محمد کی سوچ

تم تو بہت چھوٹے ہو، کیا تم نے کبھی پہلے بھی کام کیا ہے؟‘‘ طارق صاحب نے اْسے اْوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے پوچھا۔

’’جی نہیں آپ ایک دو دن مجھے رکھ کر دیکھ لیں اگر کام پسند آئے تو ٹھیک ورنہ جیسے آپ کی مرضی۔‘‘

’’کب سے آؤ گے؟‘‘ نہ جانے اس میں ایسی کونسی کشش تھی کہ طارق صاحب انکار نہ کرسکے۔

’’آج ہی سے۔۔۔‘‘

’’ٹھیک ہے اندر آجاؤ۔‘‘ طارق صاحب نے کہا اور اْسے کام سمجھانے لگے۔

٭٭

’’محمد…..‘‘ آپی کی اْوپر کی سانس اْوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی۔ محمدنے جو شیشے کی میز پر قلا بازی کی مشق کررہا تھا، آپی کی آواز پر سر اْٹھا کر سوالیہ نظروں سے اْنہیں دیکھا…’’جی…!‘‘

’’تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے، یہ کون سی جگہ ہے قلا بازی کھانے کی؟‘‘ آپی نے ڈانتے ہوئے کہا۔

’’بس یونہی کچھ نیا کرنے کا دل چاہ رہا تھا‘‘۔ محمد نے سپرمین کی طرح میز سے چھلانگ لگائی۔

’’کیا کہا کچھ نیا دس دفعہ پلستر چڑھوا چکے ہو، اب بھی تمہاری چلبلی ہڈیوں کو چین نہیں آیا ہے؟‘‘ آپی نے بھنا کر کہا۔

’’ہم …شاید ابھی نہیں۔‘‘ محمد نے ہاتھ، پیر ہلا کر دیکھتے ہوئے کہا۔

’’پتا نہیں تم ہمارے گھر میں کیا کررہے ہو، تمہیں تو کسی سرکس میں ہونا چاہیے تھا۔‘‘ آپی نے منہ بنا کر کہا۔

’’ویسے یہ آئیڈیا بْرا نہیں ہے، سوچوں گا اس پر بھی۔‘‘ محمد نے بندر کی طرح دانت نکالتے ہوئے کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا جب کہ آپی صرف ٹھنڈی سانس لے کر رہ گئیں۔

٭٭

’’یار محمد وہ اْوپر دیکھ رہے ہو۔۔۔وہاں ہماری شٹل پھنس گئی ہے اْتار سکتے ہو؟‘‘

’’بالکل بھائی خالد۔‘‘ محمد نے فوراً ہی ہامی بھرلی۔

’’دیکھ کربہت اْونچا درخت ہے۔‘‘ خالد نے کہا۔

’’یہ میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔‘‘ محمد نے درخت کی اْونچائی کا اندازہ لگاتے ہوئے کہا اور اگلے ہی لمحے نیم کے پرانے اور گھنے درخت پر چڑھنے لگا۔

’’یہ لو۔۔۔‘‘ ذرا سی محنت کے بعد محمد نے شٹل نکال کر خالد کی طرف اْچھالا اور بجائے نیچے اْترنے کے برابر والے مکان کی دیوار پر پیر لٹکا کر بیٹھ گیا۔

’’تم نیچے نہیں آؤ گے؟‘‘ خالد کے کزن حسن نے حیرت سے کہا۔

’’ابھی نہیں۔۔۔‘‘ محمد نے مختصر جواب دیا۔

ابھی اْسے بیٹھے پانچ منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ سامنے سے بھیا آتے دکھائی دیے۔ محمد نے جلدی سے پتوں کے ذریعے خود کو چھپایا، پر بھیا کی عقابی نظروں نے اْسے تاڑ لیا تھا، لیکن اْسے نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور محمد نے ڈانٹ سے بچ جانے پر سْکھ کا سانس لیا۔

٭٭

’’یہ دروازہ تم لوگوں کے لیے ہی لگوایا گیا ہے۔‘‘ ایک گھنٹے بعد بذریعہ دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوتے ہی محمد کو اپنے عقب سے آپی کی آواز سنائی دی، جو ہاتھ میں بالٹی لیے چھت سے نیچے اْتر رہی تھیں۔

’’ارے آپ کیوں بالٹی لیے کھڑی ہیں؟‘‘ محمد نے بات کا رْخ پلٹنا چاہا۔

’’چھت پر کپڑے ڈالنے گئی تھی، کیا پتا تھا واپسی پر تمہاری ایک نئی کارستانی سے متعارف ہوں گی، ویسے مجھے سمجھ نہیں آتی کہ تمہارے اندر یہ ٹارزن کی روح کہاں سے آئی ہے؟‘‘

آپی نے بْرا سا منہ بنا کر کہا تو محمد ہنس دیا اور آپی کے ساتھ اندر کی راہ لی۔

٭٭

محمد جب دو سال کا تھا تو اس کے والد اس دارفانی سے کوچ کر گئے تھے۔ آپی اس وقت سات سال کی تھیں جب کہ بھیا میٹرک کے طالب علم تھے۔ بھیا نے ابو کی جگہ بڑی خوش اسلوبی سے سنبھال لی تھی، وہ چاہتے تھے کہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر محمد اور آپی یتیمی کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائیں اور اپنی ہمت اور محنت سے انہوں نے یہ بات ثابت بھی کردی تھی۔ محمد اب جیسے جیسے بڑا ہورہا تھا، وہ دیکھ رہا تھا کہ کس طرح بھیا دن رات محنت کرکے اور امی ٹیوشن پڑھا کر گھر کا خرچ چلا رہے ہیں، وہ بھی اْن کا ہاتھ بٹانا چاہتا تھا، لیکن کس طرح یہ اْس نے ابھی سوچا نہیں تھا۔

٭٭

’’محمد اِدھر آؤ۔۔۔‘‘ گھر میں داخل ہوتے ہی بھیا نے اْسے اپنے کمرے میں بلایا۔ امی بھی وہیں تھیں۔

’’جی، آپ کو مجھ سے کوئی کام ہے؟‘‘

’’محمد ابھی تم چھوٹے ہو اور تمہاری عمر صرف پڑھنے اور کھیلنے کی ہے، تم شام میں کھیلنے کا کہہ کر طارق صاحب کی دکان پر کام کرتے ہو، تمہیں پندرہ دن ہوگئے ہیں اور تم نے کسی کو بتایا بھی نہیں؟؟‘‘ بھیا نے بغیر کسی تمہید کے کہا، اْن کی آواز میں واضح شکوہ تھا۔

’’اگر امی یا آپ کو بتاتا تو آپ منع کر دیتے، اِسی لیے نہیں بتایا۔‘‘

محمد نے سر جھکاکر دھیمے لہجے میں وضاحت کی۔

’’اِسی لیے منع کرتے کہ ابھی تمہاری عمر نہیں ہے کام کرنے کی، پہلے میٹرک مکمل کرلو پھر ہم خود تمہیں کام کے لیے کہیں گے۔‘‘ امی نے پیار سے سمجھایا۔

’’بالکل ابھی تمہارا بچپنا ہے، اِسے ہنستے اور کھیلتے ہوئے گزارو۔ ‘‘

بھیا نے سر پر ہاتھ رکھ کر محمد سے کہا۔

’’نہیں بھیا، میں بڑا ہوگیا ہوں، ہمارے پیارے نبی محمدؐ بھی تو بچپن سے ہی اپنے ہاتھوں سے کام کرتے تھے اور اِسے پسند فرماتے تھے، میں بھی اپنے ہاتھوں سے کام کرنا چاہتا ہوں اور ایک بہادر اور محنتی بچہ بننا چاہتا ہوں۔ محمد نے پرعزم لہجے میں کہا۔

’’کیا کہا محنتی بچہ۔۔۔؟

تو صرف ایک کام کردو اپنے کمرے کو جو کسی میدانِ جنگ کا نقشہ پیش کررہا ہے پھر سے اپنی اصلی حالت میں لے آؤ۔‘‘

آپی جنہوں نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے محمد کا آخری جملہ سنا تھا التجائیہ لہجے میں کہا تو سب کھکھلا کر ہنس دیے اور محمد اس بات کا عملی ثبوت دینے کمرے کی طرف لپک گیا۔۔۔۔!!lll

شیئر کیجیے
Default image
شارق اکرم

Leave a Reply