وہ دیوانہ

وہ دیوانہ دانا، وہ بے گانہ یگانہ، وہ رند پاک باز، وہ صوفی زندہ دل، وہ صاحب دل دانشور، وہ دین دار دیدہ ور، وہ آشفتہ مزاج و آزاد منش، عجیب آدمی تھا، عجیب باتیں کرتا تھا۔ میں نے پوچھا کہ تم سینے پر ہاتھ مارتے رہتے ہو، کیا کسی کی موت پر ماتم کرتے ہو؟ فرمایا نہیں، میں تو زندوں کی عقل پر ماتم کرتا ہوں… میں نے پوچھا تم سینے پر ہاتھ باندھ کر کیوں نماز پڑھتے ہو؟ کہنے لگا کہ میں یسنے پر نہیں بلکہ دل پر ہاتھ باندھتا ہوں تاکہ اسے قابو میں رکھوں… ویسے بھی میں ہاتھ سے نماز ادا نہیں کرتا، میں تو دل سے نماز ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں… میں نے کہا کہ تمہارا شین قاف (شق) درست ہے، کیا تم اہل زبان ہو؟ کہنے لگا کہ نہیں میں اہل زبان سے تعلق نہیں رکھتا، میں تو اہل دل کے قبیلے سے ہوں… ویسے بھی میں تو شق قلب بلکہ شق صدر پر ایمان رکھنے والوں میں سے ہوں، میں شقی القلب نہیں ہوں… میری نظر میں زبان کا اعتبار نہیں کہ حرفوں کی بنی ہوئی ہے، دل پر نظر رکھتا ہوں کہ مخزن معانی اور حدیقہ حقائق ہے… میں نے پوچھا کہ تم عربی ہو یا عجمی؟ کہنے لگا کہ میاں میں نہ عربی ہوں نہ عجمی، نہ ترکی نہ تاتاری، نہ لاہوری نہ لکھنوی۔ میں تو قبلتاً مکی ہوں اور قلباً مدنی… میں نے پوچھا تمہارا وطن؟ اس نے کہا میں ہندوستان میں پیدا ہوا اس لیے میرا وطن ہندوستان ہے۔ لیکن میں مسلمان ہوں۔ سو تمام دنیائے اسلام میرا وطن ہے۔ میں انسان ہوں، سو سارا جہان میرا وطن ہے… میں نے پوچھا کہ تم ذات کے سید ہو، شیخ ہو، پٹھان ہو کہ جاٹ ہو؟ اس نے کہا میں نہ ذات کا سید ہوں، نہ شیخ ہوں، نہ پٹھان ہوں اور نہ ہی جاٹ ہوں، میری ذات وہ ہے جس کی کوئی صفت نہیں اور میری صفت وہ ہے جس کی کوئی ذات نہیں… میں نے پوچھا کہ تم نے شادی کی ہے؟ کہنے لگا کہ نہیں۔ نفس کو طلاق دینے کی کوشش میں ہوں، جب نفس کو تین طلاق دے دوں گا تو پھر کسی عفیفہ سے نکاح کرنے کا ارادہ کروں گا۔ میں نے پوچھا تمہاری عمر کیا ہوگی؟ فرمایا یہی کوئی چار سال… میں نے کہا تم تو عمر رسیدہ ہو پھر چار سال کے کیسے ہوئے؟ فرمایا ٹھیک ہے کہ میں عمر رسیدہ لگتا ہوں لیکن مجھے تو صرف چار سال پہلے ہی ذات کا گیان حاصل ہوا تھا سو یہ گیانی تو چار سال ہی کا ہے۔ وہ عمر رسیدہ منزل نا رسیدہ، آشنائے ناآشنا تو مرچکا ہے… میں نے کہا تمہارا مذہب کیا ہے؟ کہنے لگا کہ ’’انسانیت‘‘ میں نے کہا کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ کہنے لگا کہ مسلمان ہی تو انسان ہوتا ہے اگر واقعی وہ مسلمان ہو۔ کیا ہم اپنے نبی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو انسان کامل نہیں کہتے۔ میں نے کہا تمہارا فقہی مسلک کیا ہے؟ کہنے لگا کہ حق سے محبت۔ میں نے کہا کہ حق کیا ہے؟ جواب دیا کہ جو باطل نہیں، میں نے پوچھا کہ باطل کیا ہے؟ جواب دیا کہ جو حق نہیں۔ میں نے کہا حق کی تعریف تو کچھ نہ کچھ کرو۔ جواب دیا کہ حق حق ہے، حق کی تعریف نہیں ہوسکتی۔ حق وہ ہے جو وہ ہے۔ میں نے کہا کہ حق کے باب میں کچھ توضیح ہی کردو، فرمایا کہ آیت پڑھو:

ترجمہ ’’اے داؤد تمہیں ہم نے زمین پر خلیفہ بنایا ہے پس تم حق کے مطابق لوگوں میں فیصلے کرو اور خواہش نفس کی پیروی نہ کرو۔‘‘

یعنی جو حق ہے وہ ہویٰ و ہوس نہیں، جو ہویٰ وہوس ہے وہ حق نہیں۔ جس بات میں خواہش نفس یا ذاتی مفاد شامل ہو وہ حق نہیں۔ ہاں جس بات میں ذاتی مفاد کی قربانی ہو یا اپنی ذات یا اپنے نفس کی نفی ہو، وہ حق ہے۔ حق وہ ہے جس کے لیے قربانی دی جائے، مال کی، جان کی، آن کی … سنت ابراہیمی علیہ السلام ہو یا سنت حسینیؑ، قربانی ہوگی تو حق ملے گا، حق روشن ہوگا… لیکن تمہیں حق سے کیا واسطہ؟ تم حق کو پانے کی غلطی نہ کرنا ورنہ میری طرح اپنوں سے بلکہ اپنے سے بھی بے گانے اور دنیا والوں کی نظر میں دیوانے بن جاؤگے۔ میاں تم دنیا والوں کے ساتھ رہو، جھوٹ بولو، حق گوئی کو گولی مارو۔ حق کے نام پر لوگوں کا حق مارو، منافقت اختیار کرو، خوشامد کو شعار بناؤ، مال بناؤ، کام بناؤ، نام پاؤ اور شادکام رہو…

میں نے پوچھا کہ کچھ لکھنے پڑھنے سے بھی شغف رکھتے ہو؟ کہنے لگا کہ ہاں میں لوح پیشانی کو پڑھتا ہوں اور لوح دل پر لکھنے کی مشق کرتا ہوں… میں نے کہا تمہیں تصنیف و تالیف کا بھی کچھ شوق ہے؟ فرمایا ہاں ’’تالیف قلوب‘‘ کرنے کی کوشش کرتا ہوں… میں نے پوچھا کبھی تلاوت بھی کرتے ہوں؟ فرمایا ہاں صبح و شام تلاوت درود کرتا ہوں اور ہر وقت تلاوت وجود… میں نے پوچھا کہ یہ تلاوت وجود کیا ہے؟ فرمایا دوسروں کے وجود کی خوبیاں اور اپنے وجود کی خامیاں تلاش کرتا ہوں… میں نے پوچھا کہ تم مہاجر ہو یا مقامی؟ فرمایا کہ میں تو عرش معلی پر مقیم تھا لیکن ’’تنزلات ستہ کی تحریک‘‘ خلافت و امانت الٰہی کے ہنگاہوں اور شیطان و یزداں کے جھگڑوں میں وہاں سے ہجرت ایسی کی کہ جنت میں بھی جی نہ لگا، اسے ایک دانہ گندم کے عوض بیچ کھایا، اب آوارہ گرد ہوں، دربدر ہوں، غریب الدیار ہوں، بے یار و مددگار ہوں۔ اپنے من میں انجمن رکھتا ہوں، انجمن میں تنہا ہوں، سب کا آشنا ہوں، خود سے اجنبی ہوں۔ میں نے کہا نہ تم عربی ہو، نہ عجمی، نہ مہاجر اور نہ ہی مقامی، آخر تم کون ہو؟ تمہاری شناخت کیا ہے؟ اس نے کہا کہ میری شناخت کہیں گم ہوگئی یا شاید شیطان نے چرالی یا یزداں نے چھپالی۔ میں اپنی شناخت ہی کی تلاش میں مدت سے مارا مارا پھر رہا ہوں… لوگ کہتے ہیں کہ میں حامد ہوں، میں ہی محمود ہوں، میں ہی غائب ہوں، میں ہی موجود ہوں، میں انا الحق کا دعویٰ کرتا ہوں، میں ہی جواب دعویٰ میں ’’عن الحق‘‘ کہتا ہوں۔ میں ہی ظالم کی تلوار ہوں، میں ہی مظلوم کی فریاد ہوں، میں ہی ضمیر کی آواز ہوں اور میں کچھ بھی نہیں، کچھ بھی تو نہیں… نجانے میں کون ہوں! کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ میں کون ہوں؟

وہ عالم بھی تھا اور عارف بھی۔ صوفی زندہ دل بھی، اور رند پاک باز بھی۔ اس کا انداز گفتگو دانشورانہ، اس کا طرزِ زندگی قلندرانہ، اس کا مزاج شاہانہ اور لباس فقیرانہ تھا۔ بہ ظاہر دیوانہ لگتا تھا اور حقیقت میں حکیم فرزانہ تھا… کچھ لوگ اسے خبطی سمجھتے تھے اور کچھ اسے قلندر … عوام و خواص سب اسے شاہ جی کہہ کر پکارتے تھے۔ شاہ جی کے چہرے کا رنگ کالا بھجنگ تھا۔ ان کے دوست میر صاحب کبھی کبھی انہیں ڈیوٹ کہہ کر چھیڑتے تھے۔ ڈیوٹ پرانے زمانے میں لکڑی کا ایک اسٹینڈ ہوتا تھا، جس پر سرسوں کے تیل کا چراغ رکھا جاتا تھا۔ یہ لکڑی کا چراغ دان تیل اور سیاہی سے مل کر کالا بھٹ ہو جاتا تھا۔ اور ڈیوٹ بے وقوف شخص کو بھی کہتے ہیں۔ جب میر صاحب شاہ جی کو ڈیوٹ کہتے تو وہ برا نہیں مناتے تھے اور کہتے تھے کہ میاں ہمارا تن میلا ہے من اجلا ہے، تمہارا تن اجلا ہے اور من کالا ہے کہ میر صاحب کا خوب سفید رنگ تھا۔ شاہ جی کے چہرے کو جو دیکھتا تھا منہ پھیر لیتا تھا لیکن جو ان کے برتاؤ کو دیکھ لیتا تھا وہ ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔ ان کی مجلس میں ہر پیشے، ہر زبان اور ہر علاقے کے لوگ شریک ہوتے تھے… خاص طور پر میر صاحب، مرزا صاحب، قاضی صاحب، انصاری صاحب، خان صاحب، چودھری صاحب، ملک صاحب اور مولوی نور الدین صاحب کے ساتھ تقریباً ہر روز شام کو مجلس جمتی تھی۔ ان مجالس میں شاہ جی زبان و بیان کے جوہر دکھاتے تھے اور اپنی گفتگو کے گوہر بکھیرتے تھے۔ یہ گفتگو علم و ادب، فکر و فلسفہ، معاشرت ومعیشت، حکومت و سیاست، تاریخ و تصوف غرض زندگی کے ہر موضوع کے متعلق ہوتی تھی اور ساتھ ہی میر صاحب سے شاہ جی کی چھیڑ چھاڑ بھی چلتی رہتی تھی۔

ایک روز کسی نے پوچھا کہ شاہ جی تم تو کہتے ہو کہ میں خلوت پسند ہوں جب کہ دوستوں کی مجلس کو پسند بھی کرتے ہو اور وہاں خوب چہکتے بھی ہو … فرمایا میاں دوستوں کی مجلس بھی تو ایک طرح کی خلوت ہی ہوتی ہے۔ کسی نے پوچھا مجلس اور محفل میں کیا فرق ہے؟ فرمایا محفل عمومی ہوتی ہے اور مجلس خصوصی، حافظ شیرازی نے ایک شعر میں بڑی خوبی سے اس فرق کو واضح کیا ہیـ۔

حافظم در محفلی دردی کشم در مجلسی

بنگر این شوخی کہ چون با خلق صحبت می کنم

’’یعنی میں محفل میں تو حافظ ہوں لیکن مجلس میں شراب خوار ہوں، ذرا میری یہ شوخی تودیکھئے کہ مخلوق کے ساتھ کس رنگ میں زندگی گزار رہا ہوں۔‘‘

ایک روز میر صاحب نے چھیڑتے ہوئے کہا کہ شاہ جی لوگ آپ کو خبطی اور دیوانہ کیوں کہتے ہیں؟ فرمایا اس لیے کہ سچ بولتا ہوں… پوچھا کیا سچ بولنے والے دیوانے ہوتے ہیں؟ فرمایا جی ہاں! سچ بولنے والے دیوانے یا خبطی ہوتے ہیں کیوں کہ سچ دو ہی شخص بولتے ہیں ایک وہ جو پیغمبر اور دوسرا وہ جو دیوانہ ہو۔ اور پیغمبروں کو بھی تو ان کی قوم دیوانہ ہی کہتی تھی۔ کسی نے پوچھا جب دونوں ہی سچ بولتے ہیں توپیغمبر اوردیوانے میں فرق تو کچھ نہ ہوا۔ شاہ جی نے فرمایا نہیں فرق ہے، دیوانہ صرف سچ بولتا ہے اور پیغمبر سچ بولتا بھی ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے اور اس کی تلقین و تبلیغ بھی کرتا ہے۔ یہ کہہ کر کچھ دیر خاموش رہے اور پھر قہقہہ مار کر یوں گویا ہوئے کہ یہ بھی خوب ہوا کہ میری دانائی نے مجھے دیوانہ بنا دیا اور میر صاحب کی حماقت نے انہیں دانشور بنا دیا۔ ہاں میر صاحب مجھے لوگ دیوانہ کہتے ہیں اس لیے بھی کہ میری باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آتیں کیوں کہ میری باتیں ان کی سمجھ میں کیسے آئیں گی۔ یہ لوگ تو مجھے خبطی اور دیوانہ ہی کہیں گے اور جواب میں، میں کہتا ہوں کہ بھائیو میں اس لائق کہاں کہ دیوانہ کہلاؤں، میں تو دیوانہ گان بارگاہِ حق کا دیوانہ ہوں۔ خان صاحب نے کہا شاہ جی کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ انسان کمال عقل سے اس وقت بہرہ ور ہوتا ہے، جب لوگ اسے دیوانہ کہیں اور وہ خوش ہو۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی

Leave a Reply