گٹھیا کے مریض کی غذا

گٹھیا (جوڑوں کے درد) کے مریضوں پر غذا اپنے مخصوص انداز میں اثر کرتی ہے۔ یہاں پر ہم چند کلیدی نکات بیان کر رہے ہیں، جو گٹھیا کے شکار مریضوں کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ان مریضوں کو چاہیے کہ وہ انتہائی متوازن غذا لیں تاکہ ان کے جسم کو وہ تمام غذائیت پہنچتی رہے جو ان کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہے۔

٭ایسی ڈائٹ (غذا) لیں جو کم از کم اسی فیصد سبزیوں پر مشتمل ہو۔ سبزیاں، اناج، پھلیاں، پھلی اور بیج بہترین ہیں۔ صلیبی پودے نما سبزیاں جیسے کہ بند گوبھی خوب کھائیں، کچی یا پکا کر دونوں صورتوں میں۔ نیشنل رھیو میٹرم اسپتال اوسلو میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ویجی ٹیرین ڈائٹ سے گرفت کی بہتر طاقت جوڑوں کی سوجن اور درد میں بے حد کمی اور صبح بیدار ہونے پر جوڑوں کی اکڑن میں کمی کے نتائج سامنے آئے ہیں۔

٭گوشت کم کھائیں یا بالکل ہی نہ کھائیں۔ گوشت میں چکنائی کی ایک ایسی قسم ہوتی ہے جو جسم میں سوزشی ایجنٹس کی پیداوار کو تحریک دیتی ہے۔ اس سے الرجک ری ایکشن بھی پیدا ہوسکتا ہے جو جوڑوں کے درد کو برانگیختہ کرتا ہے۔ محفوظ کردہ گوشت جیسے کہ ہاٹ ڈاگ یا کولڈ کٹس میں پریزرویٹیوز اور دیگر کیمیکل ہوتے ہیں جو بعض افراد میں جوڑوں کے درد کے ری ایکشنز کو برانگیختہ کرسکتے ہیں۔

٭مچھلی خاص طور پر ہرنگ (Herring) امیون سسٹم پر براہ راست اثر کرتی ہے۔ یہ سائٹوکین کمپاؤنڈز کی ریلیز کو چالیس سے پچپن فیصد تک کچل دیتی ہے جو جوڑوں کو تباہ کرتے ہیں۔ مچھلی کی چکنائی بھی لیو کوٹرین B-4 کو کچلتی ہے جو ایک اینٹی انفلمیٹری ایجنٹ ہے اور گٹھیا کی علامات میں نمایاں طور پر حصہ لیتا ہے۔

٭اپنی روز مرہ کی غذا میں ادرک شامل کرلیں۔ یہ پروسٹا گلینڈز اور لیوکوٹرینز دونوں کی تشکیل کو بلاک کر دیتی ہے جو کہ سوزش اور ورم کو پیدا کرتے ہیں۔ ادرک کی اینٹی آکسیڈنٹ ایکٹی وٹی بھی جوڑوں کے لعابی سیال میں سوزش اور ورم پیدا کرنے والے تیزابوں کو بے عمل بنا دیتی ہے۔ ہلدی، لونگ اور کرکیومن بھی گٹھیا سے جنگ کرنے والے مصالحہ جات ثابت ہوسکتے ہیں۔

٭ جو بیج اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتے ہیں جیسے کہ السی اور کدو کے بیج، وہ بھی عمدہ ثابت ہوتے ہیں۔

٭ کھانوں میں زیتون کا تیل، غیر ریفائن شدہ تل کا تیل یا کینولا آئل استعمال کریں۔

٭ کھانوں کو ڈیپ فرائی نہ کریں۔ ریفائنڈ کوکنگ آئلز، سلاد آئلز، کوکونٹ آئل، پام آئل، گٹھیا کے مرض کو اور بڑھا دیتے ہیں۔ ان کے علاوہ کارن آئل (مکئی کا تیل) کسم کے تیل اور مارجرین سے بھی گریز کریں کیوں کہ ان میں اومیگا6 فیٹی ایسڈز ہوتے ہیں جو ٹشوز اور جوڑوں پر سوزشی اٹیک کرسکتے ہیں۔

٭ سنتھیٹک فلیورز، رنگوں اور پریزرویٹیوز سے اجتناب کریں۔ آپ کو الرجک ری ایکشن ہوسکتا ہے جس سے جوڑوں کے درد کو تحریک مل سکتی ہے۔

٭ ڈھیروں مائع پئیں۔ اس سے آپ کو اپنے جسم سے زیریلے مادوں کے اخراج میں مدد ملے گی۔

٭ لچک قائم رکھنے کے لیے ورزش کریں۔

٭ ڈیری کے چیزوں سے پرہیز کریں، خاص طور پر پنیر سے۔

٭ ٹماٹر، آلو، بینگن اور شملہ مرچ سے بھی گریز کرنا چاہیے، ان میں وہ مرکبات ہوتے ہیں جو سوزش کو فروغ دیتے ہیں۔

٭ ریفائنڈ شکر، آٹے، خشک غذاؤں، الکحل، تمبا کو اور کافی سے بھی اجتناب کریں۔

٭ اپنی چکنائی کھانے کی مقدار کی نگرانی کریں۔ چکنائی خون کے سرخ خلیوں (ریڈ بلڈسیلز) پر اپنی تہ چڑھا دیتی ہے جس سے وہ خون کی چھوٹی شریانوں سے نہیں گزر پاتے۔ اس محدود دوران خون سے آکسیجن کی سطح گر جاتی ہے اور یہ امیون سسٹم (بیماریوں کے خلاف جسم کا قدرتی حفاظتی نظام) کے بعض خلیوں کو تباہ کر دیتی ہے۔ پھر انزائم رس کر جوڑوں میں داخل ہوجاتے ہیں جس سے گٹھیا کی مانند جوڑوں میں ورم آجاتا ہے۔

٭ بالغ اس بات کی یقین دہانی کرلیا کریں کہ انہیں کیلشیم، زِنک، پوٹاشیم اور فائبر (ریشہ) اور اس کے ساتھ وٹامنز سیC، D، B12 اور E بھی دیگر وٹامنز کے ساتھ وافر مقدار میں مل رہے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سلیم انور

Leave a Reply