زبان کی حفاظت کیجیے!

پہلے تولو، پھر بولو۔ تلوار کا زخم بھر جاتا ہے، مگر زبان سے لگایا ہوا زخم کبھی مندمل نہیں ہوتا۔ زبان سے نکلنے سے پہلے الفاظ انسان کے تابع ہوتے ہیں، مگر جب الفاظ زبان سے نکل جاتے ہیں تو انسان اپنے ہی الفاظ کا تابع ہو جاتا ہے۔ اس جیسے بہت سے جملے اور تعبیرات صبح و شام ہم سنتے، پڑھتے اور بولتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود آج ہمارے گھروں سے بازاروں تک، تھانے سے کچہری تک اور بڑی محافل سے چھوٹی مجالس تک اس زبان نے لوگوں کا سکون و چین چھینا ہوا ہے۔ اس زبان کی وجہ سے دن رات لڑائیاں اور جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔ اس زبان سے نکلے ہوئے ایک نازیبا لفظ اور ایک جملے سے ہمارے زندگی الجھنوں کا شکار ہو جاتی ہے اور بندہ جیتے جی زندہ لاش بن جاتا ہے۔

اسی وجہ سے حضور اکرمﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے فرمایا تھا: ’’جب صبح ہوتی ہے تو بدن کے تمام اعضاء زبان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں کہ خدارا ہمارے معاملے میں اللہ سے ڈرنا، اس لیے کہ ہم تجھ سے وابستہ ہیں، اگر تو سیدھی رہی تو ہم سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے۔‘‘ (ترمذی)

انسانی فطرت ہے کہ جو چیز اس کے نزدیک قیمتی ہوتی ہے، اسے وہ بری حفاظت سے رکھتا اور احتیاط سے استعمال کرتا ہے۔ اسے سوچ سمجھ کر خرچ کرتا ہے، تاکہ کہیں ختم نہ ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے زبان کی تخلیق میں انسانی فطرت کو ملحوظ خاطر رکھا۔ اسے بتیس دانتوں کے حصار اور دو ہونٹوں کے اندر حفاظت سے رکھ دیا اور یہ درس دیا کہ:

’’اے محبوب! میرے بندوں کو فرما دیجیے کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہتر ہو۔‘‘ (بنی اسرائیل)

اسی طرح خود نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’بندہ جب تک اپنی زبان کی حفاظت نہ کرلے ایمان کی حقیقت کو حاصل نہیں کرسکتا۔‘‘ (طبرانی)

حضور اکرمﷺ نے فرمایا: انسان کی اکثر غلطیاں اس کی زبان سے ہوتی ہیں۔‘‘ (طبرانی) ایک مرتبہ فرمایا: ’’لوگوں کو ناک کے بل دوزخ میں گرانے والی ان کی زبان ہی کی بری باتیں ہوں گی۔‘‘ (طبرانی)

ایک صحابیؓ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ،کس عمل کی وجہ سے لوگ زیادہ جنت میں جائیں گے؟ آپ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منہ اور شرم گاہ۔‘‘ (ترمذی)

حضور اکرمﷺ نے مثال کے ساتھ وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’ایک شخص جنت کے اتنے قریب ہو جاتا کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔ پھر وہ کوئی ایسا بول بول دیتا ہے کہ جس کی وجہ سے وہ جنت سے اتنا دور ہو جاتا ہے کہ جتنا مدینہ سے (یمن کا شہر) صنعاء دور ہے۔‘‘ (مسند احمد)

زبان کے گناہ بہت زیادہ ہیں اور ہر ایک پر مستقل وعید بیان فرمائی گئی ہے۔ غیبت، چغلی، لعن طعن، بہتان، غصہ، حسد، فحش گوئی، گالم گلوچ اور برے القاب یہ زبان کے ایسے گناہ ہیں جو ہر زبان زد عام اور ان کو گناہ ہی نہیں جانا جاتا۔ جب کہ ان میں سے ہر ایک پر اللہ تعالیٰ نے سزا مقرر کی ہے۔

غیبت کے بارے میں فرمایا: ’’گیبت کرنا ایسا ہے جیسے اپنے بھائی کا گوشت کھانا۔‘‘

آپﷺ نے فرمایا: ’’چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘ (بخاری)

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کے جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے ایک میل دور چلا جاتا ہے۔‘‘ (ترمذی)

آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دو چیزیں لوگوں میں ایسی ہیں جو ان کے لیے کفر کا باعث ہیں، نسب میں ؟؟؟؟ کرنا اور فوت شدہ پر بین کرنا۔‘‘ (مسلم)

کسی مسلمان بھائی پر بہتان لگانے کے بارے میں فرمایا: ’’جو شخص کسی کو بدنام کرنے کے لیے اس میں ایسی برائی بیان کرے جو اس میں نہ ہو تو اللہ اسے دوزخ کی آگ میں قید رکھیں گے، یہاں تک کہ وہ اس برائی کو ثابت کر دے۔‘‘ (جو کہ وہ نہ کرسکے گا)۔ (طبرانی)

آپﷺ نے فحش گوئی کی مذمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

’’فحش گفتگو سے اجتناب کرو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ فحش گوئی پسند نہیں فرماتا۔‘‘ (سنن نسائی)

اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب محمدﷺ نے صرف زبان سے صادر ہونے والے گناہوں پر وعیدیں ہی بیان نہیں کیں، بلکہ ان سے حفاظت اور بچاؤ کے لیے تراکیب و تدابیر بھی بیان فرمائیں۔

حضور ﷺ نے فرمایا: ’’جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا۔‘‘ (ترمذی)

ایک موقع پر فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم کرے جو اچھی بات کر کے دنیا و آخرت میں اس سے فائدہ اٹھائے یا خاموش رہ کر زبان کی لغزش سے بچ جائے۔‘‘ (بیہقی)

حضرت عمرو بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! نجات حاصل کرنے کا طیرقہ کیا ہیَ آپ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اپنی زبان کو قابو میں، اپنے گھر میں رہو (فضول باہر نہ پھرو) اور اپنے گناہوں پر رویا کرو۔‘‘ (ترمذی)

آج ہمارے معاشرے سے راحت و آرام عنقا ہوچکا ہے۔ ہر ایک چین و سکون کا متلاشی ہے۔ اس کے لیے ہم نے سارے جہاں کی خاک چھان ماری ہے، مگر کبھی ہم نے اپنی نظریں جھکا کر اپنی دو انج کی زبان پر غور و فکر نہیں کیا کہ اس سے نکلے دو بول ہمارا سب کچھ چھین لیتے ہیں اور ہمارے امن و آشتی کو ہم سے کوسوں دور لے جاتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اللہ کی دی ہوئی اس نعمت کا شکر ادا کریں، ہمارے ذمے اس کے جو واجبات ہیں ان کو بروقت ادا کریں اور اس کے ذریعے الفت و محبت اور اخوت و بھائی چارے کو عام کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
احتشام الحسن

Leave a Reply