بچے کے نفس و قلب کو پاک کیجیے!

پاکیزگی عظیم صفت ہے اور صفائی کرنا ایک جلیل القدر کام ہے۔ صفائی و پاکیزگی ایک بلند و اعلیٰ تربیتی مشن ہے، یہ وہ حقیقت ہے جسے قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور ہمارے نبی کریمؐ کی سنت نے ہمیں اس جانب متوجہ کیا ہے۔ ہماری شریعت مطہرہ نے طہارت کے دونوں پہلوؤں… مادی طہارت اور اخلاقی طہارت پر یکساں زور دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐسے مخاطب ہوکر فرمایا ہے:

’’اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔‘‘

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا ہے:

’’اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے، جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں۔‘‘ (البقرہ) اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہما السلام کو حکم دیا کہ وہ بیت اللہ کو پاک صاف رکھیں۔

’’اللہ کے نزدیک صفت طہارت کو بڑا مقام حاصل ہے، اس لیے اس نے اس صفت طہارت سے اپنے ان بندوں کو خاص کیا ہے، جن سے وہ محبت کرتا ہے، چناں چہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مریمؑ کے بارے میں فرمایا:

جب مریمؑ سے فرشتوں نے آکر کہا: ’’اے مریم اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور تجھے پاکیزگی عطا کی اور تمام دنیا کی عورتوں پر تجھ کر ترجیح دے کر اپنی خدمت کے لیے چن لیا۔‘‘ (آل عمران)

اللہ تعالیٰ نے مریمؑ اور ان کے بیٹے عیسیٰ کے بارے میں فرمایا:’’جب اللہ نے کہا کہ ’’اے عیسیٰ، اب میں تجھے واپس لے لوں گا اور تجھ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور جنہوں نے تیرا انکار کیا ہے ان سے (یعنی ان کی معیت سے اور ان کے گندے ماحول میں ان کے ساتھ رہنے سے) تجھے پاک کردوں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک، ان لوگوں پر بالادست رکھوں گا، جنھوں نے تیرا انکار کیا ہے۔‘‘ (آل عمران)

اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کے گھر والوں کے بارے میں فرمایا: ’’اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت نبیؐ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کردے۔‘‘ (الاحزاب)

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مومنوں کو پاک صاف رکھنے کے لیے کچھ اعمال مقرر کیے ہیں، ان میں زکوٰۃ اور صدقہ شامل ہیں۔

’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور نیکی کی راہ میں انہیں بڑھاؤ۔‘‘ (التوبہ)

غزوۂ بدر کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بارش نازل کی تاکہ وہ پاک صاف ہوجائیں، چناں چہ فرمایا:

’’اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دور کردے اور تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعے سے تمہارے قدم جما دیے۔‘‘ (الانفال)

اللہ تعالیٰ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت طہارت ہے۔ چناں چہ فرمایا:

’’اور تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردے، تاکہ تم شکر گزار بنو۔‘‘ (المائدہ)

اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اس نے اس نعمت پاکیزگی سے منافقوں کو محروم کر دیا ہے۔ کیوں کہ وہ اس نعمت کے مستحق نہیں ہیں۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے پہلے تو منافقوں کے کچھ کرتوتوں کو بیان کیا ہے اور پھر فرمایا ہے:

’’یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہ چاہا، ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں سخت سزا۔‘‘ (المائدہ)

درج بالا آیات سے واضح ہوا کہ تطہیر ایک بہت بڑا کام اور اعلیٰ تربیتی مہم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے درج بالا آیت میں ’’تطہیر‘‘ کے عمل کو اپنی ذات کی جانب منسوب کیا ہے۔ ظاہر ہے یہ نسبت تشریف و تعظیم ہے۔ اللہ نے اپنے انبیا کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے کہ وہ اس عمل تطہیر کو اپنے عظیم مشن رسالت کے دوران سر انجام دیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے کچھ ایسے اعمال مقرر کیے ہیں جو وہ اپنے نفوس و قلوب کی تطہیر کے لی سر انجام دیں گے۔ معلوم ہوا کہ نفوس و قلوب کی تطہیر کی مہم ایک عظیم الشان مہم ہے، جو تربیت کرنے والے ادا کریں گے۔ ان تربیت کنندگان میں والدین بھی شامل ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے بچوںکے نفوس و قلوب کو کن گندگیوں اور غلاظتوں سے پاک صاف رکھیں؟ ذیل میں چند برائیوں کا تذکرہ ہے جن سے پاک کرنا والدین کے لیے لازم ہے۔

بخل و کنجوسی

والدین اپنے بیٹے اور بیٹی کے نفس و قلب کوحرص مال اور بخل و کنجوسی سے اسی صورت میں پاک و صاف کرسکتے ہیں جب وہ خود جود و سخا اور کرم و عطا میں اپنے بچوں کے لیے ایک نمونہ بنیں۔ والدین کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اپنے ساتھ لے جاکر ایسے خاندان سے ملیں جو اپنے سرپرست سے محروم ہیں یا وہ غریب ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہر بچہ یا بچی اس محتاج خانوادے کے اپنے دوست کے لیے کوئی تحفہ اپنے ساتھ لے جائے۔ رب العزت نے سچ فرمایا ہے:

’’اے نبیؐ تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انہیں بڑھاؤ اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو، کیوں کہ تمہاری دعا ان کے لیے وجہ تسکین ہوگی۔‘‘

اس ارشاد ربانی کا مفہوم یہ ہے کہ آپ مال داروں کے نفوس و قلوب کو حرص مال اور بخل و کنجوسی سے پاک کرو، جب کہ آپ ناداروں اور ضرورت مندوں کے دلوں کو کینہ اور حسد سے پاک کرو اور ان میں یہ نظریہ کاشت کرو۔

’’اے اللہ، ہر خرچ کرنے والے کو مال سے نواز اور ہر کنجوسی کرنے والے کے مال کو تلف کردے۔‘‘

یعنی آپ انہیں اس بات کی تعلیم دیجئے کہ جو کچھ وہ مال اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے وہ ہرگز ضائع نہیں ہوگا بلکہ ان کے لیے اللہ اسے ذخیرہ آخرت بنا دے گا۔ یاد رہے کہ نیکی بوسیدہ نہیںہوتی، گناہ فراموش نہیں کیا جاتا اور حساب کتاب لینے والا اور جزا دینے والا ہمیشہ زندہ ہے۔

کیا ہی اچھا ہو کہ آپ اپنے بچوں کے سامنے اس قسم کی کہانیاں بیان کریں۔

احسان فرامــوشی سے پاک کیجیے

افسوس کہ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کیا جاتا ہے مگر بہت تھوڑے ہیں کہ اس کی جزا دیتے ہیں۔ لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ دوسروں کی احسان فراموشی کرتے ہیں، ان کی نیکی اور حسن سلوک کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو اس بات کی تعلیم دیں کہ وہ وفاداری کریں اور اپنے کرم فرماؤں کی مہربانی کا اعتراف کریں۔ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکر گزاری کا طریقہ سکھایا ہے۔ چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا جو انسانوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا۔‘‘ محبت اور وفاداری ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ کسی انسان کے دل میں اپنے محسن کی محبت موجود ہو اور اس محبت کے ساتھ وفاداری نہ ہو۔

میں ایک ایسے صاحب کو جانتا ہوں جس نے اپنے بھائیوں کی خاطر بہت قربانی دی، اس نے ان کے قرضے ادا کیے، اس نے انہیں بینک کے سودی قرضوں سے نجات دلائی جو ان کے قرضوں کی وجہ سے ان پر واجب الادا تھے۔ اس کے بھائیوں کے خلاف عدالتی احکام جاری ہوئے اور وہ جیلوں میں ٹھونسے گئے، اس نے انہیں اپنی ضمانت پر رہا کروایا۔ اس کے ایک بھائی کے خلاف تین سے زیادہ مقدمات تھے۔ اس نے اپنے بھائیوں کی شادیاں کیں، ان کے بچوں کی تعلیم کا بندوبست کیا۔ بھائیوں اور ان کے گھر والوں کے اخراجات اٹھائے، مگر ان سب احسانات کے علی الرغم اس کے بھائیوں نے احسان فراموشی کی۔ اس کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ کیا، اس کے خلاف افواہیں اڑائیں اور جھوٹ اور بہتان سے اس کو بدنام، اس کی مہربانیوں کا اعتراف نہ کیا بلکہ اپنے محسن بھائی اور اس کی اولاد کے خلاف لڑائی کی۔ افسوس کہ ہمارے اس دورے میں ناشکروں، ناقدروں اور دھوکہ بازوں کی خوب بہتات ہے۔

والدین کی نافرمانی سے پاک کیجیے

بچوں کو بتائیے کہ جنت ماں کے قدموں لے ہے۔ ماں ہی نے بچے کو نو ماہ تک پیٹ میں اٹھائے رکھا اور وضع حمل کے وقت سخت تکلیف برداشت کی۔ پھر اسے اپنے سینے سے دودھ پلایا۔ اپنے ہاتھوں سے اس کی غلاظت صاف کی،بچے کے آرام اور غذا کو اپنے آرام اور غذا پر ترجیح دی۔ اپنی گود کو بچے کے لیے آرام گاہ بنایا۔ بچہ بیمار ہوا، یا اسے درد ہوا تو ماں نے بچے کے درد و الم اور بیماری کی حد سے بڑھ کر محسوس کیا۔ بچے کے بخار اور درد سے ماں بے چین رہی۔اس نے بچے کے علاج کے لیے اپنا مال ڈاکٹروں کے حوالے کیا۔ اگر اسے بچے کی زندگی اور اپنی زندگی میں سے کسی ایک کو اختیا رکرنے کے لیے کہا جاتا تو ماں بچے کی زندگی کو اپنی موت پر ترجیح دیتی۔ وہ بہ آواز بلند بچے کی زندگی مانگتی۔ جب یہی ماں بڑھیا ہوگئی ہے تو بچوں کے لیے مناسب ہے کہ وہ اس کے ساتھ بدسلوکی کریں؟ جب وہ بچوں کی سخت محتاج ہوچکی ہے تو اس کی اولاد اسے سب سے حقیر ترین اور معمولی چیز سمجھیں، بیٹے تو سیر ہوکر کھائیں اور ان کی ماں بھوکی رہے۔ وہ اپنی بیویوں اور بچوں کے ساتھ تو حسن سلوک کریں مگر اپنی والدہ کے ساتھ بدسلوکی کریں؟ ماں کا معاملہ ان کے لیے مشکل و دوبھر بن جائے، حالاں کہ اس کی خدمت کرنا آسان ہے۔ وہ اپنی ماں کو تنہا چھوڑ دیں، حالاں کہ اس بے چاری کا ان کے سوا کوئی سہارا نہیں ہے۔

اپنے بچوں کو سکھائیں کہ جو شخص بھی اپنے ماں باپ کی نافرمانی و بے ادبی کرتا ہے، اس کو دنیا میں یہ سزا ملتی ہے کہ اس کی اولاد، اس کی نافرمانی کرتی ہے اور آخرت میں اس کی سزا یہ ہے کہ وہ جہانوں کے پروردگار کی نظر رحمت سے دور ہوگا۔ ایک پکارنے والا، ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوئے اور دھمکاتے ہوئے اسے پکار کر کہے گا:

’’یہ ہے تیرا وہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لیے تیار کیا ہے، ورنہ اللہ اپنے بندوںپر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔‘‘

گناہوں کے اسباب سے پاک کیجیے

الشیخ عایض القرنی اپنی کتاب میں کہتے ہیں: ’’دنیا اور آخرت میں راحت کے اسباب میں سے ایک سبب گناہوں کو ترک کر دینا ہے، گناہوں کے ظاہر و باطن کو ترک کردینا، اس لیے کہ گناہ افراد کو بگاڑتے اور اقوام و ملل کو تباہ و برباد کردیتے ہیں، پس گناہ ہی تنگی و عقوبت کا سبب بنتے ہیں۔ کبھی ایک گناہ ہی انسان کو ہلاک کر دیتا ہے اور وہ دنیا و آخرت میں نقصان اٹھاتا ہے۔‘‘

ابن الجوزی ’’صید الخاطر‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’بنی اسرائیل کے ایک عالم نے کہا، اے میرے پروردگار! میں کس قدر تیری نافرمانی کرتا ہوں اور تو مجھے مہلت دیتا ہے، تو مجھے عذاب نہیں دیتا!‘‘ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایک نبی کی طرف وحی کی کہ اس عالم سے کہو: ’’میں نے اسے ایسی سزا دی ہے کہ اس سے بھاری سزا ہے ہی نہیں، مگر وہ جانتا نہیں ہے! کیا میں نے اس سے مناجات کی شیرینی اور اپنی فرماں برداری کی لذت چھین نہیں لی ہے؟‘‘

سبحان اللہ! ہم کس قدر غافل ہیں کہ ہم اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے ہیں، اگر ہم ان کلمات پر غور و تدبر کریں تو ہم پر واضح ہو جائے کہ ہم میں سے اکثر کو سزا دی جا رہی ہے۔ ہم سے لذت مناجات سلب کرلی گئی ہے۔ کیا ہم چند منٹوں میں تیز تیز نماز نہیں پڑھ لیتے۔ ہماری خواہش یہ ہوتی ہے کہ ہم نماز اور مناجات سے جان چھڑائیں؟ جب ہمارا یہ حال ہے تو پھر ہمارا یہ سمجھنا کہ ہمیں طاعت کی لذت اور مناجات کی حلاوت نصیب ہے۔ محض ایک زعم و وہم کے سوا کچھ نہیں۔

گرامی قدر والدین! زندگی کے حالات و واقعات پر غور کرو تاکہ آپ کو اپنے بیٹوں اور اپنی بیٹیوں کے بارے میں تربیتی ذمہ داریوں کا احساس ہو اور آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آپ لوگ اپنی اولاد کی تربیت میں اور انہیں گناہوں میں مبتلا ہونے سے بچانے کے لیے جو ایک گھڑی گزاریں گے وہ دنیا اور دنیا کے ساز و سامان سے زیادہ بہتر ہے۔ آپ اپنی اولاد میں سرمایہ کاری کریں، اس سے پہلے کہ آپ ان کی خاطر سرمایہ کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر سمیر یونس ترجمہ: محمد ظہیر الدین بھٹی

Leave a Reply