6

تکریم و حقوقِ نسواں

اسلام سے پہلے عورت کا وجود محض ایک کھلونے کے سوا اور کچھ بھی نہیں تھا۔ عورت معاشرے میں نہ صرف یہ کہ مظلوم تھی بلکہ سماجی و معاشرتی عزت و توقیر اور ادب و احترام سے بھی محروم تھی۔ روما جیسی تہذیب جو خود کو روشن خیال اور ترقی یافتی کہتی تھی، عورت کو ثانوی حیثیت دینے کے لیے بھی تیار نہ تھی۔یہی وجہ تھی کہ یونانی فلاسفہ نے عورت کو ’’شجر مسمومہ‘‘ یعنی ایک زہر آلود درخت قرار دے کر عام خیال میں مرد سے کئی گنا زیادہ معیوب، بدکردار، آوارہ اور شر و تلخ کو باور کیا۔

رومی تہذیب نے عورت کا کیامقام بتایا ہے ذرا اسے بھی دیکھئے: ’’عورت کے لیے کوئی روح نہیں بلکہ یہ عذابوں کی صورتوں میں سے ایک صورت ہے۔ ’’ہندی ویدوں کے احکام کے مطابق: ’’عورت مذہبی کتاب کو چھو بھی نہیں سکتی اور اگر کوئی عورت کسی متبرک بت کو چھولے تو اس بت کی الوہیت اور تقدس تباہ ہو جاتا ہے لہٰذا اس کو پھینک دینا چاہیے۔‘‘

لیکن جب اسلام آیا اور ہدایت کا نیر تاباں جلوہ فگن ہوا، قرآن کا آفتاب عالم تاب چمکا تو یونانی تہذیب سے لے کر نصرانی ثقافت تک تمام کلچر اور تمام تہذیبیں پاش پاش ہوگئیں، سارے تمدن دھڑام سے نیچے آگرے۔ اسلام ساری انسانیت کے لیے احترام کا دستور لایا۔ اسلام نے عورت کو وہ مقام بخشا جس کی مثال کسی اور مذہب اور کسی دین میں نہیں ملتی۔

نبی رحمتﷺکا یہ ارشاد کہ ’’بیٹی، بیٹی ہوتی ہے خواہ کافر کی ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ توقیر عورت کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔ اسلام نے عورت کو بے آبروئی اور ہتک آمیز رویوں سے نجات دلائی۔ اسلام صنف نازک کے لیے نوید صبح مسرت بن کر آیا اور عورت کے لیے احترام کا پیامبر ثابت ہوا۔ اب اگر یہی عورت ماں بن جائے تو اس کے قدموں میں جنت کو لاکر بسا دیا، بیٹی ہو تو نعمت عظمیٰ، اگر رشتہ بہن کا ہو تو احترام کا پیکر اور اہلیہ ہو تو اس کو جنت کی حوروں کی بھی سردار قرار دیا۔

اسلام عورت کو حقوق کے تحفظ کے ساتھ پرامن، خوش گوار، پرسکون، راحت بخش اور اطمینان والی زندگی گزارنے کی ضمانت فراہم کرتا ہے، جن کی بدولت اس کی عزت و آبرو، عفت و حیا اور پاک دامنی محفوظ رہتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شفاء عبد اللہ

تبصرہ کیجیے