پھَتُّو

خدا بخش ایک سیدھی سادی شخصیت ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ وہ کوئی مشہور آدمی ہے یا اس کے گرد لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔ جب سے شادی ہوئی ہے تب سے تو رہے سہے دوستوں سے بھی کٹ گیا ہے۔ بعض دوستوں کا خیال ہے کہ یہ محترمہ کا اثر ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ سب رضا کارانہ طور پر وقوع پذیر ہونے والا خود احتسابی عمل ہے۔

خیر ہمیں یہاں ان کی شخصیت کا خاکہ کھینچنا مقصود نہیں ہے بلکہ ہم تو اس شام کا واقعہ سنانے جا رہے ہیں جب موصوف کسی کام کے سلسلے میں شہر گئے تھے اور واپسی میں ایک سنسان سڑک پر ان کی موٹر کار خراب ہوگئی۔ وہ جھنجھلائے ہوئے کار سے اترے اور اپنے پڑوسی کو بہ آواز بلند برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ چوں کہ موصوف بڑے نستعلیق قسم کے آدمی ہیں اس لیے بے نقط سنانے کے دوران ان کا رخ احمر عین اسی طرف رہا جس طرف ان کے خیال کے مطابق ان کے پڑوسی کا گھر واقع تھا۔ در اصل بات یہ تھی کہ موٹر کار انھوں نے پڑوسی سے ادھار لی تھی۔ یادش بخیر ادھار لینے میں جتنے سیدھے سادے ہیں، واپس کرنے میں اس سے کہیں بڑھ کر سیدھے سادے ہیں یعنی اکثر بھول جاتے ہیں۔ اکرچہ بھولنے کا عارضہ نہیں کافی عرصے سے ہے، تاہم ان کے ایک دوست کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد تو روز افزوں ہے، دروغ بر گردن راوی…!

تو بات ہو رہی تھی کہ وہ گاڑی سے باہر نکلے اور لاکھ جتن کیے مگر گاڑی ٹس سے مس نہ ہوئی۔ اگلا بونٹ کھول کر کافی دیر تک تاروں سے الجھنے کے بعد ان کا حلیہ کسی بھوت جیسا ہوگیا تھا۔ ہاتھ کالے ہوگئے تھے وہ یہ بات بھول گئے اور چہرے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے ساری کالک اس پر مل دی۔ پسینے سے جسم شرابور، ہاتھ، منہ اور کپڑے کالے، ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی گیراج کا بھوت ہو۔

اوہو… میں بے حد معذت خواہ ہوں کیوں کہ میں کہانی کسی اور کی سنانے جا رہا تھا اور خدا بخش کی داستان لے کر بیٹھ گیا۔ میں جب بھی کوئی عجیب واقعہ لکھنے بیٹھتا ہوں، میرے ساتھ ایسا ہو جاتا ہے!

مولوی ابرار نیک صفت آدمی ہیں لیکن غصے کے بہت تیز ہیں۔ ان کا ایک خاص چیلا ہے صمدو۔ سائے کی طرح ساتھ رہتا ہے۔ مولوی صاحب کو بہت اعتبار ہے اس پر لیکن دوسروں کی نظر میں ناقابل اعتبار۔ خیر اس شام کو مولوی صاحب نے ایک جگہ نکاح پڑھانے کے بعد مٹھائی کی کچھ زیادہ مقدار کھالی تو اٹھنے کے بعد انہیں پیٹ میں بھاری پن کا احساس ستانے لگا۔ صمدو بڑا تیزاور فوری مشورہ دیا کہ تھوڑا سا ہی تو راستہ ہے، پیدل چلتے ہیں۔ مگر خدا بخش گاڑی چھوڑ کر کیسے جاتے۔ اتفاق سے وہاں سے مولوی ابرار اپنے خاص چیلے صمدو کو دیکھا کہ سڑک کے کنارے ایک کار کھڑی ہے، اور بونٹ کے پاس اس کا ڈرائیور کھڑا ہے۔ قریب پہنچے تو دونوں ٹھہر گئے۔ بھوت نما انسان دیکھ کر پہلے تو مولوی ابرار نے لاحول پڑھی اور پھر گلا کھنکار کر بولے۔

’’میاں اگر برا نہ لگے تو حال دریافت کر سکتا ہوں۔‘‘

خدا بخش چونک کر مڑے اور بے ساختہ پوچھا: ’’کس کا؟ میرا یا گاڑی کا؟‘‘ مولوی صاحب کو ان کا یوں چونکنا اور تجاہل عارفانہ سے اس قسم کا بے ہودہ سوال پوچھا جانا ایک آنکھ نہیں بھایا لیکن درگزر کر گئے اور خاموشی سے اپنے چیلۂ خاص کو اشارہ کیا۔ صمدو نے چوں کہ چھ ماہ تک ایک گیراج میں کام کیا تھا اس لیے مولوی صاحب کو یقین تھا (جس میں حسن ظن کا زیادہ دخل تھا) کہ گاڑی میں چاہے کوئی بھی خرابی ہو، صمدو کا ہاتھ لگتے ہی ٹھیک ہوجاتی ہے۔ صمدو اشارہ پاکر آگے بڑھا تو خدا بخش نے خود کار انداز میں پیچھے ہٹ کر اسے جگہ دے دی۔ دس منٹ بعد اس نے سر اٹھایا اور بولا۔

’’یہ پہلی گاڑی ہے جس کی خرابی میری سمجھ میں نہیں آئی۔‘‘

مولوی صاحب یہ سن کر چونکے اور زیر لب بڑبڑائے… لاحول و لاقوۃ!

صمدو کو چلنے کا اشارہ کیا اور پھر خدا بخش کو مخاطب کر کے گلا کھنکار کر بولے۔

’’میاں، اب تو ایک ہی راستہ ہے، گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس ذات باری سے گڑگڑا کر دعا مانگو، تمہاری رکی گاڑی چل پڑے گی۔‘‘

یہ کہہ کر دونوں چل پڑے۔ خدا بخش انہیں جاتا دیکھتے رہے۔ کافی دور جاکر مولوی صاحب نے اپنے چیلے سے کہا: ’’ذرا مڑ کر تو دیکھو، بندہ کیا کر رہا ہے؟‘‘

صمدو نے مڑ کر دیکھا تو اچھل پڑا۔ ’’ارے مولوی صاحب، وہ پھتو تو سچ مچ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر گڑگڑا رہا ہے۔‘‘

مولوی صاحب کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔ ابھی وہ ذرا ہی دور چلے تھے کہ انہیں انجن کے غرانے کی آواز سنائی دی۔ دونوں کے چہروں پر حیرت کے آثار پھیل گئے اور ایک دوسرے کی طرف تعجب سے دیکھا۔ اسی لمحے زناٹے کے ساتھ کار ان کے بے حد قریب سے گزر گئی۔ مولوی صاحب لڑکھڑا کر گڑھے میں جاگرے۔ صمدو نے انہیں سہارا دے کر بڑی مشکل سے نکالا۔ وہ ہاتھ اور کپڑے جھاڑ کر گاڑی کی طرف منہ کر کے چلائے۔

’’بیڑا غرق ہو تمہارا۔ جہنم میں جاؤ اپنے یقین کے ساتھ!‘‘ صمدو زیر لپ مسکراتا رہا…!lll

شیئر کیجیے
Default image
رفیع اللہ میاں

Leave a Reply