فٹنس: مگر کیسے

متناسب الاعضاء یعنی ہلکا پھلکا اور چھریرے جسم کا مالک ہونا اور اپنی اس خصوصیت کو برقرار رکھنا روز بروز مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ بالخصوص ۲۵ سال کی عمر کے بعد جسم کو سنبھالنا اور اسے متناسب اور متوازن رکھنا آج کے دور میں بے حد مشکل ہوگیا ہے۔

ہمارے جسم کا وزن عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہتا ہے۔ امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ۲۵ سال کی عمر کے بعد جسم کے وزن میں ہر سال اوسطاً صرف ایک پونڈ کا اضافہ ہونا چاہیے اور وہ لحم یعنی گوشت اور عضلات کا نہیں بلکہ در حقیقت وہ چربی ہوتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ توند بڑھ جاتی ہے، گردن موٹی ہو جاتی ہے اور جسم تھلتھلا ہو جاتا ہے۔ بھاری جسم کے مالک افراد نہ صرف ظاہری طور پر بدنما نظر آتے ہیں بلکہ اندرونی طور پر بدنما نظر آتے ہیں کیوں کہ ہمارے جسم کے مختلف نظام بہ مشکل ہماری تمام اہم ضروریات کو پورا کر پاتے ہیں اور وزن بڑھتے رہنے کی وجہ سے چلنا پھرنا اور اٹھنا بیٹھنا تک دشوار ہو جاتا ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

عمر جوں جوں بڑھتی ہے بیشتر افراد کی نقل و حرکت، سرگرمیوں اور رفتار کار میں کمی آتی رہتی ہے اور جسم میں بنیادی استحالہ کی شرح ہر سال کچھ نہ کچھ کم ہوتی جاتی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جسم میں غذائی توانائی کی طلب بھی کم ہو جاتی ہے۔

واضح رہے کہ وزن کو ایک خاص معیار پر پرکھنے کے لیے حراروں کی ایک مخصوص مقدار مطلوب ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ایسے شخص کے لیے جس کی عمر ۲۰ سال ہو یومیہ ڈھائی ہزار حرارے فراہم ہونے چاہئیں۔ ۳۵ سال کی عمر میں اسے دو ہزار اور پچاس سال کی عمر میں صرف اٹھارہ سو حرارے اسے درکار ہوتے ہیں۔ اب اگر عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ حراروں میں کمی نہ کی جائے یا کسی ورزش کے ذریعے سے اسے تحلیل نہ کیا جائے تو یہی اضافی حرارے وزن میں کئی کئی پونڈ اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

۲۰ سال کی عمر سے جسم میں شحمیات کے مقابلے میں لحمیات کا تناسب گھٹنا شروع ہوجاتا ہے۔ کسی خاتون کی عمر اگر بیس سال ہو تو ان کے جسم میں چربی (شحمیات) کا تناسب 26.5% ہوگا۔ ۳۵ سال کی عمر تک اسی عورت کے جسم میں ۳۳ فیصد اور ۵۰ سال کی عمر میں ۲۴ فیصد تک چربی بڑھ جاتی ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ ہم سر سے پیر تک سکڑنا اور سمٹنا شروع ہوجاتے ہیں۔ تیس اور چالیس سال کے درمیان ہمارے جسم میں ہڈیاں بننے کا عمل مکمل ہو جاتا ہے، یعنی ہذیاں مزید نہیں بڑھتیں اور اس کے بعد ان میں صرف شکست و ریخت ہوتی ہے۔ نتیجے میں ہمارے وزن کو سہارا دینے والے قد کی لمبائی زیادہ طاقتور نہیں رہتی اور ہم فربہ نظر آتے ہیں۔

عمر میں اضافے کے ساتھ ورزش کرنا بھی مشکل سے مشکل تر ہو جاتا ہے۔ ۲۰ سال کی عمر کے بعد عضلات کی قوت اور لچک کم ہونے لگتی ہے۔ چالیس سال کی عمر میں دل اور پھیپھڑوں کی قوت میں بھی کمی آنی شروع ہوجاتی ہے۔ جوڑوں اور پٹھوں کی قوت میں بھی کمی آتی ہے اور صلابت یعنی سختی پیدا ہونے لگتی ہے۔ اس طرح پورا جسم زخم خوردہ سا ہو جاتا ہے۔

پریشانی کی کوئی بات نہیں

ان طبی اور سائنسی حقائق کے باوجود پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ امریکہ کے ایک تحقیقی انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق مندرجہ بالا تمام جسمانی تبدیلیوں پر بڑی آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے، ان کے زوال کی رفتار میں کمی کی جاسکتی ہے یا برعکس نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں اور یہ سب کچھ ورزشوں کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ اگر آپ مناسب اور صحیح تغذیہ کی عادت اپنالیں تو بڑھتی ہوئی عمر میں بھی آپ جوان اور چھریرے نظر آئیں۔ جسم میں چربی کی ہلاکت خیزیوں کو روکنے والا سب سے زیادہ موثر عمل ورزش ہے۔ چستی و محنت حراروں کو نہ صرف کم کرتی ہے بلکہ ختم کر دیتی ہے۔

ایک گھنٹے کی تیز رفتار چہل قدمی سے ۲۰۰ یا اس سے زائد حرارے تحلیل ہو جاتے ہیں۔ ایک فربہ اندام شخص کے مقابلے میں ایک دبلے پتلے محنتی اور چست آدمی کے جسم میں یومیہ چھ سو حرارے کم ہو جاتے ہیں۔

خواہ عمر کے کسی بھی حصے میں بھی ورزش کا آغاز ہو بہرحال اس سے ہڈیوں کی قوت برقرار رہتی ہے، دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے، جلد کا رنگ نکھرتا ہے، اور جسم میں غذائی اجزاء کے انجذاب میں مدد ملتی ہے۔ ورزش کی پابندی کرنے والے ۴۰ سال سے زائد عمر کے لوگ ۲۰ سال کے نوجوان سے زائد قوت برداشت اور توانائی کے حامل پائے گئے ہیں۔ ہم میں سے ۹۹ فیصد افراد کی قوت و توانائی مطلوبہ معیار سے کم ہوتی ہے۔ ورزش کی صورت میں ہم بڑھتی ہوئی عمر کے لازمی نتائج کے عمل کو روک دیتے ہیں اور بہتر جسم کے مالک بن جاتے ہیں۔

چہل قدمی ضروری ہے

یہ مثبت نتائج چہل قدمی سے بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں بشرطے کہ وہ تیز رفتاری کے ساتھ مسلسل ہو۔ نیویارک کے ماہر ورزش ڈاکٹر رچرڈ اسٹین بتاتے ہیں کہ پیراکی، گھڑ سواری اور سائکلنگ وغیرہ سے بھی یہی فوائد حاصل ہوتے ہیں اور اس سے عضلات اور جوڑوں پر دباؤ بھی کم پڑتا ہے۔

خوراک میں کمی یا ورزش کے کسی پروگرام پر عمل کرنے سے قبل کسی ماہر معالج سے ضرور مشورہ کرلینا چاہیے۔ پھر آپ جس پروگرام کو پسند کریں اس پر بتدریج عمل کرنا ضروری ہے۔ جیسے ایک دن میں صرف دس منٹ، پھر آئندہ چھ سے آٹھ ہفتوں کے دوران اس وقت میں رفتہ رفتہ اضافہ کرتے رہیں۔ بالآخر یہ وقت نصف گھنٹے تک ہوسکتا ہے۔

خود کو ہر پہلو سے بہتر محسوس کرنے کے بعد اگر آپ ورزش کے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پہلا کام یہ کیجیے کہ ورزش کے اوقات میں اضافہ کر دیجیے اور پھر بعد میں وروزش کے سخت عملی پہلوؤں پر توجہ کیجیے۔ آپ یہ فوائد حاصل کرنے کے لیے ورزش کے بارے میں بے حد پرجوش ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ورزش ہر روز بلا ناغہ کریں تو اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ آپ ہر دوسرے دن کھیلوں کے متعلق کوئی دوسرا مشغلہ اختیار کریں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح جسم کے دوسرے حصوں اور عضلات کو فائدہ پہنچے گا۔ مثلاً ایک دن تیز رفتار چہل قدمی کیجیے تاکہ ٹانگوں کے نچلے حصے پر دباؤ پڑے۔ دوسرے دن تیراکی کیجیے تاکہ جسم کے بالائی حصے اور شانوں کو فائدہ پہنچے تیسرے دن بیڈمنٹن کھیلئے، چوتھے دن سائیکلنگ کیجیے اور پانچویں دن دوبارہ چہل قدمی کا آغاز کر دیجیے۔صرف باقاعدگی سے ورزش کرنا ہی صحت و تندرستی کا ضامن ہے اور آپ کو تمام بیماریوں سے نجات دیتا ہے۔

شمائلہ کا کہنا ہے کہ ایک دن یکایک احساس ہوا کہ میرے اندر کوئی چیز ٹوٹ پھوٹ گئی ہے اور میں خود کو تہی دامن محسوس کر رہی ہوں۔ میں نے اندازہ لگایا کہ اس منفی احساس و تبدیلی کی وجہ سے میرے وزن میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ مٹاپے نے مجھے سست اور کاہل بنا دیا تھا بلکہ سستی اور آرام طلبی نے مجھے بھاری بدن کر دیا تھا۔ میرے والدین روزانہ باقاعدگی سے واک کرتے تھے اور مجھ سے کہیں زیادہ صحت مند خوش خرم اور توانا تھے۔ میں نے کوئی اور ورزش بھی نہیں کی تھی، اس لیے سوچا چلو ان کے ساتھ ہی گھوم لیا کروں گی۔ یہ سلسلہ شروع کرنے کے بعد پہلے سال کی گرمیوں تک میرا وزن ساٹھ پونڈ کم ہوگیا اور جسم میں توانائی اور جینے کی امنگ کروٹیں لینے لگی۔ اب میں اپنی گاڑی بہت دور پارک کرتی تھی تاکہ مجھے زیادہ سے زیادہ چلنے کا موقع ملتا رہے۔

اب میں روزانہ کی واک کے علاوہ ہر ہفتے اپنے والدین اور بھائی کے ساتھ صحت افزا مقامات اور وادیوں میں گھومتی ہوں۔ پیشہ ورانہ مصروفیات، اس کی تھکن اور جدید زندگی کے دباؤ، گھٹن اور پستی سے اب میں بھی اپنے والدین کی طرح آزاد ہوں۔ میرے لیے تو یہی بہت بڑا انعام ہے۔

یہ تو تھی شمائلہ کی کہانی … لیکن اگر آپ بھی خوش اور مکمل تندرست و توانا رہنا چاہتی ہیں تو ورزش کو اپنا معمول بنائیے۔ اس طرح فضول قسم کی ٹینشن اور پریشانیوں سے بھی نجات حاصل ہوسکتی ہے۔

ڈائٹنگ خطرناک ہوسکتی ہے

یاد رکھیے کبھی بھی وزن کم کرنے کے لیے ڈائٹنگ مت کیجیے۔ بلکہ اپنی خوراک متوازن بنائیے اور ورزش کیجیے۔ تحقیقاتی جائزے سے پتہ چلا ہے کہ ڈائٹنگ سے جتنی تیزی سے وزن میں کمی ہوتی ہے وزن میں دوبارہ اضافہ بھی اسی تیزی سے ہوتا ہے۔ بار بار ڈائٹنگ کے باعث آئندہ کی جانے والی ڈائٹنگ بھی بے اثر ہوکر رہ جاتی ہے اور جسمانی اعضاء کو نقصان پہنچتا ہے۔

ان نقصانات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ وزن میں یکلخت اور بہ عجلت کمی نہ کی جائے۔ ایک ہفتے میں ایک یا دو پونڈ سے زیادہ وزن کم کرنے کی کوشش نہ کیجیے۔ اپنی ڈائٹنگ کی منصوبہ بندی میں ان نکات کو ملحوظ رکھیے۔ اس کا حساب کیجیے کہ آپ کو اپنا موجودہ وزن برقرار رکھنے کے لیے یومیہ کتنے حرارے درکار ہیں۔ اس کا حساب لگانے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنا موجودہ وزن معلوم کیجیے اور اپنے وزن کے اس عدد کو اگر آپ:

٭ بہت کم کام کرتے ہیں تو ۱۳ سے ضرب دیں۔

٭ تھوڑا بہت کام کرتے ہیں تو ۱۴ سے۔

٭ معمولی محنت کا کام کرتے ہیں تو ۱۵ سے۔

٭ بہت محنت کا کام کرتے ہیں تو ۱۶ سے۔

٭ بہت زیادہ محنت کے عادی ہیں تو ۱۷ سے۔

ضرب دے دیجیے اور حاصل ضرب میں سے ۵۰۰ گھٹا دیجیے۔ اس کے بعد جو عدد حاصل ہوگا وہ ان حراروں کی تعداد ہے جو ایک ہفتے میں ایک پونڈ وزن کم کرنے کے لیے آپ کو یومیہ درکار ہیں۔ اگر آپ مزید وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو حراروں میں ہرگز کمی نہ کیجیے بلکہ صرف ورزش میں اضافہ کرلیجیے۔

جسم کو متناسب، متوازن اور چھریرا کرنے کے گر

٭ آپ اپنے وزن کی کمی بیشی کا چارٹ بنائیں اور روزانہ اس کو مکمل کریں۔

٭ خوراک سے کسی بھی حالت میں محبت نہ کریں۔ یعنی مصالحہ دار اور چٹ پٹی چیزیں کھانے سے پرہیز کریں۔

٭ خوراک تھوڑی تھوڑی دن بھر میں چار چھ بار کھائیے تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ تھوڑا تھوڑا دن میں کئی بار کھانے والوں کا وزن ان لوگوں کی نسبت کم بڑھتا ہے جو دن میں صرف تین بار ڈٹ کر کھاتے ہیں۔

٭ رات کا کھانا مختصر رکھیے۔ بالعموم شام اور رات کے وقت ہم محنت طلب کام نہیں کرتے، اس طرح کچھ حرارے ضائع کردیتے ہیں۔

٭ صحت مند رہنے کے لیے خوراک میں تنوع اور نئی نئی پسندیدہ غذا کا اہتمام بہت ضروری ہے۔ لیکن اپنی منتخب غذا کو بس ایک ہی نشست تک محدود رکھیے۔ اس طرح دسترخوان پر منتخب پسندیدہ خوراک دیکھ کر ہر بار آپ کی بھوک چمک اٹھے گی۔

٭ ہر روز چھ سے آٹھ گلاس پانی پیجیے۔ پانی جسم میں موجود فاضل چربی ہی کا قلع قمع نہیں کرتا بلکہ غیر ضروری بھوک کو بھی روکتا ہے۔

٭ کھانا آہستہ آہستہ کھائیے۔ کھانا کھانے کے دوران سلاد وغیرہ سامنے رکھیے تاکہ کھانا کھانے میں زیادہ وقت صرف ہو اور آپ کم کھا سکیں۔ ڈبل روٹی کے بجائے سینکی ہوئی چپاتی کھائیے۔

٭ جتنی بھوک ہو ہمیشہ اس سے کم کھائیے۔

٭ ایسی خوراک سے پرہیز کریں بلکہ ترک کر دیں، جس میں چکنائی، نمک اور نشاستہ زیادہ مقدار میں ہو اس طرح آپ مٹاپے کوقابو میں رکھ سکیں گے اور جسم کو متناسب بنا سکیں گے۔

٭ نمک سے پرہیز کی عادت ڈالیں کیوں کہ جتنی چٹ پٹی چیزیں آپ کھائیں گے اتنی ہی زیادہ کھانے کی خواہش بڑھے گی۔

٭ جب آپ وزن کم کرنے کے عمل سے گزر رہے ہوں تو چکھنے کی عادت سے پرہیز کریں اور اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ مجھے مناسب جسم کے لیے مناسب غذا ہی استعمال میں لانی ہے۔

٭ ہمیشہ یاد رکھیے وزن بڑھنے میں بھی وقت لگتا ہے اور کم کرنے میں بھی۔

٭ سوڈا واٹر اور اس قسم کے دوسرے مشروبات سے پرہیز کرنا چاہیے کیوں کہ یہ بلڈ پریشر کے لیے اچھے نہیں ہیں ان سے آپ نروس ہوجائیںگے۔

٭ پریشانی کے دوران کچھ کھانے کو جی چاہتا ہے۔ اس طرح کی عادت اپنانے سے بچیں۔ ایسی حالت میں ورزش کی عادت زیادہ مفید رہتی ہے۔

٭ بہتر ہے کہ کھلی ہوا میں پیدل چلیے یا پھر کھڑی سائیکل پر بیٹھ کر پیڈل چلائیے۔ خاص طور پر خواتین کے لیے یہ بہت موزوں ورزش ہے۔

٭ ورزش میں باقاعدگی اور غذا میں کمی کرنے سے آپ کے وزن میں کمی کی رفتار درست رہے گی۔

مکمل جسمانی تندرستی کے لیے ان امور کو ذہن میں رکھیے۔ ان پر عمل کیجیے انشاء اللہ آپ فربہی کی بدنمائی سے محفوظ رہیںگے اور آپ کا جسم متناسب متوازن اور چھریرا رہے گا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
جویریہ نورین

Leave a Reply