شرم و حیا

مومن کی زندگی میں حیا ایک لازمی جزو ہے۔ حیا، ایمان کا حصہ ہے، جس کے بغیر انسان کا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔

آپﷺ نے فرمایا: ’’ایمان کی ستر سے کچھ اوپر شاخیں ہیں، جن میں سے ایک حیا ہے۔‘‘ حیا اور ایمان لازم و ملزوم ہیں۔ اگر حیا انسان کے اندر سے رخصت ہوگئی تو ایمان بھی جاتا رہے گا، کیوں کہ سارے نیک اعمال کی بنیاد حیا ہے۔

حیا وہ خوبی ہے جو انسان کو گناہ کے راستے پر جانے سے بچاتی ہے۔ یہ انسان کی زبان، دل، دماغ ،اس کی نگاہوں، سماعت اور قدموں کو غلط کاموں سے روکے رکھتی ہے۔ جب انسان میں حیا نہ رہے تو وہ بے حس ہو جاتا ہے، اسے نہ تو گناہ کا احساس ہو پاتا ہے نہ اللہ کی ناراضی کا ڈر۔ اس لیے کہا گیا ہے کہ جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہے کرو۔

حیا نہ صرف انسان میں اللہ کا ڈر پیدا کرتی ہے بلکہ جس میں حیا ہوتی ہے وہ لوگوں کے ساتھ معاملات میں بھی لحاظ و مروت سے کام لیتا ہے۔ حیا انسان کو بداخلاقی و بدتہذیبی سے بچاتی ہے۔ انسان میں حیا کا ہونا مرد و زن دونوں کے لیے یک ساں ضروری ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب بھی حیا کا لفظ ادا کیا جائے تو اس کو محض عورت سے منسوب کر دیا جاتا ہے، جب کہ قرآن میں سورۃ نور میں عورتوں سے پہلے مردوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم فرمایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ عورتوں کے لیے بھی پروے اور نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم ہے۔ نگاہ کی حفاظت انسان کو با حیا بناتی ہے کیوں کہ اگر نظر میلی ہوگئی تو دل بھی میلا ہو جائے گا۔ نظر کا جھکانا دل کو روشن کرتا ہے۔ آنکھ میں حیاہوگی تو دل میں تقویٰ کی کیفیت پیدا ہوجائے گی۔

اللہ نے انسان کی فطرت میں حیا رکھی ہے۔ ایک بچہ فطرتاً باحیا پیدا ہوتا ہے۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ اس پر معاشرے کے رسم و رواج اور ماحول کے اثرات حاوی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اور اس کے اندر حیا کی صفت نابود ہوجاتی ہے۔ آج کے دور میں دیکھا جائے تو نگاہیں نیچی رکھنے والے شرمیلے اور باحیا انسان کو فرسودہ اور دقیانوسی خیال کیا جاتا ہے۔ دوست احباب، خیر خواہی کے پردے میں طنز کے تیر چلا کر اس شخص کی خود اعتمادی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جب کہ اسلام اور آپﷺ کی تعلیمات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شرمیلا اور باحیا ہونا باعث شرمندگی نہیں۔ علامت تقویٰ ہے ۔

عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیا کے حوالے سے نصیحت کر تے ہوئے کہہ رہا تھا کہ تم بہت شرمیلے ہو اور مجھے ڈر ہے کہ اس سے تمہیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’اسے چھوڑ دو کہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔‘‘ (بخاری)

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو کس سے حیا کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے تو انسان کو اللہ سے حیا کرنی چاہیے کیوںکہ اللہ کی پاک ذات ہی اس بات کی سب سے زیادہ حق دار ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔ اللہ کے ڈر سے انسان کوئی ایسا کام نہ کرے جس میں پکڑ ہو اور جو اس کو عیب دار بنا دے۔ انسان کے دل اور دماغ میں کیسے خیالات آتے ہیں یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ اس کے دل میں کسی کے لیے کیا ہے؟ نفرت ہے، دشمنی ہے، حسد ہے یا نفاق کے اندھیرے ہیں یا پھر ایمان کی روشنی۔ اللہ ہی اس سے واقف ہے۔

ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ سے حیا کرو جیسے حیا کرنے کا حق ہے۔ لوگوں نے کہا وہ تو ہم کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ حیا نہیں۔ اللہ سے حیا یہ ہے کہ انسان اپنے سر اور جو کچھ اس کے اندر ہے، پیٹ اور جو کچھ اس کے اندر ہے، اس کی حفاظت کرے اور موت اور اس سے جڑے فتنوں کو یاد رکھو، اور جو آخرت کی تمنا کرتا ہے وہ اس دنیا کی زیب و زینت چھوڑ دیتا ہے۔ پس جو شخص یہ سب کرتا ہے وہ واقعی اللہ سے حیا کرتا ہے جیسا کہ اس سے حیا کرنے کا حق ہے۔‘‘ (ترمذی)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ باحیا ہونے کا مطلب محض شرمیلا ہونا نہیں بلکہ یہ ایک ایسی صفت ہے جو انسان کی پوری زندگی کو گھیرے رکھتی ہے کہ وہ ہر چیز کے بارے میں محتاط ہوتا ہے۔ ایک باحیا انسان کے ذہن میں پنپتے خیالات ہوں یا پیٹ میں جاتا لقمہ، وہ اس کے حلال ہونے کے بارے میں بھی محتاط رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ملائکہ اور لوگوں سے بھی حیا کرنا۔ لوگوں سے حیا صرف یہ نہیں کہ انسان لوگوں کے ڈر سے غلط کام نہ کرے بلکہ لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آنا بھی ان سے حیا کرتا ہے۔ اس کے بعد اپنے نفس سے بھی انسان حیا کرے اور کوشش کرتا رہے کہ بری باتیں ذہن و دل میں جگہ نہ بنائیں۔ ایمان کی حفاظت کے لیے حیا کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ اس لیے اپنے اندر اس کیفیت کو لانے کے لیے اللہ سے دعا اور کوشش جاری رکھنی چاہیے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عاصمہ عزیز

Leave a Reply