ایک شمع جلانی ہے! (پہلی قسط)

یہ کون لوگ ہیں جو روشنی پہ ہیں مامور

دیئے بجھائے ہیں کتنے، نئے جلائے نہیں

وہ اُس بھیانک اندھیرے میں یوں تھی جیسے خلاء میں معلق ہو۔ تن تنہا، چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا، گھٹن ہی گھٹن، وحشت ہی وحشت۔ اُس کی آنکھیں اندھیرے میں کچھ دیکھ نہیں پا رہی تھیں۔ اُس نے اندھیرے میں ہی اپنے چاروں طرف نظریں دوڑائیں تب اُسے احساس ہوا کہ بہت دور، کہیں دور روشنی کی ایک ہلکی سی کرن ہے۔ اُس نے تیزی سے اِس اندھیرے سے چھٹکارا پانے کے لیے اس روشنی کی جانب بڑھنا چاہا لیکن نہ جانے وہ کس حصار میں قید تھی کہ قدم بڑھا ہی نہیں پا رہی تھی۔ کوئی اَن دیکھی قوت تھی جو اُس کی راہ میں رکاوٹ بن رہی تھی۔ وہ جھنجھلا کر بے بسی سے ہونٹ کاٹتی وہیں ڈھے سی گئی۔ بے بسی کے آنسو اس کی آنکھوں میں چلے آئے ۔۔۔ وحشت سی وحشت تھی…

اُس نے ایک بار پھر امید اور حسرت بھری نگاہ اُس جانب دوڑائی جہاں اُسے روشنی کی ایک کرن نظر آئی تھی اور وہ بے اختیار آگے کی جانب جھک گئی۔ آنکھوں کی پتلیوں کو سکوڑتے ہوئے اُس نے سارا دھیان اُس روشنی پر لگایا تو اُسے احساس ہوا کہ وہ روشنی دھیرے دھیرے اُسی کی جانب بڑھ رہی تھی۔ خوشی کی ایک لہر اس کے دل میں اٹھی لیکن ساتھ ہی ایک سنسنی سی بھی جسم میں پھیل گئی۔ وحشت بھرا اندھیرا، اکیلی ذات اور یوں ایک نامعلوم روشنی۔ کچھ ہی دیر میں وہ روشنی کی کرن اندھیرے میں سفر کرتے ہوئے اُس تک پہنچ گئی، اُس کے قریب، بالکل اُس کے اوپر ٹھہرگئی اور وہ روشنی میں نہاسی گئی، یوں جیسے وہ کسی اسپاٹ لائٹ کی زرد روشنی میں ہو۔یکایک وہ روشنی بے شمار چھوٹے چھوٹے حصوں میں بٹ گئی اور اُس کے پاس سے یوں گزرنے لگی جیسے جگنو چمک رہے ہوں یا جیسے اُس کے چاروں طرف رنگ برنگی آتش بازی ہورہی ہو۔ اسی روشنی بھرے لمحوں میں اُس نے دیکھا کہ اُس کے چاروں طرف دائرے کی شکل میں بہت ہی خوبصورت‘ ست رنگی شمعیں ] موم بتیاں[ جل رہی ہوں اور جن میں سے ہر ایک کا رنگ دوسرے رنگ سے ملا تھا مگر پھر بھی ہررنگ کی انفرادیت برقرار تھی۔ سب ہی کی لو ماند تھی۔ اُس نے پھر سے نظر یں اُٹھائیں تو ایک خوف تیزی سے اُسکے اندر پھیل گیا۔ روشنی کے وہ حصے جو جگنو کی مانند اُس کے آس پاس تھے اب دھیرے دھیرے اُس سے دور جارہے تھے۔ اُس نے بجلی کی سی تیزی سے ایک موم بتی اُٹھائی اور اُچک کر ایک روشنی کو شمع کی لو پر لینا چاہا، لیکن پھر وہی ان دیکھی زنجیریں اُسے روک گئیں۔ اُس نے دو، تین بار کوشش کی لیکن وہ زنجیریں جیسے اُس کے وجود کو مکمل طور سے جکڑے ہوئے تھیں اور سوائے ناکامی کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔

آخر تھک ہار کر اُس نے کوشش چھوڑ دی… مایوسی سے گردن جھکائی اور پھر حسرت سے گردن اٹھا کر خود سے دور جاتی روشنیوں کو دیکھتی رہی۔ وہ اُس کی امید تھی، اندھیرے سے نجات پانے کا واحد ذریعہ۔ وہ سارے جگنو اور وہ ساری روشنیاں اُسے چھو کر گزرگئیں لیکن وہ ان میں سے کسی طرح بھی اپنی ایک شمع کو بھی روشن نہ کرسکی۔

اب پھر سے چاروں طرف وہی اندھیرا تھا… وہی خاموشی تھی۔۔۔ وحشت، گھٹن… مایوسی… اس کا دم رُکنے لگا۔۔۔ یہ اندھیرا اب اُسکی سانسیں بھی چھین رہا تھا۔

٭٭٭

میرے پہلو میں لاکھوں غم بھی اکثر سوئے رہتے ہیں

یہ کیسا سانحہ آیا اداسی کم نہیں ہوتی

اُس نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھول دیں۔۔۔۔ چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔۔۔۔ اُس نے دوبارہ آنکھیں بند کیں اور پھر کھولیں۔ چند لمحوں میں ہی اُس کی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہوگئی تھیں۔ اُس نے اندھیرے میں تکیہ کے آس پاس موبائیل ٹٹولا، موبائل اسکرین کو چھوتے ہی وہ فوراً روشن ہو اٹھی۔۔۔۔ ساڑھے چار بج رہے تھے۔۔۔۔ اُس نے گردن گھما کر اپنی دائیں جانب سوئی سویرا کو دیکھا جو بڑی بے خبری و بے فکری کی نیند سورہی تھی۔ اس نے ایک حسرت بھری نگاہ اُس پر ڈالی۔عجیب سا خواب تھا وہ۔ خصوصاً دو کیفیتیں، جب بے انتہاء اندھیرے میں وحشت سے اس کا سانس رکنے لگا تھا اور دوسری کیفیت جب وہ روشنی میں بھیگی کھڑی تھی۔۔۔۔ ایک بوجھل سا تاثر اُسکے دل و دماغ پر آپڑا تھا۔

اب نیند تو نہ آنی تھی اُسے۔ اُس نے ایک نظر پھر سے موبائیل اسکرین پر ڈالی اور بستر سے اُٹھ گئی اور سوچا کہ تہجد ہی پڑھ لے۔یوں تو بہ ضداہتمام کبھی تہجد پڑھ نہیں پاتی لیکن اب خوامخواہ بستر پر اذیت دیتی سوچوں اور خیالوں کے ساتھ کروٹ بدلنے سے اچھا ہے کہ وہ نماز ہی کے لیے کھڑی ہوجائے۔

خواب کے بوجھل تاثر کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے غافرہ اپنے بستر سے اُٹھ گئی، وضو کیا اور بنا آواز کیے الماری سے مصلیٰ نکال کر دوسرے کمرے میں چلی آئی۔ مصلیٰ بچھا کر کمرے کی کھڑکی بند کرنے لگی تاکہ سرد ہوارُک جائے۔ تبھی ایک خنک، سرد سا اور شاید کچھ معطر بھی، ہوا کا جھونکا اُسے چھوتا گزر گیا۔ کیا تازگی تھی اُس جھونکے میں۔ شاید وہ اُسکی خوش بختی پر جھوم جھوم سا رہا تھا کہ چاہے وجہ کچھ بھی رہی ہو، وسیلہ کوئی ہو، مگر وہ یوں تن تنہا، خاموشی میں‘ رات کے اِس پہر اپنے رب کو پکارنے والی تھی۔ وہ رب جو پہلے آسمان پر آیا ہوا تھا اور منتظر تھا کہ کوئی سوال کرے تو وہ جواب دے‘ کوئی مانگے تو وہ عطاء کرے اور وہ منتظر تھا۔

وہ نماز کی نیت باندھ کر کھڑی ہوگئی۔ دھیرے دھیرے نماز ختم کی۔ آرام سے تسبیحات پڑھیں۔ اور دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھا دیے اور دھیرے دھیرے اسمائے حسنیٰ دہرانے لگی ….. اُسے تو یاد بھی نہ رہا کہ کتنے عرصے بعد وہ یوں اتنے سکون سے دعا کررہی تھی، ورنہ دن کے اُجالوں میں تو دعا کے نام پر بس کچھ مسنون دُعائیں پڑھ لیتی اور اپنے مسئلے کے حل کے لیے اللہ سے مدد مانگ لیتی۔ مگر آج رات کی پُر سکون خاموشی، پُر تقدس فضاء اور اس کا سکوت اُسکے دل پر عجیب طرح سے اثر کررہا تھا۔

’’یا الرحمن‘ الرحیم‘ المالک‘ القدوس‘ یا الودود‘ یا المجیب‘ یا الوھاب…….‘‘ دھیرے دھیرے اللہ کی صفات کو یاد کرتے کرتے نہ جانے وہ کونسے ڈھیروں ڈھیر آنسو تھے جو اُس کی آنکھوں سے بہنے لگے تھے اور کون سے جذبات تھے جو اُبل اُبل کر آنکھوں سے ٹپک رہے تھے۔ وہ اب دُعا نہیں مانگ رہی تھی روئے ہی جارہی تھی اور بس روئے جارہی تھی‘ اتنے عرصے میں پہلی مرتبہ اُسے یہ احساس ہورہا ہے، اُس کی feelings کو اس کا رب حقیقتاً سمجھ رہا ہے۔ وہ لبوں سے تو کچھ نہیں کہہ رہی تھی مگر اس کا ہر گرتا آنسو دُعا تھا، سوال تھا،‘ فریاد تھا اور الجھن کا حل تھا۔

دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا تو آنسوئوںکی روانی میں بھی کمی آئی۔ لرزتے ہونٹوں اور دبی آواز کے ساتھ اب اُس نے لفظوں کا سہارا لیا۔ یہ رات کے اُس پہر کی کیفیت ہوتی ہے اس نے محسوس کیا۔ لمحوں کا اعجاز ہوتا ہے کہ بندہ اور رب کے درمیان فاصلہ باقی نہیں رہتاجو بندہ پیدا کرتا ہے۔ ان ساعتوں میں وہ اپنے weakest point پر ہوتا ہے، دِل کھول کر اللہ کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ ایک سرور اور سکون کی کیفیت ہوتی ہے جسے صرف وہی جان سکتا ہے جس نے تہجد پڑھی ہو، جس نے تہجد کی نماز قائم کی ہو۔

غافرہ نے بھی ہتھیلیاں پھیلائیں، جن پر اس کے آنسوقطرہ قطرہ گر رہے تھے۔

دُعا کا سفر شروع ہورہا تھا‘ لبوں سے الفاظ پھسل رہے تھے، ’’ یا مولائے کل کائنات‘ یا الودود تو مجھ سے ستر مائوں سے بھی بڑھ کر محبت کرتا ہے‘ میرے ماں باپ سے بڑھ کر مجھ سے محبت کرتا ہے۔ یا اللہ میں بہت مشکل میں ہوں! میرے چاروں طرف اندھیرا ہے! کوئی راستہ نظر نہیں آتا! کچھ سجھائی نہیں دیتا! غفور و رحیم مجھے معاف کردیجئے۔‘ آپ کا در وہ پہلا در ہونا چاہیے تھا جہاں میں رو رو کر آپ کو اپنا دُکھ بتاتی، آپ سے مدد مانگتی لیکن اللہ میں دنیا کے لوگوں کے پیچھے خوار ہوتی رہی اور خواری ہی ہاتھ آئی رب کریم!لیکن اے اللہ اب میں آپ کے در پر ہوں، مجھے میری غلطیوں کے لیے معاف کردیجئے اللہ! میرے گناہوں کی پردہ پوشی کیجیے‘ میری لغزشوں سے درگزر کرلیجیے۔میں بہت گناہ گار ہوں اللہ مگر جیسی بھی ہوں تیری بندی ہوں، تیرے بندے اور بندی کی بیٹی ہوں‘ میری پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے‘ مجھ میں آپکا ہی حکم جاری و ساری ہے….. یا الرحمن میری مدد کیجئے‘ رحم کیجئے…. یا حی القیوم….. آپ ساری کائنات کو تھامے ہوئے ہیں…. مجھے بھی تھام لیجیے ورنہ میں ان اندھیروں میں خود کو گنوا بیٹھونگی….. میری نادانیوں کے لیے مجھے معاف کردیجئے …. میری مدد کیجیے یا اللہ مجھے راہ بتایئے یا ھادی …. مجھے اس مشکل سے نکال لیجیے…. میری زندگی‘ میری محبت‘ میری خوشیوں کا امین صرف اور صرف تو ہی ہے….. ‘‘

الفاظ تڑپ تڑپ کر اُسکے ہونٹو سے نکل رہے تھے۔ السمیع اس کی ذات ہے، اور وہ اپنے بندوں کے بہت قریب ہوتا ہے۔ وہ پکارنے والے کی پکار سُن رہا تھا اور جواب بھی دے رہا تھا۔ اُسے اندھیروں سے نکالنے کے لیے روشنیاں بھیج رہا تھا مگر وہ ان سب سے بے خبر دعا کے آخری الفاظ پڑھ رہی تھی۔ عرصے بعد ایک سکون کا حصار اُس کے وجود کو گھیرے میں لے رہا تھا…. اور جس بے سکونی، Stress یا ڈپریشن کی شکایت مشکلات میں گھرے لوگ کرتے ہیں وہ مشکلات کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اِس لیے ہوتی ہے کیوںکہ وہ اپنی مشکلات کا ذکر اللہ سے نہیں کرتے، اللہ کو ویسے نہیں پکارتے جیسے کہ پکارنے کا حق ہے۔ دُعا نہیں کرتے، ویسی دُعا جو دُعا ہو۔

دُعا کی بے اثری کا گلہ تو ہے لیکن

دُعا بھی آپ نے مانگی کبھی دعا کی طرح

انھیں سوچوں میں گھِری وہ مصلّے سے اُٹھ گئی۔ فجر کی اذان ہونے میں ابھی بھی وقت باقی تھا۔ اُس نے دھیرے سے اپنا موبائیل تکیہ کی آڑ سے نکالا اور دوبارہ اِسی کمرے میں واپس آگئی۔۔۔اسکرین پر گیلری کے آپشن پر کلک کرکے وہ ایک لمحے کے لیے رُک گئی …پھر سب خیال ذہن سے جھٹک کر دوبارہ اسکرین پر نظریں جمادیں جہاں بے شمارتصاویر پر بکھری تھیں جنھیں وہ دھیرے دھیرے سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے سے بڑھا رہی تھی۔ ایک تصویر پر آکر نہ صرف اسکا حرکت کرتا ہاتھ بلکہ ایک لمحے کے لیے شاید اس کا دل بھی رُک گیا۔ اسکرین کی روشنی اُس کے چہرے پر پڑرہی تھی قریب سے اُسے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ نمی آنکھوں میں اُمڈ آئی تھی اور ایک زخمی سا تاثر چہرے پر پھیلا تھا۔

اُس تصویر کو اوپن کرکے اُس نے زوم اِن کیا… وہ اُس کی اور ابتسام کی تصویر تھی… رنگوں سے سجی‘ مسکراتی تصویر… جسے اُس نے آنسووں سے بھری آنکھوں سے دیکھا تو وہ دھندلا گئی تھی۔ وہ اسے اُس وقت تک دیکھتی رہی جب تک اسکرین بجھ نہیں گئی۔ اور جب بجھ گئی تو وہ دوبارہ سے اُسے روشن نہ کرسکی۔ اب موبائیل کی اسکرین بھی سیاہ پڑگئی تھی مگر اِس سیاہ اسکرین پر اُس کا عکس اس کے ذہن و دماغ پر اُبھر رہا تھا۔ اور پھر دھیرے دھیرے کئی عکس ابھرنے لگے، یادوں کے بلبلے ہوا میں اڑنے لگے اور وہ دبے قدموں پیچھے چل پڑی۔ ان ست رنگی بلبلوں کے پیچھے… پیچھے … اور پیچھے ’دیڑھ سال‘ دوما ہ‘ چار دن پیچھے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم

Leave a Reply