وہاں کی کرنسی

خوب صورت، عمدہ گھر، جہاں ہر آسائش ہو، بڑے بڑے بیڈ رومز، ڈائننگ ہال، جہاں درمیان میں بڑا سا وائٹ دل کش فانوس لگا ہو، گردن اْٹھاتے ہی نگاہوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہو، ٹیبل پر عمدہ عمدہ کھانے، نہایت ہی عمدہ اور نفیس برتنوں میں پیش کیے جائیں، نہ پکانے کی زحمت نہ لگانے کی زحمت، نہایت صاف سْتھرے، جیسے چمکتے موتی ہوں۔ نوجوان نوکر،کھانے بھی پیش کریں اور ہر حکم خوش دلی سے بجا لاتے ہوں، خوب صورت بیڈ رومز جو نہایت عمدہ فرنیچر سے آراستہ کیے گئے ہوں، جب آرام کے لیے لیٹیں تو دل چاہے بس اب آرام ہی کریں، نہ وقت کی قید کہ اْف ٹائم ہوگیا کہ اسکول یا کالج اور یونی ورسٹی جانا ہے کہ اب اپنی نیند بھری آنکھوں کو زبردستی ملتے ہوئے اْٹھنا پڑے۔ جب مرضی ہو، تب بستر چھوڑیں اور جب اْٹھنا ہو تو ناشتے میں مزے مزے کی چیزیں کھائیں پئیں۔ سیر کے لیے گھر میں وسیع و عریض لان ہو، جس کے چاروں اطرف پھول ہی پھول ہوں، کہیں گلاب اپنی طرف متوجہ کرنے کو بے قرار تو، کہیں خوب صورت وائٹ موتیا گرین سبزے کے ساتھ اپنی دل کشی اور مہکتی خوشبو سے اپنی جانب توجہ مبذول کرواتی ہو، ایسے میں نیلے آسمان کا رنگ لیے وسیع سیڑھیاں اْترتا سوئمنگ پول جس میں ٹھیرا ہوا پانی اپنی بانہوں میں سمیٹنے کو بے قرار ہو۔ لباس ایسا نرم و نزاکت والا کہ نگاہیں بس جم ہی جائیں، اک بار پڑیں تو ہٹانے کا دل ہی نہ ہو، کس قدر قیمتی کس قدر مہنگا۔ کسی ریاست کی ملکہ یا شہزادی ہی زیب تن کرتی ہے۔ اس پر نہایت قیمتی زیورات، سونے اور چاندی میں جڑے جواہرات اور ہیروں کا نیکلس… مگر کیا یہ سب ہمارے لیے ہمارے جیسے انسانوں کے لیے…یہ شان و شوکت یہ عزّت، تکریم کن خوش نصیبوں کے لیے؟

شاپنگ مالز…آج تو دل بھر کر شاپنگ کرنی ہے اور میں اتنے بڑے اور اتنے خوب صورت میلنیم مالز اور اس کی خوب صورتی میں گم ہوں، آج میری آنکھیں کیا مناظر دیکھ رہی ہیں، یہاں مجھے کوئی جانے دیا، شاپنگ کرنے دے گا، یا باہر سے ہی دیکھ کر خوش ہو کر لوٹ جاؤں، کسی نے کان میں سرگوشی کی، کرنسی ہے تو انٹر ہو سکتے ہو، کرنسی؟ کون سی، میرے پاس تو پھوٹی کوڑی بھی نہیں، پتا نہیں کس حال میں گھر سے نکلا، میرے پاس تو ایک پیسا بھی نہیں، ورنہ پیسا تو میری زندگی کی سب سے بڑی چیز رہا ہے، پیسا پیسا ہر وقت پیسا حاصل کرنے کی دوڑ…کیسے آرہا ہے اس سے غافل بس ہر اچھی اور مہنگی چیز کی طلب و ہوس۔ مگر یہ جو آج میری زندگی میں میری نظروں سے چیزیں گزر رہی ہیں، تو لگتا ہے میں تو نہایت فقیر ہوں، کچھ بھی تو مرے بس میں نہیں۔ میں تو کبھی شاپنگ مالز کے سامنے سے خالی ہاتھ بغیر شاپنگ کے نہیں گزرا، مگر آج تو میں کوئی اور ہی دنیا دیکھ رہا ہوں شاید… یہاں کی کرنسی، کوئی اور سی ہے۔ بہت ہی مہنگی جس کے آگے ڈالر کوئی اہمیت نہیں رکھتے ہوں، وہ میری آف شور کمپنیوں سے کمائی گئی دولت، وہ دولت کے انبار جس پر منی لانڈرنگ کیس دائر ہوئے، یہاں کسی کام کی نہیں۔ یہاں اس سے کچھ نہیں خریدا جاسکتا۔ نہ جانے کون سا مہنگا سکہ چلتا ہے یہاں، جو میرے پاس نہیں، کیسے یہ سب خریدوں کیسے؟ ان لوگوں کا سامنا کروں جو بیگ کے بیگ لاکر گاڑیوں میں اور ہوائی جہازوں میں اْڑے جارہے ہیں۔ میں تو ان کے آگے ایک بھکاری معلوم ہوتا ہوں، مگر میں اتنا خستہ حال کب اور کیسے ہوگیا؟ آخر پتا نہیں کس دنیا میں رستہ بھول آیا ہوں، مگر یہاں کے نظارے مجھے یہاں سے جانے بھی نہیں دے رہے۔ اب یہ سب کچھ میں بھی حاصل کرنا چاہتا ہوں، یہاں سے واپس جانا نہیں چاہتا، مگر میں کیسے حاصل کروں یہ سب یہاں تو مجھے کوئی نوکری بھی نہیں دے گا، یہاں کے تو نوکر بھی کسی ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے مالک سے کم نہیں لگتے۔ مجھے بھلا کوئی کیوں نوکری دے گا؟ ان لوگوں کے پاس جو کچھ ہے انہوں نے یہ سب کچھ حاصل کرنے والے کام کیے، اب ان کی ذاتی ملکیت ہے، سب کچھ…یہ تو بادشاہ ہیں یہاں کے، سب ان کی ملکیت میں ہے، آخر ان کی زندگی بھر کی محنتیں ہیں، مشقتیں ہیں، خالص نیتیں ان کی تھیں۔ یہ تو ایک فقیر کو کھانا بھی کھلاتے تو اس لیے کہ ربّ کی رضا حاصل ہو۔ اس کا انعام حاصل ہو۔ ان کے پاس نیکیوں کی کرنسی ہے جو یہاں چلتی ہے، انہوں نے تو اپنے پیسے کو بھی اس کرنسی کے حصول میں لگایا۔ اللہ کی راہ میں پیسا لگایا جو انہیں یہاں سات سو گنا بڑھاکر لوٹایا جارہا ہے اور پھر جتنا اخلاص اتنا ہی زیادہ۔ انہوں نے تو ساری زندگی اس کرنسی کو حاصل کیا، کسی چھوٹے سے کام میں ملتی ہو یا بڑے سے بڑے میں اس کے لیے دوڑے۔ بس اللہ کی رضا اور اس کے انعام کا حصول ہی ان کا مقصد زندگی رہا۔ اللہ کی دعوت کی طرف لوگوں کو بلانا کہ بس جو کام بھی اللہ کی رضا کا باعث ہے، اسے اپنانا، جو اللہ نے کہا، اس پر عمل کرنا، اس کے رسول کریمؐ کی سنتوں کی پیروی، اس کے رسولؐ کے احکامات کی پیروی، بس جو اللہ کو پسند ہے، اس کام کو اپنانا، اللہ پاک سے محبت، اللہ کی یاد دل میں اس کی خوش نودی، والدین کی خدمت، نماز کی پابندی، قرآن کی تلاوت، اس کو سمجھنا اور اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے رسولؐ کے احکامات کو جاننا کہ ہمیں اس نے کیا احکامات دیے ہیں، ان کے مطابق زندگی گزارنا اور یہ یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس واپس جانا ہے، جو کام آخرت کے لحاظ سے فائدہ مند ہے اسے کرنا چاہیے، بھلے دنیا میں کتنا ہی نقصان نظر آتا ہو۔ یہاں اگر فکر کرلی تو پھر آخرت کی زندگی ہمیشہ کی ہے، یہاں اچھے کام کرلیے تو وہاں کام یابی ہمیشہ کی ہے، اور اللہ خوش ہوگیا تو اس کا انعام ملے گا، ہمیشہ اس کی جنّت میں رہنے والا۔ اس کی ناراضگی کا ڈر، ان کاموں سے بچنا، جس سے اللہ نے منع فرمایا اور ناپسند کیا، اس کے رسولؐ نے منع فرمایا اور ناپسند کیا اور دوڑ دوڑ کر اس کی خوش نودی کے کام کیے کہیہ اللہ تعالیٰ کی خوش نودی کا ذریعہ تھے۔ بات کرتے ہو ئے سچ بولنا، جھوٹ سے بچنا، بری باتوں، گالی گلوچ، بے حیائی کی گفتگو، طعنہ، غیبت، چغلی جیسی باتوں سے بچنا کہ اللہ کے رسولؐ کی نافرمانی نہ ہو۔ اللہ کی اطاعت اس کے رسولؐ کی اطاعت اس کے دین کی سربلندی کے لیے کوششیں، دوڑ دھوپ، کہ ہمیں جو احکامات دیے گئے ہیں ان پر عمل ان کے مطابق زندگی گزارنا، سنتوں کی پیروی پھر اللہ سے استغفار بے پناہ استغفار۔ اس کی یاد، دْعاؤں کی عادت جو ہمیں بتائی گئیں ہیں، اس کے بعد بھی اللہ کا خوف کہ رب ناراض نہ ہوجائے، کہیں بھول چوک ہوجائے اور اس کی نافرمانی ہوجائے، اسی سے استغفار اسی کی رحمت سے امید، میں نے یہ سب کچھ کہاں کیا نہ ہی سوچا۔ نہ یہاں کا خیال کیا، بس دنیا کی زندگی میں مگن اور آخرت سے غافل، دنیا کی محبت کا نشہ سوار…مگر آج میں کس حال میں ہوں، یہاں کی خوب صورت دنیا کے باسیوں پر نظر کی کہ کہیں کوئی میری طرف دیکھ ہی لے۔ مگر اس دنیا کے باسی تو آج بڑے مزے میں مگن ہیں۔ انہیں کوئی خوف نہیں نہ کوئی فکر۔ وہ مجھے فقیر سمجھ کر ہی کھانا یا لباس دیں یا میرا سوچیں، اور وہ میرا کیوں سوچیں جب میں نے ہی اپنے مستقبل ’’آخرت‘‘ کا نہیں سوچا۔ یہ نہیں سوچا کہ دنیا تو امتحان گاہ ہے، یہاں سے تو چلے ہی جانا ہے تو عقل مندی یہی ہے کہ یہاں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کی جائے۔

آج میں نے دیکھ لیا کہ دولتیں کسی کام نہیں آنے والی۔ صرف اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے قرب کی تلاش، اس کی رضا و خوش نودی کے حصول کے لیے جدوجہد اور ہر کام وہ کرنا، جس سے ربّ کی رضا حاصل ہو اور اس کے اور اس کے رسولؐ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنا اور فکر آخرت کرنا کہ یہ کام یابی ہمیشہ کی ہے۔ صرف دنیا کی زندگی میں ہی نہ کھو جائیں۔ میری دل سے دْعا نکل رہی تھی کہ اللہ اپنی رحمت خاص سے مجھے بھی یہ کام یابیاں عطا فرمادے، بے شک وہ غفور و رحیم ہے اور اپنے بندوں کا نہایت خیر خواہ ہے اور ہم ایسے مہربان اور ایسا خوب صورت انعام عطا کرنے والے سے اتنا غافل کیوں ہوتے ہیں؟

میرے کانوں میں تیز آواز گونج رہی تھی، کوئی میرے برابر بیٹھا یہ حدیث کا مفہوم سنا رہا تھا کہ…اس شخص کا…اس شخص کا گھر نہایت عمدہ ہے، جو اپنے اعمال نامے میں کثرت سے استغفار لایا ہو اور میری آواز رندھ گئی، آنکھوں سے ندامتوں کا سیلِ رواں اور زبان پر استغفار کا ورد جاری ہوگیا۔میں غفلت کی نیند سے بیدار ہوچکا تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
اشفاق احمد

Leave a Reply