احکاماتِ الٰہی کی پابندی

اللہ تعالیٰ نے یہ اتنی بڑی کائنات اور اس کی ہر شے انسان کے فائدے کے لیے پیدا کی ہے اور ہر چیز انسان کی خدمت کی خاطر حاضرکردی ہے۔ دن سے رات تک اور سر سے پاؤں تک، غرض ہمہ وقت انسان اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں سے مستفید ہوتا ہے۔ انسان کا پورا جسم نعمت خداوندی کا مرہون منت ہے۔

دنیا کی ہر چیز تو انسان کے لیے ہے، آخر انسان کو کس لیے پیدا فرمایا گیا…؟

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا ہے، اس کو اشرف المخلوقات کالقب دیا، اس کی فطرت میں حق و باطل، خیر و شر اور ہدایت و ضلالت کے دو متضاد مادے رکھ دیے اور اس کو دار الامتحان میں بھیج کر تین چیزوں کا حکم دیا: میرے متعین کردہ فرائض اور واجبات کو بلا کم و کاست ادا کرو۔ زندگی کے ہر شعبے اور معاملے میں خواہ وہ اختیاری ہو یا غیر اختیاری، حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ اور نمونہ بناؤ۔ خلق خدا کے حقوق اور معاملات کو صحیح طور پر نبھاؤ۔

اگر انسان ان تینوں امور کی پوری طرح پاس داری کرتا رہے تو معاشرہ اور انسان اس کے نتیجے میں اچھی، اطمینان بخش اور مسرت سے بھری زندگی پاتا ہے لیکن اگر ان ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی کرے یا ان کو سرے سے فراموش کردے تو پوری دنیا برائیوں اور فسادات سے بھر جاتی ہے۔ اگر ہم موجودہ حالات پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوگا کہ اس وقت دنیا میں ہر طرف فتنہ و فساد پھیلا ہوا ہے۔

آج ہر مسلمان کو اس بات کا علم ہے اور وہ یقین بھی رکھتا ہے کہ قیامت آئے گی۔ اللہ تعالیٰ کے رو بہ رو حاضر ہونا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چہرہ دکھانا ہے۔ اس کے باوجود ہم گناہوں کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔ کون سا گناہ اور برائی ہے جس میں ہم مبتلا نہ ہوں۔ ہم گناہوں پر گناہ کر کے اللہ تعالیٰ کی اس زمین کو گندا کر رہے ہیں۔ بد دیانتی اور بے دینی میں ہم حدود تجاوز کرچکے ہیں۔ دنیا دار تو دنیا دار ہے، اہل دین اور انبیا کے ورثا بھی اسی رخ پر چل پڑے اور ان کے قدم پھسل رہے ہیں۔ وہ عبادات نہیں تو معاملات میں کوتاہیاں برت رہے ہیں۔ کیا کل قیامت میں اللہ تعالیٰ کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوکر جواب نہیں دینا…؟ کیا حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منہ نہیں دکھانا؟ پھر ہم کہاں دشت بے اماں میں بھٹک رہے ہیں۔ کون سی بے آب و گیاہ وادی میں ہم اپنی منزل تلاش کر رہے ہیں…؟

آج ضرورت ہے کہ ہم اپنے آپ کو پہچانیں۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم مادر پدر آزاد نہیں ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے حکم کے پابند ہیں۔ ہمیں وہی کرنا ہوگا جس کا ہمیں حکم ملا ہے۔ اسی میں ہمارا امن و سکون ہے، اسی میں ہماری کامیابی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شاذیہ اقبال (جے پور)

Leave a Reply