محمد ﷺ ایک مثالی شوہر

اسلامی معاشرے کی تشکیل اور ترقی کے لیے ایک مضبوط خاندان کا ہونا ضروری ہے اور مضبوط خاندان میاں بیوی کے خوش گوار تعلقات سے وجود میں آتا ہے اور خوش گوار تعلق کی بنیاد اعتماد اور محبت پر ہوتی ہے۔

ایک مثالی شوہر کا کردار محمدﷺ کے علاوہ اور کسی کا نہیں ہو سکتا۔ آپ کی ازواج مطہرات کی تعداد زیادہ ہونے کے باوجود آپؐ نے سب کے ساتھ عدل کا معاملہ کیا اور عفو و در گزر اور بھروسہ کے ذریعے آپ کی ذات بابرکات ایک مثالی شوہر قرار پائی۔

رسول اللہﷺ نے گیارہ نکاح کیے۔ پہلا نکاح حضرت خدیجہؓ سے پچیس برس کی عمر میں کیا جب کہ حضرت خدیجہؓ کی عمر چالیس برس تھی اور آپ بیوہ تھیں۔ ان کے رہتے ہوئے آپؐ نے کوئی دوسرا نکاح نہ کیا ان کی وفات کے بعد دوسرا نکاح کیا۔ آپؐ نے بیوہ، مطلقہ، بڑی عمر، چھوٹی عمر اور کنواری خواتین سے شادی کر کے امت کو بتایا تاکہ نکاح میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ سورہ نساء کی آیت تین میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں دو دو، تین تین اور چار چار سے نکاح کرلو۔ لیکن اگر اندیشہ ہو کہ عدل نہ کر سکوگے تو ایک ہی کافی ہے۔‘‘ گویا شوہر کے لیے عدل لازمی چیز ہے جو ہر صورت میں فرض ہے اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو ایک نکاح پر ہی اکتفا کرنے کی بات کہہ دی گئی ہے۔

اس آیت کے ایک حصہ پر عمل کر کے دوسرے حصہ کو بھول جانا اسلام کی تعلیم کی نہ صرف خلاف ورزی ہے بلکہ دنیا و آخرت کے خسارے کا سبب بھی ہے۔

نبیؐ نے ارشاد فرمایا:

’’اگر کسی شخص کی دو بیویاں ہوں، اور اس نے ان کے ساتھ انصاف اور برابری کا سلوک نہ کیا تو قیامت کے روز وہ شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ گر گیا ہوگا۔ (ترمذی)

آپﷺ اعلیٰ اخلاق، بلند پایہ کردار، موزوں اندازِ فکر، راست گوئی اور امانت داری کے مالک تھے۔ جس طرح آپؐ باہر دین کی تعلیم و تبلیغ کا کام انجا م دیتے، اسی طرح گھر میں بھی یہ فریضہ انجام دیتے تھے۔

محمدؐ نے اپنی تمام ازواج کو دین کی تعلیم دی اور خواتین کے مسائل بتائے جو آج ہمارے لیے مشعل راہ ہیں ورنہ ہم بھی جہالت کے اندھیروں اور گمراہی میں زندگی بسر کر رہے ہوتے۔حضرت عائشہؓ کے پاس بڑے بڑے عالم، محدث صحابہ کرام فتویٰ پوچھنے آتے تھے آپ سے دو ہزارو دو سو دس حدیثیں منقول ہیں۔

محمدؐ بہت ہی بہترین شوہر تھے اس کی مثالیں ہمیں کئی واقعات سے ملتی ہیں۔

ایک مشہور واقعہ برأت کا ہے۔ جس میں ایک غزوہ سے واپسی پر حضرت عائشہؓ قافلہ سے بچھڑ جاتی ہیں، حضرت صفوان بن معطل لشکر کی انتظامی ضروریات کے لیے لشکر سے پیچھے چلتے تھے جب ام المومنین حضرت عائشہؓ کو دیکھتے ہیں تو فوراً اونٹ پر سوار کرا کر قافلے سے جا ملتے ہیں۔

عبد اللہ ابن ابی جو کہ محمد اور اسلام کا دشمن تھا حضرت عائشہؓ پر تہمت لگاتا ہے مگر آپؐ پر قربان جائیے، جنھوں نے نہ غصہ دکھایا اور نہ جھگڑا کیا۔ آپ ہی سوچئے اتنے بڑے واقعہ پر کیا کوئی صبر اور درگزر کر سکتا ہے؟ آپ کے سوا کوئی نہیں۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ کی بے گناہی اللہ تعالیٰ نے سورہ نور میں نازل کر دی۔اسی طرح حضرت عائشہؓ کو گڑیوں سے کھیلنے کا بہت شوق تھا۔ آپؐ کو دیکھ کر آپ کی سہیلیاں چھپ جاتیں اور آں حضرتﷺ انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر حضرت عائشہؓ کے پاس لاتے تاکہ وہ ان کے ساتھ کھیلیں۔

آپﷺ جب بھی سفر پر جاتے قرعہ اندازی کرتے اور جس بیوی کا نام نکلتا اسے اپنے ہمراہ لے جاتے۔

مسلمانوں کو ترغیب دلانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بے سہارا اور بے یار و مددگار بیواؤں کو اپنے نکاح میں لیا۔ یہ دیکھ کر مسلمانوں نے بھی سنت نبوی پر عمل کیا۔

آج ہم معاشرے پر نظر دوڑائیں تو طلاق کے معاملات عام ہوگئے ہیں۔ میاںبیوی کا ایک دوسرے پر اعتماد نہیںرہا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعلقات توڑ دیتے ہیں۔ آج ضرورت ہے آپؐ کی تعلیمات کو عام کرنے کی، اس کے لیے ہمیں حیاتِ طیبہ، سیرت النبیؐ، تجلیاتِ نبوت، رحیق المختوم جیسی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی زبانی دعوے تو بہت ہوچکے اب عملی میدان میں آنے کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش نصیب ہوجائے۔

اس ربیع الاول کے مہینے میں ہم اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ زندگی کے ہر شعبے، ہر رشتہ داری میں آپؐ کی زندگی کو اپنا اسوۂ حسنہ بنائیں گے پھر دیکھئے کہ دنیا میں بھی کامیابی، سکون اور انشاء اللہ تعالیٰ آخرت میں بھی کامیابی ملے گی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
فرحانہ انجم

Leave a Reply