ماں ایک بہترین مدرسہ

یہ بات غور طلب ہے کہ جب ایک جانور کا بچہ پیدا ہوتاہے تو پیدائش کے کچھ دیر بعد وہ خود اٹھ کر کھڑے ہونے کی کوشش کرتاہے ، ا دھر ادھر گھومنے کی کوشش کرتاہے اوراپنے چاروں طرف نظر دوڑاتاہے۔ مگر جب انسان کا بچہ پیدا ہوتاہے تو وہ چت لیٹا رہتاہے اور کوئی حرکت نہیں کرسکتا۔جب اس کو بھوک لگتی ہے یا پیاس لگتی ہے یا نیند آتی ہے یا اس کو کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ رونے لگتاہے۔ماں فوراً پہچان لیتی ہے کہ اس کے بچے کو کیاضرورت آن پڑی۔ بچہ کی گردن ٹھہرنے میں دومہینے اور بچے کو بولنے میںچھ یا سات مہینے اور بچے کو چلنے پھرنے میں دس یا گیارہ مہینے یااس سے بھی زیادہ عرصہ لگ جاتاہے۔جب تک بچہ بولنے اور چلنے پھرنے کی قدرت حاصل نہیں کرلیتا وہ اپنے ماں باپ، بھائی اور بہن پر پورے کا پورا منحصر ہوتاہے۔ ماں اپنے بچے کے لئے کافی عرصہ تک ایک مدرسہ بنی رہتی ہے۔ کیوںکہ بچہ عموماً اپنے لڑکپن تک ماں کی تربیت کا خواہاں ہوتاہے جس کے لئے ماں اپنے آپ کو بچہ کی صحیح تربیت کا محتاج خود کو صحیح علم ، خصوصاً دینی علم سے آراستہ رکھنا چاہئے۔

نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب آدمی مرجاتاہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتاہے مگر تین ایسے اعمال ہیںکہ ان کا اجر و ثواب مرنے کے بعد بھی ملتارہتاہے: (۱) صدقہ جاریہ کرجائے۔ (۲) ایسا علم چھوڑ جائیں جس سے لوگوں کو فائدہ ملتارہے۔ اور (۳) صالح اولاد جو والدین کے لئے دعاکرتی رہے۔

ہر والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے اچھالکھ پڑھ جائیں، لائق بنیں اور آگے چل کر اپنے پاؤں پر کھڑے رہنے کی قابلیت حاصل کریں۔مگر صرف خواہش کرناہی کافی نہیں بلکہ خواہش کے مطابق جدوجہد اورفکر کرنے کی بھی ضرورت ہے۔بچوں کی اچھی پرورش پڑھی لکھی مائیں ہی بہتر طریقے سے کرسکتی ہیں۔اگر بچوں کی پرورش دینداری کے ساتھ کی جائے تو سماج کی بہت ساری برائیاں دور ہوسکتی ہیں۔بچے کی پیدائش ہی سے گھر والوں کا بھر پور پیار جب بچے کوملتاہے، خاص کر جب ماںبچے کو پورا وقت دیتی ہے تو گھر کا ماحول صحیح رہتا ہے۔

بچے موم کا پتلا ہوتے ہیں اور وہ کسی بھی سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔اس لئے انہیں صحیح سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔ ایک ماں اپنے بچے کے لئے دنیا میں سب سے قیمتی اثاثہ ہوتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچے کو دل سے پیار کرے۔ماں کا اپنے بچے کے ساتھ سب سے زیادہ قریبی رشتہ ہوتاہے اور بچوں کو اس کا ہمیشہ احساس بھی رہتاہے۔بچے ہمیشہ اپنی ماں کی توجہ چاہتے ہیں۔ اس سے انہیں تقویت ملتی ہے۔چونکہ بچے کی عمر کا بیشتر حصہ اس کی ماں کے ساتھ گزرتا ہے اور اس کی ماں کا دل بہت نرم ہوتاہے تووہ اپنی ضروریات دل کھول کر ماں کوبیان کرتاہے ۔ باپ سے کہنے میں ہچکچاتا ہے یا نہیں تو ڈرتاہے کہ اس کا باپ اس کی خواہش کو رد نہ کردے یا اس کو الٹا ایک طمانچہ رسید نہ کردے۔لہٰذا وہ اپنی ماں کو اپنی کی خواہشات و ضروریات اس کے باپ تک پہنچانے میں وسیلہ بنالیتاہے۔

مائیں اکثر شکایت کرتی ہیں کہ ان کا بچہ بدزبان ہے، بے ہودہ اور گندی باتیں کرتاہے، غیر مہذب حرکتیں کرتاہے۔ نہیں معلوم اس نے کہاں سے سیکھ لیا ہے۔ حالاںکہ یہ گندے اور غلط الفاظ غیر محسوس طریقے سے سکھانے والی خود ماں ہی ہوتی ہے۔ماہرین نفسیات کاکہنا ہے کہ بچے کی تربیت کی ابتداء ماں کی گود سے ہوتی ہے۔وہ جس قدر مہذب اور تہذیب یافتہ ہوگی بچہ اسی قدر نفسیاتی اعتبار سے صحتمند اور نیک فطرت ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ماںبچے کے لئے پہلی اور اہم مدرس ہوتی ہے۔اس کی تربیت ایک عمدہ نسل کی تربیت ہے۔بچے کے ضمیر اور باطن کی تربیت کاانحصاراس کی ماں پر ہوتا ہے۔ ابتدائی پانچ چھ سال تک ماں سے اس کا نہایت ہی گہرا تعلق ہوتاہے۔ وہ اس مرحلے میں بہت کچھ سیکھتا ہے۔ اعلی اقدار کی اساس اسی عمر میں پڑتی ہے۔بچہ جب ماں کی گود میں ہوتاہے تو اپنے آپ کو مامون و محفوظ تصور کرتاہے۔ تیسرے ماہ میں وہ ماں کی کلکاری پر مسکراتاہے۔اپنے اردگرد کے ماحول سے یہ پہلا سماجی اور اجتماعی رد عمل ہوتاہے۔ماں کے لاڈ پیار اور بہلانے سے بعض مبہم اور ناقابل فہم الفاظ نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ موقع ہوتاہے جہاں سے ماں اسے اجتماعیت کے آداب سکھانا شروع کرتی ہے۔

ماں کو اپنے بچے کی تعلیم و تربیت کے معاملے میں صبر اوردانشمندی اختیار کرنی چاہئیے۔اسے اس بات کی کوشش کرنی چاہئیے کہ اپنی بات بچے کے دل میں خوش اسلوبی سے اتاردے۔وہ بچے کو جو کچھ سکھانا چاہتی ہے اسے واضح الفاظ اور نرم لہجے میںبیان کرے۔ کیونکہ وہ اخلاقیات جو بڑوں کے نزدیک مسلمہ حقائق ہیں بچہ ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔مثال کے طور پر بچہ جب سب کے سامنے اپنی شرمگاہ کھول دیتاہے تو اس پر برس پڑنے اور اس کی پٹائی کرنے کی بجائے اس پراس فعل کی قباحت واضح کردیں۔اور اسے پیار سے سمجھائیں۔

بسا اوقات بچے کے بارے میں یہ شکایت ہوتی ہے کہ وہ بڑوں کے انداز میں باتیں کرتاہے۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگ اپنے مسائل اپنے بچوں کے سامنے کرتے ہیں جس سے ان میں یہ صفت پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا ماں باپ کو چاہئیے کہ اپنے خصوصی مسائل کااپنے بچوں کے سامنے تذکرہ نہ کریں۔

جہاں ایک طرف لڑکوں کی تعلیم ضروری ہے وہیں دوسری طرف لڑکیوں کی تعلیم بھی ناگزیر ہے کیونکہ عورت معاشرے کا آدھا حصہ ہے اور اس کی تربیت دراصل ایک خاندان اور ایک نسل کی تربیت ہے۔ جس سے اس کے بھائی بہن اور اس کی اولاد مستفید ہوگی۔لیکن اگر لڑکی جاہل ہے تو ممکن ہے کہ اپنی جہالت کی وجہ سے ازدواجی زندگی کواجیرن بنادے گی یا اپنے شوہر سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔ اس لئے کہا جاتاہے کہ ماں ایک ایسا مدرسہ ہے جسے تو نے تیار کرلیا توگویا ایک پاکیزہ نسل وہ خود تیارکرلے گی اور اگر تونے اسے بگاڑدیا توپوری نسل تباہ و برباد ہوجائے گی۔ آپ یقین جانیں کہ اگر ایک عورت تعلیم یافتہ ہوتی ہے تووہ اپنے گھر کو جنت نظیر بنائے رکھتی ہے۔ا سکی گود میں جو بچے پلتے ہیں نیک، صالح، بلند ہمت اور باکردار ہوتے ہیں۔

ایک حدیث میں ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺعورتوں کی تعلیم کے بڑے خواہش مندتھے۔آپ ﷺ کی گیارہ شادیوں کے جہاں دوسرے مقاصد ہیں وہیں ایک مقصد یہ بھی تھا کہ عورتوں کی ایک ایسی ٹیم تیار ہوجائے جو عالمہ اورفاضلہ ہوں اور دوسری عورتوں تک وہ باتیں بآسانی پہنچاسکیں، چناںچہ یہ مقصد پوری طرح حاصل ہوگیا۔

عورت کی تربیت پو رے خاندان کی تربیت ہے اور مرد کی تربیت ایک فرد کی تربیت ہے۔نیپولین کا قول ہے کہ تم مجھے اچھی مائیں دو اور میں تمہیں ایک اچھی قوم دوں گا۔ایک ماں اپنے بچے کی تربیت میں بڑا اہم کردار اداکرتی ہے۔بچہ زیادہ وقت ماں کے پاس رہتاہے اورماں ہی سے عادات سیکھتاہے۔

حضرت عبدالقادر جیلانی ؒجب بصرہ سے اعلی تعلیم کے لئے بغداد جارہے تھے تو ان کی والدہ محترمہ نے ان کے ساتھ چالیس اشرفیاں باندھیں اور سخت نصیحت کی کہ وہ ہمیشہ سچ بولیں گے چاہے کتنی بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ ماں کی اس نصیحت نے ڈاکوؤ ں کو جو ان کے قافلہ کا مال لوٹا تھاشرم دلادی اور وہ ڈاکہ زنی چھوڑکرشریف انسان بن گئے۔ نہ صرف انہوں نے حضرت جیلانی ؒ اور ان کے قافلہ کا مال واپس کیا بلکہ وہ خود بھی نیک عمل پر اتر آئے۔

عبداللہ بن زیدؓ احد کے دن مجروح ہوگئے تو ان کی والدہ امّ عمارہ ؓ نے مرہم پٹی کیا ور بجائے اس کے کہ لخت جگر کو تکلیف میں دیکھ کرآرام کرنے اور سستانے کا مشورہ دیں انہیں اٹھ کر اور تلوار لے کر مشرک قوم پر ٹوٹ پڑنے کا حکم دیا۔

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو سولی دینے کے بعد حجاج ان کی والدہ اسماءؓ کے پاس گیا اور کہاکہ آپ کے صاحب زادے نے خدا کے گھر میں بے دینی اور الحاد پھیلایا جس کی سزا خدا نے اس کو ددردناک عذاب کی شکل میں چکھائی ہے۔حضرت اسماء ؓ نے کہا کہ تم نے جھوٹ کہا۔ وہ بے دین نہیں تھا۔وہ تو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا، روزے داراور تہجد گزار تھا۔حقیقتاً تم نے اس پر ظلم و زیادتی کی ہے۔ قسم خدا کی نبی اکرمؐ نے ہم سے کہا تھا کہ قبیل ثقیف سے دو جھوٹے پیدا ہوںگے۔ اس میں بھی دوسرا پہلے سے بدتر ہوگا کیوں کہ وہ ہلاکت و تباہی مچائے گا۔ ثقیف کے پہلے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کو تو دیکھ چکے اوراب دوسرے تم ہو۔

ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے اپنی والدہ محترمہ حضرت ام سلمٰی ؓسے کہا کہ اماں جان! میرے پاس مال اس قدر جمع ہوگیاہے کہ اب کسی چیز کا خوف نہیں رہا تو آپ ؓ نے جواب دیا کہ بیٹا! اسے اللہ کی راہ میں خرچ کیا کردو۔

ان ماؤں کی سیرت کا مطالعہ کیجئے جنہوں نے صحابہ کرامؓ، تابعین ، تبع تابعین، محدثین و مفکرین،اور صالحین جیسے بزرگوں کو پیداکیا اور ان کی پرورش کی۔جنہوں نے پوری دنیا میں ایک مثالی کردار اداکیا۔

ہم لوگ بچپن میں بہت ساری کہانیاں سنا کرتے تھے۔ ان میں ایک کہانی یہ تھی کہ ایک بیوہ خاتون کا ایک ہی بچہ تھا۔ وہ گھروں میں کام کاج کرکے بچہ کی پرورش کرتی تھی۔ جب بچہ اسکول جانے لگا تو ایک دن اس نے اپنی ساتھی کی ایک پنسل چرالی۔ماں اس پر بڑی خوش ہوئی اور بچہ کی تعریف کی۔ اس طرح بچہ کی ہمت افزائی ہوئی اوردھیرے دھیرے وہ آگے بڑھ کر ایک بڑا چور بن گیا۔ایک دن وہ ایک مالدار کے گھر میں چوری کررہاتھا کہ مالک مکان نے اس کو پکڑلیا اور پولیس کے حوالے کرنے کی کوشش کی۔خود کو بچانے کی چکر میں اس لڑکے نے وہاں پڑے ہوئے ایک چاقو سے مالک مکان کا کام تمام کردیا۔ وہ پولیس کی حراست میں دیدیاگیا اور اس کو پھانسی کی سزا ہوگئی۔ پھانسی دینے سے پہلے جج نے اس سے آخری خواہش پوچھی تو اس نے کہا کہ وہ ماں کی کان میں کچھ کہنا چاہتاہے۔جج نے ماں کو حکم دیا کہ وہ اس کے پاس اپنا کان لے جائے۔ جیسے ہی ماں نے اپنا کان بیٹے کے قریب کیا تواس نے اپنی ماں کا کان کتر دیا۔ ماں درد سے بلبلااٹھی اور چیخ پڑی۔جج نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ آج اس کے پھانسی کی وجہ اس کی ماں ہے۔ جب وہ اسکول میں چیزیں چرانے لگا تو اگر اس کی ماں اسی وقت اسے روک دیتی تو آج یہ بدقسمتی نصیب نہیں ہوتی۔اس سے ہمیں یہ عبرت ملتی ہے کہ ماں کی تعلیم نہایت لازمی ہے اور اس مقصد کے لئے ماں کی خود کی تربیت واصلاح نہایت ضروری ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سلیم شاکر، چنئی

Leave a Reply