صبر و تحمل مومن کی اخلاقی صفات

انسان کو زندگی میں دو طرح کے حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے، کبھی خوشی، کبھی غم، کبھی راحت تو کبھی دکھ، کبھی قہقہے، کبھی آہیں اور سسکیاں، کبھی آرام و سکون تو کبھی بے چینی و اضطراب، کبھی صحت کی لذتیں تو کبھی بیماری کی آہ و بکا، کبھی رزق کی فراخی تو کبھی تنگی، کبھی شہنائی تو کبھی ماتم، کبھی نئی زندگی، نئے پھول کی آمد پر مبارک باد تو کبھی موت پر تعزیت۔ تصویر کے یہ دونوں رخ دنیاوی زندگی کی فطرت میں داخل ہیں۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا :

’’اور ہم ضرورت تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے۔ ان حالات میں جو صبر کریں، اور جب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں گے، ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیںپلٹ کر جانا ہے، انہیں خوش خبری دے دو ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوںگی، اس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رو ہیں۔‘‘

خوشیوں، لذتوں اور مسرتوں سے بھرپور زندگی تو انسان کی بہت دل کش اور بھلی معلوم ہوتی ہے اور انسان یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ میری کوششوں اور محنت کا پھل ہے۔ یہ نہیں سمجھتا کہ یہ سب کچھ رب کائنات کا فضل و کرم ہے۔ جب گردش زمانہ میں مصائب و آلام آتے ہیں تو انسان گھبرا اٹھتا ہے، چیختا ہے اور چیخ و پکار اور آہ و بکا میں اپنے مالک کو بھی بھول جاتا ہے بلکہ گلے شکوے کرنے لگتا ہے۔

ایمان والوں کی یہ خاص صفت ہے کہ وہ مصائب و آلام اور مشکلات میں صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں۔ اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں، اسی پر بھروسا کرتے ہیں اور اسی سے مدد کے طلبگار ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی رضا میں راضی ہوتے ہیں اور اللہ سے گلے شکوے نہیں کرتے۔

ایک مومن ہر طرح کے حالات میں ایسا طرزِ عمل اختیار کرتا ہے جو ایمان اور اللہ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے۔ وہ ایک مثبت رویہ اختیار کرتا ہے یعنی صبر و شکر کا رویہ۔ وہ مصائب و آلام میں بھی صبر و تحمل سے کام لیتا ہے، جب کہ خوش حالی، فراخی و فراوانی میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے یعنی زبان سے کلمات تشکر ادا کرتا ہے، دل میں اللہ کی عظمت کا احساس اور اپنے اعمال سے اللہ کے احکام کی بجا آوری کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قران کریم کی سورہ ابراہیم میں شکر گزاری کرنے والوں کے لیے فرمایا ہے۔’’اگر شکر ادا کروگے تو تمہیں اور زیادہ دیا جائے گا۔‘‘

قرآن کریم کی سورہ ہود میں ارشادِ ربانی ہے:

’’اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس ہو جاتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے اور اگر اس مصیبت کے بعد ہم اسے نعمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میری ساری مصیبتیں دھل گئیں، پس وہ اترانے لگتا ہے، شیخی بگھارنے لگتا ہے مگر اس عیب سے پاک اگر کوئی ہے تو بس وہ لوگ ہیں جو صبر کرتے اور نیک کام کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے بڑی مغفرت اور بڑا اجر ہے۔‘‘

مذکورہ آیات میں مومنین کی یہ نشانی بیان فرمائی گئی کہ وہ زوالِ نعمت کے وقت صبر سے کام لیتے ہیں اور عطائے نعمت کے وقت اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں اور یہاں نیک اعمال پر قائم رہتے ہیں۔ زوال نعمت کے وقت ایک مسلمان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ نامساعد حالات، تکالیف اور پریشانی اللہ کی طرف سے میری آزمائش ہے۔ ان حالات میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اللہ ہی سے مدد طلب کرنی چاہیے اور اس بات پر یقین کامل ہونا چاہیے کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان مشکلات کو دور نہیں کرسکتا۔ بے صبری کے بجائے صبر و استقلال سے کام لینا چاہیے۔ کیوں کہ یہ اللہ پاک کا وعدہ ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے بڑا اجر ہے۔ اس لیے آزمائشوں سے کبھی گھبرانا یا مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ آزمائشوں میں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ترین انبیاء کو بھی ڈالا تھا۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا، بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی مانگ کر آزمائش میں ڈالا گیا، حضرت ایوب علیہ السلام نے صبر و استقامت کا عظیم مظاہرہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ’’نعم العبد‘‘ کا لقب عطا فرمایا۔

خاتم الانبیاء علیہ السلام کی تو پوری زندگی آزمائشوں سے عبارت ہے۔ یتیمی کی حالت میں پیدائش و پرورش، چھوٹی سی عمر میں تمام قریبی سہاروں کا چھن جانا، اعلانِ نبوت کے بعد قدم قدم پر مخالفت اور مظالم کا سامنا، لیکن رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت اور مزاج پر ذرا بھی ملال نہیں آیا اور آپ نے صبر و استقلال سے اپنے اُس مشن کو جاری رکھا، جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو چنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کی سربلندی اور کفر کو مٹانے کے لیے ان تمام تکالیف اور مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا جو اس راہ میں آئیں۔

یہ بات ہمارے تجربے اور مشاہدے سے ثابت ہے کہ جن لوگوں نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا، اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہ صرف ان کی تکالیف کو دور کیا بلکہ غیر متوقع خوشیاں بھی عطا کیں۔

دورِ حاضر میں امت مسلمہ آزمائشوں سے گزر رہی ہے، نامساعد حالات، انتشار و اختلافات اور اندرونی و بیرونی سازشیں اپنے عروج پر ہیں، اس پر ایک طرف تو ہمیں صبر کرنا چاہیے اور دوسری اپنا جائزہ لے کر اصلاح حال کی اپنی حکمت عملی طے کرنی چاہیے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ماہ طلعت نثار

Leave a Reply