاتون تو روزے سے ہوں گی، بچی پیاسی ہوگی۔‘‘ اس نے میرے حکم کی تعمیل کی، اور دونوں کو اندر لاکر بینچ پر بٹھا دیا۔ بچی نے بے صبری سے پانی پیا۔ خاتون کے ہاتھ میں چیک تھا، میں نے چپراسی سے کہا کہ وہ اس بچی کو کیبن میں لے آئے۔ چپراسی نے خاتون کو یہ پیغام دیا، تو اس خاتون نے چیک بچی کے ہاتھ میں دے کر کچھ کہا۔ بچی نے سرہلا دیا اور میرے پاس کیبن میں آگئی۔ بڑے سلیقے سے مجھے سلام کیا۔ میں نے اسے اپنے پاس بٹھا کر اس کا نام پوچھا۔ اس نے بتایا کہ ’’میرے ابو مجھے منّی اور امی گڑیا کہتی ہیں۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’ابو کیوں نہیں آئے۔‘‘ اس نے افسردگی سے جواب دیا: ’’وہ اللہ میاں کے پاس چلے گئے ہیں، انھوں نے یہ کاغذ بھجوایا ہے۔ امی نے کہا ہے کہ انکل سے کہنا کہ ابو کے اس کاغذ والی رقم ہمیں جلدی سے دلوادیں، ہمیں بازار سے بہت ساری چیزیں عید کے لیے خریدنی ہیں۔‘‘ بچی نے ایک سانس میں امی کی درخواست مجھنے پہنچا دی تھی۔ میں نے وہ چیک، جسے وہ اپنے ابو کا بھیجا ہوا کاغذ کہہ رہی تھی، اس کے ہاتھ سے لے لیا۔ یہ زکوٰۃ فنڈ کا پندرہ سو روہے کا چیک تھا۔ میں نے بچی سے پوچھا: ’’بیٹا، تم ابو کے بھیجے گئے ان پیسوں سے کیا کیا خریدوگی؟‘‘ بچی جو شاید پہلی بار ہی بینک آئی تھی اور شاید پہلی بار ہی کسی نے اس سے اتنے پیار سے پوچھا تھا، ایک دم پرجوش ہوگئی اور چابی کی گڑیا کی طرح بولنے لگی کہ:

’’میں ان پیسوں سے موتیوں کے گلے والا فراک، بڑی بڑی آنکھوں والی گڑیا، چوڑیاں، مہندی، گھڑی، اونچی ایڑی والے جوتے، بھائی کے لیے بھی جوتے، گھڑی اور میٹھا شربت، سموسے…‘‘

وہ ایک سانس میں بولتی جا رہی تھی، مگر اس کی فرمائشوں کی لسٹ پوری نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے تو جیسے اس معصوم بچی کے کب کے چھپے ارمانوں کا تالا کھول دیا تھا اور اب اس میں سے چیزیں لگاتار نکلتی جا رہی تھیں، جو ہزاروں روپوں میں بھی نہیں خریدی جاسکتی تھیں، جب کہ مجھے معلوم تھا کہ اس بیوہ کو ان پندرہ سو روپوں ہی میں پورا مہینہ اور عید گزارنی ہوگی۔ بچوں کے ارمانوں کی الماری وہ سختی سے بند کر کے مقفل کرنے پر مجبور ہوگی۔ میرے سینے میں ہلچل سی مچی، یہ سگنل اوپر سے آیا تھا کہ ان کی مدد کرو، تمہیں ان کی مدد کا وسیلہ بنایا گیا ہے۔ میں بے اختیار ہوکر اٹھا، بچی کی انگلی پکڑی اور اسے اس کی والدہ کے پاس لے گیا۔ اپنی جیب سے چالیس ہزار کی رقم نکالی اور اس کی والدہ کی طرف بڑھا کر کہا: ’’اسے اللہ کی طرف سے غیبی مدد سمجھ کر رکھ لو اور وہ جو پندرہ سو روپے کی زکوٰۃ کی رقم ملے گی، اس سے اپنی اس گڑیا کی فرمائشیں پوری کر دینا۔ مہندی، چوڑیاں، موتیوں والے گلے کی فراک، شربت، سموسے یہ جو کہے، اسے میری طرف سے دلوا دینا۔ وہ خاتون حیرانی سے مجھے دیکھ رہی تھیں۔ شاید پہلے انھوں نے مجھے غلط آدمی سمجھا ہوگا، مگر میری آنکھوں میں نمی دیکھ کر وہ فوراً سمجھ گئیں کہ ان کی گڑیا نے ان کی غربت کا حال کھول دیا ہے۔ پہلے وہ ہچکچائیں، جو ان کی شرافت کی دلیل تھی، پھر میرے اصرار پر رقم لے کر اپنے پرس میں ڈال لی۔ میرے سینے سے سِل سی ہٹ گئی اور بے چینی بھی فوراً دور ہوگئی۔ میں بچی کو اس کی ماں کے پاس چھوڑ کر واپس کیبن میں آگیا اور چپراسی سے کہا کہ جیسے ہی بینک کھلے، سب سے پہلے وہ اس خاتون کو رقم دلوائے۔ بینک کھلنے کے بعد خاتون نے اپنے چیک سے پندرہ سو روپے کی رقم کیش کروائی۔ جانے سے پہلے انھوں نے اس ننھی گڑیا کو شکریہ ادا کرنے اندر بھیجا اور خود گیٹ پر کھڑی اپنے آنسو پونچھتی رہیں، جو یقینا اظہارِ ممنویت اور خوشی ہی کے ہوں گے، مگر یہ صرف میں جانتاہوں کہ اللہ نے مجھے وسیلہ بنانے کے لیے چنا تھا اور حکم یہ اوپر والے ہی کا تھا ورنہ اس زمانے میں کون اپنے بچوں کی خوشیاں بھلا کر دوسروں کے لیے خوشیاں خریدتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
نصیر عباس شیخ

Leave a Reply