6

دشت تمنا

خزانے کا خواب متوسط طبقے کے اکثر لوگوں کی طرح اسے بھی وراثت میں ملا تھا۔ پرانے گھر میں اس کے باپ نے بھی کئی جگہیں لکھ دی تھیں، لیکن خزانہ تو نہ ملا گھر کی خستگی میں اضافہ ہوگیا، پھر اس نے یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیا، جو اسے اپنی ماں سے ورثے میں ملا تھا۔ عمر کے آخری دنوں میں وہ مایوس ہوگیا، لیکن نہیں جانتا تھا کہ یہ خواب، وراثت میں اس کے بیٹے کو منتقل ہوگیا ہے۔ وراثت میں منتقل ہونے کے لیے کچھ تھا بھی نہیں، بس یہ خستہ آبائی گھر۔ دونوں میاں بیوی نے ملازمت کر کے چار سو گز کا ایک پلاٹ خریدا تھا، لیکن اس پر مکان بنانے کی نوبت ہی نہ آئی۔ دونوں میاں بیوی آگے پیچھے نیا مکان بنانے کی حسرت میں دنیا سے چلے گئے۔ اس کی بیوی بھی ملازمت کرتی تھی۔ کچھ کمیٹیاں ڈال کر قرضے لیکر اس نے باپ کے خریدے پلاٹ پر چھوٹا سا گھر بنا لیا۔

نئے گھر میں منتقل ہوئے تو بیوی بچے بہت خوش ہوئے، لیکن اس کی اداسی نہ گئی۔ ’’دو ڈھائی ہزار گز کا ہوتا تو کیا بات تھی کہ آدھا تو لان کے لیے چھوڑتا اور باقی میں عمارت بناتا۔‘‘

بیوی بولی: ’’شکر کرو یہ بھی بن گیا، پرانے گھر میں تو اب چھتوں سے مٹی جھڑنے لگی تھی۔‘‘

’’وہ تو ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے سر ہلایا۔ ’’لیکن …‘‘

اور اس لیکن کے لیے خزانے کا خواب تھا، اگر ایک کروڑ کا بندوبست ہو جائے تو کسی اور اچھے علاقے میں بڑا گھر بن سکتا ہے، لیکن یہ ایک کروڑ کہاں سے آئیں گے۔ یہ گھر تو بنا تھا، اس کے کسی کونے کھدرے میں پرانا خزانہ ملنے کی امید نہیں تھی، تو پھر خزانہ کہاں سے ملے، لاٹریوں اور پرائز بونڈ سے بڑی امیدیں تھیں۔ ہر مہینے پچاس سو روپے کا بونڈ خریدتا۔ قرعہ اندازی کا نتیجہ آتا تو وہ دو تین بار نمبر پڑھتا لیکن کبھی دس روپے کا انعام بھی نہیں نکلا۔ شاید میرے نام کا انعام نہیں نکلتا۔ بیوی اور پھر بچوں کے نام سے پرائز بونڈ لینے لگے، لیکن کسی کا نام نہ آیا۔ کوئی انعامی اسکیم شروع ہوئی فوراً وہ چیز خرید کر انعامی کوپن بھرتا، لیکن کبھی کوئی انعام نہ نکلا۔

زندگی کی گاڑی آہستہ آہستہ گھسٹتی گئی۔ بچے بڑے ہوگئے تھے۔ اب موٹر سائیکل پر سب کا جانا مشکل ہوگیا تھا۔ بیوی نے اسکول میں کمیٹی ڈالی اور موٹر سائیکل بیچ کر انہوں نے ایک پرانی کار لے لی۔

کار کو پہلے اس نے پورچ میں کھڑا کرتے ہوئے سوچا۔ ’’کچھ اور پیسے ہوتے تو ذرا بڑی گاڑی لیتا۔‘‘ خزانے کا خواب پھر جھلملانے لگا۔ اگر کہیں سے خزانہ مل جائے تو؟ لیکن کہاں سے۔ اب خزانے زمینوں میں دفن نہیں کیے جاتے، بلکہ بینکوں میں رکھے جاتے ہیں اور اسے حاصل کرنے کے لیے ڈکیتی کرنی پڑتی ہے، اس تصور ہی سے جھرجھری آگئی۔

کار پرانی تھی، روز ہی کوئی نہ کوئی مسئلہ ہوتا۔ اتوار کا دن تو مستریوں کے پاس گزرتا، ہر بار سوچتا، کاش! کہیں سے خزانہ ہاتھ آجائے تو کم از کم نئی گاڑی ہی لے لوں۔ کئی خیال ذہن میں آتے۔ کیا معلوم کوئی غلطی سے اس کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کرا دے۔ سڑک پر چلتے چلتے کوئی موٹا بٹوا مل جائے۔ سوچتا، اب تو دو ہزار کا نوٹ بھی آگیا۔ ایک کروڑ کے لیے پہلے کی طرح بہت سی گڈیوں کی ضرورت ہی نہیں۔

بیوی نے پھر ہمت کی، گھر کے خرچے میں سے پیسہ پیسہ جوڑ کر اور نئی کمیٹی ڈال کر اتنی رقم کرلی کہ پرانی کار بیچ کر نئی گاڑی لی جاسکے۔

پہلے دن نئی گاڑی چلاتے ہوئے اور ہی مزہ آیا۔ ’’واہ کیا بات ہے‘‘ لیکن اسی لمحے خیال آیا اور پیسے ہوتے تو بڑی گاڑی لیتے۔ سڑک پر قریب سے بڑی گاڑیاں گزرتیں تو اسے عجیب بے بسی اور بے وقعتی کا احساس ہوتا۔ خزانے کا خواب آنکھوں میں سرسرانے لگتا۔

بڑا سا گھر اور نئی گاڑی۔ بیوی کہتی: ’’تم ناشکرے ہو، تنگ گلی کے اس بوسیدہ گھر میں موٹر سائیکل کے ساتھ رہتے تھے اور اب اس نئی آبادی میں اپنا گھر ہے، گاڑی ہے اور کیا چاہیے۔‘‘

وہ کہتا، ’’ٹھیک کہتی ہو، لیکن…‘‘

اس سے اچھے علاقے میں بڑا گھر، بڑا لان سوچتا…‘‘ اب تو اس کے لیے دو کروڑ چاہیے۔ زمین بھی مہنگی ہوگئی ہے اور لاگت بھی کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہے۔‘‘ بیوی اور بچے اب اس کے خواب سے لذت لینے لگے تھے۔ بڑا بیٹا کبھی کبھی ہنستے ہوئے کہتا…‘‘ ابو، اب آپ کا بجٹ کیا ہے۔‘‘

وہ کہتا… ’’یار اب تو معاملہ دو کروڑ سے آگے چلا گیا ہے۔‘‘

سوچتا… ’’جن کے پاس اربوں ہیں، ان کے لیے دو کروڑ کیا معنی رکھتے ہیں۔‘‘

خواب میں دیکھتا… ڈاکیے نے لفافہ دیا ہے، کھولتا تو اس میں دو کروڑ کا چیک ہوتا۔ یہ کون نادیدہ مہربان ہے؟ لیکن جھرجھری آتے ہی حقیقی دنیا میں آجاتا۔ بٹوے میں تو دو تین ہزار ہی رہ گئے ہیں اور ابھی تنخواہ ملنے میں بیس دن ہیں۔

کچھ عرصے کیلیے خزانے کا خواب محو ہو جاتا، بس جو ہے یہی ہے۔ کچھ عرصہ مطمئن رہتا، پھر کسی اچھے علاقے میں جانا ہوتا تو بڑے گھر، بڑی گاڑیاں دیکھ کر جی کلبلانے لگتا۔ ایک عجیب بے چینی اندر ہی اندر اسے کاٹتی، جیسے کوئی چھری کی نوک چبھا رہا ہے۔ بیوی مزاج آشنا تھی۔ سمجھ جاتی کہ خزانے کا خواب ان دنوں پھر اس کے ذہن میں کھد بدا رہا ہے۔

کبھی کبھی ہنس کر پوچھتی ’’اب اسٹی میٹ کیا ہے؟‘‘

وہ پوری سنجیدگی سے کہتا… ’’اب تو تین کروڑ سے زیادہ ہی چاہیے۔‘‘

اور سوچتا کیا معلوم کسی دن سڑک پر کوئی بریف کیس مل جائے، جو ڈالروں سے بھرا ہو، لیکن اتنی رقم رکھی کہاں جائے گی۔ گھر میں رکھی اور کسی کو بھی بھنک پڑ گئی تو سب کی جانیں بھی جائیں گی۔ بینک میں لے گیا تو ٹیکس والے پوچھیں گے اتنی رقم کہاں سے آئی۔ بہت سوچا، بہت سوچا پھر ایک پلان ذہن میں آیا کہ گھر کے سارے افراد کے اکاؤنٹ کھول کر تھوڑی رقم سب میں جمع کرا دی جائے اور کچھ گھر میں رکھ لی جائے۔ گھر میں دو تین محفوظ جگہیں بھی تلاش کرلیں، ایک الماری کے سب سے اوپر ایک خلا سا رہ گیا تھا۔ بہت ہی مناسب جگہ تھی، چور ڈاکو آ بھی جائے تو تلاش نہ کر پاتے۔

اب شہر میں دھماکے شروع ہوگئے تھے۔ بریف کیس پھٹتے تھے۔ خیال آیا کہ ایسا نہ ہو کہ وہ بریف کیس کھولے اور دھماکہ ہو جائے۔ پورے جسم میں جھرجھری آجاتی۔

’’نہیںیہ مناسب نہیں ، تو پھر۔‘‘

اب این جی اوز کا بھی بڑا چرچا تھا۔ سنتا تھا کہ باہر کے ملکوں سے کھلا پیسہ ملتا ہے، لیکن یہ اس کی حیثیت سے بہت اونچا کام تھا۔ وہ تو اس کے بارے میں بھی خواب ہی دیکھ سکتا تھا کہ وہ ایک این جی او چلا رہا ہے۔ کھلا پیسہ آرہا ہے اور اس نے اس میں سے تین کروڑ بچا لیے ہیں۔ پوش علاقے میں دو کوٹھیاں ہیں، ایک بڑی گاڑی اور کئی گاڑیاں۔

لیکن یہ بھی خواب ہی تھا۔

کبھی سوچتا کہ دہشت گردوں کو بوریوں میں بھر کر ڈالر ملتے ہیں، لیکن وہ تو اس چیونٹی کو بھی نہیں مار سکتا تھا، جو اس کے جسم پر کاٹتی پھرتی تھی۔ تو خزانے کا خواب کچھ عرصہ بری طرح ذہن پر سوار رہتا، کچھ عرصہ بھول جاتا۔ بچے اب بڑے ہوگئے تھے، ناشتے کی میز پر چھیڑتے… ’’ابو اب آپ کا بجٹ کیا ہے؟‘‘

وہ سنجیدگی سے کہتا…‘‘ اب تو چار کروڑ…‘‘

سب ہنستے، وہ بھی کھسیانی سی ہنسی سے ان کا ساتھ دیتا۔

اسی دوران بیٹی کی شادی ہوگئی، دونوں بیٹے ملازمتیں کرنے لگے۔

بیوی نے ایک دن بتایا… ’’دونوں باہر جانے کے چکر میں ہیں۔‘‘

اس نے بے بسی سے سر ہلایا… ’’شاید باہر انہیں وہ مل جائے جو میں نہیں پاسکا۔‘‘

دونوں بیٹوں کی شادیاں ہوگئیں۔ وہ دونوں میاں بیوی بھی ریٹائرڈ ہوگئے۔

اب سارا وقت کا کام خواب دیکھنے کے سوا اور کچھ نہ تھا، صبح ناشتہ کیا، اخبار پڑھا اور پھر خزانے کا خواب زینہ زینہ اس کی آنکھوں میں اترنے لگتا۔

’’کیا معلوم کسی دن اسے اچانک ہی کسی نامعلوم کی طرف سے چار کروڑ کا چیک مل جائے۔‘‘

پھر خود ہی ہنس پڑتا۔

سوچتا، اربوں، کھربوں والوں کے لیے تو چار کروڑ ایسے ہیں جیسے ہمارے لیے چار ہزار، لیکن کوئی کسی کو کیوں دے؟

سب سے پہلے بڑے بیٹے نے خبر سنائی کہ اسے باہر ملازمت مل گئی ہے اور دس پندرہ دن میں جا رہا ہے۔

اب گھر میں دونوں میاں بیوی کے علاوہ چھوٹا بیٹا، اس کی بیوی اور ان کا بیٹا رہ گئے تھے۔ پوتا ابھی اسکول نہیں جاتا تھا۔ وہ دن بھر اس سے کھیلتا رہتا۔ تین چار مہینے بھی نہیں گزرے تھے کہ چھوٹا بیٹا بھی بیوی بچوں کے ساتھ باہر چلا گیا۔ اب گھر میں دونوں میاں بیوی رہ گئے تھے۔ گھر کے چار کمروں میں سے تین خالی ہوگئے۔ ایک کمرہ اور لاؤنج ان کے استعمال میں تھا۔ ڈرائنگ روم تو کبھی کبھار ہی آباد ہوتا۔ ڈرائیور بھی رکھ لیا تھا۔ کہیں آنے جانے کی تکلیف نہیں۔ چار کمروں کے گھر میں دو فرد، لیکن پوش علاقے میں گھر کی خواہش ختم نہ ہوئی۔

کبھی کبھی افسردگی سے سوچتا، اگر میرے پاس آٹھ دس کروڑ ہوتے تو بچے باہر نہ جاتے۔ سوچتے سوچتے کہیں سے کہیں پہنچ جاتا۔ دو کروڑ کا کا پلاٹ، دو کروڑ اوپر، ہوگئے چار کروڑ، ایک کروڑ گھر کو سجانے اور شاندار گاڑی کے لیے یہ ہوئے پانچ، دو کروڑ سیونگ میں جس سے آٹھ فیصد کے حساب سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار انٹریسٹ ملے گا۔ پچاس ہزار پینشن ہے، دو لاکھ دس ہزار، دونوں میاں بیوی کے لیے بہت ہے۔ بہت عمدہ، باقی تین کروڑ تینوں بچوں کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دے گا۔ پیسا کمانے باہر گئے ہیں نا۔ یہاںپیسہ مل جائے تو واپس آجائیں گے لیکن رہیں گے کہاں: ’’ممکن ہے ان کی بیویاں ساتھ نہ رہیں تو چلو ایک پرانے گھر میں رہ لیں گے، ایک کروڑ سیونگ میں سے نکال کر دوسرے کو بھی چھوٹا گھر بنا دے گا…

تھوڑا سا ہاتھ تنگ ہوجائے گا، لیکن کوئی بات نہیں۔ بیٹے ساتھ نہ رہیں، ہوں گے تو اسی شہر میں۔ کبھی ایک کے گھر چلے گئے، کبھی دوسرے کے، دس کروڑ کی بات ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے تو یہ دس ہزار کے برابر بھی نہیں۔

دس کروڑ کا خواب اب بھوت کی طرح اسے چمٹ گیا تھا۔ اٹھتے بیٹھتے سوچتا کہ یہ دس کروڑ کہاں سے مل سکتے ہیں۔ کوئی لاٹری، کوئی انعام، لیکن اتنا بڑا انعام تو ہو تا ہی نہیں۔ سڑک پر پڑا بریف کیس۔ اب تو ڈالرں کا زمانہ ہے۔ دس کروڑ کے لیے زیادہ جگہ درکار بھی نہیں۔

صبح شام خواب… خزانے کا خواب۔

چھوٹے بیٹے کا فون آیا… ’’ویزے اور ٹکٹ بھیج رہا ہوں، مہینے بھر کے لیے آجائیں۔‘‘

زندگی میں پہلی بار باہر نکلنا ہوا تھا… یہ دنیا ہی اور تھی، ہر وقت چکاچوند، گلیمر، مہینہ تو پتہ ہی نہیں چلا کیسے گزرا، جس دن انھیں واپس جانا تھا، بیٹے نے کھانے کی میز پر بیٹھتے ہوئے پوچھا…‘‘ ابو اب آپ کا اسٹی میٹ کیا ہے؟‘‘

اس نے سنجیدگی سے کہا… ’’دس کروڑ‘‘

سب ہنسنے لگے، وہ بھی کھسیانا سا ان میں شامل ہوگیا۔

ایئر پورٹ پر بیٹا، اس کی بیوی اور دونوں بچے انہیں چھوڑنے آئے۔

جہاز میں بیٹھتے ہوئے عجیب سی اداسی تھی، بیوی بھی چپ تھی۔ یہ دن کتنے مزے کے تھے، اس نے سوچا، ہر ہفتے بیٹا انہیں کھانا کھلانے باہر لے جاتا تھا، کیا مزے مزے کے کھانے تھے اور سلاد، واہ اس کی بات ہی نہیں۔

جہاز فضا میں بلند ہوا۔ سات آٹھ گھنٹوں کا سفر تھا۔ ابھی آدھا راستہ ہی طے ہوا تھا کہ جھٹکے لگنے لگے۔ کپتان نے ایمرجنسی کا اعلان کیا تو مسافروں کے منہ سے کلمے کا ورد ہونے لگا۔ بیوی ڈر کر اس کے ساتھ لگ گئی۔ اس نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا…‘‘ چلو آخری لمحے میں بھی ہم ساتھ ہیں، تم نے ساری زندگی میرا بہت خیال رکھا ہے۔‘‘

ابھی شاید کچھ کہتا کہ جہاز نے ڈبکی کھائی، ایک دھماکہ اور پھر…

سوئم کرنے کے بعد تینوں بہن بھائیوں نے طے کیا کہ وہ ہر سال ان کی برسی پر اکٹھے ہوا کریں گے۔ پہلی برسی پر برسی کے ختم کے رسومات سے فارغ ہوکر تینوں لاؤنج میں بیٹھ گئے۔

بڑے بھائی نے کہا… ’’سال بھر سے یہ گھر خالی پڑا ہے۔ میں اسے کرائے پر دینے کے حق میں نہیں، کرائے دار سے کون کرایہ وصول کرے گا اور اگر کوئی ایسا ویسا کرایہ دار آگیا تو مکان ہی کھا جائے گا، تم دونوں اتفاق کرو تو اسے بیچ دیتے ہیں۔‘‘

بہن نے اثبات میں سر ہلایا۔

اس سے پہلے کہ چھوٹا کچھ کہتا، گیٹ کی گھنٹی بجی، بڑا اٹھ کر باہر آیا۔ ٹی سی ایس کے ہر کارے سے لفافہ لے کر وہ اسے کھولتے ہوئے اندر آیا۔

پڑھ کر اس کے منہ سے چیخ نکل گئی اور کاغذ نیچے جاگرا۔ چھوٹے نے جلدی سے اٹھایا۔ خط فضائی کمپنی سے تھا، لکھا تھا۔

’’مرحومین کی حادثاتی ایئر انشورنس کے دس کروڑ روپے کے چیک کی وصولی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے فوری طور پر کمپنی کے انشورنس کے شعبے سے رابطہ کیا جائے۔‘‘ lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر رشید امجد

تبصرہ کیجیے