سفر

کیسا رہا آج کا دن؟‘‘ کچھ دیر خامشی سے چلتے رہنے کے بعد فاروق نے گفتگو کا آغاز کیا۔

’’ آہ … ستارے گردش میں ہیں۔ ‘‘ قطب نے خلال روک کر بڑی افسردگی سے جواب دیا۔

’’ کیوں ؟ ‘‘ فاروق چونکا۔

’’ کمپنی کی طرف سے ٹوئر (Tour ) بن رہا ہے ۔ ‘‘ قطب بولا اور فاروق نے ہنس کر اس کی پشت پر ہاتھ مارا۔ وہ قطب کی ہوم سکنس سے بخوبی واقف تھا۔

’’ ارے یار ! سفر اور سقر میں ایک نقطے کا ہی تو فرق ہے ۔ ‘‘ قطب نے صفائی دی۔

’’ سفر ، وسیلۂ ظفر ہوا کرتا ہے ۔ ‘‘ فاروق بولا ، ’’ ویسے کہا ں جارہے ہو؟ ‘‘ اس نے پوچھا۔

’’ چندن گڑھ ‘‘ قطب نے بیزارگی سے کہا۔ چندن گڑھ کا نام سنتے ہی فاروق کی نظروں میں اونچے پہاڑ ، خوب صورت آبشار ، گھنا جنگل ، قسم قسم کے پرندے اور نجانے کیا کیا گھوم گیا۔

’’ یہ سفر تو کوچۂ جنت کی سیر ہوسکتا ہے ۔‘‘ اس نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

’’ کیسے ؟ ‘‘ قطب نے بغیر کسی تاثر کے پوچھ لیا۔

’’ بس ایک دن کی چھٹی لے کر چندن گڑھ سے آگے شاہ پور جانا ہوگا۔‘‘ فاروق بولا۔

’’ شاہ پور …؟ ‘‘ قطب نے دماغ پر زور ڈالتے ہوئے دہرایا اور زور سے بولا،‘‘ ارے وہ تو ایک عام ساہل اسٹیشن…‘‘

’’شش ۔۔۔ ‘‘ فاروق نے قطب کی بات کاٹ دی۔’’ میری مراد چندن گڑھ اور شا ہ پور کے راستے سے ہے۔ سبحان اللہ ، کیا مناظر ہیں !!‘‘

’’ اچھا ! ‘‘ قطب نے معمولی حیرت کا اظہار کیا۔

’’ شکر دریا کو قدرت نے بڑی فنکاری سے بنایا ہے ۔ ایک طرف چٹانوں کا سلسلہ ہے، جہاں سے چاروں طرف دیکھنے پر بیساختہ خیال آتا ہے کہ شاید ایسے مناظر کے لیے ہی آنکھیں و دیعت ہوئی ہیں۔ ‘‘ قطب اس شاعرانہ خیال پر مسکرانے لگا مگر فاروق کہتا رہا، ’’اس موسم میں تو وہاں بے شمار پرندے ہجرت کرکے آتے ہیں۔ کچھ آگے سبز گہری وادیاں ہیں، وہیں ایک دیدہ زیب آبشار ہے ، کیا نام ہے بھئی اس کا ۔۔۔ ‘‘ فاروق اپنی پیشانی ملتے ہوئے بولا ، ہاں ’’۔۔۔ بھیم کنڈ‘‘ اس نے چٹکی بجائی ۔

’’ اچھا !بھیم کنڈوہاں ہے !! ‘‘ قطب کو حیرت ہوئی۔

’’ میں تو ہوں پاگل۔۔۔ یہ کہوں ہر پل ۔۔۔ ‘‘ اونچی آواز میں گانا بج رہا تھا۔

’’ آخر فیروز نے اعلان کر ہی دیا۔ ‘‘ قطب بولا۔

’’ ہاں بڑا خود شناس واقع ہوا ہے ۔‘‘ فاروق نے اضافہ کیا اور دونوں ہنستے ہوئے پان ٹھیلے پر رک گئے۔ پان والے نے سیاہی مائل دانت دکھا کر سلام کیا اور ریڈیوکی آواز کم کردی۔

’’ کیا حال ہے فیروزوا… ؟‘‘ فاروق نے روز کی طرح پوچھ لیا۔

’’ اللہ کا کرم ہے ۔ ‘‘ اس نے بھی ریڈی میڈ جواب دیتے ہوئے دوسگرٹیں ان کی طرف بڑھادیں۔

دونوں آگے چل پڑے۔

’’ایک بار میں یہ راستہ پیدل طے کر چکاہوں۔‘‘ فاروق نے کھٹکار کر بات آگے بڑھائی۔ ’’اس وقت میں قدرت کے حسن میں ایساکھوگیا تھا کہ راستے کا احساس ہی نہ رہا۔ کیمرہ ساتھ تھا، تصویریں لیتے لیتے نکل گیا، تم وہ تصویریں دیکھنا ، لا جواب ہیں۔‘‘

’’ بے شک ہونگی۔‘‘ قطب نے طویل کش لے کر اعتراف کیا۔

دونوں کچھ دیر خاموش چلتے رہے۔

’’ یار تم نے تو مجھے مشتاق کردیا۔ ‘‘ قطب دھیرے سے بولا۔ فاروق شاید اسی ردعمل کا انتظار کررہا تھا۔

’’ تمھارا پروگرام کیسا ہے ؟ ‘‘ اس نے جھٹ پوچھا۔

’’ پرسوں ۱۵ تاریخ کو نکلوں گا اور شاید ۱۷ کی شام تک واپسی ہو۔ ‘‘ وہ بولا۔

’’ آج منگل ‘‘ فاروق دھوئیں کے مرغولے چھوڑتے ہوئے انگلیوں پر حساب کرنے لگا،’’ ۱۷ کو سنیچر اور ۱۸ کو اتوار ، یار چھٹی کی بھی ضرورت نہیں ۔ یوں کرو، کام نمٹا کر ۱۷ کی شام شاہ پور کے لیے روانہ ہوجانا، چار بجے ایک بس چلتی ہے ، ڈیڑھ گھنٹے میں وہاں پہنچ جائوگے۔‘‘

’’ اور راستے میں حسن قدرت کا نظارہ ۔‘‘ قطب نے کہا:

’’ جی! ‘‘ فاروق بولا،’’ اوہ ہاں، شاہ پور میں میرا خالہ زاد بھائی جاوید علی رہتا ہے ، اسے فون کیے دیتا ہوں ، رات اسی کے گھر قیام کرلینا اور دوسرے دن تھوڑا گھوم پھر کر واپس سویٹ ہوم۔‘‘

’’ یا خدا…! پروگرام فائنل ہوگیا! ! ‘‘

’’ اور خبر دار جو اسے تبدیل کیا۔ ‘‘ فاروق نے اسے چیتاونی دی، ’’ میں اتوار کی صبح فون کرکے تمھارے خیالات پوچھوں گا۔ ‘‘

’’ فائن…‘‘ قطب نے آخری کش لیا اور سگرٹ کا ٹکڑا ہوا میں اچھا ل کر بولا، ’’ اتوار کی صبح مناظر کا قصیدہ پڑھ دوں گا۔‘‘

’’ نہیں …سچ کہنا ‘‘ فاروق بولا۔

’’ یعنی قصیدے سچائی سے عاری ہوتے ہیں۔ ‘‘ قطب نے پوچھا۔ فاروق نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔

’’ یعنی قصیدہ نگار جھوٹے ہوئے۔‘‘ قطب بولا، ’’حضرت ! یہ بات اگر سوداؔ ، ذوقؔ یاغالبؔ کی روح سن لے تو ضرور کہے گی کہ میاں جن کی بدولت کماتے ہو کم از کم انھیں رسوا تو نہ کرو۔ ‘‘ فاروق ہنسنے لگا۔

فاروق اردو کا پروفیسرتھا۔ دونوں طے شدہ راستوں سے ہوتے ہوئے کالونی کی طرف لوٹ رہے تھے۔

۱۵ تاریخ کو قطب اپنے پروگرام کے مطابق چندن گڑھ کے لیے روانہ ہوگیا۔ اس کے دو دن بڑی مصروفیت میں گذرے۔ ۱۷ تاریخ کو آخری میٹنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی اس نے فون کے ذریعے شاہ پور جانے والی بس کی تفصیل پوچھ لی اورظہرانے کے بعد کچھ دیر سستانے اپنے روم میں چلا آیا ۔ کوئی چار بجے وہ ہوٹل کا بل چکا کر بس اسٹینڈ کی طرف نکل پڑا۔ جب وہ بس اسٹینڈ پہنچا تو بس کے چھوٹنے میں پانچ منٹ باقی تھے۔ اس نے جلدی سے ٹکٹ خریدی اور بس میں سوار ہوگیا۔ بس بڑی آرام دہ تھی ۔ قطب نے سیٹ پردراز ہوتے ہی اس کی داددی ۔ بس کچھ دیر بعد چل پڑی ۔ اور بس کے شہر سے نکلتے ہی اس میں رکھاویڈ یو سیٹ آن کردیا گیا۔

’’ بادشاہ ‘‘ بغل والی سیٹ پر بیٹھا بچہ فلم کا نام پڑھ کر خوشی سے اچھل پڑا۔’’انکل آپ نے دیکھی ہے یہ فلم ؟ ‘‘ اس نے قطب سے دریافت کیا۔

’’ نہیں بیٹے۔ ‘‘ قطب نے مختصر جواب دے کر کھڑکی کا کانچ سر کا دیا۔

’’ آج دیکھیے ، بہت مزے دار فلم ہے ۔ ‘‘ بچے کی بات سن کر وہ ہنس پڑا۔

’’ انکل کو پریشان مت کرو۔ ‘‘ پچھلی سیٹ پر بیٹھی اس کی ماں نے اسے ٹوکا۔

’’ا ٹز او کے ۔ ‘‘ قطب مسکرا کر بولا اور پیار سے بچے کے گال سہلادیے۔

بس مضافاتی علاقوں سے ہوکر گذررہی تھی۔ دھوپ میں کچھ حد تک تپش باقی تھی لہٰذا قطب پہلو بدل کر فلم کے ٹایٹل پڑھنے لگا۔ کچھ دیر بعد اس نے باہر نظر ڈالی لیکن اسے ہرے بھرے درختوں کے سوا کوئی خاص بات محسوس نہیں ہوئی۔ وہ پھر فلم دیکھنے لگا۔

کوئی آدھا گھنٹہ بعد جب اس نے باہر دیکھا تو بس ایک ندی کے پاس سے گذررہی تھی۔

’’ اچھا تویہ ہے شکر دریا۔ ‘‘ وہ دھیرے سے بولا۔

’’ نہیں انکل ، یہ تو بارش کا پانی ہے ، شکر دریا ، تو پیچھے گیا۔ ‘‘ بچے نے وضاحت ضروری سمجھی۔

’’ کیا! ! ‘‘ قطب کھسیا گیا۔’’ تمھیں کیسے معلوم ؟ ‘‘ اس نے شرمندگی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔

’’ ہم یہیں رہتے ہیں، شاہ پور میں ۔ ‘‘ اس نے کہا۔

’’ اچھا اچھا ‘‘ قطب نے قطع کلام کیا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ کچھ دیر بعد اس نے دیکھا کہ سورج مکھی کے دور تک پھیلے ہوئے کھیت بڑے خوب صورت لگ رہے تھے۔ ’واقعی‘ اس نے فاروق کے دعوے کی تصدیق کی۔ چند منٹوں بعد اس کی نظر پھر اسکرین پر مرکوز ہوگئی۔

راستہ طے ہوتا رہا۔ گہری سبز وادیوں میں آبشار کے پیچھے سرخ سورج غروب ہونے لگا تھا۔ سفید پرندے اپنے گھروں کو لوٹتے ہوئے آسمان کی خوبصورتی میں خاطر خواہ اضافہ کررہے تھے اور فلم دلچسپ سے دلچسپ تر ہو چلی تھی۔

قطب فلم دیکھنے میں پوری طرح محو تھا۔ بس دوڑتی رہی۔ اور جب فلم بڑے خوب صورت موڑ پر تھی ویڈیو سیٹ بند کردیا گیا۔

’’ ارے… ‘‘ قطب چونکا۔

’’ شاہ پور آگیا انکل۔۔۔ ! ‘‘ بچے نے بتایا۔ قطب نے کھڑکی سے باہر دیکھا ، اندھیرا پھیلنے لگا تھا، بس دھیرے دھیرے رک رہی تھی۔ قطب حیران رہ گیا۔

سفر ختم ہوچکا تھا۔

جب اٹیچی لے کر نیچے اترا تو اسے مجرمانہ خفت محسوس ہونے لگی ۔ اس نے قریب کے پان ٹھیلے سے سگرٹ خریدی۔ ایک آٹو رکشا روک کر اسے پتا بتایا اور اس میں سوار ہوگیا۔

’’ اب فاروق کو کیا جواب دوں گا؟‘‘ اس نے سگرٹ سلگاتے ہوئے سوچا، ’’ کم بخت بس والوں کو فلم دکھانے کی ضرورت کیا تھی۔ مگر فلم تھی بڑی شان دار… اوہ شٹ‘‘ اس نے جھنجلا کر ہونٹ بھینچے ۔ ’’ فاروق کے سامنے شر مندگی ہوگی۔ ‘‘ سگرٹ کا دھنواں اور اس کے خیالات دونوں منتشر تھے۔

کچھ دور چلنے کے بعد ٹریفک کی وجہ سے رکشکا رک گیا۔ قطب کے خیالات کا تسلسل ٹوٹا۔ اس نے آٹو رکشے سے جھانک کر دیکھا، ایک جنازہ جارہا تھا۔

اناّ للہ و انا الیہ راجعون وہ زیر لب پڑھنے لگا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد یحییٰ جمیل

Leave a Reply