پتھر دل

وہ ایک چھوٹا سا پیارا سا بچہ تھا۔ گول سے سرخ سفید چہرے پر اس کی چمکتی کالی آنکھیں۔۔۔ بہت بھلی لگتی تھیں۔ اس کی امی کو تو وہ آسمان کا ستارہ لگتا تھا۔ ان کا بس نہ چلتا کہ دنیا کی ساری خوشیاں اس کے قدموں میں ڈھیر کر دیں۔ دھیمے دھیمے قدموں سے سنبھل سنبھل کر چلتا تو ہر ایک کو اس پر پیار آتا۔ اس کی امی دونوں ہاتھ پھیلا دیتیں تو وہ دور سے ننھے ننھے قدم جلدی جلدی اٹھاتا، جیسے بھاگ رہا ہو اور ان کی نرم آغوش میں چھپ جاتا۔ سمجھ دار اس قدر کہ ابھی سے ابو کی سب چیزیں پہچان پہچان کر اٹھا لاتا۔ ایک بار جس چیز سے منع کردو ،پھر اس کی طرف جانے سے پہلے جھک کر امی کی طرف دیکھتا ،جیسے اجازت لے رہا ہو۔

امی روک دیتیں تو ایک قدم نہ بڑھاتا بلکہ بڑھا ہوا ہاتھ فوراً پیچھے کرلیتا… امی ابو تو اسے ہی دیکھ دیکھ کر جیتے تھے جیسے۔

زمان اور زرینہ بہت خوشی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔ ان کی شادی کے دو سال بعد اللہ نے انہیں یہ پیارا سا تحفہ دیا تھا۔ زبیر ان کا معصوم فرشتہ… اب ایک سال کا ہوگیا تھا۔ سب کو اس کے ساڑھے تین سال کا ہونے کا انتظار تھا کہ کب وہ اسکول جانے کے قابل ہو اور وہ اسے داخل کروائیں۔ آخر وہ دن بھی آگیا۔ آج زبیر کا اسکول میں پہلا دن تھا۔ سارے بچوں میں وہ الگ ہی نظر آرہا تھا۔ بچے تو بچے ہوتے ہیں، مگر چند ہی ماہ میں ٹیچرز اس کی ذہانت کے گن گانے لگے۔ وہ تھا بھی ایسا۔ محبت اور پیار میں گندھا ہوا ذہانت کا پیکر۔ بات چیت میں اس قدر شائستہ کہ بار بار بات کرنے کو جی چاہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز اسے بے اندازہ دی تھی۔ اس کی رپورٹ سب بچوں سے بہترین تھی۔ وقت کا پہیا تیزی سے گھومتا رہا۔ وہ بڑا ہوتا رہا اور زندگی کم ہوتی رہی۔ بار بار وہ دونوں PTM میں جاتے اور زبیر کی اچھی کارکردگی سن کر نہال ہوجاتے۔

اب وہ پانچویں کلاس میں آگیا تھا۔ آج اس کے اسکول میں مباحثہ تھا۔ ’’امی صرف اپنی اچھی ہوتی ہیں‘‘ اس نے بھی مباحثہ میں حصہ لیا تھا۔ تقریر تو لکھ لی تھی مگر یہ بات بار بار اس کے دل کو بے چین کر رہی تھی کہ اپنی امی سے کیا مراد ہے کیا دوسری امی بھی؟ پتا نہیں دوسری امی کون ہوتی ہیں؟ انعام تو اسے مل گیا تھا مگر مخالف سمت سے آنے والے مقرر کے الفاظ اس کے دماغ سے چپک گئے ’’امی صرف اپنی اچھی نہیں ہوتیں دوسری امی بھی اچھی ہوسکتی ہیں اگر ہم اچھے ہوں۔‘‘ یہ بڑی کلاس کے بچے تھے ان کی بڑی بڑی باتیں تھیں اس کے ننھے دماغ میں کہاں سے آتیں۔ اس نے دھیان ان سے ہٹا لیا اور اپنا خوب صورت انعام دیکھنے لگا۔

گھر جاتے ہی اس نے امی کے دونوں ہاتھ کھول کر اس پر اپنا انعام رکھ دیا۔ امی نے اسے لپٹا کر خوب پیار کیا۔

’’جاؤ تم کپڑے بدل کر آؤ ،میں کھانا لاتی ہوں۔‘‘ وہ کپڑے بدلنے مڑا تو اس نے محسوس کیا کہ امی بڑی مشکل سے چل رہی ہیں۔

’’امی کیا ہوا؟‘‘ وہ بے چین ہوگیا۔

’’کچھ نہیں بیٹا، پاؤں میں ایک دانہ ہوگیا ہے، ابو آئیں گے تو ڈاکٹر کے پاس چلیں گے تم جاؤ ہاتھ منہ دھو لو۔‘‘

شام کو ڈاکٹر کے پاس گئے تو پتا نہیں کیوں امی ابو دونوں پریشان ہوگئے۔ اسے بڑی حیرت تھی۔ امی ابو تو بڑے بہادر تھے، پچھلے رمضان امی کو بخار ہوا تھا تب بھی وہ آرام سے افطار بناتی رہی تھیں، حالاں کہ بخار بڑا تیز تھا اور ابو۔۔۔۔ ابو تو اس کے ہیرو تھے، ہر مشکل کام منٹوں میں کر دینے والے، آج کیوں اتنا چپ چپ تھے۔ رات دیر تک وہ بستر پر لیٹ کر سوچتا رہا۔ جانے کب اسے نیند آگئی۔

اگلے دن اسکول میں اس نے زید کو بتایا۔ تب اس نے کہا ’’یار تمہاری امی کو کوئی خطرناک بیماری تو نہیں ہوگئی؟‘‘

’’خطرناک۔۔۔۔ وہ کون سی بیماری ہوتی ہے؟‘‘

’’جیسے کینسر‘ شوگر۔۔۔۔‘‘

’’پر کیوں خطرناک ہوتی ہیں؟ کیا اس کا علاج ڈاکٹر کو نہیں آتا؟‘‘

’’نہیں یار اس میں تو لوگ مر بھی جاتے ہیں۔‘‘

’’نہیں زید ،چپ ہو جاؤ یار میری امی کو کچھ نہیں ہوگا۔‘‘

’’اللہ آنٹی کو اچھا رکھے۔ تمہاری اپنی امی کہیں نہ جائیں ورنہ…‘‘

’’ورنہ کیا…؟‘‘

’’ورنہ ابو دوسری امی لے آتے ہیں۔۔۔‘‘

’’دوسری امی…‘‘ اسے جیسے کچھ یاد آگیا۔ ’’وہ کیسی ہوتی ہیں؟‘‘

’’توبہ کرو بہت بری ہوتی ہیں… چڑیلوں کی طرح بچوں کو کھا جاتی ہیں…‘‘ خوف سے زبیر کی پتلیاں پھیل گئی تھیں۔ اس سے پہلے کہ زید کچھ اور کہتا، سر کلاس میں آچکے تھے۔ آج اسے کچھ پتا نہ چلا کہ سر نے کیا پڑھایا۔۔۔۔۔ اس کا دماغ تو دوسری امی میں لگا ہوا تھا۔

گھر آیا تو امی بستر پر لیٹی ہوئی تھیں اور ماسی روٹی ڈال رہی تھی۔ پہلے تو کبھی ایسا نہ ہوا تھا۔ ’’امی آپ کو کیا ہوا ہے مجھے بھی بتائیں نا۔۔۔‘‘ اس نے زرینہ کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔

’’کچھ نہیں بیٹا ذرا کھڑا ہونا مشکل ہورہا تھا، اس لیے ماسی کو رکھ لیا ہے، تم کپڑے بدل لو ہم دونوں کھانا کھائیں گے پھر ابو کو جلدی بھی آنا ہے۔‘‘

’’پھر ڈاکٹر کے پاس جائیں گی؟‘‘

’’ہاں بیٹا۔۔۔‘‘ زرینہ نے جلدی سے آنکھیں جھپکا لیں کہیں اس کے آنسو زبیر نہ دیکھ لے۔

کینسر بہت تیزی سے پھیل رہا تھا۔ بات بنائے نہیں بن رہی تھی۔ ابو دادی کو گھر لے آئے تھے۔ زرینہ زبیر کو دیکھ دیکھ کر ہلکان ہونے لگتی تھی۔ کوئی اس کے دل میں جھانک لیتا تو پتا چلتا کہ درد کینسر کا زیادہ ہے یا دکھ معصوم زبیر کا زیادہ ہے۔ اس کے کلیجے کا پھٹنا کوئی کیسے دیکھتا؟

زید روز زبیر کو کینسر کی علامات بتاتا جو زبیر کو سب امی میں نظر آنے لگتیں۔ اس کا دل چاہتا کہ اپنا سب کچھ ڈاکٹر کو دے دے اور اس سے کہے، ڈاکٹر میری امی کو اچھا کر دیں، مگر آج وہ جب اسکول سے آیا تو شدت تکلیف سے امی سے اٹھا بھی نہیں گیا۔ زبیر اس کے بستر پر سر رکھ کر بیٹھا رہا اور آنسو اس کی آنکھوں سے بہتے رہے: ’’اللہ پاک، میری امی بہت اچھی ہیں انہیں نہ لینا… میں اکیلا کیسے رہوں گا اور اگر ابو دوسری امی… نہیں نہیں۔۔۔‘‘

زید نے آج بھی اسے بتایا تھا کہ دوسری امی کیسی ہوتی ہیں۔ وہ روز آکر یونہی امی کا ہاتھ پکڑ کر روتا رہا‘ دعا کرتا رہا۔ ایک دن امی کی طبیعت ذرا بہتر تھی۔ امی نے اسے گود میں بیٹھا لیا، وہ نہال ہوگیا۔ امی اسے مسلسل پیار کر رہی تھیں پھر وہ بولیں ’’بیٹا اپنے ابو کا ہمیشہ کہنا ماننا… بہت پیار کرتے ہیں وہ تم سے… بیٹا مجھ سے وعدہ کرو کہ تم کبھی گھر سے کہیں نہ جاؤ گے۔۔۔‘‘

’’امی آپ کو کیا ہوگیا ہے… آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں؟‘‘ اس کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔

’’میرا بیٹا بہت سمجھ دار ہے نا… دیکھو اگر گھر میں کوئی اور آجائے تب بھی تم گھر سے نہ جانا۔۔۔‘‘

’’امی آپ کو کیا ہو گیا ہے؟‘‘

’’چاہے وہ تمہیں ڈانٹے تب بھی۔۔۔‘‘

’’امی…!‘‘ زبیر کا دل بند ہو رہا تھا مگر جیسے اسے لگ رہا تھا اب امی چپ نہیں ہوں گی۔ شاید وقت بہت کم ہے ان کے پاس… وہ بڑی مشکل سے بول رہی تھیں۔ انہوں نے زبیر کو سینے سے لگا لیا۔ ا ن کے اتھل پتھل ہوتے دل کی دھڑکن وہ سن رہا تھا۔ ان کے آنسو اس کے ماتھے سے بہہ کر گالوں پر گر رہے تھے۔ اس کا دل چاہا امی یونہی اسے اپنے سے قریب رکھیں‘ وہ ان کے سینے سے لگا رہے اور امی اسے پیار کرتی رہیں۔ وہ سارا پیار جمع کرلے بعد میں جانے پیار ملے نہ ملے۔

’’بیٹا… میرا زبیر… میرا دل۔۔۔‘‘ اچانک امی کی طبیعت بگڑنے لگی۔ وہ ابو کو فون کرنے بھاگا۔فرماں بردار بیوی جو ابو سے پوچھے بغیر کہیں نہ جاتی تھیں، آج ان کا انتظار نہ کرسکیں… ’’امی نہیں… امی نہیں…‘‘ وہ تڑپ رہا تھا۔ دادی نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگا لیا اور امی کی آنکھیں بند کر دیں۔ وہ بہت دیر سے دونوں کو بیٹھی دیکھ رہی تھیں۔

ایک ہفتے تڑپتے روتے کیسے گزر گیا… ایک ہفتہ بعد دادی نے کہا ’’بیٹا زبیر! ادھر آؤ سنو تمہارے سب کام کون کرتا تھا۔‘‘

’’امی۔۔۔‘‘

’’اب تو امی چلی گئیں ناں اب کون کرے گا؟‘‘

’’پتا نہیں۔۔۔‘‘ ہر سوال کا صحیح جواب دینے والا ذہین بچہ آج جواب نہ دے سکا۔ زندگی کے سوال کا جواب آسان کہاں ہے؟

’’بیٹا! امی کے کام تو امی ہی کرسکتی ہیں ناں۔۔۔‘‘

’’امی۔۔۔‘‘ وہ حیرت زدہ تھا۔

’’ہاں… دوسری امی…‘‘ دوسری امی اس کے پورے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ ’’دوسری امی تو چڑیل ہوتی ہیں۔‘‘ زید کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے، مگر وہ کچھ نہ بول سکا۔

ایک ماہ بعد دادی نے ابو کی شادی کر دی۔ دادی کے بہت سمجھانے پر وہ ابو کے کمرے میں گیا۔ ابو واش روم میں تھے ایک خاتون پلنگ پر بیٹھی بال بنا رہی تھیں۔ انہوں نے اسے غصے سے دیکھا اور بولیں :’’تمیز نہیں تمہیں… کسی کے کمرے میں بغیر اجازت نہیں آتے۔‘‘

’’کسی کا کمرا…؟‘‘ وہ چپ کھڑا رہا۔ ’’یہ تو ابو کا کمراہے میرے ابو کا۔۔۔‘‘

’’چلو باہر جاؤ۔۔۔‘‘ وہ ڈر کے مارے جلدی سے باہر آگیا۔ ’’زید صحیح کہتا ہے دوسری امی تو۔۔۔ دوسری امی ہی ہوتی ہیں۔‘‘

اب روز زبیر دوسری کی امی کی ڈانٹ سنتا، مگر ایک لفظ نہ بولتا وہ جس کو کبھی کسی نے غصے سے دیکھا بھی نہ تھا ‘ آج گھر ہی کا نہیں،پوری دنیا کا سب سے برا بچہ تھا۔ ابو تو لگتا تھا، پتھر کے ہوگئے ہیں۔ دل چاہتا تھا کہ گھر سے بھاگ جائے، جس کے گالوں کو صرف پیار نے چھوا تھا آج اس پر تھپڑ برستے تھے… وہ دن رات روتا ،مگر کیا کرتا، اپنی امی سے وعدہ جو کیا تھا کہ گھر سے بھاگنا نہیں ہے۔ امی کے پیار کو بھلانا مشکل تھا، وعدہ کیسے بھول جاتا؟ جب دکھ حد سے بڑھ جاتا تو امی کی آواز آتی: ’’بیٹا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے‘ تم بھی صبر کرنا کرنا اللہ تو تم سے پیار کرتا ہے نا کیا ہوا اگر سب نہ کریں یہ وقت بھی گزر جائے گا۔‘‘

وہ سوچتا: کیا سب دوسری امیاں ایسی ہی ہوتی ہیں، ان کی امی ان کو پیار کرنا نہیں سکھاتی ہیں… ماں کے بچوں سے نرمی کرنا نہیں سکھاتیں، پھر وہ سوچنے لگا کہ شاید ان کے سینے میں دل کی جگہ پتھر ہوتا ہوگا!!lll

شیئر کیجیے
Default image
بشریٰ ودود

Leave a Reply