قرآن پاک کی زبان بولیے!

ایک صاحب سے دہلی میں ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ملاقات کے دوران بہت ہی سبق آموز واقعہ سنایا۔ کہنے لگے کہ ایک شخص جنگل سے گزر رہا تھا۔ اس نے ایک پرندے کے بچے کو گھونسلے میں جدوجہد کرتے ہوئے دیکھا۔ وہ بچہ گھونسلا پھاڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا۔ یہ دیکھ کر مذکورہ شخص کو رحم آگیا۔ اس نے اپنے قلم سے گھونسلے کا منہ بڑھا دیا۔ جیسے ہی گھونسلے کا منہ بڑا ہوا، وہ بچہ چھلانگ لگا کر نیچے زمین پر آگیا۔ وہ اڑنا چاہ رہا تھا لیکن اڑ نہیں پایا اور دیکھتے ہی دیکھتے زخمی ہونے کے باعث مر گیا۔ بعد میں ایک تجربہ کار آدمی نے اسے بتایا کہ آپ نے پرندے کے بچے کو مار دیا۔ اگر آپ اس کے گھونسلے کا منہ بڑا نہ کرتے تو وہ زمین پر گر کر نہیں مرتا۔ اس نے بتایا کہ پرندے باہری دنیا میں آنے سے پہلے اپنی اندرونی دنیا یعنی گھونسلے میں بہت مشقت کرتے ہیں۔ یہ محنت مشقت ان کے بال و پر کو بہت مضبوط کر دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ ایک دن گھونسلا کا منہ پھاڑ کر باہر نکل آتے اور فضاؤں میں اڑنے لگتے ہیں۔

انسان کے اندر کمزوروں کی مدد کرنے کا جذبہ فطری طور پر موجود رہتا ہے۔ لیکن انسان اگر اپنے جذبے کو عقل کے تابع نہ کرے تو ایسا ہوگا کہ وہ مدد کے نام پر مخلوق خدا کو ہلاکت میں ڈال دے گا۔ وہ پرندوں کو توانا ہونے سے پہلے ہی فضاؤں میں اڑنے کے لیے دھکیل دے گا۔ نتیجتاً وہ موت سے ہمکنار ہوجائیں گے۔

آج دنیا بھر میں بعض مسلم لیڈر مسلمانوں کے ساتھ کچھ ایسا ہی سلوک کر رہے ہیں۔ وہ انہیں قبل از وقت گھروں سے نکال کر ان کو تباہی کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ وہ انہیں صبر کی جگہ بے صبری سکھا رہے ہیں، امن کی جگہ جنگ کی تعلیم دے رہے ہیں۔ وہ کتابِ الٰہی کی جگہ گولہ بارود لے کر اٹھنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ حالاں کہ مسلمانوں کو اللہ نے ایسی کتاب دی ہے کہ اگر اسے صحیح انداز میں ہر گھر پہنچا دیا جائے تو پوری دنیا سے جنگ خود بخود ختم ہو جائے گی۔

آج دنیا میں تقریباً ساڑھے سات ارب انسان بستے ہیں۔ سب ایک ہی ماں باپ یعنی آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ اب اگر انہیں قرآن پاک پڑھنے کے لیے دیا جائے تو وہ ضرور اپنے باپ، آدم کے دین کی طرف پلٹ آئیں گے۔ ساڑھے سات ارب انسانی آبادی میں ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان ہیں۔ یعنی ہر مسلمان اگر پانچ قرآن اپنے غیر مسلم بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دے تو کوئی وجہ نہیں کہ دس سال کے اندر چھ ارب انسانوں میں سے ایک ارب انسان آدم کے دین کی طرف نہ پلٹ آئیں۔ جب صورت یہ ہو کہ دنیا میں اتنی بڑی تعداد یعنی ڈھائی ارب مسلمان آباد ہوں، تو پھر ان سے کون لڑنا پسند کرے گا؟ تب تو جنگ لڑنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔

مسلمانوں نے ۶۲۸ء میں صلح حدیبیہ کی۔ یہ صلح دس سال کے لیے تھی۔ اس وقت محض ۱۴۰۰مسلمان مرد تھے جو حج کے لیے نکلے تھے انہیں حدیبیہ کے مقام پر قریش نے جبراً روک لیا تھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد جنگ نہ کرنے کی شق کی وجہ سے مسلمانوں کو تبلیغ کا موقع ملا۔ تبلیغی سرگرمیوں کے باعث ان کی تعداد دو ہی سال میں دس ہزار تک پہنچ گئی۔ جب ۶۳۰ء میں مسلمان مکہ کی طرف بڑھے تو ان کی تعداد سے مرعوب ہوکر مکہ میں کوئی شخص مزاحمت کی جرأت نہیں کرسکا، یہاں تک کہ ابو جہل کا بیٹا بھی نہیں۔

کیا مسلمان یہ عمل آج نہیں دہرا سکتے؟ کیا آج ہمارے ہاتھوں میں صلح حدیبیہ جیسا موقع موجود نہیں؟ کیا ہم اس آزمائے ہوئے کامیاب فارمولے کو دوبارہ نہیں آزما سکتے؟ ہمارے دشمنوں کا حال یہ ہے کہ وہ آزمائے ہوئے ناکام فارمالے کو بھی دوبارہ آزمانے سے نہیں چوکتے تو پھر کیا وجہ ہے کہ آج کے مسلمان آزمائے ہوئے کامیاب فارمولے کو بھی آزمانے میں تردد سے کام لے رہے ہیں؟ معروف صحافی اور دانشور، کلدیب نیر نے اپنی سوانح ”Beyond the lines” میں لکھا ہے کہ ایک بار انھوں نے ایک امریکی ڈپلومیٹ سے پوچھا کہ آپ کی معیشت تو ہتھیاروں پر منحصر ہوتی جا رہی ہے، اتنے ہتھیار آپ کہاں کھپائیں گے؟ اس نے جواب دیا: ’’اس انڈسٹری کو جاری رکھنے کے لیے ہم جنگوں کو جاری رکھیں گے۔‘‘

ان کو جنگ سے فائدہ ہے تو وہ جنگ کی آگ بھڑکا رہے ہیں، میں پوچھتا ہوں کہ مسلمان کو اس سے کیا فائدہ مل رہا ہے؟ کچھ بھی نہیں تو پھر مسلمان جنگ کیوں کریں؟ مسلمانوں کی انڈسٹری قرآن سے چلتی ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی! تو جہاں کہیں وہ ہتھیار لے کر نکلتے ہیں، آپ ان کے جواب میں قرآن پاک لے کر نکلیے۔ صحابہ کرام نے یہی کیا تھا اور کامیاب رہے تھے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمان اس کتاب کو لے کر نکلیں اور ناکام ہوجائیں۔ لیکن اس کے لیے اس داعیانہ تڑپ کی ضرورت ہے جو حضور پاکؐ اور آپ کے ساتھیوں کے بے چین رکھتی تھی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد آصف (ریاض)

Leave a Reply